متفرقات

جنگِ آزادی گلگت بلتستان

’’ہم دراس۔ کارگل روڈ سے کہیں آگے تھے۔ ہم نے دشمن کو بہت دور دھکیل دیا تھا بلکہ دور دور تک دشمن کا پتا بھی نہ تھا۔ ہمارے ساتھی لیہ اور نوبرا کی پہاڑیوں پہ تھے۔ یکم نومبر1948 ریڈیو پاکستان سے یہ اعلان ہوتے رہے کہ جو مجاہدین سیزفائر لائن سے آگے ہیں وہ پیچھے آجائیں۔ ہم بہت دیر تک اپنی لائن پربرقرار نہ رہ سکے۔ کیونکہ کوئی رسد نہ تھی پھر اپنے ساتھیوں اور بالا کمانڈرز کے ساتھ یک طرفہ رابطہ صرف ریڈیو پر تھا۔ ہم صرف سُن سکتے تھے لیکن بتا نہیں سکتے تھے۔ ہم بتانے کے لئے ایک پٹرول لے کر واپس آئے اور پھر ریڈیو پر احکامات دے کر اپنے باقی ساتھیوں کو بھی واپس بلالیا۔‘‘ صوبیدار (ریٹائرڈ) علی مدد خلا میں گھورتے ہوئے ہمیں جنگِ آزادئ گلگت بلتستان کی کہانیاں سنا رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ ان کی آواز میں ایک خاص طنطنہ تھا۔ بولتے بولتے کئی دفعہ ہاتھ سے مکہ بنا کر سینے پر مارتے تھے۔ انہیں ہندوؤں اور ڈوگروں سے نفرت تھی۔ جب یادیں ہری ہو جاتیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے جنگِ آزادی کی فلم چلنے لگتی تو کبھی کبھی غصے سے زمین پر تھوک دیتے۔ ’’میرے بچو‘ ڈوگرہ فوج دنیا کی بزدل ترین فوج تھی۔ جب گلگت اور بونجی سے بھاگے‘ رُکنا تو درکنار پیچھے مڑکر دیکھ بھی نہ سکے۔ ہم ان کے پیچھے بھاگے‘ کچھ کو پکڑ لیا‘ کچھ کو ماردیا اورجو باقی بچے انہوں نے سرینگر جا کر دم لیا۔ ہم پیچھے پیچھے دراس‘ کارگل روڈ کے پرے مورچہ بند تھے کہ یکم نومبر1948 کو گلگت بلتستان کی آزادی کا علان ہوا۔ میں اوران کا بیٹا عباس (اب لیفٹیننٹ کرنل غلام عباس) جومیرے گہرے دوست تھے(اور اب بھی ہیں)۔ صوبیدار مدد علی رشتے میں میرے نانا لگتے تھے۔ مجھے اور عباس کو ان سے جنگِ آزادی کی کہانیاں سننے کا چسکا تھا۔ میں انہیں چھیڑنے کے لئے پوچھاکرتا’’ تو نانا جی ! آپ دشمن کو بھگا کر کتنے خوش ہوئے۔‘‘ وہ سینے پر مکہ مار کرکے کہتے۔ ’’میری جان زیادہ خوش تو تب ہوتا جب دوچار اور ماردیتا۔ لیکن مجھے گلہ یہ رہا کہ ہم نے دراس۔ کارگل روڈ دشمن کے حوالے کی۔‘‘ میں پوچھتا ’’تو نانا جی آپ نے کیوں دشمن کے حوالے کی؟‘‘ نانا جی جلال میں آجاتے’’کاش ہمارے پاس ریڈیو نہ ہوتا۔ ہم مورچہ بند تھے‘ ہمارے پاس راشن کم تھا لیکن ناپید نہ تھا۔ پھر مقامی لوگ ہمارے اپنے ہی تھے۔ ان سے بھی ہمیں خاصہ راشن مل جاتا تھا۔ ہمیںیہ ڈر تھا کہ سردیاں عروج پر ہیں اب اگر رسد کاسلسلہ ٹوٹ گیا تو اگلے سال جون‘ جولائی تک کھل نہ سکے گا اور پھر ریڈیو پہ مسلسل اعلان ہوتے رہے اور حد بندی کی لائن بتاتے رہے۔ میرے بیٹے‘ ہم سیزفائر لائن سے آگے تھے رابطے نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے نقشوں پر دشمن کو پوزیشنیں دے دیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب ہمارے آخری مجاہدین واپس لوٹے ہوں گے تو ان کے دو تین ماہ بعد تک بھی وہاں دشمن نہیںآیا ہوگا۔ ہم نے ان مقامی لوگوں کو‘ جو مسلمان تھے پھر سے ڈوگروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔‘‘ میں اُنہیں منالیتا ’’نانا جی‘ فکر نہ کریں‘ انشاء اﷲ کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔ جس جنگ کی جدوجہد میں آپ شریک تھے وہ جاری ہے۔ ہماری جنگ پاکستان کے لئے تھی اور ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے زورِ بازو سے اور اپنے خون کے نذرانے سے ہمیں آزادی دی ہے۔ ’’وہ خوش ہو جاتے‘ وہ ایسے خوش ہو جاتے جیسے کوئی بچہ خوش ہو جاتا ہے۔ اﷲ رب العزت ان کی مغفرت کرے۔ میں جب بھی ان کو یاد کرتا ہوں تو ان کا خوش ہونا مجھے بے حد یاد آتا ہے۔ وہ کہتے ’’جی دان (میری جان) پاکستان کے لئے تو میری جان اب بھی حاضر ہے۔ میں گلگت سکاؤٹس سے ریٹائر نہیں ہوا بلکہ اب بھی حاضر سروس ہوں۔ میرے ساتھی بوڑھے نہیں ہوئے۔ ہمیں کال کریں ہم لوگ اب بھی آپ کے ساتھ لڑیں گے۔ بلکہ مجھے یقین ہے کہ میرا نشانہ تم سے زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘ میں ہنس دیتا مجھے کم عمری میں عینک لگی تھی اور وہ بڑھاپے میں بغیر عینک کے پڑھ لیتے تھے۔ میں انہیں تنگ کرتا کہ’’ دادو (نانا جی) آئیں مقابلہ کریں اوروہ سچ مچ کھڑے ہو جاتے۔ عباس مجھے آنکھیں دکھاتا اور میں ان سے اور قصے سنتا۔ گلگت سکاؤٹس صوبیدار (ر) علی مدد پاک فوج جائن کرنے میں میرے لئے ایک انسپریشن تھے۔ ان کے دو بیٹے پاک فوج میں آئے‘ غلام عباسEME میں اب لیفٹیننٹ کرنل ہیں اور پوری فیملی میں جینیئس مشہور ہیں۔ ان کے چھوٹے بیٹے میجر میرباز نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے اپنے کورس میں شمشیرِ اعزاز (Sword Of Honour)لی اور آج کل سٹاف کورس عمان میں جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ آزادی کیا ہے؟ اس کی قدروقیمت کیا ہے آزادی کے حصول کے لئے خون کا نذرانہ کیوں ضرور ی ہے اور آزادی کی حفاظت کے لئے جان ہتھیلی پہ لئے چلنا کیوں لازم ہے؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کے جوابات میں نے صوبیدار علی مدد سے سیکھے۔ جنگِ آزادی گلگت بلتستان کے پانچ ہیروز میں سے آخری ہیرو گروپ کیپٹن شاہ خان ابھی حیات ہیں۔ انہوں نے گلگت سکاؤٹس کے نام سے اپنی سوانح حیات بھی تحریر کی ہے۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر بھی ایسے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیاجائے۔ جن کی کاوشوں سے وطنِ عزیز کا ایک حصہ آزاد اور خوش حال ہے۔ جنگِ آزادی گلگت بلتستان میں میجر ولیم براؤن کا بھی ایک رول ہے۔ ان کی بیوہ نے بعدازوفات ولیم براؤن(The Gilgit Rebellion) کے نام سے کتاب شائع کی۔ جن کے بعد حکومتِ پاکستان نے ولیم براؤن کو نشانِ امتیاز سے نوازا۔ میری خوش قسمتی رہی کہ1998 میں دورۂ لندن کے دوران مسز میجر ولیم براؤن سے ٹیلی فون پر گفتگو کرسکا اور انہیں آزادی گلگت بلتستان کے ایک خاموش ہیرو کی بیوہ ہونے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ وہ گلاسکو (سکاٹ لینڈ) میں تھیں۔ انہوں نے مجھے وہاں آنے کی دعوت دی لیکن جیب نے اجازت نہ دی۔ مسز میجر ولیم براؤن آج بھی حیات ہیں اور عمرکے آخری حصے میں ہیں۔ کاش کہ آزادئ پاکستان کے کسی پروگرام میں انہیں بھی مدعو کیا جاسکتا۔ جنگِ آزادی گلگت بلتستان (War Of Liberation Of GB) کے کئی پہلوہیں اور ہر پہلو کے اپنے ہیروز ہیں۔ جن کا احاطہ ضروری ہے۔ اُمید ہے ماہنامہ ہلال اپنے آئندہ آنے والے شماروں میں اس خطے کے ہیروز کی قربانیوں کو کماحقہ اجاگر کرے گا۔

یہ تحریر 65مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP