ہمارے غازی وشہداء

جب تجھے روشنی کی ضرورت پڑی

کیپٹن سعیدالرحمن شہید، تمغۂ بسالت کے حوالے سے ونگ کمانڈر محبوب حیدر سحاب   (ر)کی تحریر

ہماری پاک فوج کے تمام شہداء میں چند اقدار مشترک نظر آتی ہیں اور وہی خصوصیات اِس چوبیس سالہ جوان کیپٹن سعید( شہید) میں بدرجۂ اَتم جلوہ نما دکھائی دیں۔ یعنی سعید انتہائی مخلص، خوش اخلاق، محبِّ وطن اور اپنے دل میں تمام پاکستانیوں کا بے پناہ درد رکھنے والا نوخیز فوجی افسر تھا۔
سعید کے والدِ محترم جناب محمد رفیق صاحب، پاک آرمی کی ای ایم ای کور سے بحیثیت اعزازی کیپٹن کے ریٹائرڈ ہوئے۔ لہٰذا آپ کی شدید دلی تمنا تھی کہ اُن کے چار بیٹوں اور دو بیٹیوںمیں سے کوئی ایک پاک آرمی کی قابلِ صد افتخار وردی میںآفیسر کے پھول لگائے ضرور نظر آئے۔ سعید اُن کی اولاد میں پانچویں نمبر پر پیدا ہونے والا وہ ہونہار بیٹا ہے جس نے  باپ کی دیرینہ خواہش کو پورا کیا۔ سعید اپنے خاندان کے آبائی گائوں ٹانڈہ تحصیل جلالپور جٹاں ضلع گجرات،میںیکم نومبر 1989کو پیدا ہوا، جو سرحدی علاقے چھمب جوڑیاں سے تقریباً 9کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پہلی سے لے کر ساتویں جماعت تک کی تعلیم آرمی پبلک سکول لالکڑتی راولپنڈی سے حاصل کی اور 2003 میں ملٹری کالج جہلم کے لئے منتخب ہوگیاتاکہ وہ اپنے آپ کو ''عالمگیرین'' کہلوانے میں فخر محسوس کرسکے۔
اُس نے کالج کی تمام نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کبھی تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی تو کبھی جنرل نالج کے امتحان میں امتیازی سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ سعیدبہترین مکے باز اور جوڈو کراٹے کا ماہر تھا۔ اس کے علاوہ ہاکی، فٹ بال، کرکٹ اور والی بال میں بھی پائے کا آل رائونڈر کھلاڑی تھا۔ انفرادی طور پر خود بھی کئی میڈلز حاصل کئے اور اپنی ٹیم کو بھی بے شمار ٹرافیاں جتوائیں۔ ماں باپ کی دعائوں اور خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے اُس نے جس میدان میں بھی قدم رکھا فتح و کامرانی نے اُس کے قدم چومے۔ لہٰذا اُس نے بڑی آسانی سے2008 میں ایف ایس سی کی تعلیم مکمل کرکے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے لانگ کورس نمبر122 میں شمولیت اختیار کرلی اورپاسنگ آئوٹ کے بعد اکتوبر 2010 میں آرٹلری کور میں کمیشنڈ آفیسر بن گیا۔ جب اُس کے شانوں پر سیکنڈ لیفٹیننٹ کا پھول سجا اوراُس نے وردی میں آکر والدین کو سلیوٹ کیا تو بھائی، بہنوں اور سب دیکھنے والے عزیزو اقارب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو جھلملانے لگے اور ہر کسی نے اﷲ کا شکر ادا کیا۔
 آپ کی پہلی پوسٹنگ 4میڈیم رجمنٹ آرٹلری (جہلم) میں ہوئی۔ جہاں سعید نے منفرد طریقے سے جائن کیا۔ 24 اکتوبر 2010 کو وہ پاس آئوٹ ہوا اور ایک ہفتے کی چھٹی پر گھر راولپنڈی والدین کے پاس آگیا۔ چار دن بعداُس کے بھائی حبیب الرحمن نے جو عمر میں اُس سے دو سال بڑا ہے کہا کہ گوجر خان میں میرے ایک دوست کی سالگرہ ہے اُس نے ہمیں بلایا ہے آئو جاکر اُسے مبارکباد  دے آتے ہیں۔ دونوں بھائی الگ الگ موٹرسائیکل پر روانہ ہوئے روات کے قریب سعید کی موٹر سائیکل کو ایک کیری ڈبہ غلط طرف سے اوور ٹیک کرتے ہوئے ٹکر مار کر آگے نکل گیا۔ سعید کو اس حادثے میں بہت چوٹیں آئیںاوراب نئی یونٹ میں رپورٹ کرنے میں صرف تین دن رہ گئے تھے۔ سی ایم ایچ راولپنڈی میں اس کا علاج جاری تھا اوراس کے پورے جسم پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں مگراُس نے اُسی حالت میں 2نومبر 2010 کو نئی یونٹ میں بروقت رپورٹ کردی۔ جہاں اُس کو سیدھا یونٹ لائن کے بی او کیو میں پہنچا دیاگیا۔ تمام یونٹ آفیسرز نے اس قدر نازک زخمی حالت میں بروقت جائن کرنے کو بہت سراہا۔ سعید نے 2011 میں سکول آف آرٹلری سے ینگ کورس نمبر۔134، مکمل کیا۔ 2012 میںاس کی یونٹ کوئٹہ چلی گئی اور وہاں سے اُس نے ینگ انفنٹری کورس 61-، بھی کامیابی سے پاس کیا۔2013 میںاس کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے 33ڈویژن، بیٹل سکول سے اُس کو بلوچی زبان کا کورس بھی کروا دیاگیا۔ بلوچی زبان سیکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہ مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل کر پاک فوج کے حساس معاملات کو مزید بہتر انداز میں سرانجام دینے لگا اور2013 کے آخرمیں سعید کو کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
یہ ڈیرہ مراد جمالی کا بڑا حساس علاقہ تھا جہاں اُس کی نئی یونٹ37 ونگ ایف سی بلوچستان،( سبی سکائوٹس) کی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ قرب و جوار سے گزرنے والی گیس پائپ لائنز ، ریلوے لائنز، سڑکوں کے نیٹ ورکس اور اُن سے متعلقہ  تنصیبات کی حفاظت کرے۔ تاکہ دہشت گرد انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ جس کے لئے سعید کو(QRF) کوئیک ری ایکشنری فورس کی ٹیم لے کر سونوا (Sonwa) چیک پوسٹ تک اکثر چکر لگانے پڑتے۔ یہ چیک پوسٹ 'ایف سی' ہیڈکوارٹر سے صرف 5کلومیٹر تھی مگر راستہ انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے جیپ کے ذریعے پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا تھا۔ کیپٹن سعید جب4 میڈیم رجمنٹ سے اپنی نئی یونٹ 37- ونگ ایف سی بلوچستان رپورٹ کرنے جارہا تھا۔ اُسے سبی کے علاقے کی سخت گرمی کا سامنا تھا جس کی وجہ سے اُس کا پورا  وجود پسینے میں شرابور ہوچکا تھا۔ ہاتھ میں منرل واٹر کی آدھے لیٹر والی بوتل تھی جسے وہ پچھلے بیس منٹ سے ایک ایک گھونٹ کرکے پی رہا تھا۔ جب اُسے محسوس ہوا کہ یونٹ آنے والی ہے اور بوتل میں صرف دو تین گھونٹ پانی کے بچے ہیں تو اُس نے جیپ رکوا کر سڑک کے کنارے بوتل کو ایک مناسب جگہ پر پھینک دیا۔ سعید نے دیکھا کہ چار پانچ ادھیڑ عمر کی عورتیں اُس بوتل پر جھپٹ پڑیں اورہر عورت دعویٰ کررہی تھی کہ اُس نے بوتل پہلے اٹھائی ہے۔ سعید کو یہ منظر بڑا عجیب لگا لہٰذا اُس نے عورتوں سے لڑنے کا سبب دریافت کیا۔ کیونکہ بوتل میںتو بمشکل دو تین گھونٹ پانی بچا تھا۔ تب انہوںنے بتایا کہ ہمارے اِس پسماندہ علاقے میں 100 کلومیٹر تک آج بھی ہمارے لئے پینے کے پانی تک کا انتظام نہیں کیاگیاہے۔ ہمارے مرد حضرات نو دس دنوں میں بڑی جدو جہد کے بعد موٹر سائیکلوں پر تھوڑا سا پانی لے کر آتے ہیں جو ہمارے پینے کے لئے ناکافی ہوتاہے۔ اس تلخ حقیقت نے سعید کے دل کو سخت ٹھیس پہنچائی۔ لہٰذا اُس نے یونٹ رپورٹ کرکے سب سے پہلے کمانڈنگ آفیسر  سے اجازت حاصل کی کہ اُن چند خاندانوں کو یونٹ ایف سی بائوزرز کے ذریعے سے ہفتے میں دو مرتبہ، ضرورت کے مطابق ایک مخصوص جگہ پر پانی مہیا کردیا جائے۔ مقامی لوگوںنے کیپٹن سعید کے اس کارِ خیر کی تعریف کی اور جب بھی یہ لوگ پانی پیتے پاک فوج کو دل سے دعائیں دیتے۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ پاک فوج کے جونیئر آفیسرز بھی کس قدر بلند مرتبہ سوچ رکھتے ہیں۔
کیپٹن سعید کی مخصوص صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اُس کے کمانڈنگ آفیسرز جتنا اُس کے کندھوں پر سرکاری فرائض کا بوجھ ڈالتے اُس سے کہیں زیادہ بے شمار ثانوی ذمہ داریاں بھی سونپ دیتے کیونکہ اُنہیں بھروسہ تھا کہ سعید کبھی کوئی کام  ادھورا نہیں چھوڑے گا۔ وہ خود بھی اپنے آپ اور اپنی ٹیم کو شہد کی مکھیوں کی طرح مصروف رکھتا۔ شام کو وہ یونٹ سے باہر فٹ بال اور والی بال لے کے چلاجاتا جہاں مقامی بچے بے چینی سے اس کا انتظار کررہے ہوتے۔ وہ سب بچوں کو دو ٹیموں میںتقسیم کرکے کھیل کود میں مصروف کردیتا اور خود بھی اُن کے ساتھ کھیل کر لطف اندوز ہوتا اور جب سعید جیپ میں واپس آنے لگتا تو بچے خوشی سے اُس کی جیپ کے ساتھ دوڑنے لگتے۔ بے ساختہ اُسے فوجی انداز میں سلیوٹ کرتے اور جب تک جیپ ممنوعہ علاقے میں داخل نہ ہوجاتی ہاتھ ہلا ہلا کر خداحافظ کہتے رہتے۔
ایک روز لیفٹیننٹ جنرل (اس وقت میجر جنرل) شیرافگن، آئی جی، ایف سی، بلوچستان نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ڈیرہ مراد جمالی میں پہلی سے لے کر دسویں جماعت تک کے لئے سکول بنانا چاہتے ہیں۔ سعید نے رضاکارانہ طور پر اس عظیم مشن کی تکمیل کے لئے اپنی خدمات پیش کردیں۔ لہٰذا دن رات محنت کرکے تمام جماعتوں کے نصاب کی تیاری میں بڑا احسن کردار ادا کیااور ساتھ ہی سکول یونیفارم کا مونوگرام ڈیزائین، تیار کیا جسے آئی جی ایف سی نے سراہتے ہوئے بخوشی منظور کرلیا۔ سعیدسے مشیتِ خداوندی، عوام الناس کی خدمت کے لئے بے بہا کام بڑی سُرعت سے کرواتی جارہی تھی۔
شروع شروع میں جب سکول میں ابھی صرف ایک دو ٹیچرز تھیں۔ سعید خود بھی مختلف کلاسوں میں جا کر بچوں کو پڑھاتا بلکہ اُنہیں پڑھائی کی ترغیب دینے کے لئے اُن میں ٹافیاں، بسکٹس اور چاکلیٹس بھی تقسیم کرتا۔ یہ سب کچھ تحریر کرتے ہوئے ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے کسی ایسے مشینی آدمی کا تذکرہ کیاجارہا ہو جو کام تو بغیر کسی تھکن کے روبوٹ کی طرح کرتا مگر اُس کے سینے میں درد رکھنے والا انسانی دل لگا دیاگیاہو۔ جو شخص عام انسانوں کے لئے اس قدر محبت اور اُنس رکھتا ہو وہ بہن بھائیوں اور باقی رشتہ داروں سے کتنی محبت کرتا ہوگا۔ اس حقیقت کے بارے میں سعید کے بہنوئی لیفٹیننٹ کرنل شکیل احمد جن کا تعلق میڈیکل کورسے ہے بتاتے ہیں کہ شہادت سے تقریباً پچیس دن قبل سعید نے میرے تینوں بیٹوں، دونوں بیٹیوں اور اپنی بڑی بہن یاسمین کو فون کیا کہ چھٹی لے کر آرہا ہوں ، ہم ماموں، بھانجے اور بھانجیاں مل کر خوب لطف اندوز ہوں گے۔ اُس وقت شکیل صاحب کی پوسٹنگ سیاچن ہوچکی تھی مگر فیملی ابھی تک بدین میں قیام پذیر تھی اور سعید نے ڈیرہ مراد جمالی سے آنا تھا۔ چھوٹا بھانجا محمد، سعید سے بہت مانوس تھا اور بے تکلف ہو کر ماموں سے بے شمار فرمائشیں کرتا رہتا۔ پہلے کچھ اس طرح ہوتا کہ محمد،ماموں سے دس چیزوں کی فرمائش کرتا تو وہ اُن میں سے ایک یا دو چیزیں لے آتا۔ مگر اس مرتبہ عجیب حُسنِ اتفاق تھا کہ محمدنے جس جس چیز کا مطالبہ کیا۔ سعید وہ خریدتا چلاگیا۔ مثلاً الیکٹرک کار، انگریزی سکریبل گیم، ویڈیو گیم اور تیر انداز والی گیم بھی لے آیا۔ یہاں تک کہ غباروں کی جو کمی رہ گئی تھی وہ بھی سعید نے دورانِ سفر ماتلی کے مقام سے خریدلئے۔  غالباً سعید کو اُس کی روح خبر دے چکی تھی کہ اس مرتبہ اُس کی اپنی بڑی بہن، بھانجے اور بھانجیوں سے آخری ملاقات ہے۔
شہید کیپٹن سعید کی 24 سالہ زندگی پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو، یہ فوجی افسرانہ زندگی کے لحاظ سے اُن کی یہ شہادت اور وہ بھی شادی سے صرف ایک ماہ پہلے بھرپور جوانی کی شہادت کہلائے گی۔ سعید کی زندگی کے رجحانات بتاتے ہیں کہ وہ دل میںوطن پر قربان ہونے کی شدید تمنا لئے ہوئے تھااور قدم بہ قدم اُس کی جانب خراماں خراماںگامزن تھا۔ سعید کے بھائی حبیب الرحمن نے شہید کی زندگی پر مشتمل البم دکھایا تو اُس میں تین تصویریں ایسی نظر آئیں جس میں کیپٹن سعید صاف ستھری کلف لگی ہوئی یونیفارم میں بڑے ہشاش بشاش موڈ میں نظر آرہا ہے اور پس منظر میں ایک بہت بڑا بورڈ دکھائی دے رہا ہے۔ جس پر وطن کے بارے میں خوبصورت نغمے کے دو بند تحریرہیں۔جس کا پہلا بند یہ ہے:۔
اے نگارِ وطن تو سلامت رہے
مانگ تیری ستاروں سے بھر دیں گے ہم
ہو سکی تیرے رُخ پہ نہ قرباں اگر
اور کس کام آئے گی یہ زندگی
اپنے خوں سے بڑھاتے رہیں گے سدا
تیرے گلرنگ چہرے کی تابندگی
جب تجھے روشنی کی ضرورت پڑی
اپنی محفل کے شمس و قمر دیں گے ہم
تینوں تصویروں کے پس منظر میں نغمے والا بورڈمشترک نظر آرہا ہے۔ پہلی تصویر میں سعید بورڈ کی دائیں جانب ہے اور دوسری تصویر میں بورڈ پر تحریر نغمے کے بائیں جانب دکھائی دیتا ہے اور تیسری تصویرمیں سعید اُس نغمے کی طرف بڑے معنی خیز انداز میں دیکھ رہا ہے۔جیسے وہ نغمے کے مصرعوں کے ذریعے پاک وطن پر قربان ہونے کا حلف اٹھا رہا ہو۔ یہ نغمہ بقول اُس کے بھائی کے سعید کے مضطرب دل کی پکار تھا۔ سعید کے دل کی دھڑکن اور سانسوں کی مہک مدھر سُروں میں نغمہ ''نگارِ وطن'' کے بول گنگنا رہی ہے۔ سعید کے نام کے ساتھ شہید کا قافیہ کتنا موزوں اور زیبانظر آتا ہے۔ نغمے کا ایک ایک لفظ اُس کے جذبۂ ایثار کی ترجمانی کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یکم فروری 2015کو جب انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے خبر آئی کہ ڈیرہ مراد جمالی کے گرد گیس اور ریلوے لائنوں کی تنصیبات پر دہشت گرد حملے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے سونوا چیک پوسٹ کے قریب کچھ بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں۔ جن کو صاف کرنے کے لئے ایک کرنل صاحب کیوآر ایف ٹیم کے ہمراہ روانہ ہونے  کے لئے تیار ہو رہے ہیں کیونکہ سعید پہلے ہی مختلف سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران تھک چکا تھا مگر اس موقع پر بھی سعید، رضا کارانہ طور پر آگے بڑھا اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لئے کیوآر ایف ٹیم لے کر خود روانہ ہوگیا۔'سونوا  چیک پوسٹ' پر پہلے ہی کوئی فرشتہ شہادت کا تاج لئے سعید کو خوش آمدید کہنے کے واسطے تیار کھڑاتھا۔ بارودی سرنگوں کی صفائی کے دوران ایک بارودی سرنگ اچانک زور دار دھماکے سے پھٹ گئی اور دستِ قدرت نے سعید کے سر پر شہادت کا تاج سجا دیا۔



یکم فروری 2015 آپ کا یومِ شہادت ہے اور23 مارچ2016 کو حکومتِ پاکستان نے ملک کے لئے آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے تمغۂ بسالت سے نواز۔
کیپٹن سعیدشہید کے جسدِ خاکی کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ اُن کے آبائی گائوں ٹانڈہ میں دفن کردیاگیا جہاں اب شہید کی تربت پر ایک خوبصورت یادگار بنادی گئی ہے۔ یہ ٹانڈہ گائوں جلال پور جٹاں ضلع گجرات سے تقریباً 23 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ زندہ قومیں اپنے شہیدوں کو کبھی نہیںبھولتیں، انہیں مختلف حوالوں سے یاد رکھتی ہیں۔ لہٰذا گائوں کے عمائدین، یونین کونسل اور مقامی لوگوں نے ٹانڈہ چوک کا نام تبدیل کرکے'' کیپٹن سعید شہید چوک'' رکھ دیا ہے جو کہ ایک قابلِ ستائش امر ہے۔ شہادت سے تقریباً ایک ماہ پہلے اُس نے اپنے دیرینہ دوست میجر عثمان کو چراٹ فون کیا جو وہاں سپیشل سروسزگروپ میں کمانڈو کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہا تھا اور کہا کہ ''سر !  میں شادی کے لئے ایک ماہ کی چھٹی لے کر آرہا ہوں آپ نے میری شادی میں لازمی شرکت کرنی ہے اور رتجگے میں بھنگڑا بھی ڈالنا ہے۔ لیکن کسی کو کیا معلوم تھاکہ وہ کمرہ جہاں اس کی شادی کی سیج سجنی تھی اُس کی شہادت کی یادگار میں تبدیل ہوجائے گی۔اُس کمرے میں آج کل کیپٹن سعید شہید کی مختلف وردیاں، ٹوپیاں، چھڑیاں، جیتی ہوئی ٹرافیاں اور میرٹ سرٹیفیکیٹس سجے ہوئے ہیں۔
شہادت سے پانچ چھ ہفتے  پہلے سے سعید شہید کے والد بار بار ایک ہی خواب دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کہیں سفر پر جارہے ہیں۔ باقی تمام بیٹے بیٹیاں تو نظر آرہے ہیں مگر سعید نظر نہیں آتا۔ پہلے تو وہ یہ سمجھے کہ اُن کا یہ وہم ہے مگرقدرت نے بار بار جب اس خواب کو دہرایا تو آپ کو یقین ہوگیا کہ انہیں اپنے بیٹے کی شہادت کے واسطے تیار کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ والدِ گرامی کو شہادت کی خبر ملی تو آپ نے خندہ پیشانی سے اس جاں گزیں صدمے کو خود بھی برداشت کیا باقی تمام افرادِ خانہ کو بھی صبر اور حوصلے کی تلقین کرتے رہے۔ والد فخر سے بیان کرتے ہیں کہ اﷲ کا شکر ہے کہ اس کی کریم ذات نے میرے بیٹے کو اتنے بڑے مقام سے نوازا ،ورنہ طبعی موت میں یہ بلندی کہاں۔ آپ نے مزید ارشاد فرمایا کہ یہ شہادت کا درجہ صرف سعید کو ہی نصیب نہیں ہوا بلکہ اُس کی قربانی کی وجہ سے میرے پورے خاندان کو بلند مرتبہ ملا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ میرا بیٹا اﷲ کی راہ میں کام آگیا ہے۔
سعید کی چھوٹی بہن حِرا رفیق نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے بھائی نے ملک و ملت کی خاطر لہو کا سرخ شاہانہ جوڑا پہن لیا اور سرپر شہادت کا تاج سجا کر ہمارا سر بھی فخر سے بلندکردیا۔سعید کے بڑے بھائی ارشد محمود نے کہا کہ وہ فون کرکے بتاتا تھا  کہ میں چھٹی پرگھر آرہا ہوں ماں کے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانے کھائوں گا۔ اُسے خاص طور پر ماں کے ہاتھ کی بریانی، میٹھے چاول اور کھیر بہت پسند تھی۔ خود بھی مزے لے لے کر کھاتا اور اپنے دوستوں کے لئے بھی گھر سے مختلف کھانے برتنوں میں بھر کر ساتھ لے جاتا۔ سعید بڑا مہمان نواز اور تمام جونیئرز اور سینیئرز کا حسبِ مراتب بہت خیال رکھنے والا فوجی افسر تھا۔
 اُس کی شہادت کے بعد ڈی جی ایف سی بلوچستان نے چیک پوسٹ سونوا کا نام ''کیپٹن سعید شہید چیک پوسٹ'' اور ایف سی پبلک سکول کا نام ''کیپٹن سعید شہید ایف سی پبلک سکول ڈیرہ مراد جمالی'' رکھ دیا۔23مارچ2016کو حکومتِ پاکستان نے کیپٹن سعید شہید کو تمغۂ بسالت سے نوازا۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری قوم ایک زندہ قوم ہے اور اپنی جان قربان کرنے والے محسنوں کو اور اُن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ ہر دور میں شہادت سے شہادت کی شمع جلتی رہے گی اور ہمارا پیارا ملک پاکستان اس روشنی میں کامیابیوں اور کامرانیوں کا سفر سدا جاری رکھے گا۔ 

یہ تحریر 2مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP