شعر و ادب

جاگ!  اُٹھو اے بندہِ ٔمومن

آؤ ، بندہ مومن اٹھو!
اب نہیں آواز اٹھاؤ گے تو کب؟ کب!
سونے کا وقت نہیں 
مرنے پہ عمر تمام سوؤگے
اب تمام  امتِ مسلمہ پکار رہی ہے تجھے
اٹھو!  اٹھو!  اٹھو!
پڑھو،پڑھاؤ،لکھو،کام کرو
اپنے اِس خوبصورت ملک کو خوب تر بناؤ
اپنی دھرتی کو کچھ دو کہ سارا جہان
کہہ اٹھے یہ تھا  پاکستانی زبردست!
اپنے محلے کو صاف کرو 
اپنے پڑوسیوں کی مدد کرو
اگر ہو مسلمان،عیسائی،افغانی یا جو بھی
پیغمبرورسول محبت سے بات کرتے تھے
غیر مسلم سے بھی
تم بھی وہ سنتِ اندازِگفتگو سیکھو
جو اللہ کا حکم ہے اس پہ عمل کر
قرآن کو طاق پہ نہیں دل و زبان و عقل میں سنبھالو
تو  دھیان دیتا ہے چھوٹی چیزوں پر
کس ہاتھ سے کھائیں،یاکس کی کیسی صورت ہے
یہ ربی تجھ سے پوچھے گا نہیں
مگر کیا کِیا دنیا میں اپنے لئے
اوروں کے لئے ، اور کیا کِیا اپنے وقت کے ساتھ
اصلی چیز نہ بھول!
بھاگ نہ ان چیزوں کے پیچھے
جو نہ دے فائدہ نسلِ انسانی کو
تعلیم حاصل کر،محنت کر، اپنے قدموں پہ چل
ہاں اور پھر دھیان کر اپنی اُمہ  پر
پورا ،پورا مضبوط بنا
ان کا بھی پورا حق ہے تجھ پر
مثالِ اُمہ ہے جیسے کسی دِلدار نے 
 بے وفائی کی ہے یار سے
مارے جا رہے ہیں مسلمان اُسے
تیرے دائیں،تیرے بائیں
دیکھ ذرا فلسطینیوں کے بچوں کو
جو اللہ کو پیارے ہو گئے بے وقت!
مائیں رو رہی ہیں ہزاروں
ہائے! ہائے!
نہ کھانا،نہ بجلی،نہ سکون،نہ زندگی!
قصور کیا تھا ان کا مگر تھے مسلمان
اور سنا ہے تم نے کبھی یہ جبروسِتم
سریبرینیتسا(Srebrenica)،پوٹوکارا  کا نام!
وہاں دفن ہیں ہزاروں یورپ کے مسلمان
دو دن کی بچی فاطمہ اور جوان
بھائی مارے گئے بھوکے ننگے ہزاروں
ہائے!ہائے!
یورپ کی سب سے طاقتور تباہی کی فوج!
مرد نہیں تھے وہ بلاؤں سے بدتر!
بہنوں کو بے حیا کیا بے وفاؤں نے 
بے حیاؤں نے،بیوقوفوں نے
شرابی،سگریٹ کے عادی
نہ شرم ،نہ حیا،چٹ نِک بے حیا!
ابھی مل کر آئے ہیں ہم جو بچ گئے ان مسلمانوں سے 
سرائیوو میں اتنے شریف
خوبصورت اور اچھے انسان دنیا میں بھی ہیں
ہم خوشی سے ہیں حیران!
یہ ہیں مسلمان جو کرے
علم،ادب اور انسانیت سے وفاداری
اب ہوئے ہوشیار!
صرف اچھائی ہی نہیں اس دنیا میں،
طاقت بھی آئے گی کام
ابھی پھر بھی ہے تعداد میں کم دشمن ہے سمندر کی طرح
فلسطین، بوسنیا اور پاکستان
سب کے پیچھے ہیں پہلے میڈیا
پھر آتے ہیں گڑبڑ کرنے!
اگر تم اب بھی نہ اٹھے
کھا جائیں گے تمھیں
اٹھو! اللہ نے دیئے ہیں تجھے تحفے ہزار
ملک ،زمین،جسم،دِل اور دماغ
اسی کو کر استعمال
یہ آواز ہے اٹھنے کے لئے مردوعورت کے لئے
دونو ں کے لئے جنت ہے برابر
کیوں فرق پھر تم کرتے ہو!
پیغمبر کی بیویاں تھیں پاک 
اِک تاجر،اِک استاد  و  کارساز
جنگیں لڑتی تھیں اونٹوں کی سواریوں پر
ان کی گویائی سے دنیا کو سنت آپہنچی
پھر کیوں تم نے رکھا ہے ، اے تنگ دِل والو
اپنی عورتوں کو بند!
سکول اڑاتے ہو کیوں!
بچیوں کو مارتے ہو کیوں!
عورتوں کو گھروں میں بند بے علم رکھتے ہو کیوں
یہ سب تو راہ  دوزخ ہے
خدا کو نا منظور ہے!
جنت کی راہ ہے علم کی راہ
اس لئے پیغمبر نے کہا ہے مومن اور مومنات کے لئے
''قلم کی سیاہی اہمیت رکھتی ہے زیادہ
بہ نسبت شہید کے خون سے!''
ذرا غور کر،اے مومن!
اپنے آپ کو دیکھ
ہمارا دشمن ہماری اپنی جاہلیت ہے!
اللہ، پیغمبر، سارا جہاں
مانگ رہا ہے اچھے
تعلیم یافتہ کھلے دماغ والا با شعور مسلمان
بنو ایسے کہ لوگ کہیں سارے
''واہ یہ ہے اصلی مسلمان!''


(یہ نظم بوسنیاکے دورے سے واپسی پر ہوائی جہازمیں قلم بندکی گئی)

                   


 

یہ تحریر 145مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP