متفرقات

جلیبی

پاکستانی سینما میں کچھ عرصے سے بہار کاموسم آیاہواہے۔نت نئی فلمیں تخلیق ہورہی ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے، ان فلموں کوبنانے والے زیادہ ترنوجوان ہیں۔۔۔یہ ایک مثبت پہلوہے،کیونکہ اس میں نوجوانوں کی اکثریت فلم کے شعبے میں باقاعدہ تربیت حاصل کرکے آرہی ہے،جس کی وجہ سے ہماری فلموں میں بین الاقوامی انداز کی عکاسی کی جھلک آنے لگی ہے۔

20مارچ2015کوپاکستان میں ریلیزہونے والی فلم’’جلیبی‘‘بھی ایک نوجوان ہدایت کار’’یاسرجسوال‘‘کی تخلیق ہے۔یہ فلم پاکستان کے علاوہ دبئی، انگلینڈ،امریکا،آسڑیلیاسمیت کئی ممالک میں نمائش کے لئے پیش کی گئی۔ اس فلم نے ابتدائی دنوں میں ہی اپنی لاگت پوری کرلی، جس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ باکس آفس پر یہ فلم کامیاب ہوئی ہے۔اس فلم کی لاگت پوری ہونے کے پیچھے ایک وجہ معروف کاروباری شخصیت بھی ہیں،جنہوں نے پیشگی اس فلم کے دس ہزار ٹکٹ خرید لئے تھے،جس کی وجہ سے فلم کونمائش سے پہلے ہی مضبوط سہارامل گیا۔اس کے ساتھ ساتھ فلم کی تقسیم کے حقوق ایک نجی چینل کے پاس تھے،جس نے اس کی خوب تشہیر کی، جس کا فائدہ اس فلم کوہوا، اس طرح فلم بینوں کی توجہ حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی اورلاگت بھی پوری کرلی گئی۔

فلم کے ہدایت کاریاسرجسوال پاکستانی سینما میں ایک نیا نام ہیں۔ اس فلم کے اداکاروں میں سوائے ساجد حسن اورژالے سرحدی کے‘ تمام اداکاروہ ہیں جنہوں نے اسی فلم سے اپنے فلمی کیرئیر کی ابتداکی۔ان میں سبیکاامام، دانش تیمور،علی سفینا، وقارعلی خان اوردیگر شامل ہیں۔فلم کے ہدایت کار نے اس کی کہانی خود لکھی،جبکہ فلم کاٹائٹل گیت’’جلیبی‘‘اپنے بھائی، عمیرجسوال سے گوایا۔ فلم میں بھی مرکزی کردار ان کے ایک اور بھائی، عزیرجسوال نے نبھایا، اس فلم کو جسوال خاندان کی اجتماعی کاوش بھی کہاجاسکتاہے۔

کسی بھی فلم میں ایک ہی گھر سے زیادہ لوگوں کی شمولیت پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے،لیکن جس شعبے کے لئے ان کو منتخب کیاگیا، اس میں مہارت بھی شرط ہے،جو اس فلم میں کم کم ہی دکھائی دی۔ فلم کی موسیقی شجاع حیدر نے ترتیب دی، ان کو اپنا کام بخوبی آتاہے،اسی لئے شاید فلم کے کچھ گیتوں نے مقبولیت بھی حاصل کی، بالخصوص جلیبی، جی رہا اورجوانی شامل ہیں۔ گلوکاروں میں شجاع حیدر ،حمیراارشد، قیاس بینڈ سمیت دیگر نے اپنی آواز کاجادوجگایا۔ فلم کی کہانی وہی گھسے پٹے ایک پرانے خیال کے گرد گھومتی ہے۔ دو دوست قرضہ لیتے ہیں، قرض دینے والے مافیا ہیں۔ اب جب وہ دونوں دوست قرضہ نہیں چکاپاتے تو وہ راہ فرار اختیارکرتے ہیں، اس ساری کشمکش میں ان کی ملاقات ایک اورکردار سے ہوتی ہے جس کو مافیا کے سرغنہ سے بدلہ لینا ہوتاہے۔ یوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اوراپنی جان بچانے کی فکر میں کردار ایک دوسرے سے اُلجھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔فلم کے مکالمے بھی بوسیدہ ہیں، ہندی فلموں سے متاثر اورایسی زبان استعمال کی گئی ہے جس کا پاکستانی معاشرت اور سینما سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔اس فلم کا معیار جانچنے کے کئی پہلو ہیں، جن سے اندازہ ہوگا کہ یہ فلم کس حد تک پاکستانی سینما میں اپنا حصہ ڈالنے میں کامیاب رہی۔

تکنیکی اور کمرشل پہلو ؤں سے فلم بہت کامیاب رہی۔بالخصوص تکنیکی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ فلم جدید ترین کیمرہ ’’ARRA-ALEXA HD‘‘ پر بنائی گئی،یہ وہی کیمرہ ہے جس سے ہالی ووڈ میں جیمز بونڈ سیریز کی آخری فلم’’اسکائی فال۔ Skyfall‘‘ بنائی گئی تھی۔اس لحاظ سے یہ خوش آئند بات ہے۔ اس طرح کی جدید ٹیکنیک کا رجحان ہمارے سینما میں بڑھ رہا ہے، لیکن ایڈیٹنگ کے شعبے میں’’جلیبی‘‘کمزورفلم ثابت ہوئی۔کئی مناظر بے تکے تھے، جن میں کوئی تسلسل نہیں ہے۔ بہت سارے مناظر کے لئے تاریکی کااستعمال کیاگیا، مگر یہ تجربہ بھی ناکام ہوتادکھائی دیا۔ مکسنگ بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہوئی،جس وجہ سے فلم بین اور مناظر میں ربط قائم نہیں رہا۔ البتہ کمرشل لحاظ سے فلم باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اس فلم کی تشہیر بہت اچھے انداز میں کی گئی۔ فلم کاٹریلر، پوسٹرزاورپریمئرشوز بہت اچھے انداز میں بنائے گئے۔

اداکاری کے تناظر میں دیکھاجائے توسوائے ساجد حسن اور عدنان جعفر کے کوئی بھی اداکار ٹھیک سے اپنا کردار نہیں نبھا سکا۔ وقارعلی خان ایک ماڈل ہے،جس کواردو بھی ڈھنگ سے نہیں آتی، یہی وجہ ہے کہ اردوفیچر فلم ہوتے ہوئے بھی اس نے اکثر جگہوں پر انگریزی کے جملے اداکئے ہیں ،نہ جانے ہدایت کار کی کیامجبوری تھی،جو وقار کوفلم میں شامل کیا۔ژالے سرحدی کو ’’آئٹم گرل‘‘کے طورپر پیش کیاگیا،مگر یہ تجربہ بری طرح ناکام رہا،البتہ ان پر فلمایا ہواگیت سننے میں اچھا تھا۔سبیکاامام اورعزیرجسوال اس فلم کی تباہی میں بڑے حصے دار ثابت ہوئے ،جبکہ علی سفینا اوردانش تیمور نے صرف جذباتی اداکاری کرنے کی کوشش میں اپنے کرداروں کو مزید مسخ کردیااورفلم بینوں پر نہایت منفی اثرات مرتب کئے۔

فلم’’جلیبی‘‘کی واحد خوبی یہ ہے کہ اس میں جدید تکنیکی آلات استعمال ہوئے۔جس وجہ سے فلم کے کچھ مناظر بہت جاندار دکھائی دیئے۔فلم کا ساؤنڈ بہت معیاری تھا،گیتوں کی دھنیں بھی قابل سماعت تھیں۔یہ فلم چونکہ نوجوانوں کی ایک کاوش تھی،لہٰذا ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ،جوکی بھی گئی ،یہی وجہ ہے کہ فلم باکس آفس پر اپنی لاگت پوری کرنے میں کامیاب رہی۔البتہ نئے فلم سازوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ پاکستانی سینما ماضی میں کیساتھاجب شاندار فلمیں ہمارے کریڈیٹ پر ہواکرتی تھیں۔

اب بھی کئی نوجوان فلم ساز بہت اچھا کام کررہے ہیں،نئی نسل کو ان کی تقلید کرنی چاہئے ۔فلم کی کہانی،مکالمے، موسیقی اورشاعری بہت اہم شعبے ہوتے ہیں ،تکنیکی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ان پر بھی بھرپور توجہ دی جانی چاہئے ہمارے ملک میں ان شعبوں میں مہارت رکھنے والوں کی کمی نہیں،لہٰذا نئے فلم سازوں کو چاہئے کہ وہ ان سے استفادہ کریں۔اسی طرح سے کوششیں جاری رہیں،تو پاکستانی سینما کو مستقبل قریب میں بڑی کامیابیاں ملنے لگیں گی اورفلمی صنعت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے گی۔

مصنف فن و ثقافت سے متعلق امور پر لکھنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں

ایک معروف اخبار کے لئے ’’بلاگ‘‘ بھی لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 42مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP