مکتوبات

جسے چاہا درپہ بلا لیا

دوسری قسط

اﷲ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم اور نبی پاکﷺ کی نظر التفات کے صدقے اس بندۂ گنہگار کو اس سال عمرہ مبارک کی سعادت نصیب ہوئی۔اسلام آباد سے براستہ بحرین چھ گھنٹے کے ہوائی سفر کے بعد جدہ ائیر پورٹ پر اترتے ہی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ روشنیوں کی اتنی چکاچوند کہ رات پر بھی دن کا گماں ہوتا تھا۔ ایئرپورٹ پر ایک ایک چیز کی تلاشی لی گئی جہاں سیکیورٹی کا نظام اتنا سخت اور مؤثر ہے کہ اب جعلی کاغذات پر سعودی عرب میں داخلہ تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج کل جدہ ایئرپورٹ پر ہی پاسپورٹ ضبط کر کے اس ہوٹل کے ایجنٹ کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں جہاں آپ کا قیام ہوتا ہے۔ پہلے ایجنٹ حضرات ملازمت کے خواہش مند نوجوانوں کو عمرے کے ویزے پر سعودی عرب بھیج دیتے تھے جہاں سے وہ کسی نہ کسی طرح ادھر ادھر ہو جاتے تھے۔ اب کوئی شخص غیرقانونی طور پر غائب نہیں ہو سکتا۔ یہ غیر قانونی انسانی سمگلنگ کا دھندہ اب بند ہو گیا ہے۔ جدہ ایئرپورٹ کے سامنے بس سٹینڈ پر چھوٹی بڑی ایئرکنڈیشنڈ گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتی ہیں جو عازمین حج و عمرہ کو مکہ معظمہ لے جاتی ہیں۔ہمیں بھی ایک مسافر بس میں سوار کر دیا گیا۔ جو تقریباً پانچ گھنٹے تک دوسرے زائرین عمرہ کے انتظار میں کھڑی رہی مگر ائرکنڈیشنر مسلسل چلتا رہا جس کی وجہ شائد سعودیہ میں تیل کی فراوانی ہے اور سستا ہونا بھی ہے‘ اس لئے دو چار گھنٹوں کے لئے گاڑی کا انجن بند کرنے کی کوئی زحمت گوارا ہی نہیں کرتا۔ جب ہماری بس عازمین عمرہ سے بھر گئی تو اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئی۔ جدہ سے مکہ مکرمہ ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ تھکاوٹ کے باعث بس میں نیند آ گئی اور وقت کٹنے کا احساس ہی نہ ہوا‘ آنکھ کھلی تو بس ایک آٹھ منزلہ ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی۔ ہم نے جلدی سے ہوٹل میں سامان رکھا اور اسی وقت دل میںیہ احساس لئے حرم شریف کی جانب چل پڑے کہ ہم اس قادر مطلق کی بارگاہ میں حاضر ہو رہے ہیں جس کا کوئی شریک نہیں‘ جو بزرگ و برتر ہے‘ جس کے آگے شہنشاہ و گدا سب سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس عظیم بارگاہ میں حاضری کی سعادت ملنے پر آنکھیں احساس تشکر سے بے اختیار اشک بار ہو جاتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ ہم نے بھی کعبہ پر نظر پڑتے ہی یہ دعا کی کہ یااﷲ تو ہمیں مستجاب الدعا بنا دے ‘جب تیری بارگاہ میں ہاتھ اٹھائیں تو انہیں شرف قبولیت بخشنا۔ہم اس ذات باری تعالیٰ کے دربار میں تھے جس کے آگے بڑی سے بڑی ہستی حقیر و بے مایہ ہے۔ ہم انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ کعبہ کے سامنے بت بنے کھڑے تھے۔ ہم اﷲ کے گھر میں تھے اور اس کے قرب حضوری میں کھڑے تھے۔ ہمارے پاس فقط جھکا ہوا سر ‘ لڑکھڑاتی زبان‘ دعا کے لئے بلند ہوتی آوازیں‘ آنسو بہاتی ہوئی آنکھیں‘ خشیت الہٰی سے معمور دل اور شفاعت کے لئے پاکیزہ خیالات تھے۔

مسجد الحرام میں ہم نے روح پرور لمحات گزارے۔ یہ فرط انبساط کے ساتھ ساتھ شکر گزاری اور انکساری و عاجزی کے لمحات تھے۔ خانہ خدا کو دیکھ کر دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ نگاہ کو سرفرازی مل گئی۔ آنکھوں میں شکرگزاری کے آنسو تھے جو لمحہ بہ لمحہ برسات کے بادلوں کی مانند برسنے کے بہانے مانگتے تھے۔ عمرے کے سات چکر شروع کئے تو تھکن سے چُور چُور جسم میں اچانک کرنٹ سا دوڑ گیا۔ توانائی لوٹ آئی‘ جذبے بیدار ہو گئے۔دل اﷲ کی محبت سے معمور ہو گیا۔ سپاس گزاری کے ساتھ یہ سات چکر پورے کئے۔ بے پناہ ہجوم نے اگرچہ ملتزم تک تو نہ پہنچنے دیا البتہ مقام ابراہیم پر نوافل ادا کرنے کا موقع ضرورمل گیا۔ پھر چاہِ زم زم پر پہنچ کر اس آب شفا کو نوش کیا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کا صدقہ ہے۔ پھر سعی کی منزل کا آغاز کیا اور صفا و مروہ کے درمیان ساتھ چکر پورے کئے۔ سعی کی دولت سمیٹ کر حلق کروایا۔ تھوڑی دیر آرام کے لئے لیٹ گئے۔ ابھی جسم آسودگی کی جانب بڑھ ہی رہا تھا کہ نماز ظہر کا وقت ہو گیا۔ وضو کر کے حرم مکرم پہنچے اور عشا تک اسی عرش مقام مسجد میں قیام رہا۔ پھر جتنے دن مکہ میں رہے یہی معمول رہا۔ صبح نماز تہجدکے وقت حرم شریف کو جاتے اور نماز عشاء کے بعد واپس لوٹتے۔ روزانہ حاضری ہوئی‘ آنسوؤں کی برسات بھی بار بار ہوئی۔ دل و جان نے ایسی نعمتوں اور سعادتوں کا مشاہدہ کیا جن کا الفاظ میں بیان ممکن نہیں۔ حرم شریف میں یہ احساس جاگزیں رہا کہ ہم اعلیٰ ترین حاکم کے سامنے فریادی بن کر کھڑے ہیں‘ جو رحیم ہے‘ کریم ہے‘ خالق ارض و سماوات ہے اور جس نے ہم جیسے بے نواؤں اور بے کسوں کو کاسہ گدائی کے ساتھ اپنی عطائیں وصول کرنے کے لئے طلب فرمایا ہے۔ عالمِ اسلام کے مظلوم مسلمانوں خصوصاً کشمیری اور فلسطینی بھائیوں کے لئے دعائیں مانگیں۔ جن اعزہ و احباب نے سلام بھیجا تھا‘ ان کے سلام پیش کئے۔ یہ لمحات میری زندگی کے انمول لمحات بن گئے۔ مقام ابراہیم میں نوافل ادا کرنے کی سعادت اس بزرگ و برتر‘ اﷲ تعالیٰ کے کرم کے طفیل دوبار نصیب ہوئی۔ سجدوں کے دوران زندگی کے سارے دکھ‘ شکر گزار یاں سب نعمتیں‘ جملہ خطائیں اور قلبی آرزوئیں سامنے آ گئیں۔ سجدے طویل ہوتے گئے اور اشکوں کی جھڑی نے ان سجدوں کو قبولیت کے قریب تر کر دیا۔ مقام ابراہیم انتہائی مقدس ہے۔ ہر ایک کی خواہش یہاں نوافل ادا کرنے کی ہوتی ہے۔ یہ مقام سعادتوں کا امین ہے۔ جہاں نوافل کے دوران انسان پگھل پگھل جاتا ہے اور اس پر ایک بے خودی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہاں بہتے ہوئے اشک موتیوں میں ڈھلتے دکھائی دیتے ہیں۔ حرم شریف میں طلبِ دعاؤں کے ذریعے مکینِ کعبہ سے مسلسل ہم کلام رہے۔ دل کی ساری امنگیں اگل دیں۔ یہ تصور کہ خوش بختی اور رفعت نصیبی نے کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ میری ساری صلاحیتیں اور جسم کی محفوظ توانائیاں سمٹ کر آنکھوں کی راہگزر سے سیلاب کی شکل میں باہر آتی رہیں۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا چلا جا رہا تھا۔ نارسائیوں کا ڈھنڈورا پیٹتا چلا جا رہا تھا۔ گدائی کے سارے اسلوب آزما ڈالے۔ کیونکہ سننے والا سامنے موجود تھا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہتے چلے جاؤ ہم سننے کے لئے ہی تو ہیں‘بہت دیں گے۔ دامن کی فکر مت کر اسے کشادہ کرنا ہمارا کام ہے اور دی ہوئی نعمتوں کی حفاظت بھی ہمارے ذمہ ہے۔

دنیا کے گوشے گوشے سے مسلمان مردوخواتین کعبہ کی جانب کھینچے چلے آتے ہیںیہاں دن اور رات کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ زائرین کا ہجوم بے کراں ہروقت طواف کعبہ میں مصروف نظر آتا ہے۔ کعبہ کی حدود میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ پھر بھی زائرین والہانہ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ کسی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے۔ تمام تکلیفیں اور مصائب خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ رش کے باوجود دورانِ طواف دانستہ دھکم پیل نہیں ہوتی ہر زائر خشیت الہٰی میں ڈوبا ہوا جسمِ بے جان کی طرح طواف میں مصروف ہوتا ہے اسے اردگرد کی خبر نہیں ہوتی۔ (جاری ہے)

کعبہ کی دیواریں سیاہ غلاف سے ڈھکی رہتی ہیں جو زمین تک لٹکتا ہے جس کا زیریں کنارہ تانبے کے ان حلقوں سے بندھا رہتا ہے جو فرش میں جڑے ہوئے ہیں۔ کعبہ کو غلاف پہنانے کا رواج قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے اور اسلام نے بھی اس کو باقی رکھا۔ اس سلسلے میں پہلا نام تبع اسعد الحمیری کا لیا جاتا ہے۔ غلاف کعبہ میں صرف دو شگاف ہیں ایک میزابِ رحمت کے لئے اور دوسرا خانہ کعبہ کے دروازے کے لئے۔ پہلے غلاف کعبہ ہر سال مصر میں تیار ہوتا رہا۔ پھر ہندوستان اور پاکستان میں بھی تیار ہوکر عازمین حج کے ایک قافلے کے ہمراہ مکے پہنچتا رہا۔ اب یہ غلاف کعبہ مقامی طور پر دارالکسوۃ میں تیار ہوتا ہے۔شمال مشرقی دیوار میں زمین سے کوئی سات فٹ اونچا کعبے کا دروازہ ہے جس کے کچھ حصوں پر چاندی کے پترے چڑھے ہوئے ہیں۔بیرون کعبہ مشرقی کونے میں فرش سے تقریباً پانچ فٹ کی بلندی پر دروازے کے قریب ہی حجر اسود دیوار میں نصب ہے۔ دیوار کا وہ حصہ جو حجر اسود اور دروازے کے درمیان ہے‘ ملتزم کہلاتا ہے۔ کعبہ کے باہر کی جانب ایک سنہری پرنالہ (میزاب) شمال مغربی دیوار کے بائیں کنارے سے نیچے نکلا ہوا ہے۔ یہ پرنالہ میزاب رحمت کے نام سے موسوم ہے۔ شمال مغربی دیوار کے سامنے حطیم ہے‘ اس کے سرے کعبے کے شمالی او رمشرقی کونوں سے تقریباً چھ فٹ کے فاصلے پر ہیں ۔ حطیم اور کعبے کے درمیان جو نصف دائرے کی شکل میں قطعہ ہے‘ اسے خاص تقدس حاصل ہے۔ دراصل یہ کعبہ کا حصہ ہے اس لئے طواف کے وقت اس کے اندر داخل نہیں ہوتے بلکہ جس قدر ممکن ہو اس کے قریب ہو کر گزرتے ہیں۔ ساتھ ہی مقام ابراہیم ہے۔ شیشے کے اندر ایک پتھر رکھا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پتھر پر کھڑے ہو کر کعبہ کی عمارت تعمیر کی تھی۔ آپ کا نقش قدم اس شیشے میں موجود ہے۔

حرم شریف میں فراہمی آب‘ برقی ‘ صفائی کا نظام‘ نہایت اعلیٰ اور متاثر کن ہے۔ پورے حرم میں جابجا آب زمزم سے بھرے ہزاروں کولر رکھے ہوئے ہیں اور کولروں کے ساتھ ڈسپوز ایبل گلاس ہیں۔ سقے سارا دن پانی بھرتے‘ گلاس بدلتے رہتے ہیں۔ صفائی کا عمل 24گھنٹے جاری رہتا ہے۔ ہزاروں ملازم ہاتھوں اور مشینوں کی مدد سے حرم کے بام و در کو چمکاتے رہتے ہیں۔ رات کو حرم پاک میں اتنی روشنی ہوتی ہے کہ لگتا ہے ہزاروں چودھویں کے چاند زمین پر اتر آئے ہیں۔ روشنی اتنی تیز کہ فرش پر پڑی سوئی بھی دکھائی دے‘ بجلی چلی جانے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ حرم شریف کے اندر ہزاروں ستون ہیں جن کے اندر ایئرکنڈیشنرلگے ہوئے ہیں‘ جو سخت گرمی میں حرم پاک کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ حرم کے صحن میں بھی بے شمار بڑے بڑے پنکھے ہیں جو ہوا کے ساتھ پانی کی پھوار چھوڑتے ہیں اور سخت گرمی میں زائرین کو تسکین و فرحت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ حر م میں عبادت کا سلسلہ 24گھنٹے جاری رہتا ہے۔ حرم کے پروانے ہر وقت طواف میں مصروف رہتے ہیں۔ رش کے وقت حجر اسود اور ملتزم تک پہنچنا ناممکن ہے۔ مکہ کے چاروں طرف خشک سیاہ اور بنجر پہاڑ ہیں جن پر گھاس کا نام و نشاں بھی نہیں ہے۔ اس لئے اسے وادی غیر زرع کہتے ہیں لیکن یہاں زندگی کی ہر نعمت میسر ہے جو حضرت ابراہیم خلیل اﷲ کی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے۔

اﷲتعالیٰ کے اس گھر میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ مکہ مکرمہ وہ جگہ ہے جہاں نبی پاکﷺ کا ورود مسعود ہوا۔ آپ جس گھر میں پیدا ہوئے اسے دارلمطالعہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس مبارک گھر کو نبی آخرالزمان ﷺ کے پاک قدموں کو چومنے کی سعادت حاصل ہے۔ اس کی فضا ختمی المرتبتﷺ کے جسم اطہر سے مشک بار ہوئی۔ یہ قطعہ ارضی حضور پاکﷺ کی حیات طیبہ کے ابتدائی نقوش کی بدولت فلک آثار ہے اور اس کے درودیوار نورمبین سے روشن ہیں۔ اس گھر میں آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپﷺ کا نام محمد رکھا۔ محسن عالمﷺ کا پہلا فیضان اسی بیت اقدس سے جاری ہوا۔ رحمۃللعالمین ﷺ کی صداقت کی ابتدا اس گھر سے ہوئی اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ثوبیہ کو حضور پاکﷺ کی ولادت کے فیض سے آزادی حاصل ہوئی۔ اسی بیت سعید کی دہلیز پر بنوسعد کی خاتون حلیمہ سعدیہ کی خوش بختیوں کا آغاز ہوا اور اس کی آغوش کو پیکر صدق و جمال ‘ صاحب خوش خصال عطا ہوا۔ یہ بیت سعید آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے حضور پاکﷺ کے والد کو شادی کے موقع پر دیا تھا۔ تمام زائرین یہاں آتے اور باہر کھڑے ہو کر خانہ اقدس کی زیارت کرتے اور اپنے قلب کو منور کرتے اور درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ لائبریری کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ساتھ ہی سبیل زمزم ہے جہاں مقامی لوگ اور قرب و جوار اور دیگر شہروں سے آنے والے زائرین کولروں اور کینوں میں پانی بھرتے ہیں تاہم اس کے خاص اوقات مقرر ہیں۔ ہم نماز عصر کے وقت زیادہ تر وقت نبی پاکﷺ کے گھر کے پاس ہی گزارتے اور آب زمزم خوب سیر ہو کر نوش کرتے۔ آب زم زم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یادگارہے۔ صدیوں پیشتر بی بی حاجرہ علیہا السلام پہاڑیوں کے درمیان اپنے نوزائیدہ بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے لئے پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ دوڑتی رہیں اور مایوس ہو کر لوٹتی رہیں۔ اسی اثنا میں ان کے معصوم بچے نے پیاس سے بے قرار ہو کر اپنی ایڑیاں رگڑیں اور جہاں گرم تپتی ہوئی ریت پر ان ایڑیوں نے اپنے نشان ثبت کئے‘ قدرت خداوندی سے وہاں زم زم کا ایسا چشمہ پھوٹاجو رہتی دنیاتک تشنگی فرو کرتا رہے گا۔ آب زمزم کی شفا بخشی کے سبھی قائل ہیں۔ آب زم زم وسیع پیمانے پر مکہ معظمہ اور گردونواح بلکہ مدینہ منورہ میں بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ چاہ زم زم آج تک خشک نہیں ہوا اور اس نے ہمیشہ لاکھوں حجاج کرام اور زائرین کی پیاس بجھائی ہے۔ مدینہ منورہ میں

مکہ معظمہ میں چھ روزہ قیام کے بعد مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں موسم کافی سرد تھا۔ مکہ مکرمہ میں گرمی تھی تو یہاں خوشگوار ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ درِ نبیﷺ پر حاضری کے احساس سے ہی محبت و عقیدت کے آنسو چھلکنے لگتے ہیں۔ مواجہہ شریف میں حاضری دی تو کچھ یاد نہیں کہ کیا کہا اور کیا کچھ کہنے سے رہ گیا۔ حضور پاکﷺ کے چہرہ مبارک کو اپنے بائیں پا کر آپﷺ سے عرض حال کئے جا رہے ہیں۔ آپﷺ کی عنایات کا ذکر ہے۔ آپﷺ پر دُرود و سلام کے گلدستے نچھاور ہو رہے ہیں۔ دل ہے کہ اسے ایک لمحہ چین نہیں۔ ریاض الجنۃ میں جگہ پانے پر دل غیرمعمولی رفتار میں دھڑک رہا ہے۔ سر شُکر گزاری میں جھکا جا رہا ہے۔ کبھی روضے کو‘ کبھی مصلے کو‘ کبھی منبر رسول کو دیکھتے ہیں۔ آپ ریاض الجنۃ میں ہوں‘ اس کی ایک طرف محراب و منبر ہو‘ حضور سرورکائناتﷺ کا روضۂ اقدس سامنے ہو تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں دل کی کیا حالت ہو گی۔

جذبات تھے کہ سینے کی حدود سے باہر آنے کو بے تاب تھے۔ خاموش برسات طوفانوں کی دعوت دے رہی تھی۔ کھل کر رونے کو جی چاہتا تھا۔ نبی پاکﷺ کے احسانات کی ریل آنکھوں کے سامنے پھرنے لگی۔ ایک بے خودی طاری ہو گئی۔ آنکھوں کا یہ احسان کم ہے کہ چشمہ بن کر پھوٹ پڑتی ہیں اور اس سمت میں بہہ نکلتی ہیں جہاں سرکار دوعالم مشاہدہ فرما سکیں اور اپنے کرم کے دروازے وا کر دیں۔منبر شریف کے سامنے بیٹھے اس انقلاب آفریں دور میں پہنچ گئے جہاں آقائے دوجہاںﷺ تشریف فرما ہو کر صحابہ کرامؓ کو درس دیا کرتے تھے اور سننے والے اپنے رہبر کاملﷺ کے حرف حرف پر جانیں قربان کر دینے کا عہد کیا کرتے تھے۔ حال دل عرض کیا‘ روح کو سکون آ گیا۔ ریاض الجنۃ میں نوافل پڑھنے کی سعادت ہر کسی کو حاصل ہو جاتی ہے۔ روضہ اطہر کی جالیوں سے لے کر منبر رسول کے حصے میں جو سفید ستون آتے ہیں وہ ریاض الجنت کا حصہ ہیں۔ آپﷺ کا ارشاد گرامی بھی مسجد میں ایک جگہ تحریر ہے کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ یہاں ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ نوافل ادا کرے اور زائرین اس سعادت کے لئے گھنٹوں منتظر رہتے ہیں۔ آج کل آپﷺ کے قدم مبارک والی جگہ شمع رسالت کے پروانوں کی سجدہ گاہ ہے۔ باب الاسلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوں تو یہ منبر بائیں طرف دو محرابوں کے درمیان واقع ہے۔ آپﷺ کے زمانے میں یہ منبر تین سیڑھیوں کا ہوتا تھا۔ حضرت عمرؓ فاروق کے زمانے میں تین سیڑھیوں کا مزید اضافہ کر دیا گیا۔ مسجد نبوی میں منبر و محراب کے درمیان ستون حنانہ واقع ہے۔ اس محراب کے دائیں طرف ’’ھذا مصلےٰ رسولﷺ ‘‘ تحریر ہے۔حنانہ خشک کھجور کا تنا تھا جس سے آپﷺ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ جب آپﷺ کے لئے منبربن کر آیا تو آپﷺ حنانہ کو چھوڑ کر نئے منبر پر خطبہ کے لئے تشریف لائے تو یہ آپﷺ کے فراق میں رونے لگا۔ رونے کی آوازیں ایسی تھیں جیسے اونٹنی کے رونے کی آواز ہوتی ہے۔آپﷺ حنانہ کے پاس تشریف لائے اور اس پر دست شفقت پھیرتے ہوئے فرمایا تم کیا چاہتے ہو اگر تم چاہو تو جس باغ سے تمہیں لایا گیا ہے اس باغ میں واپس گاڑ دوں اور تو از سر نو کھجور کا درخت بن جائے اور اتنا پھل ہو کہ مشرق و مغرب کے لوگ تاقیامت تیری کھجوریں کھائیں اور کھجور ختم نہ ہو۔ آپﷺ نے حنانہ پردست شفقت پھیرا تو رونے کی آواز بند ہو گئی۔ مسجد نبوی میں ستون تہجد ہے جہاں خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہراؓ تہجد کی نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ ایک ستون سریر ہے جہاں آپ ﷺکی چارپائی رکھی جاتی تھی۔ اور آپﷺ حسب ضرورت رات کو آرام فرمایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ستون عائشہؓ ‘ ستون ابی لبابہؓ ‘ ستون مخلقہ (ایک خوشبو کا نام) ‘ستون وفود ‘ ستون جرس ہیں۔

مسجد نبوی میں باب جبریل کے راستے داخل ہوں تو دائیں طرف اہل صفہ کا چبوترہ ہے۔ اہل صفہ وہ بزرگ تھے جو ہر وقت مسجد نبوی میں بیٹھے رہتے اور ایک کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتے۔ ان کے سردار جلیل القدر صحابیؓ حضرت ابوہریرہؓ تھے۔ ان کی تعداد 700کے قریب تھی۔ باب جبریل سے سامنے سڑک کی طرف جائیں تو سامنے جنت البقیع کا بڑا گیٹ ہے۔ خلیفہ سوئم سیدنا عثمان غنیؓ یہیں آرام فرما رہے ہیں۔چند قدم آگے حضرت فاطمہؓ کا مرقد ہے ۔ جنت البقیع کا دروازہ نماز فجر کے بعد زائرین کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔ عالم اسلام سے آنے والے مسلمانوں کا یہاں ہمہ وقت جم غفیر رہتا ہے۔ عورتوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ کئی ہزار صحابہ کرامؓ کے علاوہ رسالت مابﷺ کی ازواج مطہرات بھی یہیں آسودہ خاک ہیں۔ مسجد نبوی کا صحن بہت وسیع ہے جہاں خوشنما ستونوں کی مدد سے چھت ڈھانپنے اور بارش دھوپ سے بچنے کے لئے خیمے ایستادہ کر دیئے گئے ہیں۔ بوقت ضرورت یہ چھتری نما خیمے کھولے جا سکتے ہیں۔ حرمین شریفین میں ہر نماز کے بعد جنازہ کی نماز ہوتی ہے۔ ان مرحومین کی قسمت پر رشک آتا ہے جن کی نماز جنازہ حرم میں پڑھی جاتی ہے۔ اور وہ جنت المعلیٰ اور جنت البقیع جیسے جنت صفت مقامات میں ابدی نیند سونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران جن آثار مقدسہ کی زیارت کا موقع ملا ان میں غزوہ احد‘ غزوہ احزاب کے مقامات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ احد پہاڑ کے دامن میں حضرت امیر حمزہؓ کا مزار اور اصحابہ کرامؓ کی اجتماعی قبر ہے جو غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ غزوۂخندق کے مقام پر چھ مساجد ہیں ان میں مسجد فتح‘ مسجد حضرت سلیمان فارسی‘ مسجد ابوبکر صدیق‘ مسجد عمرؓ بن خطاب‘ مسجد سیدہ فاطمہ شامل ہیں‘ ان میں مسجد فتح بلندی پر واقع ہے۔ اس مقام پر غزوہ خندق کے موقع پر آپﷺ تین دن تک اﷲ تعالیٰ کے حضور دعا فرماتے رہے۔ حتیٰ کہ تیسرے روز حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور آپﷺ کو فتح کی خوشخبری سنائی۔ اس لئے اسے مسجد فتح کہتے ہیں۔ ان مساجد میں اب نماز نہیں ہوتی۔ یہاں پر سعودی حکومت نے ایک خوبصورت مسجد تعمیر کی ہے جسے مسجد سبق سے منسوب کر دیا گیا ہے۔آنحضرتﷺ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ اس جگہ جنگی مشقیں کیا کرتے تھے اور جنگی گھوڑوں کو مسجد سبق والی جگہ سے اُحد پہاڑ تک دوڑایا کرتے تھے۔

مسجد قباء میں نماز عصر باجماعت ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ مسجد مدینہ منورہ سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسلام کی پہلی مسجد ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں آپﷺ نے مدینہ منورہ میں داخل ہوتے وقت قیام فرمایا تھا۔مسجد قباء کے محراب پر آپﷺ کا قول بھی تحریر ہے کہ جو اس مسجد میں حاضر ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے گا اسے عمرہ کا ثواب ملے گا۔ قرآن پاک میں اس مسجد کا ذکر یوں آیا ہے کہ ’’وہ مسجد جس کی بنیاد روز اول سے تقویٰ پر رکھی گئی‘‘ (سورۃ توبہ آیت: 108) اس سے پہلے مسجد قبلتین پہنچے تو نماز ظہر ہو رہی تھی۔ اس کی آخری رکعت میں شامل ہو سکے۔ یہ مسجد نہایت خوبصورت ہے۔ اس مسجد کی بھی توسیع کی گئی اور مزید دو گنبد بنائے گئے ہیں۔ یہ وہ مسجد ہے جس میں تحویل قبلہ (کعبہ) کا حکم ہوا تھا۔ اس وقت آپﷺ نماز ظہر ادا کر رہے تھے اور اس کی دو رکعت پڑھ چکے تھے باقی دو رکعتیں خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کی گئیں۔ حضرت عثمان غنیؓ کا وہ مشہور کنواں بھی دیکھا جو بیئر روم کے نام سے مشہور ہے۔ یہ کنواں ایک یہودی کی ملکیت تھا جسے حضرت عثمان غنیؓ نے خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ یہ کنواں اب سعودی حکومت کی تحویل میں ہے۔ پانی نکالنے کے لئے یہاں جدید آلات نصب کر دیئے گئے ہیں۔ کنوئیں کے پانی سے استفادہ کے لئے کئی زرعی مرکز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ مسجد قبا سے تھوڑے فاصلے پر غرس کا کنواں ہے۔ اس کنویں سے سرور کونینﷺ کے ہاں پانی پہنچایا جاتا تھا اس لحاظ سے اس کنوئیں کی بڑی اہمیت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وصال کے بعد آپﷺ کوغسل بھی اسی کنوئیں کے پانی سے دیا گیا تھا۔

مسجد نبوی میں توسیع کے بعد متعدد دروازوں کا اضافہ ہو چکا ہے اور دروازوں کو نمبر دے دیئے گئے ہیں۔ اب مسجد نبوی کے 40دروازے ہیں۔ مدینہ منورہ سے جدائی کا وقت قریب آ رہا تھا۔ سہ پہر کے وقت ہماری بس واپس مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہو گئی۔ اپنے سابقہ ہوٹل پہنچے اورکچھ دیر آرام کے بعد مسجد الحرام پہنچ گئے۔ باقی دن حرم شریف میں ہی گزارے۔ بڑھاپے کی عمر کو پہنچے والے زائرین کے لئے سعی ایک مشکل عمل ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کی توفیق اور رحمت بیکراں سے یہ منزل بھی آسان ہو گئی۔ اپنے عزیزواقارب دوست احباب کے لئے ڈھیروں دعائیں کیں اور ان کے لئے بھی جو اس سفر مقدس میں میرے ہم رکاب رہے اور ایک لمحے کے لئے بھی احساس نہیں ہونے دیا ۔یہاں یہ ذکرکرنا ضروری ہے کہ سعودی حکومت نے حجاج کرام اور زائرین عمرہ کے لئے عمدہ ترین انتظامات کر رکھے ہیں کہ کوئی بھی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ ہر چیز بمعہ عمارات و سہولیات بے بدل اور بے مثل ہے

یہ تحریر 58مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP