متفرقات

جذبۂ عمل،ذوقِ یقیں اور سالِ نو

جھے ہمیشہ یہ بات اُلجھن میں ڈالے رکھتی تھی کہ ایک ملک جس کے پاس دنیا جہان کے وسائل موجود ہوں۔۔۔جہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو،  نانگا پربت جیسی چوٹی اور قراقرم کا تاج محل راکا پوشی سمیت لاتعداد بلند و بالا مشکل ترین اور حسین ترین چوٹیاں ہوں۔۔۔جہاں دنیا کے بلند پربت ہوں۔۔۔جہاں دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کا سنگم ہو۔۔۔جہاں ایک ہزار کلومیٹر سے طویل ساحلی پٹی ہو۔۔۔ جہاں گرم پانیوں کے گہرے سمندر ہوں۔۔۔جہاں گوادر جیسی بندرگاہیں ہوں۔۔۔ جہاں سندھ، چناب، راوی، ستلج، جہلم جیسے دریا بہتے ہوں۔۔۔ جہاں بہار، خزاں، سردی و گرمی کے چاروں موسم اپنے بھرپور رنگوں سمیت اترتے ہوں۔۔۔جہاں پہاڑ، سمندر، صحرا، دریا، جھیلیں، کھیت کھلیان، وادیاں ہوں۔۔۔سونے و چاندی سمیت لاتعداد قیمتی دھاتوں کے ذخائر ہوں ۔۔۔ قدرتی ذخائر کا وسیع خزانہ ہو۔۔۔نایاب النسل نباتات و حیاتیات ہوں۔۔۔ غرض دنیا جہاں کے وسائل ہوں اور وہ ملک پھر بھی ترقی پذیر ہو۔۔۔ کیوں؟۔۔۔اور پھر اس کیوں کا مفصل جواب مجھے مل ہی گیا۔۔۔اور تب مجھ پہ یہ عقدہ کھلا کہ ہم باتوں کے لوگ ہیں عمل کے نہیں۔۔اور باتیں کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں عمل کے بنا ہمیشہ بے معنی ہی رہتی ہیں۔۔خواب کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں عملی تفسیر کے بنا ادھورے ہی رہتے ہیں۔۔۔بقول وصی شاہ:

عمل کی سوکھتی رگ میں ذرا سا خون شامل کر
میرے ہمدم____فقط باتیں بنا کر کچھ نہیں ملتا!
افسر شاہی کا بس ایک ہی محکمہ ایک ہی نوکری ہوتی ہے۔۔۔حکمِ سرکار کی تعمیل۔۔۔اور جب فرض کی پکار آ جائے تو پھر زمان و مکاں کے سبھی فاصلے بے معنی ہو جاتے ہیں۔۔۔اور حال ہی میں جب حکم آیا کہ آزاد کشمیر میں کچھ تعلیمی اداروں کا دورہ کر کے رپورٹ افسران بالا کو پیش کی جائے تو فوراً سے پیشتر رخت سفر باندھنا پڑا۔۔۔موو آرڈر آ جائے تو پھر رات یا دن نہیں دیکھا جاتا چپ چاپ سفر آغاز کیا جاتا ہے۔۔۔اور ہم نے بھی کچھ چاہتے ہوئے اور کچھ نہ چاہتے ہوئے شہرِ اقتدار سے آزاد کشمیر کے سفر کا عمل آغاز کر دیا۔۔۔منہ ول کوٹلی شریف!
آزاد کشمیر ویسے تو کئی بار جانا ہوا لیکن کوٹلی سیکٹر کی طرف یہ پہلا سفر تھا۔۔۔اور ابتدائی معلومات کے مطابق کوٹلی بہت سے قصبوں و دیہاتوں پہ مشتمل چھوٹا سا شہرہے ۔۔۔اس لحاظ سے ہمارے ذہنوں میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ و طلبہ کا جو عکس تھا وہ پنجاب کے دیہاتوں اور چھوٹے شہروں جیسا تھا۔۔۔لیکن آنے والا وقت ہمارے اس عکس کو بڑی بے رحمی سے مٹانے والا تھا۔
بہت سے تعلیمی اداروں کا دورہ کرتے کراتے ہم بالآخر اس تعلیمی ادارے میں پہنچے جو گزشتہ کافی عرصے سے حکومت پاکستان پہ بوجھ بنا ہوا تھا۔۔۔تمام وسائل ہونے کے باوجود مسلسل اور اچھے خاصے خسارے میں تھا۔۔۔مذکورہ ادارے کی عمارت علاقے میں موجود تقریبا تمام اداروں کی نسبت بڑی اور کشادہ تھی۔۔۔باقی اداروں کی عمارتیں پلازہ اور بند کوٹھی قسم کی تھیں جبکہ مذکورہ ادارے کے پاس کافی بڑے اور ہوادار کھیل کے میدان بھی موجود تھے۔۔۔تمام کمرے بھی کشادہ ، روشن اور ہوادار تھے۔۔۔قصہ مختصر اس ادارے کے پاس وہ تمام سہولیات موجود تھیں جو وہاں موجود باقی اداروں کے پاس ناپید تھیں لیکن اس سب کے باوجود یہ ادارہ نقصان میں جا رہا تھا۔۔۔ کیوں؟۔۔۔اور پھر اس کیوں کا جواب تمام عقدے کھولتا چلا گیا۔۔۔اور یہ ایک جواب میری ساری الجھنوں کو سلجھاتا چلا گیا۔۔۔اس ادارے کے پاس سب کچھ تھا اگر کوئی کمی تھی تو جذبے کی کمی تھی۔۔۔عمل کی کمی تھی۔۔۔ذوق یقیں کی کمی تھی۔۔۔اور یہ ایک کمی تمام خصوصیات کو نگل جاتی ہے۔۔۔دل سے اگر جذبہ نکل جائے تو دل محض پمپنگ مشین بن کے رہ جاتا ہے بقول شاعر
جذبے تمام کھو گئے لمحوں کی دھول میں
اب دل میں دھڑکنوں کے سوا کچھ نہیں رہا
اور اس تعلیمی ادارے کا بھی اسی دل جیسا حال تھا جس کے تمام جذبے لمحوں کی دھول میں کھو گئے تھے۔۔۔ادارے بھی تو گھر کی مانند ہی ہوتے ہیں۔۔۔ادارے کا سربراہ گھر کے سربراہ جیسا ہی تو ہوتا ہے۔۔۔اگر سربراہ ہی اپنے گھر کو اپنا نہیں سمجھے تو پھر وہ عمارت ریت گارے سے چنی اینٹوں کا مکان تو ہو سکتی ہے لیکن گھر نہیں۔۔۔گھر تو جذبوں سے بنتا ہے۔۔۔احساس سے بنتا ہے۔۔۔اور یہی حال اداروں کا بھی ہے۔۔۔جب تک ادارے کا سربراہ اس ادارے کو اپنا نہیں مانے گا، اپنے گھر کی طرح اس کی آبیاری نہیں کرے گا تب تک وہ ادارہ کبھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پائے گا۔۔۔تب تک اس کی ٹہنیوں پہ کامرانیوں کے پھول نہیں اتریں گے۔۔۔اور مذکورہ ادارے میں بس اسی جذبے کی کمی تھی۔۔۔ادارے کے سربراہ کی عدم دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ اسے یہ تک یاد نہیں تھا کہ وہ حکومتی خزانے سے ماہانہ کرائے کی مد میں کتنی رقم دے رہے ہیں۔۔۔کتنی عجیب سی بات ہے کہ ہم جب کوئی مکان کرائے پہ لیتے ہیں تو ہمیں سوتے ہوئے بھی کرائے کی رقم یاد ہوتی ہے کیونکہ وہ رقم ہم اپنی جیب سے دے رہے ہوتے ہیں اور وہ مکان ہمارا گھر ہوتا ہے ہم اسے اپنا مان رہے ہوتے ہیں۔۔۔لیکن اس ادارے کے سربراہ کی یہ بے خبری الامان۔۔۔یہ کیسے سربراہ ہیں جنہیں اپنے گھر کی ہی خبر نہیں کہ ان کے سروں پہ جو چھت ہے وہ عمارت ذاتی ہے یا کرائے کی۔۔۔اور اگر کرائے کی ہے تو اس کرائے کی ماہانہ رقم کتنی ہے۔۔۔یہ کیسے ذمہ داران ہیں۔۔۔یہ کیسے فرض شناس ہیں۔۔۔جنہیں اتنی خبر نہیںتو انہیں ادارے میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کی تعداد اور ان کے مسائل کی کیا خبر ہو گی؟
 ایک پرانے زمانے کے سکول تھے چھوٹے سے گائوں کا واحد سکول جس کے ایک حصے میں لڑکیاں ہوتیں اور دوسرے میں لڑکے (جو دیہات ذرا بڑے ہوتے ان میں یا شہروں میں لڑکے لڑکیوں کے لئے الگ الگ سکول بھی ہوتے لیکن چھوٹے دیہاتوں میں یہ سانجھا سکول بھی غنیمت ہوتا)اور ہیڈ ماسٹر صاحب کو ایک ایک بچے کا نام بمع خاندانی پس منظر انگلیوں پہ زبانی یاد ہوتا تھا۔۔۔کون سا بچہ کیوں سکول نہیں آیا ہوگا یہ تک خبر رکھتے تھے وہ۔۔۔کوئی بچہ اگر جماعت میں گم صُم بیٹھا ہوتا تو ماسٹر صاحب کی زیرک نگاہیں اس کے چہرے سے اس کا مسئلہ اور پھر اس مسئلے کا حل تک کھوج نکالتیں۔۔۔کیسے ہیرا لوگ تھے وہ تمام اساتذہ جو سکول کے ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھتے تھے۔۔۔جن کے لئے طالب علم کا مسئلہ ان کا اپنا مسئلہ ہوتا تھا۔۔۔جو طلبا کے مسائل کے حل کے لئے یوں پریشان رہتے جیسے گھر کا سربراہ اپنی اولاد کے مسائل کے حل کے لئے فکر مند ہوتا۔۔۔جن کا ماننا تھا کہ آج کے بچے ہی کل کی شاندار قوم بن کے ابھریں گے۔۔۔اور ایک اس تعلیمی ادارے کے سربراہ تھے جو علاقے کی سب سے مہنگی رہائشی کالونی کے بڑے سے بنگلے میں رہائش پذیر تھے اور شاہانہ انداز میں گاڑی پہ آتے تھے اور ان تمام تر آسائیشوں کے باوجود ادارے اور طلباء سے عدم دلچسپی کا عالم الامان!
تب ایک طالب علم کا کل اثاثہ ایک تختی، ایک سلیٹ، چند قلمیں، سلیٹیاں، چاک، سیاہی کی دوات، چند کتابیں اور ایک بستہ ہوتا تھا۔۔۔اور یہ بھی کسی کسی کے پاس ہوتا اور باقی ماندہ حسرت بھری نگاہوں سے بس اس خوش نصیب کو تکتے رہتے جس کے بستے میں مندرجہ بالا تمام سامان مکمل موجود ہوتا۔۔۔سکول میں سہولیات کے نام پر ماسٹر صاحب کی با رعب شخصیت اور گرج دار آواز ہوتی تھی اور بس۔۔۔تپتی دھوپ ہوتی یا برستی بارش کلاس ہمیشہ کھلے آسمان تلے لگا کرتی۔۔۔جاڑے کی سردی ہوتی یا جون جولائی کی تپتی دوپہریں۔۔۔طلباء کو وہیں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر ہی علم کی پیاس بجھانا ہوتی تھی۔۔۔وسائل بھلے ناپید تھے لیکن جذبۂ عمل اور ذوقِ یقیں دیدنی ہوتا تھا۔۔۔پڑھنے والوں کا بھی اور پڑھانے والوں کا بھی۔۔۔وہ اساتذہ نہ تو مہنگی کالونیوں کی بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے تھے، نہ موٹی موٹی تنخواہیں وصول کرتے تھے اور نہ ہی بڑی بڑی گاڑیوں میں سکول آتے تھے۔۔۔لیکن پرانی سائیکل پہ سوار دوپہر کا کھانا گھر سے ساتھ باندھ کر لانے والے ان اساتذہ میں جذبۂ عمل اورذوقِ یقیں کا یہ عالم تھا کہ انہیں ایمان کی حد تک یہ یقین ہوتا کہ ان کے یہ بچے آنے والے روشن کل کے امین ہیں اور وہ اس امانت کے محافظ۔۔۔آنے والی شاندار قوم کے امین۔۔۔اور ایک یہ تعلیمی ادارہ تھا بہترین سہولیات سے آراستہ۔۔۔ قابل اساتذہ،جدیدٹیکنالوجی،کمپیوٹرلیب،سائنس کی لیبارٹریاں، رنگ برنگے  جھولوں سے سجے کھیل کے میدان،اے سی اور ہیٹر سے مزین کشادہ، روشن اور ہوادار کمرے۔لیکن جذبۂ عمل اور ذوقِ یقیں ناپید!
قومیں سچائی سے بنتی ہیں۔۔۔اچھے اخلاق سے بنتی ہیں۔۔۔جذبۂ عمل سے بنتی ہیں۔۔۔ذوق یقین سے بنتی ہیں۔۔۔ملک قوم سے عبارت ہوتا ہے وگرنہ زمین کا ایک ٹکڑا کچھ اور ہو تو ہو ملک نہیں ہو سکتا۔۔۔اور وطن عزیز پاکستان اس جذبے کی زندہ مثال ہے۔۔۔تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی ہے۔۔۔ہم نے بیس سال وار آن ٹیرر لڑی ہے اور اپنے جذبۂ عمل سے ذوق یقین سے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ نہ صرف لڑی ہے بلکہ جیتی بھی ہے۔۔۔اور یہ جذبہ ہم نے کبھی کم نہیں ہونے دینا۔۔۔ہمیں آئندہ بھی اسی جذبے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔خواب ہمیشہ بڑے دیکھنے چاہئیں۔۔۔لیکن ان خوابوں کی تعبیر کے لئے بڑی اور مسلسل جدوجہد ہر حال میں جاری رکھنی چاہئے۔۔۔اور بڑے مقصد کے حصول کے لئے ڈٹ جانا چاہئے۔۔۔اپنی طرف سے صد فیصد دے کر نتیجہ اللہ پہ چھوڑ دینا چاہئے۔۔۔بقول سلطان باہو
مالی دا کم پانی دینا
تے بھر بھر مشکاں پاوے
 مالک دا کم پھل پھول لانا
او لاوے یا نہ لاوے۔۔۔
سچ بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔اورسچ بولنے کی توفیق بہت بڑی عطا ہے۔۔۔دور نبوی ۖ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک صاحب نشے اور دیگر جرائم کے عادی تھے۔۔۔وہ بہت کوشش کے باوجود یہ سب چھوڑنے میں مسلسل ناکام رہتے۔۔۔ایک روز تنگ آکر بارگاہ نبوی ۖ میں حاضر ہوئے اور تمام ماجرا عرض کیا۔۔۔حضور اقدس ۖ نے فرمایا بس ایک کام کرو کہ جھوٹ بولنا ترک کر دو۔۔۔ان صحابی نے فورا سر تسلیم خم کیا اور جھوٹ ترک کر دیا۔۔۔نشہ اور دیگر جرائم تو نہ چھوٹے لیکن جھوٹ ترک کرنے سے یہ ہوا کہ جب نشہ ٹوٹتا تو وہ صحابی نادم ہونے لگتے کہ بارگاہ رسالت ۖمیں جا کر جب سچ بولیں گے تو کتنی ندامت ہو گی کہ انہوں نے آج پھر نشے کے سبب فلاں فلاں جرم کیا ہے۔۔۔ہر روز خود سے نشہ اور دیگر گناہ نہ کرنے کا عہد کرتے اور ہر روز عہد ٹوٹ جاتا ہر روز بارگاہ نبوت  ۖ میں شرمندہ شرمندہ رہتے لیکن سچ بولنے کا وعدہ انہوں نے نبیِ مکرّم  ۖ سے کر رکھا تھا تو جھوٹ بولنے سے مکمل گریز کرتے۔۔۔ اور کہتے ہیں ناں کہ اگر پتھر پہ بھی مسلسل پانی گرتا رہے تو اس میں بھی سوراخ ہو جاتا ہے۔۔۔تو بالآخر ان صحابی کی ندامت رنگ لائی اور وہ نشے کی عادت ترک کرنے اور دیگر گناہوں سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔ اب اس سارے قصے میں دو باتیں ہیں۔۔۔ایک یہ کہ بارگاہ نبوت  ۖ میں حاضری سے قبل وہ خواہش کرتے تھے کہ نشہ چھوٹ جائے۔۔۔ دوسری یہ کہ دربار رسالت ۖ میں حاضری کے بعد انہوں نے عملًا کوشش کی کہ نشہ و دیگر گناہ ترک ہو جائیں۔۔۔اول الذکر صرف خواب تھا۔۔۔مؤخر الذکر جذبۂ عمل و ذوق یقیں تھا۔۔۔اور جذبہ سچا ہو تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔۔۔شاعر مشرق علامہ اقبال کے کلام کا حاصل بھی جذبۂ عمل ہے اور ذوق یقین ہے:
عمل سے زندگی بنتی ہے ، جنت بھی ، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے!
جو بیت گیا سو بیت گیا۔۔۔نئے سال کی آمد ہے۔۔۔سنہ دو ہزار بیس میں جو بھی کمیاں ،کجیاں رہ گئی تھیں آئیے اس نئے سال دو ہزار اکیس میں ان کا مداوا کریں۔۔۔نئے سال کی کرنوں نے حدت ہم سے لینی ہے۔۔۔سورج ہمارا محتاج ہے ہم سورج کے نہیں۔۔۔لیکن یہ سب صرف اور صرف تب ممکن ہے جب بقول اقبال ہم اس کے اہل ہو جائیں کہ

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اور یقین مانیں اللہ بہادروں سے محبت کرتا ہے۔۔۔خدا کو باعمل لوگ محبوب ہیں۔۔۔خدا ذوقِ یقین رکھنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔۔اور دلیروں کو محبوب رکھتا ہے۔۔۔اگر ایک شخص میں محض جذبۂ عمل اور ذوق یقین ہو اور دوسرے شخص میں اس کے علاوہ باقی سب کچھ ہو تو یقین مانیں اول الذکر کامیاب و محبوب ہو گا۔۔۔شاعر مشرق نے بھی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے ہتھیاروں اور اوزاروں کی بات نہیں کی بلکہ ذوق یقین کی بات کی۔۔۔کچھ کر گزرنے کا جذبہ۔۔۔کچھ کر گزرنے کا یقین ہی حاصل زیست ہے۔۔۔اقبال فرماتے ہیں

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

آئیے نئے سال میں یہ عہد کریں کہ آج سے ہم محض خواب نہیں دیکھیں گے بلکہ ان خوابوں کی تعبیر کے لئے محنت بھی کریں گے۔۔۔ان خوابوں کی تعبیر  کے لئے بڑی اور مسلسل جدوجہد ہر حال میں جاری رکھیں گے۔۔۔اور بڑے مقصد کے حصول کے لئے ڈٹ جائیں گے۔۔۔اپنی طرف سے صد فیصد دے کر نتیجہ اللہ پہ چھوڑ دیں گے۔۔۔رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو جائے ہم صبح کا انتظار ترک نہیں کریں گے۔۔۔ہم نا امید نہیں ہوں گے۔۔۔ہم اپنے اندر جذبۂ عمل اور ذوق یقیں کو پھر سے بیدار کریں گے۔۔۔ہم حیدرِ کرار کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے بہادری و شجاعت سے جئیں گے۔۔۔ہم تین سو تیرہ کے لشکر کے امین ہیں۔۔۔ہم غزوہ ہند کے سپاہی ہیں۔۔۔ہم مصطفوی ہیں۔۔۔اور ہم اب اپنے عمل سے یہ ثابت کریں گے۔۔۔نئے سال کے موقع پہ بزبان محسن نقوی دعا ہے کہ:

نئے سال کی صبحِ اول کے سورج!
میرے آنسوؤں کے شکستہ نگینے
میرے زخم در زخم بٹتے ہوئے دل کے
یاقوت ریزے
تری نذر کرنے کے قابل نہیں ہیں
مگر میں
(ادھورے سفر کا مسافر)
اجڑتی ہوئی آنکھ کی سب شعائیں
فِگار انگلیاں
اپنی بے مائیگی
اپنے ہونٹوں کے نیلے افق پہ سجائے
دعا کر رہا ہوں
کہ تو مسکرائے!
جہاں تک بھی تیری جواں روشنی کا
ابلتا ہوا شوخ سیماب جائے
وہاں تک کوئی دل چٹخنے نہ پائے
کوئی آنکھ میلی نہ ہو، نہ کسی ہاتھ میں
حرفِ خیرات کا کوئی کشکول ہو!

کوئی چہرہ کٹے ضربِ افلاس سے
نہ مسافر کوئی
بے جہت جگنوؤ ں کا طلبگار ہو
کوئی اہلِ قلم
مدحِ طبل و علم میں نہ اہلِ حکم کا گنہگار ہو
کوئی دریوزہ گر
کیوں پِھرے در بدر؟

صبحِ اول کے سورج!
دعا ہے کہ تری حرارت کا خالق
مرے گنگ لفظوں
مرے سرد جذبوں کی یخ بستگی کو
کڑکتی ہوئی بجلیوں کا کوئی
ذائقہ بخش دے!
راہ گزاروں میں دم توڑتے ہوئے رہرووں کو
سفر کا نیا حوصلہ بخش دے!
میری تاریک گلیوں کو جلتے چراغوں کا
پھر سے کوئی سِلسلہ بخش دے،
شہر والوں کو میری انا بخش دے
دخترِ دشت کو دودھیا کہر کی اک رِدا بخش دے! ||


مضمون نگار کی حال ہی میں کوسٹل ہائی وے 'پہ ہوا کا دروازہ' نامی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان کی دو کتب دیوسائی اور وطن، فرض اور محبت مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
[email protected] 

یہ تحریر 2مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP