ہمارے غازی وشہداء

جان اپنی لٹا کر بھی خوش ہیں

وطن کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے بہادر بیٹے کیپٹن جنید شہید کے حوالے سے رابعہ رحمن کی تحریر

 

پُرخطر گھاٹیاں ہو یا بلند و بالا چوٹیاں، زمانہ امن ہو یا حالت جنگ ہمارے عسکری شاہیں ہر حال میں مادرِ وطن کی خدمت پر معمور رہتے ہیں۔ ہمارے بھائی اور بیٹے وہ جوان ہیں جو اس وطن کی ناموس و حرمت کی خاطر سرکٹا تو سکتے ہیں مگر جھکا کبھی نہیں سکتے۔

 

فرزندانِ پاکستان میں سے ایک لیفٹیننٹ کرنل ارشد حسین شاہ ہیں جن کا تعلق 60th Long Courseسے ہے وہ1979میں پاس آئوٹ ہوئے اور 16 SP جوائن کی، ملک کے مختلف شہروں میں اپنی عسکری خدمات انجام دیتے ہوئے 1996سے1998تک16 SP کو کمانڈکیا، لیفٹیننٹ کرنل ارشد کا تعلق گجرات کے ایک گائوں رسول پورسیّداں سے ہے، فوجی افسر کے لئے بیگم اور بچوں کو ساتھ رکھنا کو اس وقت مشکل ہوجاتا ہے جب اس کا تبادلہ Non Family Stationپر ہوجائے، وگرنہ وہ اپنے گھروالوں کو اپنے ساتھ رکھنے میں ترجیح دیتاہے، لیفٹیننٹ کرنل ارشد کو عاصمہ کی صورت میں ایک بہادر اور سمجھدار جیون ساتھی ملیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے1989میںجواد کی صورت میں ایک بیٹا عطا کیا، پھر1991ء میں جنید ایک پھول کی طرح مسز ارشد کی آغوش میں ڈال دیاگیا اور پھر ملیحہ ایک تتلی کی طرح اُڑتی ہوئی ان کی زندگی میں آئی اور ان کے آنگن کی بہارمکمل ہوگئی۔

 

لیفٹیننٹ کرنل ارشد کے بڑے بیٹے نے ملٹری کالج جہلم جوائن کرلیا اس کے پیچھے جنید بھی اسی کالج میں چلاگیا۔ دونوں بھائی ہمیشہ سے ایک دوسرے کے آگے پیچھے ایک جیسے کام کرنے اور مقابلے پر نمبر لینے کی کوشش کرتے، دوستی  کا یہ عالم تھا کہ دونوں ہی فوج میں چلے گئے، ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کندھے سے کندھا ملائے ہنستے، قہقہے لگاتے اپنی بہن ملیحہ کے ساتھ شرارتیں کرتے، ماں باپ کی محبتیں سمیٹتے رہے، کیپٹن جواد پاس آئوٹ ہو کر 29 FFمیں پوسٹ ہوئے اور کیپٹن جنید16 SP اپنے  والد کی یونٹ میں چلے گئے، کیپٹن جنید کے بارے میں والد نے کہاکہ جنید(شہید) کو ہمیں کبھی کچھ کہنا نہیں پڑتا تھا جو ڈانٹ پڑتی یا نصیحت کی جاتی، وہ صرف کیپٹن جواد کو کرتے گوکہ کیپٹن جواد گھر کا بڑا بیٹا ہے مگر اس کی طبیعت اور کیپٹن جنید(شہید) کی طبیعت میں فرق تھا، کیپٹن جنید شہید خاموشی سے اپنی محبت کا اظہار کرتا کئی ایسے کام ہوتے جو وہ خاموشی سے کسی کو بتائے بغیر کردیتا جس سے اسے بہت دعائیں بھی ملتیں، وہ محبت میں اظہار کا قائل نہ تھا،کیپٹن جنید( شہید) کی بہن ملیحہ آرٹسٹ بننا چاہتی تھی وہ گھر میں مختلف سکیچ بنا کر اس شوق کو پورا کرتی مگر کیپٹن جنید( شہید) اس کی تعریف نہ کرتا مگر چھپ چھپ کر اس کی پینٹنگز کی تصاویر کھینچ کر لے جاتا، نجانے کیپٹن جنید (شہید) نے اپنے اندر اتنی محبت کہاں چھپا رکھی تھی انسان تو انسان وہ جانوروں اورپھولوں کا بھی بہت شیدائی تھا، خوبصورت موروں کی جوڑی بھی پال رکھی تھی۔

 

کیپٹن جواد کے فوج میں جانے کے بعد ماں باپ نے سوچا تھا کہ کیپٹن جنید کو انجینئر بنائیں گے مگر بھائی کے نقش پاپر قدم بہ قدم چلنے والے کیپٹن جنیدنے فوج کی ہی خواہش رکھی،خاکی وردی اس کا خواب تھی ۔

 

لیفٹیننٹ کرنل ارشد کے بچے بچپن سے ہی ماہر تیراک، گھڑسوار اور بہترین کھلاڑی تھے، کیپٹن جنید (شہید )کو خاص طور پر پہاڑوں پہ چڑھنے اور جنگی مشقیں کرنے کا بہت شوق تھا، بچپن میں تینوں بہن بھائی لیزرگن کے ساتھ کمرے میں بلیک آئوٹ کرکے جنگ کرنے کا کھیل کھیلا کرتے تھے، کیپٹن جنید اپنے ارد گرد رہنے والوں کے ہر دکھ درد کا اس طرح خیال رکھتے جیسے ان کا اپنا دکھ ہو کسی راہگیر کو مشکل میں دیکھتے تو کار سے اترکے پہلے اُس کی مدد کرتے، کیپٹن جنید نے کبھی اپنے دل کی بات کسی کو نہیں بتائی تھی، وہ جو عملاً کرتے وہی سب کو نظرآتا، پاس آئوٹ ہونے کے بعد انہوں نے کبھی کسی کو یہ نہ بتایا کہ وہ کس جگہ کس آپریشن میں مصروف ہیں، بس یہی کہتے کہ میں بہت امن کی جگہ پر بیٹھا ہوں، جب وہ گھر چھٹی آتے تو کہتے مجھے بہن ملیحہ کا سونا بالکل اچھا نہیں لگتا، وہ سوئی ہوئی بہن کو جگاتے بھی نہ تھے،بس ٹی وی کی آواز تیز کردیتے یا ملیحہ کے کمرے کے باہر سے ماں کو اونچی اونچی آوازیں دیتے کہ وہ آوازیں سن کر خود جاگ جائے۔ اتنا نرم مزاج محبت سے مزیّن بھائی جب جُدا ہوجاتاہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے،ملیحہ کہہ رہی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنے والی نمی اس کے دل کا درد بیان کررہی تھی، ماں کا کہنا تھا کہ کیپٹن جنید میرا بیٹا کم میری سہیلی زیادہ تھا۔

 

لیفٹیننٹ کرنل ارشد کہنے لگے کہ جب کیپٹن جنید کی کال آتی توپھر میری بیگم کمرے میں ایک طرف بیٹھ جاتیں اور تین سے چار گھنٹے تک وہ جنید سے بات کرتیں۔ جنید فون بند ہی نہ کرنے دیتا۔ کہتا کہ میں نے ایئرفون لگا رکھے ہیں ماں آپ بولتی رہیں میں اپنا کام کرتا رہوںگا، بس آپ کی آواز میرے کانوں میں آتی رہے اور اکثر تو ماں سیاست پر، رشتہ داروں پر اور گھر کے معاملات میں باتیں کرکے چپ ہوجاتیں تو وہ آگے سے کوئی جواب بھی نہ دیتا مگر وہ ماں کے چپ ہونے پر اتنا کہتا، بیٹے سے بات کرتے ہوئے مائیں تھکتی تو نہیں ہیں، اور بیگم ارشد اس پر واری صدقے جاتے ہوئے پھر باتیں شروع کردیتیں، مگر اب وہی فون گھنٹوں خاموش رہتا ہے، نہ کوئی آواز آتی ہے نہ کوئی کہتاہے ماں بولتی رہو میں سن رہا ہوں۔

 

کیپٹن جنید کو ہر لمحہ کیمرے میں قید کرنا اور اس کی فلم بنانے کا بہت شوق تھا، اب گھروالے وہی دیکھتے ہوئے اپنے شہزادے کو یاد کرتے ہیں،2015ء میں لیفٹیننٹ کرنل ارشد نے حج کا پروگرام بنایا اور بڑے بیٹے کیپٹن جواد کا نام دیا مگر کیپٹن جواد کا چائنہ کا کورس آگیا، اتفاق سے حج کی پالیسی کے مطابق چھوٹا بھائی اس کی جگہ جاسکتا تھا تو کیپٹن جنید کو جسے پہلے والدین نے انکار کردیا تھا کہ آپ بہن کے پاس رہوگے، کا نام دے دیا اور 2016ء میں کیپٹن جنید  والدین  کے ساتھ حج پر چلے گئے، والدین کو حج کرانے کی سعادت بھی حاصل کی اور وہاں پہ جتنے بھی بوڑھے بزرگ تھے، ان کی حج کے دوران اتنی خدمت کی کہ وہ بار بار ان کا ماتھا چومتے تو والد نے پوچھا کہ بیٹا تم کیا کرتے ہو کہ یہ سب تمہیں اتنا پیار کررہے ہیں توکیپٹن جنید نے والد کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا''بابا یہ صرف اللہ کی مخلوق سے محبت کا کمال ہے'' واقعی وہ لوگوں کے دل جیتنے کا گُر جانتا تھا مگر نجانے اس نے خانہ کعبہ پہ نظر پڑتے ہی کیا مانگا کہ اللہ نے اس کو شہادت کے لئے چن لیا۔

 

 کیپٹن جواد کی شادی کی تیاری میں کیپٹن جنیدنے اس طرح حصہ لیا کہ بھائی کے تمام جوڑے، اپنے کپڑے،کارڈز کے ڈیزائن،ہال اور کھانے کا تمام انتظام حج سے واپسی پر انہوں نے کیا،تاریخ بھی مقرر ہوچکی تھی سلنے کے لئے دیئے جانے والے جوڑے جوکیپٹن جنید( شہید) کے تھے جب والد اور بھائی لینے گئے تو ٹیلر نے کہاکہ جن کے سائز کے بنے ہیں ان کو بھی لائیں تاکہ کمی بیشی ہم یہیں ٹھیک کردیںمگر لیفٹیننٹ کرنل ارشد اسے جواب نہ دے سکے اور آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی تو کیپٹن جواد نے کہاکہ میری شادی کی تیاریاں مکمل کراکے میرا بھائی اس وطن پہ قربان ہوچکا ہے۔ وہ اب یہ سوٹ لینے کبھی نہیں آئے گا، دکاندار کے ہاتھ میں پکڑی قینچی نیچے گر گئی اور آنسوئوں نے ا س کے گلے میں پھندا سا بنا دیا۔

 

قسمت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں، روتے روتے ہنسادیتی ہے اور ہنستے ہنستے رلا دیتی ہے۔22فروری کو کیپٹن جنید چھٹی کاٹ کر سوات کی طرف روانہ ہونے لگا۔ ہمیشہ سارے گھر والے انہیں بس پربٹھانے آتے اور وہ ہمیشہ کہتے کہ جب میں بس میں بیٹھ جائوں تو آپ چلے جایا کریں مگر اس دن جب وہ بس میں بیٹھ گئے تو دوبارہ اتر کر آئے اور ماں کے گلے بہت دیر تک لگے رہے پھر دوبارہ سب کو خداحافظ کہہ کرچلے گئے، ان کی ڈیوٹی صوابی میں تھی مگر انہوں  نے اپنے بھائی کیپٹن جواد کو بھی یہی بتایا تھا کہ وہ سوات میں ہیں، کیپٹن جنید میں بھرپور منظم طریقے سے کامیاب آپریشن کرنے کی خدادادصلاحیت موجود تھی۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی کامیاب آپریشن کرچکے تھے۔

صوابی میں اطلاع ملی کہ دہشت گردوں نے ایک منصوبہ بنایا ہے۔ وہ غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پر حملے کا پروگرام بنارہے تھے جس طرح 16 دسمبر2014ء میں انہوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا تھا یہ بھی ایک خطرناک منصوبہ بنارہے تھے جس کی اطلاع ملتے ہی کیپٹن جنید کو اس کے لئے چناگیا۔ کیپٹن جنید کا ایک طریقہ کار تھاکہ وہ جہاں بھی جاتے پہلے خود آگے بڑھ کے جائزہ لیتے، خطرے میں اپنے جوانوں سے آگے چلتے تھے، جہاں آپریشن کرنا تھا وہاں پانچ دہشت گرد مقیم تھے جنہوں نے ایک خاندان کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔ اس خاندان کا سربراہ ان کے لئے کھانے کا انتظام کرنے نکلا تو اس نے کیپٹن جنید کو بتایا کہ اس کے گھر والوں کو محفوظ کیاجائے۔ اتنے عرصے میں دوسری طرف سے دہشت گردوں نے فائر کھول دیا، کیپٹن جنید اپنے ساتھیوں کی طرف بھاگتے ہوئے گئے اور جوابی فائر کیا۔ اتنے میں وائرلیس کے ذریعے آگے اطلاع دے دی کہ آپریشن شروع ہے، اسی اثنا میں اس معصوم یرغمال خاندان کے افراد بھی دہشت گردوں کے چنگل سے رہائی پا چکے تھے۔ ہمارے کوبراز بھی پہنچ گئے اور SSGکی ٹیم بھی، اس دوران کیپٹن جنید کے ایک سپاہی کو گردن میں گولی لگی تو کیپٹن جنید نے خود اس کی مرہم پٹی کی لیکن چند ہی لمحوں بعد ایک گولی کیپٹن جنید کو آ لگی، وہ آپریشن تو کامیاب رہا مگر کیپٹن جنید اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شہادت کا جام نوش فرما گئے۔

 

ٹی وی پر خبر چل رہی تھی کہ صوابی میں کیپٹن جنید دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اورآپریشن کو کامیاب بناتے ہوئے شہید ہوگئے، ملیحہ کیپٹن جنید شہید کی بہن یہ خبر سُن رہی تھی ماں نے کہایہ کس جنید کی خبر آرہی ہے تو ملیحہ نے کہاکہ ماں یہ کوئی صوابی میں ہیں،ہمارا بھائی تو سوات میں ہے مگر ماں کا دل ڈوب رہا تھا وہ صوفے پر بیٹھ کر درود پاک پڑھنے لگیں، ملیحہ نے والد کو فون کیا تو وہ بھی فوراً گھر پہنچے ساتھ ہی شہادت کی اطلاع موصول ہو گئی۔

 

کیپٹن جواد کوئٹہ میں تھے ان کے دوست نے خبر سن کر ان سے پوچھا کہ تمہارا بھائی کس جگہ ہے تو اس نے بھی یہی بتایاکہ سوات میں، کیپٹن جواد نے پوچھا کیوں کیا ہوا اورپھر ان کو پتہ چلا کہ ان کا بھائی کیپٹن جنید شہید ہوگیا ہے، انہوں نے کہا کہ میرے منہ سے نکلاالحمدللہ کیونکہ ہمارا ایمان  ہے موت کا وقت مقرر ہے،مارچ2015ء کو انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایاگیا۔ بعدازشہادت ان کو ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔

 

کیپٹن جنید شہید نے جو تاریخ بھائی کی شادی کی مقرر کی تھی، سب نے فیصلہ کیا کہ یہ فیصلہ ہمارے عظیم شہید کا تھا، اس لئے اسی تاریخ پر شادی ہوگی۔ بڑی سادگی کے ساتھ شادی انجام پائی۔ سب نے کہاکہ کیپٹن جنید شہید کی خوشبو ہال کے پھولوں کی خوشبو کومات دے رہی تھی، وہ وہیں کہیں تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل ارشد کہتے ہیں کہ میں آج بھی نماز کے دوران اس کو اپنے ساتھ محسوس کرتا ہوں وہ مجھ سے جدا کب ہوا ہے وہ تو مختصر سی مدت میں بے انتہا پیار دے کر ہمیں معطر کرگیاہے اور اس کی شہادت سے ہم نہ صرف سُرخرُو ہوئے ہیں بلکہ زمین سے لے کر عرش بریں تک وہ ہمیںمعتبر کرگیاہے۔

یہ تحریر 182مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP