شعر و ادب

جدّت

دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
افلاک منّور ہوں ترے نورِ سحر سے
خورشید کرے کسبِ ضیاء تیرے شرر سے !
ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے!
دریا متلاطم ہوں تری موجِ گہر سے!
شرمندہ ہو فطرت ترے اعجازِ ہنر سے!
اغیار کے افکار و تخیّل کی گدائی!
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی!
(ضربِ کلیم)    

یہ تحریر 38مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP