قومی و بین الاقوامی ایشوز

جموں اور کشمیر میں زبانوں کی تبدیلی کا بل ٢٠٢٠

پچھلی سات دہائیوں کی بھارتی مقبوضہ وادیٔ جموں و کشمیر کی لہولہان تاریخ میں 5اگست 2019ء کا دن ایک سیاہ ترین دن ہے ۔ اس دن بھارت کی فاشسٹ مودی سرکار نے اپنے سیاہ نامۂ اعمال میں ایک اور کالک کا اضافہ کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کی جداگانہ حیثیت کا خاتمہ کر دیا  اور اپنے ہی آئین کی دھجیاں بکھیرکے رکھ دی ہیں۔ تب سے لے کر اب تک پوری وادی عملاًفوجی چھائونی کا منظر پیش کر رہی ہے اور لاکھوں کشمیری عوام اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کی زندگیاں جس ہولناک عذاب سے دوچار ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔



مودی سرکار کے بھیانک جرائم کی ایک طویل فہرست ہے جس میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ان میں سے ایک تازہ اضافہ وادی کی سرکاری زبانوں میں تبدیلی کا بل2020ء ہے جسے Jammu and Kashmir Official Languages Bill 2020کا نام دیا گیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق 2ستمبر 2020ء کو نئی دہلی میں کابینہ اجلاس کے بعد بھارت سرکار کے مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات Prakash Javadekar نے صحافیوں کو بتایا کہ کابینہ اجلاس میں اس تجویز کی منظوری دی گئی کہ جموں و کشمیر میں پانچ زبانوں کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔ اور یہ کہ جموں وکشمیر میں سرکاری زبانوں کا ایک الگ محکمہ بھی قائم کیا جائے گا۔دراصل اس بل کے تحت وادی کی سرکاری زبانوں میں کشمیری، ڈوگری اور ہندی زبانوں کو شامل کرکے وادی کو اردو زبان کی 131 سالہ سنہری تاریخ سے محروم کرنا ہے۔ 1889ء میں ڈوگرہ حکمران پرتاپ سنگھ نے وادی میں فارسی زبان کی جگہ اردو کو سرکاری زبان قرار دے کر نافذ کیا تھا جو کہ اب تک وادی کے طول و عرض میں بولی جانے والی واحد زبان تھی۔ لیکن فاشسٹ مودی سرکار وادی میں، مسلمان دشمنی میں، تہذیب و اخلاق اور لاقانونیت اور درندگی کی تمام حدیں پھلانگ چکی ہے۔ اسی باعث پوری وادی میں غیر مقامی ہندو آباد کئے جارہے ہیں تاکہ وادی کی مسلم شناخت کو تاخت و تاراج کیا جا سکے ۔ آئیے اس متنازعہ ترین بل کا بے لاگ تجزیہ کریں۔

ہندو انتہا پسند عرصہ دراز سے پورے ہندوستان سے ماسوائے ہندومت کے ہر دوسرے مذہب وملت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اپنے نام نہاد سیکولرازم کی آڑ میں ہندوتوا نظریہ کا عملی طور پر پرچار کیا جاتا ہے۔ اسی باعث آئے روز ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ دوسری اقلیتوں پر بھی نت نئے بہانوں اور الزامات کی بوچھاڑ کرکے بلوہ کرا دیا جاتا ہے۔ وہ مسلسل یہ مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں کہ ہندی کو قومی زبان قراد دے کر علاقائی زبانوں کا سکرپٹ یعنی رسم الخط دیوناگری یعنی ہندی میں تبدیل کردیا جائے۔ جب بھی یہ مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس کی براہ راست زد میں کشمیری اور اردو زبانیں آتی ہیں۔ کشمیری زبان کے رسم الخط کو تبدیل کرنے کی مہم تو دہائیوں سے جاری ہے مگر حال ہی میں مودی سرکار نے اس کی عملی کوششیں شروع کردی ہیں۔  5 اگست 2019ء کو بھارتی مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک نئی یونین بنا دی گئی۔ لداخ کو الگ سے یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا۔ماقبل اس وادی میں انگریزی او راردو اس کی سرکاری زبانیں تھیں ۔ اس بل کے ذریعے مودی سرکار اپنے مکروہ ہندوتوا ایجنڈے کے تحت پوری وادی میں ہندی کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ وادی کے عوام اپنی بنیادی شناختوں سے بھی محروم ہو جائیں۔ اس بل کی پوری وادی میں سخت مذمت کی جار ہی ہے۔ ممتاز سیاستدانوں کے علاوہ تجزیہ کاروں کے مطابق بھی اس بل سے وادی کی محرومیوں میں مزید اضافہ ہوگا اور لسانی و گروہی اختلافات کو ہوا دی جائے گی جس سے علاقائی عصبیت خوفناک آکاش بیل کی صورت پھیلتی چلی جائے گی۔ اس فیصلے سے مقامی سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی کے ارکان، دانشور حلقے اور ماہرین لسانیات سخت خفا ہیں اور اپنی برہمی کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔ مودی سرکارکے اس سیاہ اقدام نے بھارت نواز سیاست دانوں کو بھی ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے او روہ بھی سکتے کی کیفیت کا شکار ہیں۔ مختلف دیگر زبانوں کے بولنے والے اب اپنی اپنی زبانوں کی شمولیت کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس بات سے یہ اندازہ لگانا چنداں دشوار نہیں کہ اس بل کے پس پردہ محرکات میں کیا کچھ شامل ہے۔بھارتی آئین، شق 351کے تحت ہندی زبان کو فروغ دینے کی بات کرتا ہے۔ اسی لئے بھارتی سرکار نے پہلے پوری وادی کی الگ شناخت مٹانے کی مکروہ حرکت کی اور اس کے بعد اب زبانوں کی تبدیلی کا قانون متعارف کر ا رہی ہے تاکہ اپنے استحصالی اور استبدادی ایجنڈے کی تکمیل کر سکے۔ 
ماہرین لسانیات کے مطابق کسی بھی خطے میں قدرتی طور پر بولی جانے والی کوئی ایسی زبان ضرور پائی جاتی ہے جو کہ رابطے کی زبان کہلاتی ہے۔ اس حوالے سے اردو زبان وادب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والوں کے بیچ ایک پل کی صورت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ تینوں خطوں کے عوام کے لئے رابطے کی زبان بھی ہے۔ اردو زبان کی تبدیلی کی مکروہ سازش کا مقصد کشمیریوں کے اجسام کو ان کی روح سے جدا کردینے کے مترادف عمل کہا جائے گا۔ یہ زبان چونکہ خالصتاًمقامی زبان نہیں ہے بلکہ باہری زبان ہونے کے ناتے پوری وادی میں اپنی رابطہ جاتی زبان کی حیثیت منوانے میں کامیا ب ہوئی ہے۔ چونکہ وادی میں فارسی 14ویں صدی سے موجود تھی اس لئے اردو کو اس علاقے میں مقام بنانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی۔بلکہ فارسی کی موجودگی کے سبب ہی لداخ سمیت پورے جموں و کشمیر میں فارسی اردو زبان کے فروغ و ارتقاء میں ممد ومعاون  ثابت ہوتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان صرف مسلمانوں کی زبان کا درجہ نہیں رکھتی بلکہ ہر مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والے اس زبان کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مودی سرکار کے حامی اس عظیم زبان کو صرف مسلمانوں کی زبان قرار دے کر پورے ہندوستان اور پوری وادی سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ موجودہ بل کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔پوری وادی ایک مسلم اکثریتی آبادی ہے جس میں 97فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں جبکہ بقایا آبادی میں پونے دو فیصد کے قریب ہندو ، اعشاریہ 8 فیصد سکھ اور اعشاریہ11 فیصد بدھ ہیں۔ وادی کی اہم زبانوں میں اردو اور کشمیری ہیں جبکہ اردو دفتری زبان رہی ہے۔ انگریزی بھی کثیر تعدادمیں بولی جاتی ہے ۔ تاہم اس بل نے پوری وادی میں اردو زبان کے وجود کو سخت خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسی باعث پوری وادی کے ہر گوشے سے اس بل کے خلاف آواز بلند کی جارہی ہے اور اقوام عالم کے مردہ ضمیر کو جگایا جا رہا ہے کہ وہ حقیقی عملی اقدامات کرکے بھارت کی اس فاشسٹ حکومت کو نکیل ڈالیں اور مظلوم و بے یارو مددگار کشمیری عوام کی مدد کریں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کشمیریوں کی اس جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مسئلہ جموں وکشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی استصواب رائے کے مطابق حل چاہتا ہے۔ اسی باعث پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بجا طور پر قرار دیا کہ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر ہندی زبان کو زبردستی مسلط کرنے کا واحد مقصد علاقے کی شناخت کو تبدیل کرنے کے بھارتی سرکار کے اقدامات کا حصہ ہے تاکہ کشمیریوں کو ان کی بنیادی شناخت تک سے محروم کر دیا جائے۔ اسی لئے پاکستان  Jammu and Kashmir Official Languages Bill 2020 کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر زبردستی ہندی زبان نافذ کرنے کے بھارتی فیصلے کی مذمت کرتا ہے۔
ہر جابر و سنگدل اور استحصالی حکومت کی طرح مودی سرکار بھی انہی عزائم کے ساتھ مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کو اپنی دائمی غلام بنانے کے درپے ہے۔ اور ریاست اور ریاست کے پورے وجود کو ملیامیٹ کرنے کے لئے کسی بھی طرح کے جابرانہ اقدامات اٹھانے سے قطعاً گریز نہیں کر رہی ہے بلکہ اپنی فوجی جبر و استبداد تلے کشمیریوں سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔ اس وقت پوری وادی گزشتہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے عملاً کرفیو کا شکار ہے ۔ اور اسی کرفیو زدہ زندگی کے دوران بھارتی حکومت وادی کی زبانوں کی تبدیلی کا بل متعارف کرا کے مظلوم کشمیریوں کے زخموں پر مزید نمک چھڑک رہی ہے۔ اس بل کے پس پردہ مذموم مقاصد کا تذکرہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے جس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کشمیریوں کی تہذیب و ثقافت کی بنیادوں کو ڈھا دینے کا گھنائونا منصوبہ پیش کر دیا گیا ہے۔ تاکہ نوجوان کشمیری نسل اپنی مبادیات سے کٹ جائے اور ہندو استحصالی قوتوں کے گندے عزائم کا شکار ہو کر رہ جائے۔ ہندی کے جابرانہ فروغ کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔ پوری وادی میں سخت اضطراب و بے چینی کی لہریں پھیلی ہوئی ہیں۔ بے چارے مظلوم کشمیری عوام بے پناہ ظلم و تشدد کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی گراں قدر عزم و ہمت سے جدوجہد آزادی کی شمعیں روشن کئے ہوئے ہیں۔ یہ شمعیں انہوں نے اپنے جلیل القدر شہیدوں کے مقدس خون سے روشن کی ہیں۔ یہی شمعیں اس امر کی بھرپور عکاسی کر رہی ہیں کہ جبر و استبداد کی قوتیں چاہے جس قدر بھی ظلم کا مظاہرہ کرلیں، بالآخر ان کے مقدر میں ذلت و رسوائی آئے گی اور مظلوم کشمیری عوام اپنے بے مثال عزم و حوصلے اور قربانیوں کی لازوال داستان سناتے ہوئے اپنی منزل مقصود یعنی گوہر آزادی کو حاصل کرنے میں ان شاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ غاصب قوتوں کو بھی اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ اپنے تباہ کن فوجی ظلم  کے ساتھ کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنے شیطانی منصوبوں میں ذرہ بھر بھی کامیانی حاصل نہیں کرسکیں۔اسی لئے ان قوتوں نے اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں مزید کالک کا اضافہ کردیا ہے۔ اورزبانوں کے موجودہ بل کے ذریعے غیور کشمیری عوام کی تہذیبی وثقافتی اور لسانی شناخت چھیننے کے درپے ہیں۔ تاکہ ان بہادرکشمیری عوام کو ذہنی غلام بنا کر اپنے مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ شاید وہ استحصالی قوتیں یہ بھول بیٹھی ہیں کہ بہادر کشمیر ی عوام نے اپنی بے مثال جدوجہد آزادی کی اپنی خون سے آبیاری کی ہے۔ بھارت اپنی بے پناہ فوجی جبرو تشدد کے باوجود اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کرپایا تو اس طرح کے متنازع بل سامنے لا کر وہ کیونکر کشمیریوں کے عزم وحوصلہ کو شکست دے سکتا ہے۔ ان شاء اللہ اس بار بھی اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔ ||


 [email protected]
 

یہ تحریر 93مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP