ہمارے غازی وشہداء

جرأت اور بہادری کا نشان 

کیپٹن حسین خان شہید (ہلال کشمیر) َ  فاتح راولاکوٹ

 حسین نام ہی جرأت و بہادری کا ہے کیپٹن حسین خان1897ء میں وادی پرل کے مشرقی پہاڑی گاؤں کالا کوٹ (حسین کوٹ) میں پیدا ہوئے۔ آپ بچپن سے ہی شوخ، تند مزاج اور ترش رو تھے۔جوانی میں قدم رکھتے ہی 1913ء میں برٹش انڈین آرمی میں سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہو گئے۔  اس وقت پو نچھ پر راجہ بلدیو سنگھ کا راج تھا۔ آ پ  کے دل میں اپنی قوم کی غلامی کا بڑا دکھ تھا۔ وہ بچپن سے ہی اپنے ملک کو آزاد کرانے کا جذبہ اپنے دل میں جاگزیں کئے ہوئے تھے۔ انگریز اس زمانے میں انڈین آرمی کے سپاہیوں کو انگریزی، رومن اردو اور اردو کی تعلیم دیتے تھے۔ اوریہ سلسلہ سروس کے دوران مختلف کورسوں کی صورت میں جاری رہتا تھا۔ حسین خان نے بھی تعلیم حاصل کی۔ یہ زمانہ پہلی جنگ عظیم کا تھا۔ حسین خان کو شاندار عسکری صلاحیتوں کی وجہ سے جلد ہی1917ء میں جمعدار (نائب صوبیدار) بنادیا گیا۔ اور1925ء میں صوبیداربن گئے۔ آپ فوجی نظم و ضبط، ایثار و قربانی اور محنت کی وجہ سے انگریز افسروں کے ہاں اس قدر مقبول ہوئے کہ1937ء میں برطانوی حکومت کی دعوت پر برطانیہ کے بادشاہ کی رسم تاجپوشی میں شریک ہوئے۔ یہ ان کے اور کشمیری  قوم کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ بادشاہ نے آپ کو اس موقع پر ایک زری وردی اور ایک رائفل انعام کے طور پر دی۔1939ء میں دوسری جنگ عظیم کے شروع ہوتے ہی آپ کوصوبیدار میجر بنا دیا گیا۔ اس جنگ کے دوران ہی آپ کو کنگ کمیشن ملا۔ اور آپ کو سیکنڈ لیفٹیننٹ بنا دیا گیا۔ آپ کو OBI (او بی آئی) کا خطاب ملا۔ آپ دوسری جنگ عظیم کے دوران  مشرقی محاذ سنگاپور میں تعینات تھے۔ مشرق بعید میں انگریز فوج کا ایک پورا بریگیڈ تعینات تھا۔ یہاں جاپانی انگریز فوج پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے۔ ایک شدید حملے میں انہوں نے اس برٹش آرمی کے بریگیڈ کو گھیرے میں لے کر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ حسین خان نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ ان کی جبلت میں مرنا تو شامل تھا، جھکنانہیں۔ ان کے ساتھ اس وقت دو انگریز افسر تھے۔ انہوں نے ان دونوں انگریزوں کو اپنے ساتھ رکھ کر جاپانیوں کا گھیرا توڑا اور ان کو لے کر بحفاظت ساحل سمندرپر پہنچ گئے۔ ساحل پرحسین خان کو ایک متروک کشتی مل گئی۔ انہوں نے تر پالوں کے بادبان تیار کئے۔ اس کشتی میں 35 فوجیوں کو سوار کیا گیا جو جاپانیوں کے گھیرے سے نکل کر ساحل سمندر پر گئے تھے۔ حسین خان دوانگریز افسروں کو لے کر بحفاظت پہلے ملا یا پہنچے۔ بظاہر یہ فرار کی ایک معمولی سی داستان لگتی ہے لیکن سوچا جائے کہ ایک ایسا شخص جس نے صرف کشتی کا فوٹو دیکھا ہو، اسے کشتی کو سمندر کی بپھری لہروں، بحری قزاقوں، شارک مچھلیوں اور علاقے میں دشمن کی موجودگی میں سینکڑوں میل کی مسافت طے کر کے ساتھیوں کو منزل پر پہنچانا کس قدر مشکل کام ہوگا؟ ملایا سے 20 دنوں کا سفر کر کے جب کلکتہ کی بندرگاہ پر پہنچے، تو کوئی بھی اس داستان پر یقین نہیں کر رہا تھا۔ لیکن فوج کی اعلیٰ کمان حسین خان کی ذہانت، عسکری صلاحیت اور غیر معمولی دلیری کو  تسلیم کرتی تھی۔ اس کارنامے پرکیپٹن حسین کو تین اعزازات دیئے گئے۔ ملٹری کراس، او بی آئی اور سردار بہادر، اس کارنامہ پر حسین خان ہری وردی میں ملبوس اگر چہ رائل فیملی سے نہیں تھا لیکن انگریز آپ کورشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے جھک کر سلام کر تے تھے۔ (غزنی سے کشمیر تک  داستان مردان حر ۔ از سردار رشید حسین خان صفحہ نمبر294)

جنگ عظیم ختم ہوئی، حسین خان اپنی چھاؤنی بریلی آ گئے۔ ایک سال بعد یہاں سے وہ جنوری 1946ء میں 48 سال کی عمر میں پینشن پر گھر آ گئے۔ اسی دوران کرنل خان محمد خان (بابا خان صاحب )دہلی سے اپنے کسی ذاتی کام کے بعد بریلی میں 9 جاٹ سنٹر میں اپنے پرانے افسران سے ملاقات کے لئے پہنچ گئے، جہاں آپ دونوں کی ملاقات روز مرہ کا معمول بن گئی۔
کرنل خان محمد خان صاحب  نے دوستوں کے ساتھ  باہمی مشورے سے طے کیا کہ ہم ایک نقاطی مطالبہ لے کر دہلی میں برطانوی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آکنلک کی وساطت سے وائسرائے ہند لارڈ ویول سے ملاقات کریںگے۔ مطالبہ صرف یہ ہوگا کہ پنڈی سے راولا کوٹ تک سڑک کی منظوری کروائیں۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے دوران اس خطے کے لوگوں کی عظیم قربانیوں کی وجہ سے یہ سڑک ہما راحق ہے جو ہمیں ضرور ملے گا۔ یہ فیصلہ کر کے باباخان صاحب اور ان کے ساتھی  12 فروری کو بریلی سے دہلی پہنچے  اور13 فروری1946ء کو  یہ وفد آکنلک سے ملا اور اس سے کہا کہ آپ ہمارے ہاں پونچھ کا دورہ کر کے مطلوبہ سڑک کی ضرورت کا اندازہ لگائیں۔ نیز ہمیں اس مقصدکے لئے وائسرائے ہند سے ملائیں۔ اگر یہ سڑک ضروری ہے تو مہاراجہ کشمیر اس کی تعمیر کیوں نہیں کرواتا۔ اگلے روز فیلڈ مارشل آکنلک اس وفد کو لے کر وائسرائے سے ملے۔ اور اس نے آکنلک کے راولا کوٹ کے دور ے کی منظوری دے دی۔ 15فروری کے اخبارات اور فوجی جرنل میں یہ خبر کچھ اس طرح چھپی کہ آرمی کے سربراہ فیلڈ مارشل آو کنلک راولا کوٹ پونچھ کے دورے پر جائیں گے۔ جہاں سابق فوجیوں کی ایک ریلی سے بھی خطاب کریں گے۔ یہ دو رکنی وفد 15 فروری کو واپس بر یلی چھاؤنی آ گیا۔ یہاں پونچھ کے تین درجن سے زائد وی سی اوز موجودتھے۔ اس دور ے کی منظوری پر خوشی کا سماں بندھ گیا۔ یہاں ایک اجلاس میں بابا خان صاحب نے حساب کر کے بتایا کہ اس دورے پر تقریباً 16 ہزار روپے خرچ ہوں گے۔ یہ بھی طے ہوا کہ کہوٹہ سے فیلڈ مارشل کو گھڑ سواروں کی معیت میں براستہ پلندری، ہجیرہ، راولا کوٹ پہنچا کر 17سے19مئی تین روزہ جشن منعقد ہو گا اس پر حسین خان سیخ پا ہو گئے کہ فیلڈ مارشل کو دورے کی دعوت کیوں دی۔ انہوں نے خان صاحب سے کہا کہ چندہ کے ان16 ہزار روپوں سے فیلڈ مارشل کا استقبال نہیں بلکہ ہتھیار خرید کر ڈوگرہ فوج کے خلاف لڑائی کریں گے اور وطن آزاد کرائیں گے۔
خان صاحب کے نزدیک ابھی ڈوگرہ سے جنگ کرنے کا وقت نہیں آیا تھا،  انہوں نے کہا کہ یہ رقم فوجی بس سروس کے لئے مخصوص کی جائے گی ۔ فوجی بس سروس سدھنوتی کے سابقہ فوجیوں کی فلاح و بہبود کے لئے قائم کی گئی تھی۔ حسین خان بدستورجنگ کے لئے مصر رہے۔انہوں نے جوش میں کہا کہ میری72 نمبر پلاٹون کے 72جوان اگر آج ہی مل جائیں تو مہاراجہ کی ساری فوج کو قیدی بنا لوں گا۔ اس سے انتقام لینا ہے۔ اس نے بہت ظلم ڈھائے ہیں۔ خان صاحب نے کہا وقت آنے پر آپ کو72 سے نہیں بلکہ 72 سو مجاہد مل جائیں گے۔ پھر ایک وقت آیا کہ کیپٹن حسین خان نے اپنی ساری جمع پونجی قوم کی آزادی کے لئے وقف کر دی۔ خان صاحب نے بھی اس وقت انہیں20ہزار دیئے اور کہا کہ اب وقت آن پہنچا ہے لڑائی کا، پاکستان جاؤ اور وہاں سے ہتھیار خریدو۔ اور واپس آ کرلڑائی کرو۔کیپٹن حسین نے جنگ آزادی کے لئے میرال گلہ کو اپنا کمان اور پلان ہیڈ کوارٹر بنایا۔ جہاں سے ہو کر آپ جون کے مہینے میں اولین فوجی آپریشن گھاتی حملے کی صورت میں اس طرح کیا کہ ڈوگرہ فوجی خچروں کی ایک Convoy راولا کوٹ سے ساز و سامان، اسلحہ اور ڈاک لے کر پلندری کی طرف جارہی تھی۔ جسے تروپی کے مقام پر گھیر لیاگیا۔ جس میں کئی ڈوگرہ فوجی مارے گئے۔ اور باقی واپس راولاکوٹ کی طرف بھاگ گئے۔ اس حملے میں کافی سازوسامان، کچھ را ئفلیں اور خچریں بھی حسین فورس کے ہاتھ لگیں۔ تالا باڑی کے کرنل بابا فیروز اور ان کی فورس نے جب ستمبر کے آخری دنوں میں دیوی گلی میں ڈوگرہ پوسٹ کا گھیراؤ کیا تو کیپٹن حسین خان نے دیوی مندر میں فیروز فورس کو جمع کر کے خبر دار کیا کہ جلدہی ہم ڈوگروں کو راولا کوٹ سے مار بھگائیں گے۔ آپ نے ہجیرہ راولاکوٹ روڈپرکنٹرول کرتے ہوئے یہ یقینی بنانا ہے کہ ڈوگرہ فوجی ہجیرہ کی طرف نہ آئیں۔ وہ اگر اس طرف سے ہجیرہ کی طرف آ گئے تو آپ لوگوں کی پونچھ شہر کی طرف پیش قدمی مشکل ہو جائے گی۔ ہم انہیں تولی پیر کی طرف سے بھگانا چاہتے ہیں۔ حسین خان کی اس وارننگ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کہ آپ نے کس قدر باریک بینی سے جنگ کا پلان بنا رکھا تھا۔ اسی سفر کے دوران کپتان کا بوٹ پھٹ گیا۔ موچی سے مرمت کروا کر اسے چار آنے ادا کر دیئے۔ جنڈالی میں بہن کے گھر سے دودھ کا گلاس پیا، اور چیکے سے گلاس میں آٹھ آنے ڈال دیئے۔ اور کہا کہ میں فی سبیل اللہ جہاد کے لئے نکلا ہوں۔ مفت کوئی چیز بھی استعمال نہیں کروں گا۔
کیپٹن حسین خان کی قربانیاں منفرد اور بے مثال ہیں۔ جن کا اعتراف مؤرخین کے علاوہ ان کے خلاف لڑنے والے دشمنوں نے بھی کیا ہے۔ Tragedy in Kashmir کے مؤرخ اے ایچ سہروردی اپنی تالیف کے صفحہ109پررقم طراز ہیں کہ کیپٹن حسین خان کو ڈوگرہ فوج سے لڑنے کے لئے اسلحہ اور گولہ بارود کی کمی کا شدت سے احساس تھا۔ انہوں نے اپنی جمع پونجی اور بیگم کے زیورات بیچ کر1947 کے دور کی کثیر رقم 40 ہزار روپے مالیت کا اسلحہ وطن کی آزادی کے لئے خریداتھا
48 1947-  The Kashmir Campaignمیں کیپٹن حسین خان کے بارے میں صفحہ 54 پر یوں تحریر ہے کہ انہوں نے کا ہنڈی کے علاقے سے تقریباً پانچ سو مجاہدین کو جمع کیا۔ اور لچھمن پتن  (آزاد پتن)  پل پر حملہ کر کے اسے ڈوگروں سے آزاد کرالیا۔ یہ حملہ صرف تین گھنٹے جاری رہا۔  لچھمن پتن کو تب سے آزادپتن کا نام دیا گیا ہے اور وہاں سے ڈوگرہ فوجی پلندری کی طرف بھاگ گئے۔ اس کے بعدحسین خان  ہجیرہ کے شمال میں دیوی گلی کے مقام پر کمانڈ پوسٹ قائم کر کے خود راولاکوٹ سیکٹر کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ کی کمان میں جب آزاد پتن آزاد ہو گیا تو پاکستان کے ساتھ سپلائی  لائن بحال ہو گئی اور تھوراڑ میں گھمسان کی جنگ کے بعد ڈوگرہ فوج وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ یوں 13 اکتوبر1947 تک راولاکوٹ تک کا سارا علاقہ آزاد کرا لیا گیا تھا۔ راولاکوٹ کو آزاد کرانا انتہائی مشکل کام تھا کیونکہ راولاکوٹ وادی ہموار ہونے کی وجہ سے گوریلا جنگ کے لئے موزوں نہیں تھی۔ چاروں طرف پہاڑوں پر ڈوگرہ فوج لگی تھی اورمضبوط چوکیاں قائم تھیں۔ راولاکوٹ کے اندر ہندو اور سکھ سول آبادی بھی اسلحہ سے لیس تھی جو ڈوگرہ فوج کی مدد کر رہی تھی اور راولاکوٹ میں تعینات 9جموں کشمیر رجمنٹ کی کمان کرنل رام لال کر رہا تھا جو انتہائی زیرک فوجی کمانڈر تھا۔ اور ڈوگرہ فوج کو پونچھ شہر سے لگاتار اسلحہ بھی  مل رہا تھا۔ کیپٹن حسین خان نے مجاہد ساتھیوں سے مشورے کے بعد میرال گلہ میں اپنا ٹیک ہیڈکوارٹر قائم کیا جو جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے بہترین مقام تھا۔ آپ نے اعلان کیا کہ میں اس وقت تک گھر بیوی بچوں سے ملنے نہیں جاؤں گا جب تک راولاکوٹ فتح نہ کر لوں یا شہید ہو جاؤں۔ کیپٹن حسین خان کی قیادت میں مجاہدین نے راولاکوٹ پرہلہ بول دیا اور یہ معرکہ بازاروں، گلیوں اور گھروں تک لڑا گیا۔ دشمن کی فوج بھاری جانی و مالی نقصان کے ساتھ راولاکوٹ سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ یہ کارروائی10 نومبر1947 تک جاری رہی۔  11 نومبر کو کیپٹن حسین خان دشمن فوج کا پیچھا کرتے ہوئے تولی پیر کے دامن میں پہنچ گئے۔  وہاں باغ اور راولاکوٹ دونوں طرف سے آنے والے ڈوگرہ فوج کے کالموں کے درمیان پھنس گئے اور دلیرانہ مقابلہ کرتے ہوئی رائفل مین اماروٹھا کر کی گولیوں کا نشانہ بنے اور جام شہادت نوش کیا۔
Kashmir Fight for Freedom کے مصنف جسٹس محمد یوسف صراف صفحہ 870 پر لکھتے ہیں کہ مسلم مجاہدین کے کمانڈر کیپٹن حسین خان بڑے سخت گیر، جرأت مند اور اعلیٰ عسکری صلاحیتوں کے مالک جنگی قائد تھے۔ انہوں نے اپنی جبلی قیادت،عزم و حوصلے، صبر و استقامت اور کمال خلوص کا ذاتی نمونہ پیش کر کے انتہائی مشکل حالات میں نیم مسلح ،نیم غذا یا فتہ اور غیر منظم مجاہدین کو متحد رکھا اور وطن کو آزاد کرایا۔ کیپٹن حسین خان فاتح راولا کوٹ تھے۔ ان کے خلاف لڑنے و الے ڈوگرہ فوج کے میجر جگدیش سنگھ نے1983ء میں سرینگر کے انگریزی روزنامہ کشمیر ٹائمز میں راولا کوٹ کی جنگ کے بارے میں لکھے گئے اپنے مضمون کو The Heroic Battle of Rawalakot کا نام دیا۔ اس ٹائٹل سے ہی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ راولا کوٹ کو کس قدر شجاعت و ہمت سے آزاد کرایا گیا۔ میجر جگدیش سنگھ نے اس مضمون میں رائفل مین اماروٹھا کر کیLMG کی گولی سے کیپٹن حسین خان کی شہادت کا ذکر کیا ہے۔ روایت ہے کہ راولا کوٹ گیریژن کے ڈوگرہ فوجی کمانڈر کرنل رام لال نے حسین خان کو خط لکھا تھا کہ آپ لڑائی بند کر دیں۔ ہم آپ کو شہر پونچھ سے مینڈر تک کا علاقہ بطور جاگیرلکھ دیتے ہیں۔ جواب میں حسین نے لکھا کہ رام لال مجھے جاگیر نہیں اپنے وطن کی آزادی چاہیے۔
راولاکوٹ شہر پونچھ کے بعد سب سے بڑا قصبہ تھا۔ یہاں ڈوگروں کی ایک بریگیڈ کے برابر نفری تعینات تھی۔ حسین خان کی قیادت میں راولاکوٹ کی فتح ایک عظیم جنگی کارنامہ تھا۔ راولاکوٹ کی فتح کے اگلے روز ہی آپ 11نومبر 1947 کو دشمن کے تعاقب میں جام شہادت نوش کر گئے۔ آپ کو بعد از شہادت فخر کشمیر کا ایوارڈ دیا گیا۔ جو آج کے ہلال جرأت کے برابر ہے۔
  روز نامہ کشمیر عظمیٰ (سری نگر)  نے اپنے اداریے میں2011 میں لکھا تھا کہ کیپٹن حسین خان جیسی شجاع اور دلیر شخصیت  غلامی کیسے برداشت کر سکتی تھی کیپٹن حسین نے برطانوی فوج میں رہتے ہوئے ہی منصوبہ بندی کر رکھی تھی کہ وطن پر سے منحوس سائے کیسے ختم کیے جا سکتے ہیں۔  
سید زاہد حسین نعیمی نے اپنی کتاب کشمیر جدوجہد زادی  صفحہ نمبر 114 پر  لکھا ہے کہ1947 میں تحریک زادی کا بیس کیمپ کوہ مری تھا جہاں سپریم کونسل بنائی گئی تھی ۔ اس کونسل میں سردار ابراہیم اور کیپٹن حسین خان سمیت کئی کشمیری حریت پسند موجود تھے۔ کیپٹن حسین خان بطور سالار اعظم شامل تھے۔
کیپٹن حسین خان کو بعد از  شہادت میجر کا باقاعدہ عہدہ  اور فخر کشمیر (ہلال جرأت) کا اعزاز دیا گیا ہے۔  پاک فوج کی3 آزاد کشمیر بٹالین کا نام بھی حسینیہ بٹالین ہے جو آپ کے نام سے ہی منسوب ہے ۔ مزید  برآں راولاکوٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آپ کے نام پر ہے۔ 11 نومبر کو آپ کی شہادت کے دن سدہنوتی اور پونچھ میں عام تعطیل بھی ہوتی ہے۔  
 سید بشیر حسین جعفری اپنی کتاب تاریخ سدوزئی قبیلہ میں صفحہ 215 پر لکھتے ہیں کہ کیپٹن حسین خان فاتح راولاکوٹ ہیں اگر چند دن مزید آپ زندہ رہتے تو پونچھ شہر چند دنوں میں  فتح ہو جاتا اور آج  ریاست جموں و کشمیر کا نقشہ مختلف ہوتا۔ 
راقم نے2014  میں  اپنی کتاب کی تصنیف کے سلسلے میں کرنل ہدایت خان سے انٹرویو کیا تھا آپ نے12  اے کے رجمنٹ کھڑی کی تھی اور مینڈر تک کا علاقہ فتح کیا تھا اس وقت کرنل ہدایت خان کی عمر 109 سال تھی میں نے کرنل صاحب سے سوال کیا تھا کہ آپ کے نزدیک  جنگ آزادی کشمیر 48۔ 1947 کا ہیرو کون تھا تو آپ نے بڑی بے باکی سے فرمایا کہ جنگ آزادی کشمیر کا  اصل ہیرو کیپٹن حسین خان تھا اسے نشان حیدر ملنا چاہئے تھا۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP