قومی و بین الاقوامی ایشوز

تین جون دو آوازیں

تاریخ کے صفحات میں3 جون 1947 کا دن اس لئے بھی زندہ وپائندہ رہے گا کہ اس دن ہمارے بابائے قوم حضرت قائدِاعظمؒ نے ریڈیو کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ اس خطے میں مسلمانوں کی ایک نئی مملکت آباد ہوگئی ہے۔ گلوب پر ایک نیا نام اُبھرا ہے۔ جو ہے ’’پاکستان‘‘۔۔۔ فضاؤں نے ہواؤں نے دوستوں نے دشمنوں نے یہ تقریر3 جون1947 کو سنی تھی جس کے آخر میں ہر سننے والے ذی روح اور ذی شعور نے آمین کہا تھا۔ فضاؤں نے‘ ہواؤں نے‘ چرند پرند‘ جھومتے درختوں نے‘ لہلہاتے کھیتوں نے سب نے مل جل کر کہا تھا’’ پاکستان زندہ باد‘‘! اس روز پاکستان وجود میں آگیا تھا‘ نمود میں آگیا تھا اور سجود میں آگیا تھا۔۔۔ اسی دن پاکستان نے بابائے قوم کے پُر تیقن لہجے کی رد اوڑھ لی تھی۔۔۔ کہ پاکستان تاقیامت رہنے کے لئے بنا ہے۔

3جون2015 کو وہ یقین بھرا لہجہ‘ وہ عزم میں ڈوبی ہوئی للکار‘ وہ ایمان افروز الفاظ‘ قوم نے جنرل راحیل شریف کے لب و لہجے میں سنے جو انہوں نے ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے دوران کہے۔۔۔ کہ کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ پاکستان اور کشمیر کو علٰیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس روز بابائے قوم کی روح خوش ہوئی۔ وہ بس عالمِ بالا میں اس نامکمل ایجنڈے پر آزردہ ہیں۔ وہ بھی ہر3 جون کو اپنے بیٹوں کی طرف دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں۔ میرے فرزندو ! اس نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کون اٹھے گا۔۔۔ کون پگھلائے گا پتھروں کو۔۔۔ کون کہکشاں بچھائے گا راستوں میں۔ سپہ سالار نے کہا: اگرچہ ہم اس خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں لیکن ہم اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں اور دنیا جان گئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔۔۔ یہ کیسے ممکن کہ نکہتِ گل کسی کی پابند ہو چمن میں؟

مسئلہ کشمیر کو اور الجھانے کے لئے بدخواہوں نے پاکستان کی زمین کو قتل و غارت کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ قاتل بھی کرائے کے اور خنجر بھی ادھارکے۔۔۔ لیکن لہو معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کا بہہ رہا ہے۔ اس لہو سے دریائے نیلم لال ہوگیا ہے۔۔۔ اور کتنے قیمتی لال اپنے لہو کی قربانی دیں گے۔ لہو جو سرحد پہ بہہ رہا ہے۔ ہم اس لہو کا خراج لیں گے! دہشت گردی کی جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔۔ کبھی ایک نام سے کبھی دوسرے نام سے۔۔۔

لیکن افواجِ پاکستان نے بڑی جی داری سے اس چیلنج کو بھی قبول کرلیا ہے۔ کسی کو افواجِ پاکستان کے بارے میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔۔۔ آپریشن ضربِ عضب عسکری قوتوں کے ساتھ ساتھ روحانی قوتوں سے شروع کیا گیا۔ پوری کی پوری قوم اپنی قابلِ فخر افواج کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ دشمنوں نے اس پاک سرزمین پر فتنہ و فساد کے لئے کیسے کیسے انبار لگائے۔ کبھی عقائد کی آگ بھڑکائی کہ کبھی مسالک کی آڑ لی۔ کبھی صوبائیت کی آتش بازی لائے‘ کبھی زبانوں کو زبانِ زدِ عام کیا۔ پاکستان ایک بہت بڑی قوت ہے۔ اگر یہ حقیقت نہیں تو ایک زمانہ پاکستان کے پیچھے کیوں پڑا رہتا ہے۔ ’’را‘‘ جیسی ایجنسیاں ذہنوں کو خریدنے کا کاروبار کیوں کرتی ہیں۔ پاکستان کے دریاؤں پر ناجائز قبضے کیوں ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی ثقافت کو بدلنے کی کوششیں کیوں ہو رہی ہیں۔

اب جب کسی طرح بھی پاکستان غیر مستحکم نہیں ہو سکا تو پاکستان کے شہروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ مسجدوں‘ مزاروں اور سکولوں تک کو نہیں بخشا گیا۔ اب آپریشن ضربِ عضب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ اب یہاں پہ پراکسی وار کی گنجائش نہیں ہے۔ اب پاکستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے۔۔۔ کہ دشمن کے مورچے وطن کے اندر آگئے ہیں۔۔۔ ضربِ عضب بڑی کامیابی کے ساتھ ان مورچوں کو کھوج رہی ہے اور نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کے دامن پر دہشت گردی کا لگا ہوا داغ بہت جلد صاف ہو جائے گا۔ بہت جلد دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ جسے پاکستان کہتے ہیں وہ پاک جذبوں کا امین ایک امن پسند ملک ہے۔۔۔ کشمیر کا عذر رکھ کر پاکستان کے اندر بے سکونی اور انتشار پھیلانا اب اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔ ضربِ عضب کو شروع ہوئے ایک برس ہوگیا ہے۔

پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو بھی اطمینان کا سانس لیتے ہوئے ایک برس ہو گیا ہے۔۔۔ انہوں نے جان لیا ہے اور مان لیا ہے کہ حتمی اور آخری کامیابی کے لئے سول ملٹری

تعاون انتہائی کارگرہے۔ انتہائی اہم ہے۔

جب سے آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا ہے پاکستان کے باسی‘ وہ شہری ہوں یا دیہاتی‘ بخوبی جان گئے ہیں کہ ہمارے دوست نما دشمن خنجر بکف‘ گل پوش‘ نیم روایتی ہتھکنڈوں

سے پاکستان کو غیر مستحکم ‘ بے سکون اور کمزور بنانے کے لئے ملک کے اندر دہشت ناک وارداتیں بھی کررہے ہیں اور فتور بھی مچا رہے ہیں۔ اسی لئے سول اور عسکری قوتوں میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا جذبہ ہر دو چند ہوا ہے۔۔۔اس پر پاکستان کے سپہ سالار کی ایمان افروز تقریر نے قوم کے حوصلے بڑھادیئے ہیں۔ یہ ہے قومِ رسولِ ہاشمیؐ بھوک پیاس جھیل سکتی ہے۔ سردی گرمی برداشت کرلیتی ہے۔ اندھیروں کو سویروں میں بدل دیتی ہے۔ مگر ظلم وسفاکیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹ جاتی ہے۔۔۔ اب ڈٹ گئی ہے۔۔۔! اب ہٹ دھرمی کا جواب اسی کے اپنے انداز میں دے گی۔

پاکستان امن کا حامی تھا۔ امن کا حامی رہے گا۔ اسلام سلامتی کا دین ہے۔ سلامتی کی نوید سناتارہے گا۔ پاکستان خود کفیل تھا۔۔۔ خود کفیل بن کر ابھرے گا۔

پاکستان حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ دنیا بھر کوحقوق العباد کی ادائیگی کی نوید سناتا رہے گا۔ 3جون1947 کو قائدِاعظم نے جس یقین اور ایمان کے ساتھ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کہا تھا‘ اسی یقین اور ایمان کے ساتھ پاکستان کا جھنڈا تھام کے اہلِ کشمیر پاکستان زندہ باد کہہ رہے ہیں۔ ارے نادانو ! ظلم کرنے والو ! اور بہتان تراشیاں کرنے والو ! یہ جنونِ عشق کے انداز ہیں۔۔۔ تمہارے ظلم و ستم سے کیا یہ چھٹ جائیں گے؟ چھٹ پائیں گے۔۔۔؟

یہ قائدِاعظم کا فرمایا ہوا پاکستان زندہ باد کشمیر کے اندر بول رہا ہے۔ یہی پاکستان زندہ باد کارگل کی پہاڑیوں پر گونجا تھا۔۔۔ یہی پاکستان زندہ باد ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی پر بیٹھا انتظار کررہا ہے۔۔۔ یہی پاکستان زندہ باد برصغیر کے افق پر چھایا ہوا ہے۔۔۔

یہ اس مردِ درویش کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں۔ جس کا جینا اور مرنا قوم کے لئے تھا۔۔۔ جو جیا تو پاکستان کے لئے ۔۔۔ مرا تو پاکستان بنا کے۔ اسی پاکستان زندہ باد سے کچھ لوگ خائف ہو کر اپنی کمین گاہوں سے باہر نکل آئے ہیں۔۔۔ اور اٹوٹ انگ کا واویلا کررہے ہیں۔ انگ تو سارے مصنوعی بھی بن رہے ہیں۔۔۔ مگر شاہ رگ ہمیشہ زندگی اور بندگی کی علامت ہے۔ بھلا کوئی شہ رگ کے بنا بھی زندہ رہ سکا ہے۔۔۔ بیساکھیوں کے سہارے تو بہت سوں کو چلتے دیکھا ہے۔ مگر کیا کسی کو گردن کے بنا چلتے دیکھا ہے؟ پاکستان زندہ باد کا غلغلہ اب دہشت گردی تک پہنچ گیا ہے۔۔۔ اس کو نیست و نابود کرکے ہی دم لے گا۔

یہ وہی پاکستان زندہ باد ہے جسے 3 جون2015 کو سپہ سالار جناب راحیل شریف نے معانی عطا کئے۔۔۔ بھولی ہوئی قوم کو یاد دلایا۔۔۔ کہ یہ تو پیارے قائدِاعظم کے فرمائے ہوئے الفاظ ہیں جو کشمیر میں گونج رہے ہیں۔۔۔ کشمیری پاکستان کے ادھوے ایجنڈے کو تکمیل پہنچانے میں تن من اور دھن کی قربانیاں دے رہے ہیں۔۔۔ ہم بھی ان کے لئے دامے درمے‘ سخنے اور قدمے قدم بڑھانے کو تیار ہیں۔ اس ایجنڈے کی تکمیل تک بھلا کون چین سے بیٹھ سکتاہے۔۔۔؟

ہوا ہے گو تند و تیز لیکن‘ چراغ اپنا جلا رہا ہے

وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں اندازِ خسروانہ

یہ تحریر 97مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP