متفرقات

جذبات کا انسانی صحت پر اثر

دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کو سر درد‘ کمردرد‘ پیٹ کا درد‘ بھوک نہ لگنے‘ کھانے کے بعد بوجھ محسوس ہونے‘ سینے کے درد‘ کبھی ڈکاروں‘ بدہضمی‘ بے خوابی‘ دل کی دھڑکن تیز ہونے‘ بے ہوشی کے دورے پڑنے‘ سانس پھولنے‘ کمزوری اور جوڑوں کے درد وغیرہ کی شکایت ہے۔ وہ ڈاکٹروں اور حکیموں کے پاس جاتے ہیں لیکن کوئی بھی ان کی بیماری کی تشخیص نہیں کر پاتا۔ ایکسرے اور مختلف معائنوں کے بعد ڈاکٹر ان سے کہتے ہیں کہ انہیں کوئی بیماری نہیں‘ سب نفسیات کا کھیل ہے۔ وہ وٹامن اور ذہنی سکون کی مقوی دوائیں اور غذائیں استعمال کرتے ہیں ۔ بعض افراد کا ڈاکٹروں پر سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے اور وہ نیم حکیم گنڈے تعویز کرنے والوں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ نتیجہ خاندان کی معاشی اور مالی حالت پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کا سینہ کھول کر دیکھا جائے تو دھاگے کی طرح دو سفید اعصاب (nerves) دل کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو ہاتھ لگا کے چھو بھی سکتے ہیں۔ یہ اعصاب دماغ کے نچلے حصے حرام مغزسے دل کی طرف آتے ہیں۔ ان میں سے اگر ایک کو بیٹری کے تار سے ملا کر جوڑا جائے تو دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔ اور دوسرے کو چھونے سے دل کی رفتار بتدریج رک جاتی ہے۔ اس سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ ایک تندرست دل کس طرح خودبخود تیزی سے دھڑکتا ہے یا اس کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔ جنگ‘ جھگڑے‘ غم و غصے اور ڈر کی حالت میں دماغ سے اعلانات حرام مغز میں اور اعصاب کے ذریعے تمام جسم میں پہنچتے ہیں تاکہ جسم یا تو حریف کا مقابلہ کرنے‘ مرنے مارنے پر تل جائے یا بھاگ کر جان بچانے کی تیاری کرے۔ غصے کی حالت میں دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں پھیل جاتی ہیں۔ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بازوؤں اور ٹانگوں کے پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور انسان مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ غصے کی زیادتی معدے میں زخم کا موجب بن جاتی ہے۔ ایسا عموماً اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے غصے کو دبائے چونکہ اس حالت میں جذبات کو سختی سے دبایا جاتا ہے‘ اس لئے معدے پر برا اثر پڑتا ہے۔ ایک آدمی جو ڈاکٹر کے پاس صرف اس لئے جاتا ہے کہ کبھی کبھی اس کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے۔ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ غصے میں دل کا دھڑکنا تو کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن بظاہر آرام اور بے فکری سے بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ سب چھپے ہوئے جذبات اور خیالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جن کو لاشعوری کہا جاتا ہے اور جو ہمارے تحت الشعور اور لاشعور کے ذریعے خیالات‘ حرکات و سکنات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی اپنے جذبات‘ اپنی خواہشات‘ اپنے خیالات و واقعات کا پتا نہیں چلتا لیکن ان کے دل متاثر ہو کر گاہے بگاہے تیزی سے دھڑکتے ہیں۔

غم یا خوف کی حالت میں‘ چاہے وہ شعوری ہو یا لاشعوری‘ خون کی کمی کی وجہ سے کھانا ہضم نہیں ہوتا اور معدے کی حرکات کی وجہ سے زیادہ دیر تک معدے میں پڑا رہتا ہے اور خمیر بننے لگتا ہے‘ جس کی وجہ سے ایک تو اشتہاء کم ہو جاتی ہے دوسرا کھانے کے وقت پیٹ میں اتنی جگہ نہیں ہوتی اور خمیر بننے سے ڈکاریں آتی ہیں۔ کمر کے کچھ درد جذبات کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ انسان چونکہ جذبات سے مبرا نہیں ہو سکتا‘ اس لئے یہ بات اس کے لئے ناممکن ہے کہ جذبات اور ان کے اثرات سے متاثر نہ ہو۔ تاہم اگر انسان کوشش کرے توا ن کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے جذبات پر قابو رکھا جائے‘ دوسروں کی بات پر غصہ کرنے کے بجائے اس پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے اور صبر سے کام لیا جائے۔ صبح سویرے ورزش کو معمول بنایا جائے۔ دوسروں کے بارے میں منفی خیالات نہ رکھے جائیں۔ اپنے دکھوں اور مسائل کے حوالے سے درست احباب سے مشورہ لیا جائے اور دوستوں کو مخلصانہ مشورے دیئے جائیں۔ انسان اگر دل کی گہرائیوں سے عبادت کرے اور باوضو رہے تو جذباتی مسائل پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ چونکہ خوراک بھی انسانی جسم پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے اس لئے کھانے پینے کے معاملے میں ہمیشہ بہت خیال رکھا جائے۔ بھنی ہوئی اور تیز مصالحے والی اشیاء سے پرہیز کیا جائے۔ سادہ غذا استعمال کی جائے۔ کھانا وقت پر اور بھوک رکھ کر کھانا چاہئے۔ اپنے وقت پر مناسب نیند لینے سے بھی جذباتی مسائل کم کئے جا سکتے ہیں۔

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP