ہلال نیوز

جنڈولہ میں فُٹ بال ٹورنامنٹ کا پرامن انعقاد

امن کی بحالی کے بعد مرجر اور سابقہ نیم قبائلی علاقہ جنڈولہ میں نوجوان نسل کو کھیلوں کی سرگرمیاں فراہم کرنے کے حوالے سے  جاوید آرائیں کی رپورٹ 

  افواجِ پاکستان ہمارے ملک کا وہ ادارہ ہے جس پر ہر محبِ وطن پاکستانی فخر کرتا ہے یہ وہ ادارہ ہے جس نے سخت سے سخت اور کٹھن حالات میں بھی پاکستانی قوم کو مایوس نہیں کیاہے دہشت گردی کی لہر ہو یا زلزلے کی تباہ کاریاں افواج پاکستان کے جرنیل سے لے کر سپاہی تک پاک فوج کا کردار ملک کی سلامتی اور عوامی خدمت کے لئے منفرد اور بے مثال رہا ہے یہی وجہ ہے کہ پاک فوج عوام کے دلوں میں بستی ہے عوام اور افواج پاکستان کے اس رشتے کو دنیا کی کو ئی بھی طاقت کمزور نہیں کر سکتی۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانیوالی جنگ میں افواج پاکستان کی قربا نیاں کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں ٹانک کا نیم قبائلی اور ضم ہونے والا علاقہ جنڈولہ جو براہ راست دہشت گردی کا شکار ہوا ۔ یہاں کی رو نقیں دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے مکمل طور پرمانند پڑ گئی تھیں۔ کھیلوں کی سرگرمیاں جو کبھی ان علاقوں میں عروج پر ہوا کرتی تھیں۔ خوف کے سایوں کی وجہ سے ختم ہو گئی تھیں۔ تعلیمی سر گرمیاں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں افواج پاکستان اور ایف سی ساؤتھ کے جوانوں اور آفیسرز نے مذکورہ علاقے میں جانوں کے نذرانے پیش کر کے علاقے میں امن کی پائیدار فضا قائم کی اور بعد میں ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ کام کر کے شہریوں کی کھیلوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے پیش پیش رہے۔ سب ڈویژن جنڈولہ دہشت گردی کی لہر سے پہلے شائقین فٹ بال کی سرگرمیوں کا محور ہوا کرتا تھااوریہاں پر بیٹ بابا کے نام سے 1985سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کی سرگرمیاں 2006 میں دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے ختم ہوکر رہ گئی تھیں۔ علاقے میں کھیلوں کے میدان امن و امان کی ابتر صورتحال اورغیر یقینی کی وجہ سے ویران ہوگئے تھے۔ افواج پاکستان،ایف سی ساؤتھ اور علاقے کے لوگوں کی قربانیوں کی بدولت جنڈولہ میں امن لوٹا اور کھیلوں کے میدان پھر سے آباد ہو گئے۔ 35 سال تک مسلسل جاری رہنے والا بیٹ بابا فٹبال ٹور نامنٹ کئی سالوں بعد ایف سی ہیڈ کوارٹر اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر کے تعاون سے جنڈولہ میں اپنی آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوا۔ضم شدہ قبائلی علاقہ سب ڈویژن جنڈولہ میں آل پاکستان بیٹ بابافٹ بال ٹورنمنٹ کی رنگا رنگ تقریب کے ذریعے کھیلوں کی سرگرمیوں کا افتتاح کیا گیا۔ امن کی بحالی کے بعد اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے مذکورہ ضم شدہ علاقے میں فٹبال کے شائقین کو ایک نہایت پروقار تقریب دیکھنے کو ملی اور ہر طرف پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے نظرآنے لگے۔ سیکٹر کمانڈر ساؤتھ، بریگیڈئیر نیک نام اورگومل سکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل مظہر افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے  بیٹ بابا فٹبال ٹورنمنٹ کی افتتاحی تقریب میں آمد کے موقع پر دونوں معزز مہمانوں کا کھلاڑیوں اور شائقین نے ڈھول کی تھاپ پر پرتپاک استقبال کیا اور انہیں علاقائی روایات کے مطابق لنگیاں پہنائیں افتتاحی تقریب میں شائقین کی بہت بڑی تعداد شریک تھی۔ علاقائی مشران، سول انتظامیہ اور ایف۔سی کے دیگر حکام بھی تقریب میں موجود تھے۔ تقریب کا افتتاحی میچ شاہین کلب ٹانک اور بیزن خیل کلب بنوں کے درمیان کھیلاگیا جس کو دیکھ کر شائقین فٹ بال لطف اندوز ہوتے رہے بلوچستان سے آئے ہوئے مہمان کھلاڑیوں نے مختلف کرتب پیش کرکے تقریب کو چار چاند لگائے اور شرکاء سے داد وصول کی قبائلی عمائدین ملک مولانا ہفتہ خان،ملک پتو، ملک امان اللہ،ملک نصیب خان،ملک الف خان،گل حسین،ملک نادر خان اور ملک حیات اللہ کا کہنا تھا کہ ہیڈ کوارٹر ایف سی ساؤتھ اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کے تعاون سے کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ ملنا ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلوں کے میدانوں میں اپنا لوہا منوانے کے مواقع میسر آئیں گے انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب جنڈولہ میں امن کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے شہریوں کو نقل مکانی کرنے اور اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا یہاں کے باسیوں کا ذریعہ معاش مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا اور شہری اپنے ہی وطن میں پناہ گزینوں کی طرح زندگیاں گزارنے پر مجبور ہو چکے تھے۔ بد امنی کی صورتحال نے علاقہ مکینوں کے ذہنوں پر ایسے خیالات نقش کئے کہ گویا ان علاقوں میں دوبارہ خوشحال زندگی گزارنا ایک خواب ہوگا۔ لیکن اللہ کے فضل و کرم سیکورٹی فورسز اور عوام کی جانی و مالی قربانیوں سے علاقے میں امن قائم ہوچکا ہے اور سابقہ نیم قبائلی علاقہ جنڈولہ اب کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ عمائدین نے مزید کہا کہ بیٹ بابا فٹ بال ٹورنامنٹ کا پر امن انعقاد اور پاکستان کے چاروں صوبوں سے فٹ بال کی ٹیموں کا کھیلوں کے مقابلوںمیںحصہ لینا یہاں کے پائیدار امن کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ سب کچھ افواج پاکستان اور یہاں کے باسیوں کی امن کی خاطر لازوال قربانیوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے۔ بیٹنی عمائدین نے کہا کہ جنڈولہ میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے آغاز سے یہاں کی نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچ جائے گی اور وہ کھیلوں کے مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر نہ صرف اپنا اور اپنے والدین بلکہ ملک اور قوم کا نام روشن کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ بیٹ بابا فٹ بال ٹورنامنٹ امن اور خوشحالی کی علامت ہے جس سے جنڈولہ میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔بیٹ بابا فٹ بال ٹورنامنٹ میں پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والی 50 سے زائد ٹیموں نے حصہ لیا۔ بلوچستان سے چمن، کوئٹہ،ہرنائی،ژوب پنجاب سے اسلام آباد،فیصل آباد، لیہ ، میانوالی، بھکر سندھ سے پاکو کراچی اورکے پی سے ٹانک،ڈیرہ، لکی مروت، بنوں، وانا، میران شاہ اورکوہاٹ کی ٹیمیں بھی کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیا۔سیکٹر ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کے تعاون سے شروع ہونیوالے بیٹ بابا فٹ بال ٹورنامنٹ کا ہر میچ قومی ترانے کی گونج کے ساتھ شروع ہوا جس میں کلچر، حبّ الوطنی اور مہمان نوازی شامل ہوتی تھی۔ علاقائی عمائدین نے ایف سی ہیڈ کوارٹر اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کی امن کی بحالی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں ان کے بنیادی کردار کو سراہا ہے۔
 

یہ تحریر 75مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP