متفرقات

تین تہذیبوں کا مسکن۔۔۔بھنبھور

سمندر میں گزشتہ رات طوفان اٹھا تھا۔۔۔آسمان سے یوں برسات ہوئی تھی جیسے پھر کبھی نہیں ہو گی۔۔۔یک لخت سمندری ہوائوں میں سرکشی ناچنے لگی تھی۔۔۔بیک وقت کئی بادبانی جہاز ڈولنے لگے تھے۔۔۔ اب جب عصر ڈھلنے کو ہے اور فلک سے برستے پانی ختم ہوچکے تو لہروں کا طلاطم کچھ تھما ہے۔۔۔اونچے ٹیلے پہ کھڑا تجربہ کار شخص اپنی ڈھلتی عمر کے حاصل تجربے کی آنکھ سے دیکھتا چِلا کے کہہ رہا تھا۔۔۔طوفان تھم چکا۔۔۔جہاز سلامت ہیں۔۔۔دور نیلگوں پانیوں کی تہوں پہ دھنک رنگ بادبان پھڑپھڑانے لگے ہیں۔۔۔قطار باندھے خراماں خراماں ساحل کے قریب آ رہے ہیں۔۔۔لنگر کے لیے تیار رہو۔۔۔مال بس پہنچا ہی چاہتا ہے۔۔۔اور ایسے میں اگرساحل پہ کھڑے ہو کے سمندر کو دیکھو تو یوں لگتا جیسے پانیوں میں بڑے بڑے قلعے ابھر رہے ہوں۔۔۔تہہ در تہہ۔۔۔منزل بہ منزل۔۔۔بادبان!
اور ان سے دور شہر کی گلیوں میں ننگ دھڑنگ بچے کھیلتے تھے۔۔۔بڑے بوڑھے اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے۔۔۔عورتیں رات بھر کی طوفانی بارش کے بعد کے پھیلاوے سمیٹنے میں مصروف۔۔۔اور ان سب سے ہٹ کے اونچی پہاڑی کے بل کھاتے رستوں پہ گیروی رنگوں میں رنگے بدھ بھکشو تھے۔۔۔
 ان سب سے ذرا پرے۔۔۔دیول کے مندر میں گھنٹیاں بجتی تھیں۔۔۔کوئی سندر ناری مرادوں کا تھال اٹھائے۔۔۔آنکھیں میچے۔۔۔بھگوان کے چرنوں میں بیٹھی۔۔۔دل کی زباں سے پرارتھنا کرتی تھی۔۔۔
دور کہیں سے گھوڑوں کی ٹاپوں سے گرد اٹھتی تھی۔۔۔اور شہر پہ موت کے تاریک سائے لہراتے تھے۔۔۔اور ان سب سے نظر چرائے ملک الموت ساتھ چلنے والوں کی فہرست پکڑے کھڑا تھا۔۔۔اور کوئی پکارنے والا پکارتا تھا۔۔۔ارے بھاگو۔۔۔قلعے میں چھپ جا۔۔۔حملہ آور آن پہنچے۔۔۔محمد بن قاسم کی فوج اتر چکی۔۔۔۔اور اچانک بہت سی توپوں کے دہانوں نے بیک وقت پتھروں کی بوچھاڑ کر دی اور قلعے کا گنبد۔۔۔دیول مندر کا گنبد۔۔۔زمین بوس ہو گیا۔۔۔جس کے ماتھے پہ رکھشا کا علم لہراتا تھا۔۔۔اور جس میں موجود سات سو پجاریوں کا ماننا تھا کہ اس کی حفاظت پہ دیوتا خود مامور ہیں۔۔۔لیکن اس شہر کو تباہی سے بچانے کو کچھ بھی کام نہ آیا۔۔۔نہ شہر کے گرد بنی مضبوط فصیل۔۔۔نہ رکھشا کا علم۔۔۔نہ دیوتائوں کا حفاظتی حصار۔۔۔ہر طرف بس آہ و بکا تھی۔۔۔اور کشت و خون کا ایک بازار۔۔۔حملہ آوروں کو گئے ہوئے زمانے بیت چکے لیکن ان کے لگائے زخم اس شہر کے مٹ چکے نشانوں کے جسم پہ ابھی تک زخموں پہ جمے کھرنڈ کی مانند قائم تھے۔۔۔جنہیں ذرا سا چھیڑنے پہ تازہ خون رسنے لگتا ہے۔
اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔مؤذن پکارتا تھا۔۔۔فضائوں میں جنوبی ایشیا کی سب سے قدیم جامع مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوتی تھی۔۔۔ یہ آٹھویں صدی عیسوی کا زمانہ تھا۔۔۔قلعے کے مضبوط حصار کے اندر بنی اس شاندار مسجد کی محراب میں کوئی مومن آنکھوں میں اشکوں کی برسات لیے رب کعبہ کے حضور سربسجود گڑگڑا رہا تھا۔۔۔پوری مسجد میں اس کی سسکیاں گونجتی تھیں۔۔۔عجب راز و نیاز کی گھڑیاں تھیں۔۔۔خالق و مخلوق ہمکلام تھے۔۔۔
ارے وہ دیکھو۔۔۔لہروں پہ کچھ تیر رہا ہے۔۔۔دور کوئی دھوبی چلایا تھا۔۔۔یک لخت بہت سی آنکھیں ایک سمت اٹھی تھیں۔۔۔اور نظر کے سامنے سندھ ساگر کی لہریں ننھے صندوق کو اٹھائے خراماں خراماں بہتی تھیں۔۔۔اور بہتے بہتے دھوبی گھاٹ پہنچتی تھیں۔۔۔اور بالآخر دھوبی گھاٹ کے آقا کو اس کی امانت سونپ کر آگے بڑھ جاتی تھیں۔۔۔سردار دھوبی اس ننھے صندوق میں رکھی پھول سی بچی کے ساتھ پڑی مال و متاع سے اس کے لیے ایک محل، باغ اور کنواں بنواتا تھا۔۔۔اور پھر اس باغ میں کھیلتے کھیلتے وہ ننھی کلی پھول بنی تھی اور گیارہویں صدی عیسویں میں ایک روز اس باغ کی پگڈنڈیوں پہ خوشبو کے قافلے آن اترے تھے۔۔۔کیچ کا شہزادہ پنل بھنبھور کی سسی کے عشق میں ڈوب گیا تھا۔۔۔
اور اچانک چہرے پہ پانی کی ایک بوند گری۔۔۔ارے بارش۔۔۔اور بارش کی پہلی کنی کا لطف ہر لطف پہ بھاری ہوتا ہے۔۔۔روح تک زندگی دوڑ جاتی ہے۔۔۔اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔۔۔بارش کی پہلی بوند ہمیں ماضی بعید کی صدیوں کی مسافت سے واپس حال میں لے آئی تھی۔۔۔نیلگوں سمندر کھو گیا تھا۔۔۔ہم خستہ قلعے کی ڈھے چکی دیوار پہ بیٹھے اجڑ چکے شہر پہ نوحہ کناں تھے۔۔۔نظر کے سامنے دھنک رنگ بادبانوں کی جگہ ایک پرانی کشتی تھی۔۔۔جہاں کبھی بحیرہ عرب کے گہرے پانی ہوتے تھے۔۔۔جہاں سے کسی زمانے میں شوریدہ سر دریائے سندھ سر پٹختا گزرتا تھا۔۔۔وہاں اب سندھو کے بچے کچھے پانی بہتے تھے۔۔۔جہاں کبھی بڑے بڑے بادبانی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے وہاں اب خستہ حال چھوٹی سی کشتی تھی۔۔۔جسے اللہ وسائیو دلدل نما پانی میں دھکیلتا ہوا آگے کو  سرکاتا تھا۔۔۔اور ماہی گیری کرتا تھا۔۔۔صبح ہوتے ہی وہ ان پانیوں میں اترتا تھا اور شام ڈھلنے سے کچھ پہلے جب واپس لوٹتا تو اس کے جال میں فقط اتنی مچھلی ہوتی کہ دو وقت کی روٹی کمائی جا سکے۔۔۔اور ان سے دور دریا کنارے دھوبی گھاٹ کے مٹ چکے نشاں تھے۔۔۔جن میں ایک کیچ کا شہزادہ پنوں بھنبھور کی سسی کے عشق میں دھوبی بنا کپڑے دھوتا تھا۔۔۔اور اس عشق کی مشک صدیوں بعد بھی کافور کی مانند پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
اگر آپ روشنیوں کے شہر کراچی سے ٹھٹھہ کی جانب نیشنل ہائی وے N-5 پہ عازمِ سفر ہوں تو قریبا ًباسٹھ کلومیٹر پہ دھابیجی آئے گا۔۔۔وہاں سے دائیں ہاتھ ایک ذیلی سڑک پہ قریباً بیس منٹ کی مسافت پہ بھنبھور میوزیم ہے۔۔۔جہاں کبھی بے مثال شہر آباد ہوا کرتا تھا۔۔۔جہاں چھٹی صدی عیسوی میں سندھ کی قدیم ترین اور اولین بندرگاہ تھی جس پہ عراق، ایران، عرب اور افریقہ سے بحری جہاز لنگر انداز ہوتے تھے۔۔۔جس کے بازاروں میں ہمہ وقت رنگ و نور کی برسات ہوتی تھی۔۔۔جس کی گلیوں میں ہر طرف خوشحالی ناچتی تھی۔۔۔پھر آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم نے منجنیقوں سے اس شہر پہ حملہ کیا اور ایشیا کی پہلی مسجد کی تعمیر کی۔۔۔اور پھرگزرتے وقت کے ساتھ دیبل کی بندرگاہ بھی اجڑ گئی۔۔۔پھر گیارہویں صدی میں اس شہر میں مشک و عنبر کے قافلے اترے۔۔۔اور کیچ مکران کا شہزادہ پنوں بھنبھور کی سسی کے عشق میں ایسا ڈوبا کہ تحت و تاج ٹھکرا کر دھوبی بن بیٹھا۔۔۔اور پھر وقت کا ظالم اژدھا محبت کی ایک اور داستاں کے لازوال کرداروں کو نگل گیا۔۔۔اور پھر گیارہویں صدی میں ہی شہاب الدین غوری نے اس شہر پر ایسا حملہ کیا کہ یہ شہر پھر کبھی آباد نہ ہوا۔۔۔یوں تو یہ شہر کئی بار اجڑا اورکئی بار بسا لیکن سسی کا بھنبھور سسی کے بعد ایسا اجڑا کہ پھر کبھی آباد نہ ہو سکا۔۔۔تیرہویں صدی میں سندھ ساگر نے اس شہر سے منہ موڑا تو رفتہ رفتہ یہ شہر مٹی کا ڈھیر ہوتا چلا گیا۔۔۔اور اب یہاں بھنبھور عجائب گھر کی عمارت ہے۔۔۔اور اس کے عین سامنے قدیم قلعے کے کھنڈرات۔۔۔جس کی کھدائی کا آغاز محکمہ آثار قدیمہ سندھ کے مطابق 1958 میں ہوا۔۔۔
ماہرین کے مطابق اب تک تین مختلف ادوار کے آثار قدیمہ دریافت ہو چکے ہیں۔۔۔اور اب تک کے دریافت شدہ آثار کے مطابق یہاں کے قدیم ترین باشندے پہلی اور دوسری صدی میں یہاں بسنے والے سیتھو پارتھی نسل کے تھے۔۔۔دوسری سے آٹھویں صدی عیسویں تک ہندو اور بدھ مت یہاں آباد رہے۔۔۔پھر آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم نے اس شہر پہ حملہ کر کے اس قلعے کو فتح کیا تو یہاں اسلام پھیلا۔۔۔1960 میں کھدائی کے دوران یہاں ایک مسجد کے آثار دریافت ہوئے۔۔۔کچھ کتبے بھی ملے جن پہ کوفی رسم الخط میں لکھی تحریروں سے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ مسجد برصغیر کی اولین مسجد ہے اور قوی قیاس کے مطابق اس کی بنیاد محمد بن قاسم کے دور میں رکھی گئی تھی۔۔۔اب تک کی کھدائی کے دوران یہاں سے مٹی کے برتن، پرانے سکے، انسانی ڈھانچے، قیمتی موتی اور دیگر نوادرات دریافت ہوئے ہیں۔۔۔اور سب کے علاوہ ماہرین نے یہاں ایک قدیم زیر آب شہر کے آثار بھی دریافت کیے۔۔۔ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہاں پانچویں تا نویں صدی کی آبادی کے نشان موجود ہیں۔۔۔تاہم ماہرین کا اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا دیبل ہی بھنبھور ہے یا دونوں الگ الگ ہیں۔۔۔کچھ محققین کا ماننا ہے کہ دیبل کی قدیم بندرگاہ اور بھنبھور ایک ہی ہیں جبکہ کچھ نئے تحقیق دانوں کا خیال ہے کہ اب تک کی تحقیق سے دیبل اور بھنبھور کا ایک ہونا ثابت نہیں ہو سکا۔۔۔
صدیاں گزر گئیں لیکن بھنبھور دھوبی گھاٹ کے آثار آج بھی قائم ہیں۔۔۔کہتے ہیں کہ صدیوں پہلے راجہ دلورائے کے دور اقتدار میں ایک برہمن پنڈت کے گھر بیٹی پیدا ہوئی۔۔۔ہندو رسم و رواج کے مطابق کنڈلی نکلوائی گئی تو جوتشیوں نے برہمن کو بتایا کہ یہ لڑکی بڑی ہو کر ہندو دھرم کے لیے رسوائی کا باعث بنے گی۔۔۔جوان ہو کر یہ کسی مسلمان شہزادے کے عشق میں گرفتار ہو گی اور اسی سے شادی کرے گی۔۔۔اس لیے اس لڑکی کو مار دینا ہی بہتر ہے تا کہ ہندو دھرم کے ماتھے پہ کلنک نہ لگے۔۔۔یہ فیصلہ سن کر برہمن کی بیوی تڑپ اٹھی۔۔۔ایک طرف شوہر تھا جس کی آج تک کوئی حکم عدولی نہیں کی تھی اس نے اور دوسری طرف ممتا۔۔۔بالآخر رانی نے برہمن کو اس بات پہ منا لیا کہ بچی کو قتل کرنے کے بجائے دریا میں بہا دیا جائے۔۔۔آگے اس کی قسمت۔۔۔اور یوں ایک خوبصورت صندوق میں سونے اور اشرفیوں کے درمیان اس پھول سی بچی کو رکھ کر لہروں کے حوالے کر دیا گیا۔۔۔جو بہتے بہتے دھوبی گھاٹ کے سردار دھوبی تک پہنچا۔۔۔اور اس نے اس چاند سی بچی کا نام سسی رکھا۔۔۔جو جوان ہونے پہ سچ مچ سسی ثابت ہوئی۔۔۔سسی نام کا مطلب ہے چاند اورکہتے ہیں کہ بھنبھور کی سسی جوانی میں سچ مچ چاند جیسی تھی۔۔۔صندوق میں موجود اشرفیوں سے دھوبی نے اس بچی کے لیے عالیشان محل تعمیر کروایا اور اس کے اطراف میں خوبصورت باغ اور کنواں بنوایا۔۔۔وہ بچی اس باغ میں اپنی سہیلیوں کے سنگ جھولے جھولتی جوان ہوئی تو اس کے حسن کے چرچے زبان زدِ عام ہوئے۔۔۔ان دنوں مکران کے تجارتی قافلے بھنبھورسے ہو کر ٹھٹھہ وغیرہ جاتے تھے۔۔۔انہی قافلوں سے کیچ کے سردار پنوں کو سسی کے حسن کی خبر ہوئی اور وہ بھیس بدل کر مشک و عنبر کی خوشبوئوں کا سوداگر بن کر سسی کے حسن کی ایک جھلک دیکھنے بھنبھور آن پہنچا۔۔۔اور پھر اس حسن کا ایسا اسیر ہوا کہ تخت و تاج بھلا کر دھوبی بن بیٹھا۔۔۔قصہ مختصر پنوں نے سسی سے شادی کر لی اور وہیں دھوبی بستی کا مکین ہو گیا۔۔۔پنوں کا باپ اور قبیلہ جب پنوں کو واپس لے جانے کی تمام  کوششوں میں ناکام ٹھہرے تو پنوں کے بھائی اسے لینے آئے اور طے شدہ منصوبے کے تحت پنوں کو رات بھر اتنی شراب پلائی کہ وہ بے ہوش ہو گیا اور پھر اسے بے ہوشی کی حالت میں تیز رفتار اونٹوں پہ لاد کر مکران کی طرف چل دئیے۔۔۔جب صبح ہوئی تو سسی کو دنیا اجڑنے کی خبر ہوئی۔۔۔اور تب وہ سب کے لاکھ منع کرنے کے باوجود  اپنے پنوں کو ڈھونڈنے چل پڑی۔۔۔اور کیچ کے تپتے صحرا میں جان ہار گئی۔۔۔بعد ازاں پنوں جب ہوش میں آیا تو سسی کو ڈھونڈنے مکران سے بھنبھور کی جانب چل پڑا اور پھر عین اسی مقام پر سسی کے سنگ صحرا میں دفن ہو گیا۔۔۔آج بھی کیچ کے صحرا میں محبت کی اس عظیم داستاں کے یہ کردار دفن ہیں۔۔۔اور عشق کے مسافر آج بھی اس قبر پہ محبت کی شمع جلاتے ہیں۔۔۔
کچھ محققین کے لیے یہ داہر کا دیبل ہے اور کچھ کے لیے مٹ چکی تین تہذیبوں کا مسکن۔۔۔لیکن محبت کرنے والوں کے لیے یہ آج بھی فقط سسی کا بھنبھور ہے۔۔۔عشق کی راہ چلنے والوں کے لیے آج بھی دھوبی گھاٹ کے نشاں قائم ہیں۔۔۔چاہت میں سب کچھ لٹانے والوں کے ثبوت کو محبوب کی نگری کی ایک جھلک ہی کافی ہوتی ہے۔۔۔اسی لیے سسی کا بھنبھور آج بھی زندہ ہے۔۔۔||


مضمون نگار کی حال ہی میں جوگی، جوگ اور ٹلہ نامی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان کی تین کتب دیوسائی ، وطن، فرض اور محبت اور کوسٹل ہائی پہ ہوا کا دروازہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 86مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP