ہمارے غازی وشہداء

ثنا ء کے بابا شہید ہوگئے

ملٹری انٹیلی جیئنس کے خاموش مجاہد کرنل راجہ سہیل عابدکی شہادت پر ڈاکٹر حمیرا شہبازکی تحریر

''ارے تم نے یہ کیا کیا؟ یہ تو پڑھی ہوئی تھیں تم نے بغیر پڑھے اس میں ملا دیں۔ '' اس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے پلیٹ میں پڑی کھجور کی گٹھلیاں الگ الگ کرتے ہوئے اپنی سہیلی کو مسکرا کر تاکید کی کہ وہ ان کو دوبارہ پڑھے۔ وہ معصوم اپنی اس نادانی پر ہنسے جارہی تھی۔ اور اپنی ایک اور سہیلی کو ہنس ہنس کر بتا رہی تھی کہ اُس سے کیا غلطی ہوئی تھی ۔ اس سمجھدار بچی نے اپنی کرسی میز کے اور نزدیک کھینچی اورنہایت دانائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سہیلیوں سے کہا ''چلو، اب پڑھو!'' اور اپنی آنکھیں میچ کرکچھ پڑھنے لگی۔ اس کی مٹھی میں بھری گٹھلیاں ایک ایک کرکے اس کے ہاتھ سے تھالی میں گرنے لگیں جن کی ضرب میرے دل پر پڑ رہی تھی ۔ میں جو کمرے کے دوسرے کونے میں بیٹھی اس معصوم کو دیکھ رہی تھی ، اس سے پوچھا کہ بیٹا کیا پڑھ رہے ہو ان پر؟وہ شاید اتنی دیر سے میری موجودگی کو محسوس نہیں کر سکی تھی۔ ان سب نے چونک کر میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا ، جیسے پوچھ رہی ہوں، ''کیوں، کیا پڑھنا تھا؟'' میرا جواب تھا:'' قل شریف۔ '' آٹھ نو برس کی بچیو ں کے لئے شاید یہ جواب مشکل تھا۔ اس معصوم نے مسکرا کر بڑے اعتماد سے کہا :'' مجھے پہلا کلمہ طیب آتا ہے میں وہی پڑھ رہی ہوں۔'' میں نے بھی تسلیم میں سر ہلا دیا۔

اس معصوم سے ایک دن قبل بھی میں ملی تھی جب وہ ایک بڑے سے ہال کے داخلی دروازے کے قریب ہی پہلی کرسی پر دم سادھے بیٹھی ہوئی تھی اور وہاں سے آگے خواتین کا جمع غفیر تھا۔ وہ سخت گھبرائی ہوئی تھی ، مجمعے میں اکیلی۔ جیسے اسکول کے گیٹ پر کوئی بچی چھٹی کے بعد بہت دیر سے اپنے والد کی منتظر ہو جو اس کو لینے آنے والے ہوں، لیکن نہ آ رہے ہوں۔ اس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی ہے۔ میں اس کے سامنے دوزانو بیٹھ گئی اور اس سے پوچھا :'' بیٹا با با کو دیکھنا ہے؟'' اس نے فوری ڈر کر نفی میں سر ہلایا اور جواب دیا :نہیں!! اور پھر دم سادھ لیا۔ میں نے پھر کہا:''آخری بار؟'' وہ خاموش تھی ۔ یقینا اس سے پہلے کبھی بھی اپنی زندگی میں اس نے اپنے والد کو نہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا ہو گا۔ لیکن سبز ہلالی پرچم میں لپٹے اپنے باپ کو آخری بار دیکھنے کا مطلب اس کی سمجھ سے باہرتھا۔ اس کی خاموش زباں اور چلاتی نظروں کو برداشت کرنا ناممکن تھا۔ میں نے اٹھ کر اس کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ کرنل سہیل عابد'' شہید'' کی زینب ہے یہ۔

 

کل اس ہال میں عجیب ہی منظر تھا۔ بہت سی خواتین تھیں لیکن بہت بوجھل تکلیف دہ خاموشی تھی ہر طرف۔۔۔۔۔ کسی میں ہمت نہ تھی کہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں موجود تکلیف اور دکھ کو دیکھ سکے۔سب اک دوسرے سے نظر ملائے بغیر باتیں کر رہے تھے۔ اگر لمحے بھر کو نظروں کا تصادم ہو بھی جاتا تو آنسو منظر کو فوری دھندلا دیتے۔ ان خاموش سسکیوں میں بس تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک بچی کی دبی ہوئی چیخ سنائی دیتی تھی جیسے اس کو سانس لینے میں سخت دشواری ہو رہی ہو اور وہ اپنی تمام تر قوت سے خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔وہ ہر جانے پہچانے چہرے کی طرف یوں لپکتی تھی جیسے ایک سانس ادھار مانگ رہی ہو۔ اپنے لئے یا شاید سبز ہلالی پرچم میں لپٹے اپنے والد کے لئے۔ کرنل سہیل عابد، :''شہید ''کی ثنا ہے یہ۔ آج میری سماعتوں نے پہلے روزے کی سحری کے لئے بیدار ہونے کے بعد پہلا جملہ یہی سنا تھا : ''ثنا کے بابا شہید ہو گئے!!!''

 

 ویسے ہی غیر متوقع بارشوں کا موسم ہے اور وہاں تو آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی ۔ ہر آنکھ پُر نم، بے موسم!! وہ بڑے صبر کے ساتھ اس پورے ہال میں سب سے مل رہی تھی لیکن سبز ہلالی پرچم میں لپٹے باپ کا سوچ کر ایک دم پُھوٹ پُھوٹ کر رو دیتی، بے صدا۔ کرنل سہیل عابد، ''شہید'' کی خدیجہ ہے یہ۔

 

کل یقینا وہاں شہید کا پرسا تھا، لیکن ماتم ہرگز نہیں تھا۔ کوئی ہنگامہ برپا نہیں تھا۔ ایک تقدس، احترام اور حد ادب کا پاس تھا وہاں۔ سب مل کر شہید کی بیوی کو شہید کی دائمی زندگی کا یقین دلا رہے تھے۔یہ یقین سب کے ایمان کا حصہ تھا۔ لیکن سب انسان تھے نا جن کا اس حقیقت پر ایمان ضرور تھالیکن شعور نہیں تھا ۔ ایمان، بے شعور انسان کو ایک گونہ اطمینان ضرور بخشتا ہے۔سب کو ان پر رشک تھا اور حسد کسی کو بھی نہیں۔وہ اپنے سر پر ہاتھ رکھنے والے ہر بھائی سے یہ سوال کرتیں کہ ان کو آخری بار جاتے وقت ''خداحافظ'' کہنے والے شوہر نے اوروں سے آخری بار کیا کیا کہا؟ سب گلو گیر تھے۔ سب کی قوت گویائی سلب ہو چکی تھی۔ پھر وہ ان کے ساتھ مل کر رو دیتیں ۔فخر کا مقام تھا، صبر کی منزل تھی لیکن اگر ایسے میں وہ رو دیتی ہیں تو:

 

 بیوہ زن را این چنین شیون رواست

چکلالہ گیریژن کے رائزنگ سن لاج میں کچھ دیر قبل میں داخل ہوئی تھی تو عاشقِ وطن کے جنازے کی دھوم تھی ۔قوی امکان تھا کہ موقعے کی حساسیت کی بنا پر رسائی ممکن نہ ہو۔شہید کے نظارے کی کشش اور اس کے اپنوں کی تڑپ کشاں کشاں لئے جا رہی تھی۔ پاکستان بھر سے اعلٰی فوجی اور سول حکام اور عوام و خواص کا اجتماع تھا۔انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ ساری آمد و رفت کو کنٹرول کیا جارہا تھا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مایہ ناز سپاہ کے ایک جری افسر کو خراج عقیدت پیش کر کے روانہ ہو رہے تھے۔ یقینا یہ عمل ان کے لئے اپنے وجود کے ایک ٹکڑے کو کاٹ کر الگ کرنے کے مترادف تھا۔ جنازہ ہو چکا تھا اور حاضرین باری باری ایمبولینس میں ابدی زندگی پائے ،شہید کی جھلک دیکھنے کے لئے صف آرا تھے۔ میں نے جانا کہ کسی کا آخری دیدار، نظر بھر کر نہیں ہو سکتا کہ اس سے پہلے ہی دل بھر آتا ہے۔

 

فوجی دستے کی حفاظت میں شہید کی میت اور ان کے لواحقین وہاڑی اور چکلالہ کے بعد اب تیسری بار جنازے اور تدفین کے مراحل طے کرنے کے لئے گائوں بوبڑی ، بہارہ کہو کے لئے روانہ ہوگئے۔ تعزیت کرنے والے ایک دوسرے سے رخصت لینے لگے۔ اس شہادت نے بہت سے احباب کو سالوں بعد ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا۔

 

اگلے دن سہ پہر کو ہم فاتحہ خوانی کے لئے شہید کے گائوں کی جانب رواں تھے۔ بہارہ کہو، سترہ میل کے راستے میں دائیں جانب مڑتی انگوری روڈ۔۔۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ رستہ انجان نہیں۔ بحریہ ٹان کا داخلی صدر دروازہ، پانی کے چشمے کنارے پکنک پوائنٹ، دوہالہ سیداں ٹائون۔۔۔ یہ سب جگہیں میری دیکھی بھالی تھیں۔ پھر یاد آیا کہ گزشتہ برس 12 پنجاب کے حوالدار محمد فیاض شہید جو کہ2004 کے وانا میں ہونے والے آپریشن کالوشا میں شہید ہو گئے تھے، ان کے اہلِ خانہ سے ملنے میں یہیں تو آئی تھی۔ بوبڑی ہی تو تھا ان کے گائوں کا نام بھی۔ تھوڑی دیر میں گاڑی سڑ ک سے اتر کر شہید کے آبائی گھر کے آگے جارکی جس پر کسی ایڈووکیٹ کے نام کی تختی آویزاں تھی۔ گھر کے سامنے سڑک کے اس پار ، شامیانے تنے ہوئے تھے دریاں بچھی ہوئی تھیں، کرسیوں کی قطاریں تھیں۔ گائوں بھر کے معزز، خُرد و کلاں ، شہید کے اپنے پرائے موجود تھے۔ فوجی گاڑیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔

 گھر کے اندر صرف خواتین اور بچے تھے۔ شہید کی بیوہ اور بچے موجود نہیں تھے۔ صحن میں موجود خواتین کے ساتھ بیٹھ کر میں نے بھی کھجور کی گٹھلیوں پر قل شریف کا ورد شروع کر دیا۔ شہید کی اکلوتی بہن، خالائیں، بھابیاں، کزنز، اہلِ محلہ اور خاندان بھر کی خواتین موجود تھیں۔ ہر کوئی شہید کی شخصیت کے جملہ اوصاف کی گردان کر رہا تھا۔ خالہ اپنے بھانجے کی شجاعت کے گُن گا رہی تھیں۔کسی کو جواں سال شہید کی جدائی کا یقین نہیں آرہا تھا، کوئی ان کو چھین لینے والے دہشتگردوں کے ظلم کی دہائی دے رہی تھی، کسی کو ان کے نو عمر بچوں کا غم کھائے جا رہا تھا، تو کوئی ان کی برادرانہ شفقت کی محرومی پر اشکبار تھی۔اس علاقے کی ایک ناظم خاتون یا جو شاید وزیر تھیں، تعزیت کے لئے موجود تھیں۔ خواتین کا ان سے مطالبہ تھا کہ اس گائوں کو آتی سڑک کا نام شہید کرنل سہیل عابد سے منسوب کیا جائے، جس پر عمل درآمد کی انہوں نے یقین دہانی کروائی۔ میں بھی کچھ ہی دیر میں پہنچنے والی شہید کی فیملی سے ملنے کی ہمت بندھا رہی تھی جن سے برسوں کی رفاقت تھی لیکن کل ان کو جس حال میں دیکھا تھا دوبارہ ایسی قوت نظارہ ہر گزنہیں تھی۔

 

ان کے آنے پر ماحول میں دبی ہوئی سسکیوں کو آواز مل گئی۔ شہید کی ساس جو کہ ان کی خالہ بھی ہیں، اپنے خوبرو، جواں سال، جانثار، بہادر بیٹے کو پکارتی پھر رہی تھیں۔ بآوازِ بلند اس کی بہادری کے گیت گا رہی تھیں، ملک دشمنوں کو للکار کر غیرت دلا رہی تھیں۔چند برس قبل چل بسنے والی اپنی بہن اور شہید کی مرحومہ ماں کو یاد کرکے شکر ادا کرہی تھیں کہ وہ اس دکھ کو سہنے کے لئے زندہ نہیں بلکہ جنت میں اپنے قابل صد رشک بیٹے کا استقبال کر رہی ہوں گی۔ بلوچستان کے جمالی قبیلے کی ایک معزز بزرگ خاتون بھی روایتی بلوچی لباس میں وہاں موجود تھیں جو کوئٹہ سے اپنے اس منہ بولے بیٹے کے پرسے کو آئی تھیں۔ ہمت والی تھیں، سب کو دلاسے دے رہی تھیں۔پتا چلا کہ یہ صبر ان کو چند برس قبل اپنے فوجی افسر بیٹے، کرنل ناصر کی جدائی نے بخشا ہے۔ انہوں نے شہید کی قبر کی زیارت کی خواہش کی تو میں ان کے، اور دیگر چند خواہاں خواتین کے ساتھ قبرستان آ گئی۔ اس پہاڑی علاقے کے دامن میں یہ ہموار قبرستان تھا، جس کے آغاز میں ہی شہید حوالدار محمد فیاض کی قبر پر لہراتا سبز ہلالی پرچم استقبال کررہا تھا اور آخر میں شہید کرنل سہیل عابد کی قبر پھولوں سے مہک رہی تھی۔ گزشتہ شب کی بارش سے نرم گیلی مٹی اورسرسبز میدان میں جانے والوں کے ابدی مکان۔ خوشگوار ہوا چل رہی تھی گویا جنت سے آرہی تھی۔ سامنے پہاڑی پر بنے گھر سے شہید فیاض کی بیٹی ندیمہ ، بیوی اور بھائی بھی وہاں اتر آئے۔ پتہ چلا کہ یہ دونوں شہید ایک ہی برادری کے ہیں اور آپس میں گہرے مراسم رکھتے تھے، دونوں ہی اپنی دھرتی کا فخر بنے۔

 

قبرستان سے واپسی پر بھی خواتین نے شہید کی بیوہ کو گھیرے میں لئے رکھا تھا جن کی اس عظیم قربانی پر پوری قوم ان کی مقروض ہے۔ شہید کا بیٹا سالار یکدم اپنے خاندان کی سالاری کے عہدے پر فائز ہو گیا تھا۔ باپ کو کندھا دینے کے بعد اب ماں او ربہنوں کا سہارا ہے وہ۔ یہ کم سن سیاہ پوش ، چند گھنٹوں میں ٹی وی اور سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خبر کا حصہ بن گیا تھا۔ پاکستان بھر کے ہر شہری کے موبائل پر یو این مشن کی وردی میں مسکراتے اس کے پر عزم شہید والد کی تصویر سجی ہوئی ہے۔ بہت سی سیاسی شخصیات اس سے تعزیت اور شہید کی قربانی کی سپاس گزاری کے لئے ملنے کو آ رہی تھیں۔ شہید کرنل سہیل عابد کے اس وارث کی حفاظت، پرورش اور خاطرداری قوم پر اب فرض ہے۔

 

میں خواتین کے مجمعے سے اٹھ کر اندر بچیوں کو دیکھنے چلی آئی کہ کس حال میں ہیں۔ اور وہ کل کی ہراساں معصوم بچی آج کھجور کی گٹھلیوں پر پوری ایمانداری سے تسبیح خوانی میں مگن تھی ۔ میں کمرے کے ایک کونے میں اس سے اپنے آنسو چھپائے بیٹھی خدا کی شکر گزار و ممنون تھی کہ اس نے اس بچی کو معصومانہ صبر سے نوازا ہے جس کو ابھی صحیح سے ادراک نہیں کہ اس نے کیا کھویا ہے۔

 

آئی ایس پی آر کی مورخہ 16مئی2018، کی پریس ریلیز شمارہ PR-171/2018-ISPR کے مطابق:سیکیورٹی فورسز نے پولیس اور 100 سے زیادہ ہزارہ برادری کے افراد کے قتل میں ملوث ، لشکر جھنگوی بلوچستان کے انتہائی مطلوب سرغنہ سلمان بیدانی سمیت2 خود کش حملہ آوروں کو حساس اطلاعات کی بنیاد پر ، بلوچستان کے علاقے الماس کلّی میں ایک آپریشن کے دوران مار ڈالا۔ دوران آپریشن گولیوں کی شدید بوچھاڑ میں ملٹری انٹیلی جیئنس کے کرنل سہیل عابد نے جام شہادت نوش کیا اور4 سپاہی شدید زخمی ہوئے جس میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے۔

 

یکم رمضان کی مبارک شب، جمعرات کی رات کو مادر وطن کے امن کو غارت کرنے والے شر پسند عناصر کے خلاف آپریشن پر نکلتے ہوئے کرنل سہیل عابد نے ایک بار بھی مڑ کر حسرت سے اپنے بچوں پر نظر نہیں ڈالی تھی ۔گو کہ ان کے عہدے کا تقاضا نہیں تھا کہ وہ اس سطح کے آپریشن پر اگلی صفوں میں اپنے سپاہیوں کے شانہ بشانہ موجود ہوں لیکن ان کی پیشہ ورانہ تربیت ، حب الوطنی اور فرض شناسی نے ان کو اس فرض سے باز نہیں رکھا۔

 

مشن پر نکلتے وقت ان کی بیوی ہاتھ میں شربت کا گلا س لئے کھڑی ہوتی ہے۔ مشن پر بر وقت پہنچنے کے لئے وہ گلاس واپس بیگم کو تھماتے ہیں کہ دیر ہو رہی ہے ۔ وہ ان کے پیچھے لپکتی ہیں، ملازم سے کہتی ہیں کہ یہ شربت گاڑی میں ہی دے آئو صاحب کو۔ کیا خبر انہوں نے پیا کہ نہیں!!  انہیں تو بس جلدی تھی ، جام شہادت جو ان کو پیش کیا جانے والا تھا۔

 

 اب میں ان کی بیگم کو دیکھتی ہوں کہ وہ مسکرا کر ان آخری چند لمحات کو یاد کرتی ہیں تو ان کی آنکھ نم ہو جاتی ہے لیکن شہید کی بیوہ کے آنسوئوں کو کوئی معمولی نہ جانے۔ مبادا اس اشک افشانی کو شہادت کی توہین سمجھے ۔ یہ تو وہ آنسو ہیں جو اعلیٰ ترین عشق کی گواہی دیتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اگر اپنے پورے اردو اور فارسی کلام میں کسی ذی نفس کی دوسرے ذی روح سے محبت کی مثال دی ہے تو وہ اس بیوی کا عشق ہے جو اپنے شوہر کو جنگ کے لئے رخصت کرتی ہے تو وہ اس کے فرائض کی اہمیت کو خوب سمجھتے ہوئے خاموش رہتی ہے، لیکن اس کی محبت میں آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو پر آسمان کا روشن ستارہ، صبح کا ستارہ بھی رشک کرتا ہے۔ اس کو اپنی چمک اس آنسو کی تابناکی کے آگے ہیچ لگتی ہے اور وہ خواہش کرتا ہے کہ:

 

کیوں نہ اس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک جائوں میں

جس کا شوہر ہو رواں ہو کے ذرہ میں مستور

سُوئے میدانِ وغا، حبِ وطن سے مجبور

یاس و امید کا نظارہ جو دِکھلاتی ہو

جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو

جس کو شوہر کی رضا تابِ شکیبائی دے

اور نگاہوں کو حیا طاقتِ گویائی دے

زرد، رخصت کی گھڑی، عارضِ گلگُوں ہو جائے

کششِ حسن غمِ ہجر سے افزُوں ہوجائے

لاکھ وہ ضبط کرے پر میں ٹپک ہی جائوں

ساغرِ دیدہئِ پرنم سے چھلک ہی جائوں

خاک میں مل کے حیاتِ ابدی پا جائوں

عشق کا سوز زمانے کو دِکھاتا جائوں

(کلیاتِ اقبال،اردوبانگ درا،ص:112)

 

یہ عشق کا سوز ہی اب بیگم کرنل سہیل عابد کے لئے گرمیء حیات ہے۔ اپنے ہمسر کی جدائی کا دکھ ضرور ہو گا انہیں لیکن وطن کے کسی بھی جانباز سپاہی کی بیوی کو اپنے سرتاج میں سب بڑھ کر یہی خوبی تو نظر آتی ہے کہ وہ وطن کی عزت کا رکھوالا ہے، نگار ِوطن سے اپنے شوہر کے عشق سے اسے کبھی احساس رقابت نہیں ہوتا۔ اس کے عشق میں اپنا وقت، اپنی ترجیحات اور بالآخر اپنی جان قربان کر دینے والے سے اسے یہ گلہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی اور کی چاہت میں اسے چھوڑ گیا۔

 

انٹیلی جیئنس آفیسرز کا طرز زندگی ویسے ہی غیر روایتی ہوتا ہے۔زندگی ان کی ایک صوفی کی طرح شب زندہ داری میں گزر جاتی ہے۔ یہ وہ خاموش مجاہد ہیں جو ہر دم شر پسند عناصر کے خلاف ایک غیرعلانیہ جنگ کے محاذ پر نبرد آزما رہتے ہیں۔ بظاہر کچھ نہ کرتے ہوئے، قومی زندگی کے ہر پہلو پر کارفرما ہوتے ہیں۔ اگلے محاذوں پر جن کی شہادت کی خبر پر لوگ حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کون سی جنگ تھی جس پر ایک کرنل رینک کا آفیسر سالاری کر رہا تھا۔ دہشت گردی کی فضا میں ان کا ہر لمحہ محاذ پر ہے۔

 

بیگم کرنل سہیل تمام عمر اپنے شوہر کی حب الوطنی کی پشتیبانی کرتی رہی ہیں۔ ان کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی کہ ان کے عظیم شوہر نے جاتے وقت ایک بار بھی پلٹ کر ان کی طرف، لمحہ لمحہ ساتھ گزاری زندگی کے آشیانے کو، اپنی سرمایۂ زندگی ، اپنی اولاد کو ایک بار بھی حسرت سے نہیں دیکھا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ بظاہر نہ بھی رہے تو ہمیشہ رہیں گے۔

 

 بس قوم کو خیال رہے کہ کوئی ان کی قربانی کی توہین نہ کرے۔


مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

 [email protected]

یہ تحریر 220مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP