متفرقات

جام زادی

پاکستان اورصوبہ بلوچستان میںآگ بھڑکانے والے دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہونے کی خواہاں صوبہ بلوچستان کی ایک بیٹی کے حب الوطنی سے سرشار جذبوں کی کہانی

ہندوستان گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستا ن کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے پاکستان پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔بلوچستان میں آرمی اور فرنٹیئرکور( ایف سی) کو مصروف رکھنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔میں نے مسلسل چھ ماہ بلوچستان میں گزارنے، دیکھنے ، سمجھنے اور پرکھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیاکہ بلوچستان کے اندر سے اگر بھارتی مداخلت ختم ہو جائے تو وہاں کسی قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کی کوئی واردات نہیں ہو سکتی۔اس بھارتی مداخلت کو ختم کرنے میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں، ایف سی اور بلوچستان حکومت کافی حد تک کامیاب ہو چکی ہیں۔لیکن افغانستان اور ایران کے ساتھ ایک طویل اور غیر محفوظ بارڈر ہونے کی وجہ سے وہ کسی حد تک بلوچستان کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اب اللہ کے فضل و کرم سے بلوچستان کے اندرونی حالات بھی اس ڈگر تک پہنچ چکے ہیں کہ دہشت گردوں کو وہاں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔بلوچستان میں بہت زیادہ بیداری آ چکی ہے۔خاص طور پر بلوچستان کی یوتھ یا طالب علموں کی قوت اس حد تک مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ وطن کی محبت میں اب دہشت گردوں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر خودسامنے آ جائیں گے۔وہاں سوائے چوروں کی طرح چھپ کر وار کرنے کے کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ہندوستان نے بلوچستان میں اپنی ناکامی دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے مشرقی محاذ پر نئے ڈرامے شروع کر دئیے ہیں۔لیکن وہ1965ء کی طرح شاید اب بھی بھول رہے ہیں کہ وہ اس ملک کے ساتھ یا اس قوم کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہے ہیں جو موت کو ہی اصل زندگی سمجھتے ہیں۔(شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے) اور پھر ہندو جیسے کافر ملک یا مذہب کے لوگوں سے لڑ کر مرنا تو مسلمان کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے۔ہندوستان کے جھوٹے پروپیگنڈے پر لوگ اس لئے کان نہیں دھرتے کہ ان کے لئے جھوٹ بولنا ایک فن ہے گناہ نہیں۔اس لئے اس کے پاس جھوٹ ایجاد کرنے اور جھوٹ بولنے کے لئے سربراہ حکومت نریندر مودی سمیت بہت بڑے بڑے فنکار ہیں۔ہندوستان اپنی چالوں اور سازشوں میں مسلسل ناکامی کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ اس کی عوام کا مورال بہت زیادہ گرگیا ہے۔ اس لئے وہ اپنی ذہنی پستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھوٹے پروپیگنڈے کرتا ہے کہ آج ہم نے فلاں آپریشن کیا ۔

 

 آج ہمارے ہیلی کاپٹر پاکستان میں یہ کارروائی کر کے واپس آگئے۔شاید وہ بھول گئے ہیں کہ اب پاکستانی قوم کا جذبہ 1965ء سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔بھارت کو چونڈہ میں ٹینکوں کا قبرستان تو یاد ہوگا۔کھیم کرن تک پاکستانی فوج کا قبضہ بھی یاد ہوگا۔اس ہندوستان کے ٹینکوں کے نیچے اپنے جسم کے ساتھ بم بارود باندھ کر لیٹنے والے صرف پاکستان فوج کے بہادر سپوت تھے لیکن خدا کی قسم اب اگر ایسا موقع آیا کہ ہندوستان کے ساتھ جنگی مقابلہ کرنا پڑا تو پاکستان کا ہر شخص بم ثابت ہو گا۔اور ہزاروں لوگ اپنے جسموں کے ساتھ بم وبارود باندھ کر ہندوستان میں گھس جائیں گے۔ہماری پاکستان کی خواتین بھی محاذوں پر جا کر ہندوستان کے خلاف بارود برسائیں گی۔اس کا عملی ثبوت مجھے کچھ دن پہلے ضلع کوہلو بلوچستان میں ایف سی کے سکول میں جا کر ملا ۔ بلوچستان میں جگہ جگہ ایف سی نے تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم کئے ہوئے ہیں ۔میں نے کوئٹہ سے واپسی پر ایک رات کے لئے کوہلو میں قیا م کیا اور صبح اٹھ کر بلوچستان کے تعلیمی اداروں کا معیار دیکھنے کے لئے کوہلو میں ایف سی کے سکول کا معائنہ کیا۔یہ سکول انٹرمیڈیٹ تک ہے۔وہاں کلاس میں بیٹھی فرسٹ ائیر کی ایک طالبہ سے میں نے پوچھا کہ تعلیم سے فارغ ہو کر مستقبل میں آپ کیا بننا چاہتی ہیں تو اس نے بغیر کسی جھجھک یا سوچ کے کہا کہ میں پاک فوج میں جانا چاہتی ہوں۔میں نے اگلا سوال کیا کہ کیا آپ میڈیکل کے شعبے میں جا کر آرمی ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں ؟ تو اس نے پھر اپنے ترو تازہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا نہیں میں ریگولر فائٹر آرمی میں جانا چاہتی ہوں۔میں پاکستان اور بلوچستان میں آگ بھڑکانے والے دشمنوں کے ساتھ دوبدو جا کر لڑنا چاہتی ہوں۔میں اپنے ہاتھ ملک دشمنوں کے خون سے رنگنا چاہتی ہوں۔میں نے اپنے ہاتھوں پر کبھی عید یا شادی کے موقع پر بھی مہندی نہیں لگائی۔میری خواہش ہے کہ میں اپنے ہاتھوں کو ملک دشمنوں، دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خون سے سرخ کروں۔اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اور کہنے لگی کہ میں ایک غریب باپ کی بیٹی ہوں ۔ میٹرک میں، میں نے 80فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔سائنس کی طالبہ ہوں۔

اس نے پھر اپنے ترو تازہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا نہیں میں ریگولراور فائٹر آرمی میں جانا چاہتی ہوں۔میں پاکستان اور بلوچستان میں آگ بھڑکانے والے دشمنوں کے ساتھ دوبدو جا کر لڑنا چاہتی ہوں۔میں اپنے ہاتھ ملک دشمنوں کے خون سے رنگنا چاہتی ہوں۔میں نے اپنے ہاتھوں پر کبھی عید یا شادی کے موقع پر بھی مہندی نہیں لگائی۔میری خواہش ہے کہ میں اپنے ہاتھوں کو ملک دشمنوں ، دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خون سے سرخ کروں۔اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اور کہنے لگی کہ میں ایک غریب باپ کی بیٹی ہوں ۔

 

آپ میرے لئے دعا کریں کہ میری پاک فوج میں سلیکشن ہو جائے۔ میرے اندر پاکستان اور بلوچستان کے دشمنوں کے خلاف آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ دہشت گردوں اور ہندوستان کے ایجنٹوں نے ہمارا بہت نقصان کیا ہے۔میرا چونکہ ایف سی سکول کا اچانک اور بغیر اطلاع کے دورہ تھا اور پھر پوری کلاس میں کسی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میں کس سے کیا سوال کروں گا۔ کلاس روم کے بالکل درمیان میں بیٹھی ہوئی لڑکی کے یہ جذبات سن کر میری اپنی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے کہ جس ملک کی نوجوان نسل اور خاص کر طالبات اس جذبے سے سرشار ہوں تو اس ملک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اس موقع پر مجھے سکول کی پرنسپل محترمہ مرینہ امجد کو بھی داددینی پڑی جنہوں نے اپنے سکول کے بچوں کی اس خوبصورتی، دلیری اور جرأت مندی سے تربیت کی۔ پورے کالم میں اس طالبہ کا نام اور تعارف لکھنا بھول گیا لیکن اس کو لکھنا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ جن حالات میں رہ کر وہ بچی تعلیم حاصل کر ررہی ہے وہ اپنی جگہ قابلِ فخر بات ہے۔ بچی کا نام جام زادی اور والد کا نام شمین خان ہے۔وہ سات بہن بھائی ہیں ۔ سب سے بڑی جام زادی ہے اور اس کے والد کی تنخواہ صرف 8000روپے ماہوار ہے۔ایسے حالات میں ان جگہوں پر ایسی معیاری تعلیم دینا ایف سی بلوچستان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔میں امید رکھتا ہوں ایف ایس سی کے بعد بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے ایف سی اس کے اخراجات کا ذمہ اٹھائے رکھے گی۔کیونکہ اس سے پہلے سیکڑوں ایسے بچے ایف سی کے خرچ پر پاکستان کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے میرا دھیان اس بچی‘ جام زادی‘ کی طرف چلا گیا۔ مشکل وقت آنے پر پاکستان کی ہر بیٹی جام زادی جیسے جذبات لے کر سامنے آئے گی۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 55مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP