قومی و بین الاقوامی ایشوز

جذبات سے جذبے تک کا سفر

جولائی کی صبح آئی ایس پی آر کی طرف سے مجھ سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا میں خیبر ایجنسی اور وزیرستان کا دورہ اور وہاں کے حالات پر پروگرام کرنا چاہوں گی؟ میں نے ہامی بھر لی کہ ایک تو آپریشن ضرب عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر اس آپریشن کی کامیابی اور زمینی حقائق لوگوں تک پہنچانا بہت ضروری تھا اور دوسرا خیبر آپریشن کی مکمل اور صحیح طور پر کوریج اب تک نہ ہو سکی تھی۔ عوام نہیں جانتے تھے کہ خیبر آپریشن ہے کیا۔ اس کا آغاز کیوں‘ کب اور کیسے ہوا؟ ایک سال کی قلیل مدت میں اس کے دو اہداف بھرپور کامیابی سے حاصل کر لئے گئے۔ اور چونکہ عید الفطر بھی قریب تھی سو خواہش بھی تھی کہ میٹھی عید۔۔۔ سنگلاخ پہاڑوں اور سخت میدانوں میں دن رات کڑی محنت کرنے والے میٹھے اور نرم خو فوجی جوانوں کے ساتھ گزاری جائے جو اپنے علاقوں‘ اپنے خاندانوں سے دور۔ دوسروں کے لئے زندگی اور موت کے درمیان جیتے ہیں۔ جن کی اصل عید تب ہوتی ہے جب ان کے ہم وطن محفوظ ہوں اور ان کے چہروں پر مسکان اور دلوں میں خوشی ہو۔۔۔۔

خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ اترے‘ بھاری وردیوں میں ملبوس‘ بھاری ہتھیاروں سے لیس چاق چوبند جوانوں نے خوش آمدید کہا۔موسم خوشگوار تھا اور وادی کے حسن کو چار چاند لگا رہا تھا۔ فلک بوس پہاڑ سبزے سے بھرپور تھے اور آزاد فضاؤں کے بادلوں سے اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ تھا اور تمام جوان اور افسران سخت ڈیوٹی کے باوجود روزے سے تھے۔ بریفنگ ہوئی اور جوانوں سے گپ شپ ہوئی۔ آپریشن خیبر ٹو سانحہ پشاور کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو انجام تک پہنچانے کے لئے 15 فروری 2015 کو شروع کیا گیا اور مئی 2015 میں چار ماہ کی قلیل مدت میں بھرپور کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران 48 فوجی شہید اور 181 زخمی ہوئے جبکہ 348 دہشت گرد ہلاک کئے گئے اور 193 زخمی ہوئے۔ منگل باغ علاقے سے فرار ہو گیا جبکہ اس کا ایک بیٹا ’’اجنبی‘‘ مارا گیا۔ اس علاقے میں منگل باغ نے اپنی ایک غیرقانونی ریاست قائم کر رکھی تھی‘ جہاں پنجاب سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے مغوی‘ اغوا برائے تاوان کے لئے رکھے جاتے تھے۔ یہ جیلیں مقامی مخالف قبائل کے لوگوں کو قید کرنے کے لئے بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ ایسی ہی ایک جگہ ’’سندانہ‘‘ کا ہم نے دورہ کیا جو ایک سرنگ کی صورت میں جیل بنائی گئی تھی۔ اس وقت علاقہ دہشت گردوں سے سو فیصد پاک کر دیا گیا ہے۔ آپریشن خیبر ٹو کے علاقے میں متاثرین کی بحالی پر کام کی پلاننگ شروع کر دی گئی ہے اور جلد ہی اس علاقے کے مکین اپنے گھروں میں آزادی اور خوشحالی سے زندگی گزار سکیں گے۔ جبکہ آپریشن خیبر ون کے علاقے میں متاثرین کی واپسی اور بحالی کا آغاز ہو چکا ہے۔ شلوبر اور اکاخیل قبائل کے لوگ واپس آ چکے ہیں جبکہ سپاہ قبیلے کے لوگوں کی واپسی کا کام جاری ہے۔ خیبر ون کے علاقے میں 35 ہزار خاندان واپس آ چکے ہیں۔ اس آپریشن کے مرکزی اور زیادہ متاثرہ علاقے باڑہ میں نہ صرف عام لوگوں کی بحالی کا کام کیا جا رہا ہے بلکہ وہ دہشت گرد جنہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے ماضی پر شرمندگی اور توبہ کا اظہار اور آئندہ زندگی میں پاکستان کا وفادار‘ مثبت اور کارآمد شہری بننے کا وعدہ کیا‘ ان کی بحالی کے لئے فاٹا سیکرٹریٹ اور پاک فوج کے تعاون سے بحالی مرکز قائم کیا گیا جس کا نام ’’صباعون2‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے اس طرز کا بحالی مرکز ’’صباعون1‘‘ سوات میں بھر پور طریقے سے کام کر رہا ہے۔ میں نے ان افراد سے بھی ملاقات کی جو ماضی میں غربت‘ پسماندگی اور جہالت کی بنا پر دہشت گردوں کے جال میں پھنس گئے اور کمانڈر بنے لیکن اب وہ صاف ستھری زندگی گزار نے کی طرف مائل ہیں اور یہ دیکھ کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہ لوگ اب تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی انجن مکینک ہے‘ کوئی کارپینٹر ہے‘ اور کوئی زراعت کے پیشے سے منسلک ہے۔ ان کے خاندان والے بھی اکثر ان سے ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں اور اُن کی بحالی اور نئی زندگی پر خوش اور مطمئن ہیں۔ اس وقت ایسے افراد کا پہلا بیچ صباعون میں زیرتعلیم و تربیت ہے اور چند ہی ماہ میں یہ افراد اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔

خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں کے دوروں کے بعد پشاور واپسی کا سفر شروع ہوا۔ آپریشنل سوالات کے جواب تو مل گئے تھے لیکن جس سوال کی گرہ ذہن میں پڑی تھی اس سوال کا جواب ابھی تک نہ مل سکا تھا۔ وہ کیا چیز ہے کہ یہ جوان اپنا گھربار‘ ماں باپ‘ بیوی بچے چھوڑ کر موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ ساعتیں ایسے بیت گئیں اور ان خاموش ساعتوں میں جیسے میرے سوال کا جواب ہر طرف گونج رہا تھا۔ میرے ذہن کی الجھن کھل گئی۔ میں تو ابھی جذبات کے سمندر میں ہی ڈوبی ہوئی تھی کہ ایک فوجی جوان چمکتی آنکھوں‘ پُرزور آواز اور مضبوط جذبے سے بولا۔ ’’لیکن انہی بچوں نے ہمارا حوصلہ بڑھایا‘ ہم نے عہد کر لیا ان بچوں سے کہ سب دہشت گردوں کو مار دینا ہے۔ آج ہم فخر سے اُن ماؤں سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تمہارا بدلہ لے لیا ہے!! اور یہ دہشت گرد جہاں کہیں ہوں گے‘ ہم انہیں ماریں گے۔‘‘

سوال سے جواب تک کا سفر‘ الجھن سے سلجھن تک کا سفر‘ جذبات سے جذبے تک کا سفر تمام ہوا۔ جان لیا کہ یہ جذبہ‘ اپنے وطن سے اور اس میں بسنے والی سب ماؤں سے پیار کا جذبہ۔۔۔ یہی وہ تحریک ہے جو ان جوانوں کو اپنی ماؤں‘ اپنے بچوں سے دور زندگی موت کی کشمکش میں لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگست 1947 میں جذبات اور جذبے نے مل کر پاکستان بنایا تھا۔۔۔ آج 68 سال بعد پھر اسی جذبے کو جگانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی تکمیل تو ہو گئی اب اس کی تعمیر ہمارے ذمے ہے۔ آئیں اپنے وطن کے ساتھ بے لوث پیار کا وہی جذبہ جگائیں جو اس فوجی جوان کو اے پی ایس کے بچوں اور ان کی ماؤں کے ساتھ ہے۔ ۔۔۔ اور اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کی ایسی تعمیر کریں کہ ایک دن ہم بھی روح قائد سے یہ کہہ سکیں۔ ’’ہم نے تمہارا خواب پورا کر دیا!!‘‘

وحشی کی وحشت سے اب تم کو نہیں ڈرنا

اب ڈرکے نہیں مرنا

وحشی کی وحشت سے اب تم کو نہیں ڈرنا

سر جھکا کے نہیں مرنا

بند آنکھیں کرنے سے موت آئی نہیں ٹلتی

اب لڑ کے ہے مرنا

سر کو جھکانے سے قضا آئی نہیں ٹلتی

تکبیر کے نعرے سے یک لخت جھپٹ پڑنا

اب ڈرکے نہیں مرنا

دشمن کے ارادوں کو مقتل تم بھی بنا ڈالو

شاہینِ وطن ہو‘ کرگس نہیں بننا

اب لڑ کے ہے مرنا

شاہین کی خوبی ہے بے خوف جھپٹ پڑنا

سر اٹھا کے ہے مرنا

ہاں لڑ کے مرنے سے پھر دھرتی نہیں مرتی

فرض اپنا ادا کرنا

اب ڈر کے نہیں مر نا

شاہین کی خوبی ہے یک لخت جھپٹ پڑنا

اب لڑ کے ہے مرنا

فہیمہ بیگ چغتائی

یہ تحریر 44مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP