ہمارے غازی وشہداء

تین لا زوال جنگی ہیرو

پاکستان کی تاریخ میں جہاں سیاسی و عسکری قیادت کی پرچھائیاں ہیں وہیں اس ملک کی تاریخ بہت سے ایسے افراد سے بھی سجی ہوئی ہے جنہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں حتیٰ کہ اپنی جان بھی اس ملک و ملت پروار دی۔ یہ قابل قدر افراد ہمارے ہیرو ہیں اور   ہمارے لیے قابل تقلید ہیں۔ ان کی زندگی نسل نو کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان قابل قدر ہیروز کی زندگی کو قلم بندکرنا بھی تاریخ رقم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ کام اہل قلم نبھاتے تو ہیں مگر بلاشبہ نہایت ذمہ داری اور عرق ریزی کا متقاضی ہے۔ جنگ ایک سیاسی حربہ متصور ہوتا مگر اسے آخری حربے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جنگ سے زیادہ امن کا دور قوموں کی ترقی کا سبب ہوتا ہے، اسے کون جھٹلا سکتا ہے۔  تاہم جب بقا کی جنگ لڑی جائے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے ایسے نام تاریخ بن جاتے ہیں جن کی بہادری اور جاںنثاری ڈرامائی کردارو واقعات محسوس ہوتے ہیں۔



جنگ ستمبر 1965 میں پاک فضائیہ کی کامیابیوں کا ذکر کریں تو ایم ایم عالم کا نام فوراً یادداشتوں میں گونجتا ہے۔ ایم ایم عالم کے بارے عمومی تاثر تھا کہ وہ بنگالی ہیں تاہم ان کے عالمی ریکارڈ بارے ہر پاکستانی فخر محسوس کرتا ہے۔ ان کا ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہاز تباہ کرنے کا عالمی ریکارڈ آج بھی قائم ہے۔ اس سے زیادہ ایم ایم عالم کی ذاتی زندگی،رہن سہن،رشتہ داروں و احباب سے متعلق زیادہ معلومات میسر نہیں تھیں۔ ایم ایم عالم نے شادی کیوں نہ کی اور شام و افغانستان کا سفر کیوں کر کیا، یہ سب زیادہ عام نہ ہو سکا۔



 اسی طرح معرکہ کارگل میں نشان حیدر کا اعزاز پانے والے کیپٹن کرنل شیرخان شہید اور حوالدار لالک جان شہید سے متعلق بھی لوگ محض نام سے ہی واقفیت رکھتے ہیں۔ کرنل شیرخان کے اہل خانہ،اولاد،  رہن سہن، جذبہ حب الوطنی اور شہادت سے مدفن تک سب ایک راز کی مانند ہے۔ شمالی علاقہ جات کے اسماعیلی سپوت لالک جان شہید بھی کیوں کراس  اعلیٰ جنگی اعزاز کے مستحق ٹھہرے یہ سب معلوم و عام نہ تھا۔ یہ تمام معلومات کتابی شکل میں یکجا کرنے والے عسکری محقق سکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر نے ان تینوں ہیروز پر کتب تحریر کرکے نہایت شاندار کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ عسکری شعبہ سے وابستہ ہونے کے سبب انہوں نے ان کتب کو اس خوب صورت انداز میں قلم بند کیا ہے کہ قاری ان ہیروز اور تحاریر کے سحر سے بالکل بھی نہیں نکل سکتا۔ عسکری زندگی، جنگی معرکے اور اس سے جڑے تاریخی حوالے احسن انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ اہم تاریخی دستاویز کی اشاعت قلم فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ہوئی۔ اس کتاب کو پڑھیں،یوٹیوب پر سنیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح دشمن ملک کی سپاہ کے کمانڈر کرنل شیر خان شہید کے ہمراہ ان کی بہادری کے اعتراف کے خطوط ارسال کرتے ہیں۔ ایک فوجی دشمن ملک کے سپاہی کی بہادری پر اس کے لیے اعلیٰ جنگی اعزار کی سفارش کرتا ہے۔ یہ ہمارے شہید کرنل شیر کی بہادری کا قصہ ہے جسے مصنف زاہد یعقوب عامر نے نہایت محبت و احترام سے الفاظ کا پیرہن دیا ہے۔
 ان کتب میں خوب صورت پہلو یہ ہے کہ پس منظر نہیں، بلکہ جنگ کا نقشہ کھینچنے والوں کی زندگیوں کا زیادہ احاطہ کیا گیا ہے۔ میں پھر اس بات پر اپنے یقین کو دہراتا ہوں کہ جنگ مسائل کے حل کی ضامن نہیں ہے۔ معاشی ترقی، تعلیم، معیار زندگی کو بڑھانے کا سبب ہیں۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب بیرونی و اندرونی طور پر امن کے لیے حالات سازگار رہیں۔ پاکستان کے امن کو خطرات کا سامنا ہمیشہ کسی نہ کسی صورت رہتاہے۔ اس دفاع کی خاطرافواج اور قوم قربانی دیتے ہیں۔ تاہم اس امن کو اپنے لہو سے بچانے والے اپنے ہیروز کو سلام عقیدت  پیش کرنا ہم سب پر فرض ہے۔  عالمی منظر نامہ بھی یہی کہتا ہے کہ جنگ کسی نہ کسی طرح آپ پر مسلط کر ہی دی جاتی ہے۔ آپ اس سے نہیں بچ سکتے۔ ان مواقع پر آپ کے عوام کی حب الوطنی سب سے بڑا ہتھیار ہے، جنگ لڑنے کی طاقت سے پہلے اپنے ملک کے ذرے ذرے سے محبت پہلا قدم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس ملک کا مقدر ہمارے نوجوانوں کی حب الوطنی اور محنت سے جڑا ہوا ہے۔ اس حب الوطنی کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے ہیروز کی زندگیوں کو پڑھنا، سمجھنا، اپنانا اور تقلید کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ کتب ہر سکول، تربیت گاہ، ادارے اور حتیٰ کہ ہر بچے کی ضرورت ہیں۔ پاکستان میں ہر کوئی فوجی نہیں بن سکتا۔  ہر ڈاکٹر، وکیل، صحافی، بزنس مین، مزدور، ہنرمند کے لیے سچے پاکستانی بننے کے لیے ان ہیروز کی مانند قربانی، لگن اور عزم کی سر بلندی کا معیار چاہیے۔ میری آپ سب سے استدعا ہے کہ اپنے بچوں کو دینے کے لیے ان کتب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔ یہ ہر سکول، ہر تربیت گاہ میں موجود ہونی چاہئیں۔ یہ ہر بچے، نوجوان کی ریڈنگ لسٹ کا حصہ ہونی چاہئیں۔ میں پرامید ہوں کہ جب بھی یہ وطن کسی مشکل کا شکار ہو گا تو اس ملک کے نوجوان ایسے ہی کارنامے سرانجام دیں گے اور زاہد یعقوب عامر جیسے لکھاری انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتے رہیں گے۔ اللہ اس ملک کو ہمیشہ سلامتی و استحکام عطا فرمائے۔ آمین ||


مضمون نگار سینیئر صحافی اور کالم نویس ہیں۔
 

یہ تحریر 155مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP