یوم دفاع

تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں 

پاکستان رینجرزاپنی دلیر ی، بہا دری ، فر ض شنا سی ، پیشہ ورانہ صلاحیتو ں اور قر بانی کے جذ بے کی وجہ سے منفر د و ممتاز ہے ۔ زمانۂ امن ہویا جنگ اس کے نظم و ضبط اور بلند حو صلے کی مثا ل نہیں ملتی ۔پا کستان رینجرز کا ہر سپا ہی ملکی سلا متی اور بقا ء کے لئے سب سے پہلے دا ئماً سا حراً دکھائی دیتا ہے ۔طو فا ن ہو یا زلزلہ ، سیلاب ہو یا آ ندھی پا کستان رینجرز  کا جوان ہر آ فت کا مقا بلہ کر نے کے لئے ہمہ وقت تیا ر ہے ۔ نہا یت مشکل اور کٹھن حالات میں بھی ہمت نہیں ہا رتا بلکہ مر دا نہ وار مقا بلہ کر تے ہو ئے دشمن کی آ نکھوں میں آنکھیں ڈال کر وطن عزیز کی حفا ظت کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن جا تا ہے ۔
پا کستان رینجرز کابہا در جو ان صحرائو ں ، میدانو ں ، کو ہستانو ں اور پہا ڑوں میں اپنے فرا ئض منصبی کے لئے ہر وقت تیا ر ، خندا ں و شادا ں نظر آ تا ہے ۔
ملکی سا  لمیت اور استحکام کے لئے اپنی کسی بھی آسا ئش کی پر وا نہیں کرتا بلکہ نامسا عد حالات کا مقا بلہ کر تے ہو ئے اپنے فرا ئض کو خو ش اسلو بی سے نبھا تا ہے ۔
افواج پاکستان اور پاکستان رینجرز کا کر دار آ سمان پر چمکتے ستاروں کی مانند ہے آ پر یشن را ہ ِنجا ت ہو یا آپر یشن ضربِ عضب، افواج ِپاکستان کے کارنامو ں کو فرامو ش نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ آ پر یشن رد الفسا د میں پاکستان رینجرزکے بہا در جو ا نو ں نے جر أت و بہادری کی جو قندیلیں روشن کی ہیں وہ قیا مت تک جگمگا تی رہیں گی ۔
شہدا ء آپر یشن ردالفساد 
آ پر یشن رد الفساد میں پاکستان رینجرز (پنجا ب) کے 5جوانو ںنے اپنی جانیں ملک پر نچھا ور کیں۔ آ پر یشن رد الفساد کا پہلا شہید سپا ہی کامران افضال جس نے پیارے ملک پاکستان کی خاطر اپنی جا ن کا نذرانہ اس نعرے کے ساتھ پیش کیا کہ جب تک ہم زند ہ ہیں کو ئی دہشت گر د ہما رے ملک کی طرف میلی آ نکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ سپاہی کا مران افضال جر أت اور بہا دری کا ایک ایسا پہا ڑتھے جس پر جتنا بھی ناز کیا جا ئے کم ہے ۔ 
14اپر یل 2017کو راجن پو ر کے علا قے میں ایک مشہو ر زمانہ دہشت گر د اصغر دادوانی کو پکڑنے کے لئے انٹیلی جنس بیسڈ آپر یشن کیا گیا۔ سپا ہی کامران افضال نے جر أ ت و بہا دری کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلا ئی دیوا ر بنے رہے متعدد دشمنو ں کو جہنم واصل کیا اور جوا بی فائرنگ سے جا م شہا دت نو ش کیا ۔ شہید سپا ہی کامران افضال کے چھو ٹے بھا ئی عد نان افضال نے بتایا کہ کا مران کی شادی کو صرف 28دن ہو ئے تھے جب وقت شہادت آن پہنچا ۔ شادی پر انہو ں نے 10دن رخصت لی تھی مگر شادی کے دو دن بعد ہی ڈیو ٹی پر پہنچ گئے ۔ حکو مت پاکستان نے سپا ہی کامران کی جرأت و بہا دری کو مد نظر رکھتے ہو ئے ستا رہ بسالت سے نوازا ۔
سپا ہی کامران کی شہادت نے ہما رے جو ا نو ں کے اند ر ایک نیا جو ش اور ولولہ پیداکیا یو ں دہشت گردوں کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے حوالدار آصف اقبال ایک نئے عزم کے ساتھ اس میدان میں اُترے، دشمن کے سامنے سیسہ پلا ئی دیورا ثا بت ہو ئے اور دہشت گردوں پر بجلی بن کے بر سے اور فا ئر نگ کے تبادلے میں شہا دت کے رتبے پر فا ئز ہوئے۔ حوالدار آصف اقبال( شہید)کے بھا ئی منظور حسین نے بتا یا کہ آ صف دو چیز یں برداشت نہیں کر سکتے تھے ایک والد ین کی آ نکھو ں میں آ نسو اور دوسری وطن کے خلاف کوئی بات۔ ایک طرف جذبہ ء حب الوطنی اس میں کو ٹ کو ٹ کر بھرا ہو ا تھا تو دوسری جا نب والدین کا احترام اور والدین سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اس نے زمانۂ طالب علمی میں ہی محنت مز دوری شروع کر دی تھی تاکہ والد ین پر بو جھ نہ بنے اور ملک سے محبت کا ثبو ت اس نے وطن کی راہ میں جا م شہا دت نو ش کر کے دیا۔ حکو مت پاکستان نے حوا لدار آ صف اقبال کی جر ٔا ت و بہا دری کو مد نظر رکھتے 
ہو ئے اسے تمغۂ بسالت سے نوازا ۔ 
 سپا ہی آفتاب احمد نے جر أ ت و بہا دری کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوںکا ڈٹ کر مقابلہ کیا، متعدد دشمنو ں کوانجام تک پہنچایا اور فا ئر نگ کے تبادلہ میں جا م شہا دت نو ش کیا ۔سپا ہی آفتاب احمد شہید کے چچا صوبیدا ر(ریٹا ئر ڈ) غلام مجتبیٰ کا خیا ل ہے کہ ان کے شہید بھتیجے کو شہا دت کی خبر غیب سے مل چکی تھی اور اس حوالے سے وہ بہت جلد ی میں تھا ۔ شہادت سے چند روز قبل دو دن کی چھٹی پر گھر آیا تو اس نے اپنی ما ں سے کھلے لفظو ں میں اس کا اظہار کیا اور اپنی ما ں کو صبر کی تلقین کی۔ اپنے دو روزہ قیا م کے دو ران وہ سب سے ملنا چا ہتا تھا اور شہا دت کی آرزو نے اسے اس قد ر بے چین کر رکھا تھا کہ نما ز فجر سے قبل ہی گھر سے روانہ ہو نے کے لئے تیا ر تھا حالانکہ معمول کے مطا بق وہ بعد از نماز روانہ ہو تا تھا ۔ حکو مت پاکستان نے سپا ہی آفتاب احمد کی جر ا ٔت و بہادری کو مد نظر رکھتے ہو ئے ستا رۂ بسالت سے نوازا ۔ 
سپا ہی محمد تنویر بھی جذ بہ حب الوطنی میں سر شار ہو کر میدان میں اترے اور شدید فا ئر نگ کے باوجو دثا بت قد می سے آگے بڑھتے رہے اور دہشت گردوں کی فا ئر نگ کی زد میں آ کر شہا دت کے رتبے پر فا ئز ہو گئے۔ سپا ہی محمد تنویر کے مامو ں صوبیدا ر (ریٹا ئر ڈ) محمد اسلم کے مطا بق شہید بچپن سے ہی کچھ کر گز رنے کا خواہش مند تھا ۔ دراصل اس کے اسی جو ش وجذ بہ نے اسے رینجرز جو ائن کرنے پر مجبور کیا اور بھر آخر کا ر ایک دن کچھ کر گز رنے کا وقت آیا تو وہ کر گزرا اور سر خر و ہو گیا۔ حکو مت پاکستان نے سپا ہی محمد تنویر کی جر أ ت و بہا دری کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے تمغہ ٔبسالت سے نوازا ۔ 
سپا ہی عزیز اللہ نے بھی جان کی پر وا نہ کر تے ہو ئے متعدد دشمنو ںکو کیفرِکردار تک پہنچا یا۔ فا ئر نگ کے تصادم میں اپنی جا ن جا ن ِ آفریں کے سپر د کی ۔
سپا ہی عز یز اللہ کے بھا ئی بختیا ر خان نے بتا یا کہ عز یز اللہ ایک عر صہ سے شہادت کا پختہ عزم لئے ہوئے تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھی ما ں اسے شادی کے لئے قا ئل کر نے کی کوشش کر تی ، وہ ٹال دیتا اور واشگاف انداز میں کہتا  ''ماں میں نے شہید ہو نا ہے میرا شادی سے کیا کا م'' حکو مت پاکستان نے سپا ہی عزیزاللہ کی جر ا ت و بہا دری کو مد نظر رکھتے ہو ئے اسے  تمغۂ بسالت سے نوازا ۔
آ پر یشن رد الفساد کے 5جو ا نو ں نے یکے بعد دیگرے اپنی جا نو ں کے نذرانے وطن عزیز کی خاطر پیش کئے اور اس با ت کو سچ ثابت کر دیا کہ 
اے وطن تونے پکا را تو لہو کھو ل اٹھا 
تیر ے بیٹے تیرے جا نبا ز چلے آتے ہیں 
 افوا ج پاکستان کا یہ قدم ملکی استحکام اور بقا ء کے لئے خوشحا لی کا پیغام لیکر آئے گا ۔ پنجاب رینجرز کا ایک ایک جو ان اپنے ساتھیو ں کی شہا دت پر نا زاں ہے کہ اگر جا نو ں کا نذرانہ دے کر ملکی سر حدو ں کے اندز دہشت گر دی کو ختم کر کے امن کا پر چم لہرا یا جا سکتا ہے تو ایسی ہزار جا نیں اس وطن عزیز پر نچھا ور کر نے کے لئے ہم ہر وقت دا ئماً سا حراً   ہیں۔ ||

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP