قومی و بین الاقوامی ایشوز

جنگی جنون میں مبتلابھارت اور اس کے ہمسایہ ممالک

جنوبی ایشیا اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور انسانی،قدرتی وسائل کی وجہ سے دُنیا کا اہم خطہ ہے۔اس کے آٹھ(افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، بھارت، سری لنکا، مالدیپ اور پاکستان) میں سے پانچ ممالک (بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، مالدیپ اور پاکستان)کے ساحلوں سے دُنیا کے تیسرے بڑے سمندر، بحرِہند کی لہریں ٹکراتی ہیں۔ 1990 اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں جنوبی ایشیا قومی ترقی کی رفتار میں چین کے بعد سب سے تیز تھا۔ اس بناء پر دُنیا کے متعدد اہم ممالک مثلاً امریکہ، روس ، جاپان اور چین نے جنوبی ایشیا کی تنظیم برائے علاقائی تعاون ''سارک'' کی آبزرورز(Observers)کی حیثیت حاصل کی۔ مگر اس کے باوجود یہ خطہ علاقائی تعاون میں ترقی نہیں کرسکا۔ اس مقصد کے لئے 1985 میں تشکیل پانے والی تنظیم''سارک'' مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ نتیجتاً جنوبی ایشیا میں غربت ، جہالت اور پسماندگی نے ابھی تک ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ دنیا کے دیگر تمام خطوں کے مقابلے میں غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد جنوبی ایشیا میں بستی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ دنیا کے دیگر خطوں یعنی یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ممالک نے علاقائی تعاون کی راہ اپنا کر ترقی کی اہم منازل طے کی ہیں۔مگر جنوبی ایشیا کے ممالک اس شعبے میں ابھی تک کیوں پیچھے ہیں؟ 1985 میں کئی برسوں پر محیط کوششوں کے بعد جنوبی ایشیا کے ممالک نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنی تنظیم برائے علاقائی تعاون کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر شرکت کرنے والے سربراہانِ مملکت اور حکومت نے عہدکیا کہ وہ خطے کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل کا حل مِل کر ڈھونڈیں گے۔ مگر 35 برس ہونے کو ہیں۔ ''سارک'' کے تحت جنوبی ایشیائی ممالک نے کسی بھی شعبے میں تعاون کی کوئی قابلِ ذکر مثال قائم نہیں کی۔ یہاں تک کہ باہمی تجارت کی افزائش جو کہ علاقائی تعاون کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد ہوتا ہے، میں ''سارک'' صرف پانچ فیصد حدتک اضافہ کرسکی۔ اکثر طبقے اس صورتِ حال کی ذمہ داری خطے کے دو بڑے ممالک یعنی پاکستان اور بھارت کے باہمی تنازعات پر ڈالتے ہیں۔ خصوصاً کشمیر جو اِن دو ملکوں کے درمیان گزشتہ سات دہائیوں میں لڑی جانے والی تین میں سے دو بڑی جنگوں کا سبب بن چکا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ باہمی تنازعات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان عدمِ اعتماد، بدگمانی ، شکوک و شبہات اور کشیدگی کی جو فضا پائی جاتی ہے، وہی دراصل اس خطے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لیکن اگر ہم جنوبی ایشیا کے ملکوں کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیں، تو معلوم ہوگا کہ پاکستان بھارت کا واحد ہمسایہ ملک نہیں ہے جس کے ساتھ اس کے تنازعات چلے آرہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ بھارت کی براہِ راست سرحدیں چین، نیپال اور بنگلہ دیش سے بھی ملتی ہیں۔ سری لنکا کو بھارت سے پانی کی صرف ایک تنگ پٹی جُدا کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی بھارت کے سرحدی تنازعات چلے آرہے ہیں اور کبھی کبھی ان سرحدی تنازعات کی وجہ سے صورت حال خطرناک حد تک کشیدہ ہو جاتی ہے۔ جیسے اس وقت بھارت اور چین کی 3488 کلومیٹر لمبی سرحد کے لداخ والے حصے میں دونوں ملکوں کے سرحدی دستوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔اسی طرح نیپال اور بھارت کے درمیان بھی کئی سرحدی مقامات متنازعہ ہیں۔ بھارت نے چین کے ساتھ سرحد تک جانے والی ایک 80 کلومیٹر لمبی سڑک کو حال ہی میں تعمیر کیا ہے، اس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ نیپال کا دعویٰ ہے کہ سڑک بعض ایسے علاقوں سے گزرتی ہے جو نیپال کا حصہ ہیں۔گزشتہ ماہ بھارت کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس سڑک کا افتتاح کیاتھا۔ جس پر نیپال میں عوامی سطح پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیاگیا تھا اور پُرتشدد مظاہرے بھی ہوئے۔ نیپال کی حکومت نے بھی عوامی جذبات کا ساتھ دیتے ہوئے اس سڑک کی تعمیر پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ حال ہی میں نیپالی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت کی طرف سے پیش کردہ ملک کا ایسا نقشہ منظور کیاگیا ہے جس میں سڑک کے اس حصے کو نیپال کا حصہ دکھایاگیا ہے۔ بھارت حکومت نے اس پر احتجاج کیا ہے۔ مگر نیپالی حکومت نے اس احتجاج کو مسترد کردیاہے۔ مگر بھارت اور نیپال کے درمیان صرف یہی علاقہ متنازع نہیں ہے۔ نیپال کے جنوبی مغرب میں کالاپانی کے علاقے پرنیپال کا قبضہ تھا مگر پسپا ہوئی بھارتی فوج نے دریائے مہاکالی کی اس وادی پر مستقل قبضہ کرلیا۔ کیونکہ چین کے ساتھ مستقبل میں کسی ممکنہ جنگ میں یہ علاقہ بھارتی افواج استعمال کرسکتی ہیں۔ نیپال کے علاوہ بھارت کے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی علاقائی سرحدی حد بندی اور دریائی پانی کی تقسیم پر جھگڑے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سے کچھ کاغذوں میں طے ہوگئے ہیں مگر عمل درآمد میں کئی رکاوٹیںہیں۔ بنگلہ دیش اور بھارت کی 4156 کلومیٹر لمبی سرحد کی نشاندہی اور سرحد کے دونوںطرف متنازع رقبوں(انکلیو) کے تبادلے پردونوں ملکوں نے وزرائے اعظم کی سطح پر1974 میں دستخط کئے تھے۔ لیکن جب اس معاہدے پرعمل درآمد کا وقت آیا، تو کئی رکاوٹیں کھڑی ہوگئیں۔ ان کی وجہ سے معاہدے پر2015 میں نظر ثانی کی گئی اور نئے معاہدے پر بھی عمل درآمد 2016 میں ہوا۔ دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم پر1996 میں معاہدہ ہوا تھا۔ مگر دریائے ٹیسٹا(Teesta) جو ہمالیہ سے نکل کر بنگلہ دیش میں بہنے والے 54 دریائوں میں چوتھا بڑا دریا ہے، کے پانی کی تقسیم کے کسی فارمولے پر ابھی تک دونوں ملکوں میں کسی سمجھوتے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ بنگلہ دیش کی زمین کو سیراب کرنے والے چھوٹے بڑے تمام دریائوں کا منبع ہمالیہ کے گلیشیئرزاور چشمے ہیں مگر وہ بنگلہ دیش میں داخل ہونے سے پہلے بھارت کے علاقے سے گزرتے ہیں کیونکہ بنگلہ دیش کے تینوں طرف بھارت کا علاقہ ہے۔ اسی لئے بھارت کو بنگلہ دیش میں داخل ہونے والے دریائوں کا پانی روکنے یا اُن کا رُخ موڑنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کو شکایت ہے کہ بھارت ان دریائوں کے پانی کو سیاسی مقاصد کے لئے کبھی بند باندھ کرروکتا ہے اور کبھی پانی کی کمی کے بہانے لنک نہروں کے ذریعے دریائوں کا پانی چھوٹے دریائوں میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ سری لنکا کے ساتھ بھارت کی خشکی کی سرحدیں نہیں ملتیں۔ مگر 22کلومیٹر چوڑی پانی کی پٹی آبنائے پالک ، دونوں ملکوں میں متعددوجوہات کی بناء پر جھگڑے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ آج سے تین ہزار سال سے زیادہ عرصہ پہلے یہاں پتھروں کا پُل بنا ہوا تھا۔ بی جے پی کے کٹر اور انتہا پسندنظریئے اور ہندو ازم کو ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ یہ پُل ہندوئوں کے ایک دیوتا ہُنومان نے تعمیر کیا تھا تاکہ اسے عبورکرکے رام اپنے لشکر کے ساتھ (سری) لنکا پر حملہ آور ہوسکے جس کے راجہ راون نے رام کی بیوی سیتا کو جنوبی ہندوستان سے اغوا کیاتھا۔ سری لنکا اس دعوے کو بے بنیاد اور تاریخی حقائق کے منافی قرار دے کر رد کر چکا ہے۔ لیکن دونوں ملکوں میں سمندر کے اس حصے میں ماہی گیری کے مسئلے پر سخت اختلافات ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے بھارت اور سری لنکا کے بحری دستوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔ لیکن چونکہ بھارت اپنے بڑے اورجدید ترین مشینی ٹرالرز کے ذریعے اس علاقے میں مچھلیاں پکڑنے پر مُصر ہے۔ اس لئے دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بھارت کے بڑے اور جدید ترین مشینی ٹرالرز کے مقابلے میں سری لنکا کے ماہی گیروں کے پاس وہی پرانی اور چھوٹی روایتی کشتیاں ہیںجن کی وجہ سے وہ بہت کم مچھلیاں پکڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سے سری لنکا کے ماہی گیری سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں خاندانوں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے لیکن سری لنکا اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا تنازع تامل بغاوت(1983-2009) ہی ہے ۔ سری لنکا کے شمال مشرقی حصوں میں رہنے والے ہندو مذہب کے پیروکار تامل نسل کے لوگ ، دراصل اُن تامل مزدوروں کی اولاد ہیں جنہیں برطانیہ اپنے نوآبادیاتی دور میں جنوبی ہندوستان سے سری لنکا میں چائے اور ربڑ کے باغات میں کام کرنے کے لئے لایاتھا۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد جب سنہالی نسل کی اکثریتی آبادی نے سری لنکا کی سیاست، معیشت اور ثقافت پر اپنا غلبہ قائم کرنا شروع کیا تو تامل باشندوں نے ایک مسلح علیحدگی پسند تحریک شروع کردی۔ یہ تحریک ایک دہشت گرد تنظیم ایل۔ ٹی۔ ٹی۔ ای کی قیادت میں 16 برس تک جاری رہی اور اس میں ایک لاکھ سے زیادہ شہری اور 50,000 سے زیادہ مسلح افراد ہلاک ہوئے۔ اس تحریک کو بھارت کے صوبہ تامل ناڈو میں قائم اپنے تربیتی اڈوں سے امداد ملتی تھی۔ بھارت کی ہر حکومت کو اس کا علم تھا لیکن سری لنکا کے احتجاج کے باوجود کسی بھارتی حکومت نے بھارتی سرزمین پر ایل ٹی ٹی ای کے اڈے ختم کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس کی خفیہ ایجنسی 'را' کی طرف سے تامل دہشت گردوں کو ہر قسم کی امداد مہیا کی جاتی تھی۔ ہمسایہ ممالک کے مابین اختلافات یا تنازعات کی موجودگی، جن میں علاقائی تنازعات بھی شامل ہوتے ہیں، کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ دنیا کے ہر خطے میں ایسے تنازعات  موجود ہوتے ہیں مگر جنوبی ایشیا اور دیگر بیشتر خطوں میں فرق یہ ہے کہ مؤخرالذکر کے مقابلے میں  اول الذکر  میں سب سے بڑے ملک یعنی بھارت کی طرف سے ان تنازعات کو نہ صرف برقرار رکھنے کی سوچی سمجھی کوشش ثابت ہوتی ہے بلکہ ان تنازعات کو ہمسایہ ممالک پر سیاسی دبائو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس رویے کے پیچھے بھارت کی جدیدقیادت کی وہ سوچ کار فرما ہے جس کے تحت بھارت خطے کے چھوٹے ممالک کو اپنا حلقہ اثر سمجھتا ہے اور نہرسویز سے لے کر آبنائے ملاکا تک کے علاقے میں اپنے آپ کو بلاشرکتِ غیرے بالادست طاقت تسلیم کروانا چاہتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم  پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ''ڈسکوری آف انڈیا'' میں مشرقی افریقہ اور ہند چینی کو ایسے علاقے قرار دیا ہے جہاں قدیم زمانے میں ہندوئوں نے اپنی نوآبادیات قائم کی تھیں۔ اس پورے خطے کو اپنا حلقہ اثر قرار دے کر پنڈت نہرو نے آزادی سے قبل جنوبی ایشیا کے لئے ایک اور ''منروڈاکٹرائن''(Monroe Doctrine) کی حمایت کی تھی۔ لیکن جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک کی قوم پرست  قیادت نہرو کے اس نظریے سے متفق نہیں تھی۔ مثلاً آزادی سے چند سال پیشتر نہرونے دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں تجویز پیش کی کہ آزادی کے حصول کے بعد بھارت سیلون اور نیپال پر مشتمل ایک کنفیڈریشن قائم کی جائے، مگر نیپال اور سیلون کے  قوم پرست رہنمائوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ حالانکہ ان دونوں ممالک کی قوم پرست تحریک ہندوستان کی تحریک آزادی سے بہت متاثر تھی۔ لیکن بھارت کی قیادت کے عزائم سے باخبر تھی۔ آزادی کے بعد جب بھارت نے نیپال اور سری لنکا  کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع کیا توان ممالک کے خدشات اور بھی پکے ہوگئے۔ مثلاً 1970 کی دہائی میں جب  نیپال نے اپنی غیرجانبدارانہ پالیسی پر کاربند ہوتے ہوئے نیپال کو امن کا علاقہ (Zone of Peace) قرار دینے کی سفارش کی تو بھارت نے مخالفت کی۔ نیپال کی طرف سے چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کے جواب میں2015 میں بھارت نے نیپال  کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی جس کی وجہ سے نیپال میں پٹرول ، ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء کی سخت قلت پیدا ہوئی۔ جنرل ضیاء الرحمن  کے دور میں جب بنگلہ دیش نے چین سے ہتھیار خریدنے کا معاہدہ کیا ، تو بھارت نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا لیکن جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اس کے ذریعے  ان کے خارجہ تعلقات کو کنٹرول کرنے کی سب سے نمایاں مثال1987 میں سری لنکا کی خانہ جنگی میں انڈین پیس کیپنگ فورس (IPKF) کی مداخلت ہے۔ سری لنکا نے تامل بغاوت کو کچلنے کے لئے جب بین الاقوامی امداد حاصل کرنے کی کوشش کی تو بھارتی وزیرِ اعظم راجیو گاندھی نے اس کی مخالفت کی اور اس مقصد کے لئے بھارتی فوج بھیجنے پر اصرار کیااور صدر جے وردنے کی حکومت کو مجبور کیا کہ وہ یہ تجویز قبول کرلیں۔ بھارت کے فوجی دستے سری لنکا میں تین سال رہے۔
جنوبی ایشیا میں آبادی، رقبے اور عسکری قوت میں برتری کے بل بوتے پر بھارت کی طرف سے اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ایک طویل تاریخ ہے لیکن جب سے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے، ہمسایہ ممالک کے خلاف بھارت کے جارحانہ عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ابھی2014 کے پارلیمانی انتخابات کی مہم کا آغاز نہیں ہوا تھا کہ نریندر مودی جنہیں ان کی پارٹی نے وزیراعظم کے عہدے کے لئے نامزدکیا تھا، نے اعلان کیا کہ وہ وزیرِاعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان اور چین کو سبق سکھائیں گے۔ کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں اضافہ اور چین کے ساتھ مشترکہ سرحد پر پہلے 2017 میں ڈوکلم اور اب2020 میں لداخ میں چین کے خلاف اشتعال انگیزکارروائیاںاسی اعلان کے مطابق کی جارہی ہیں ۔ مودی حکومت کی تخریب کاری صرف پاکستان اور چین تک محدود نہیں نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت ان کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سے قبل 2018 میں سری لنکاکے صدر نے الزام عائد کیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' انہیں قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہے۔ نیپال اور سری لنکا کے خلاف جارحانہ رویے اور ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں نے آزادانہ خارجہ پالیسی کے تحت چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھے ہیں۔ بھارت کی مخالفت کے باوجود نیپال نے نہ صرف اپنے ہاں چینی سرمایہ کاری کو دعوت دی ہے بلکہ'ون بیلٹ ون روڈ' جیسے عظیم منصوبے میں شمولیت بھی اختیار کر رکھی ہے۔


مضمون نگار: معروف تجزیہ کار اور کالم نویس ہیں۔
  [email protected]

یہ تحریر 75مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP