ہمارے غازی وشہداء

تیرے بن جینا مشکل تو ہے۔۔۔


میں کیسے بتائوں کہ مجھے میرا ناصر کتنا یاد آتاہے۔ کبھی پیچھے سے آواز دیتاہے ماما میں یہاں ہوں ،کبھی مسکراتی آنکھوں کے ساتھ سامنے آجاتاہے پھر ماں کو لگتاہے کہ جیسے وہ ابھی آگے بڑھ کے ماں کے گلے لگ جائے گا اور ماں ماتھا چوم کے کہے گی اتنی دیر کردی آنے میں بیٹا کب سے  منتظر تھی۔
ماں کی ہر اولاد اس کے جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے ناصر حسین خالد سلہریا( شہید) تو ماں کا سہارا بھی تھا۔ 
لیفٹیننٹ ناصر( شہید) ساڑھے تین سال کی عمر میں یتیم ہوگئے۔ ان کے والد خالد نصیرASIتھے جو شادی کے ساڑھے چار سال کے بعد گھر چھٹی آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے۔ ناصر( شہید) اس وقت موت کے معنی سے بھی ناآشنا تھے۔ وہ جب سکول میں بچوں کے بابا کو دیکھتے تو ماںسے سوال کرتے کہ میرے بابا کہاں ہیں؟ تو ماں کہتی آپ کے بابا سعودی عرب گئے ہوئے ہیں۔ اس بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ناصر( شہید) کے دادا ابو باہر سے جاکے آواز بدل کے ناصر( شہید) سے اس کے بابا بن کے فون پر بات کرتے ،پھر کھلونے اور چاکلیٹس لے آتے کہ تمہارے بابا نے بھیجے ہیں۔ جب انتظار ناصر( شہید) کے لئے اذیت بن گیا تو ماں کو بتانا پڑا کہ بیٹا تم…!
وجود کی طرح لفظوں کا بھی لمس ہوتاہے۔ لہجے بھی چھونے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ماں کی خاموشی اور سسکیوں میں ابھرتے ڈوبتے ٹوٹے پھوٹے لفظوں نے ناصر( شہید) کو بہت کچھ سمجھا دیا۔ اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ بابا کی گود سے گر کے اچانک بڑا ہوگیاہے۔ اس کی آواز اپنی عمر سے پہلے ہی بھاری، قد دراز اور سوچ پختہ ہوگئی۔ ناصر( شہید) کی والدہ کے تمام قریبی رشتہ دار اِن کے لئے محبت کا سمندر بن گئے اور ہر وقت ان کی دلجوئی میں لگے رہنے لگے،ناصر(شہید) نے اپنے بھائیوں اور بہن کو اپنی محبتوںکے سائے میں لے لیا۔وہ کتنا بھی افسردہ ہوتااپنے بہن بھائیوں کے سامنے ہنستا مسکراتا اور چٹان کی طرح مضبوط رہتا۔ماں کے دلسوز لمحات میں وہ ماں کو ڈھارس دیتا اور کہتا، ماں آپ اس دنیا کی سب سے پیاری ماں ہیں۔ وہ ماں کے لئے خودشاپنگ کرتا اور انہیں کبھی بھی ڈپریشن میں نہیں جانے دیتا تھا۔ ناصر(شہید) کے دادا ابو ریٹائرڈصوبیدار محمدنصیرسلہریا تھے۔ ان کی اور ناصر (شہید) کے والد کی خواہش تھی کہ ناصرشہید فوج میں جائے۔ انتہائی محنتی اور ذہین ہونے کی وجہ سے وہ ہرجماعت میں ٹرافی اور ہر سرگرمی میں انعام لیتا۔زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے جب شعبے کے انتخاب کی باری آئی تو کوئی اسے میڈیکل میں بھیجنے کی بات کرتا کوئی بابا کی طرح پولیس میں، میڈیکل میں جانے کی خواہش ناصر(شہید) کی بھی تھی مگر اس نے میرٹ پہ آنے کے باوجود اس لئے فوج میں جانے کا ارادہ کیا کہ ماں کب تک میرے میڈیکل کے خرچے برداشت کریں یہ وقت ہے کہ مجھے ماںکا سہارا اور بہن بھائیوں کا آسرا بننا ہے۔ اس نے بڑے ہونے کا کردار ادا کیا اور اپنی زندگی میں قربانی کی پہلی اینٹ لگائی۔ناصر(شہید) کو اپنے پرچم سے اتنی محبت تھی کہ جو بھی لباس پہنتا اس پہ پاکستانی پرچم کا بروچ لگا ہوتا۔ ناصر(شہید) کے والد کے انتقال کے بعد جب ناصر ساڑھے تین سال کے سہیل اڑھائی سال کے علینہ ڈیڑھ سال کی تھی تو ان کی والدہ نے اپنی پڑھائی کا سلسلہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایف اے کا داخلہ بھیج کر دوبارہ شروع کیا۔ ناصر(شہید) کا چھوٹا بھائی محمد احمد اپنے والد کے انتقال کے پانچ ماہ بعد پیدا ہوا، سخت مشقت بھری زندگی کا آغاز ہوچکا تھامگر جس طرح فوجی افسر کی بیگمات بہادری کی مثال ہوتی ہیں اسی طرح سے پولیس آفیسر کی بیگم نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ بی ایڈکیا، اسلامک سٹڈیز میں ماسٹرکیا، آکسفورڈیونیورسٹی کے بہت سے کورسز کئے اورپھرمظفرآباد سٹی سکول میں پڑھانا شروع کیا تو2005ء میں زلزلہ آگیا۔ زمین پھٹنے سے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے جنگل کے جانور چنگھاڑ رہے ہیں، ناصر کی والدہ کو بچوں کی فکر تھی ناصر(شہید) بہت زخمی ہوچکا تھا اور سہیل بیٹا مل نہیں رہاتھا دو دن کے بعد سہیل ملا اور ناصر (شہید)کی والدہ زخمی بچوں کو لے کے پنڈی آگئیں۔ ناصر(شہید) کو ان حالات میں بھی ماں نے روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ماں نے کہا ناصربیٹا تمہیں اتنے زخم لگے ہیں تودرد نہیں ہوتا کیا؟ تو ناصر(شہید) کہتا، ہوتاہے ماں !تو ماں نے کہاپھر روتے کیوں نہیں؟ناصر(شہید) نے پوچھا، کیا بابا روتے تھے؟توماں نے کہا نہیں بیٹا، وردی پہننے والے رویا نہیں کرتے۔ توناصر(شہید)نے جواب دیاکہ میں بھی تو وردی پہننے والے کا بیٹا ہوںتومیری آنکھوںمیں آنسوکیسے آسکتے ہیں ماں۔ فوج میں جانے کی خواہش وطن سے محبت کی انتہا تھی۔ جب اس کا ISSBکا وقت آیا تو ماں کے ساتھ جانے کے لئے  راضی نہ تھا کیونکہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں بڑا ہوگیا ہوں اور آپ نے مجھے اتناپر اعتمادکردیاہے کہ اکیلا پوری دنیا پھر کے آسکتا ہوں، مگر ماں تھی ،ان کا دل نہ مانا اور وہ اس کے ساتھ چلی گئیں۔
ماں تو ہر وقت شکرانے کے نفل ادا کرتی، اپنے بچوں کی کامیابیوں کے لئے روزے رکھتی، آیت الکرسی کا ورد اور آیت کریمہ کی تسبیح، ان ہی کے حصار میں تو ماں بچوں کو رخصت کیا کرتی ہے۔ سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کی ماں نے بھی تو انہیں انہی تمام آیتوں کے حصار میں رخصت کیا تھا، مگر مائوں کویہ بھی پتہ ہے کہ یہ نوافل آیات اور روزے بلائیں ٹالتے ہیں لیکن شہادت تو اللہ کا انعام ہے۔ 
ناصر(شہید)PMA کے لئے سلیکٹ ہوئے ۔وہ ٹریننگ کے دوران نہ اپنے فرائض سے غافل رہے نہ ماں اور بہن بھائیوں سے۔PMA کی ٹریننگ کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے پر  انہیں آسٹریلیا کے لئے نامزد کردیاگیا۔جانے سے پہلے ناصر(شہید) نہ جانے کتنی طویل ہدایات بہن بھائیوں کو دیتے رہے۔ یقیناً رخصتی کے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو آئے ہوں گے مگر وہ مسکراتے ہوئے جہاز کی سیڑھیاں چڑھ گئے۔ جہاز اڑتے ہی جو مسیج ماں کو موصول ہوا وہ یہ تھا کہ ''ماں کاش میں جاتے ہوئے اپنے وطن کی مٹی کو چوم لیتا''۔
آسٹریلیا میں اپنے کمرے میںناصر(شہید)نے دیوار جتنا جھنڈا لگایا ہوا تھااور آفس جاتے ہوئے اسے چوم کے جایا کرتے۔ چھوٹی عمر میں ماں کو جو عبادت کرتے دیکھا تو تہجد اور پانچ وقت نماز کی عادت پختہ ہوچکی تھی۔
ناصر(شہید) نے وہاں سے ماں کو خط لکھا، ''ماں میں سوچتا ہوں بابا کے بعد آپ نے ہمارے لئے کتنی محنت مشقت کی، پڑھائی بھی جاری رکھی، بچے بھی سنبھالے اور نوکری بھی کی۔ کیا آپ کو کبھی بخار نہیں ہوا تھا؟اورمجھے یقین ہے کہ آپ نے اس لئے چھٹی نہیں لی ہوگی کہ کہیںآپ کی تنخواہ نہ کٹ جائے،آپ زیرو کا بلب جلاکر اکثر رات بھر پڑھتی تھیںاور میں نے کئی بار آپ کی سسکیاں بھی سنی تھیں، مگر ماں اب وقت بدل جائے گا، ان شاء اللہ آپ کی زندگی آپ کا یہ بیٹا فانوس کی روشنی سے جگمگادے گا''۔ماں کو جب بیٹے کا خط ملا تو اُسے پڑھتے پڑھتے آنسوئوں سے پورا خط بھیگ گیا۔ 
ناصر(شہید) کی تربیت کا اثرچھوٹے بھائی سہیل احمد سلہریا پریہ ہواکہ اس نے بھی فوج جوائن کرلی تاکہ بھائی کا بازو بنے ان بچوں کا خواب وطن کی سربلندی اور ماں کی خدمت تھا۔
ناصر(شہید) 2017ء میں آسٹریلیا گیا اور18ماہ کے بعد واپس آیا، وہاں بھی اس نے بہترین کیڈٹ کا ایوارڈ لیا۔  ناصر (شہید)نے بہن علینہ کو کہا کہ تم اپنے سارے خواب پورے کرنا، علینہ کو ناصر(شہید) بہن کم اور بیٹی زیادہ سمجھتا تھا اس کے نازوانداز اور نخرے باپ کی طرح اٹھاتا، مگر جب ناصر(شہید) سب بہن بھائیوں کا استاد بنتا تو سب اس کے سامنے جواب دینے کے لئے ہر سوال کو یاد کرکے آتے وہ مضامین جو ابھی پڑھائے بھی نہ گئے ہوتے ناصرشہید فون پر ان کے متعلق سوالات پوچھتا اورکہتا کہ یہ میں اس لئے کرتا ہوں کہ تم سب لوگ استاد کے پڑھانے سے پہلے ہی جواب دینے کے لئے تیار ہوچکے ہو۔
ناصر(شہید) کی کمزوری غریب لوگ اور جانور تھے کسی بھی زخمی جانور کو دیکھ لیتا تو اٹھا کر گھرلے آتاجب تک وہ ٹھیک نہ ہوجاتا اسے باہر نہ نکلنے دیتے، ایک بار ناصر(شہید) کے پالتو کتے کے زخم میں کیڑے پڑگئے تو بہن بھائی نے مل کر اس کا زخم ٹھیک ہونے تک اس کے کیڑے نکالتے رہنے کا فرض ادا کیا۔
ناصر(شہید) شب وروز کی محنت پہ اتنا یقین رکھتا تھاکہ جب اس کی وزیرستان پوسٹنگ ہوئی تو اس نے دو دن میں مکمل نقشہ تیار کرکے تیسرے دن پریزینٹیشن دے دی۔GOC نے جو سوال پوچھے اس نے اس کے مطابق ہر راستہ اور علاقہ بتا دیا۔  وزیرستان میں علاقے کے بچوں اور بزرگوں کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ بہت محبت کرنے والے ہیں بس ان کو تعلیم وتربیت سے دور رکھاجاتاہے۔ جس کی وجہ سے دہشت گردی کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ وہاں پہ غربت انتہا کی ہے جس کی بنا پر لوگ چند پیسوں میں IED جھاڑیوں یا پہاڑوں میں رکھ آتے ہیں۔ گلی کوچوں سے گزرنے والے بزرگوں کو سینے پر ہاتھ رکھ کے مؤدبانہ سلام کرنا اور بچوں میں کتابیں تقسیم کرنا اس نے اپنی عادت بنالی تھی۔ناصر(شہید)کاعقیدہ تھا کہ محبت کی زبان انسان کا اسلحہ ہے۔ زبان دلوں کو فتح کرتی ہے۔ جذبہ قربانی اور محبت سے چمکتی آنکھوں میں ہردم ماں کا چہرہ دمکتا تھا اس کا کہنا تھا اِن شاء اللہ ماں آپ کو وہ زندگی دوںگا جو آپ جی نہیں سکیں۔ آپ کی ساری حسرتیں بھی پوری کروںگا اور وطن سے وفا بھی نبھائوںگا۔
24جولائی2020ء کو ناصر(شہید) وزیرستان سے چھٹی آئے تو ماموں نے کہا تمہاری ماں تمہاری جدائی میں پریشان رہتی ہے اگر تم کہو تو وزیرستان سے تبادلہ کرالیتے ہیں ۔کیونکہ ماں کے اندیشے اسے سونے نہیں دیتے۔ تو ناصر(شہید) نے کہاکہ ماموں غازی بننا یا شہید ہونا اللہ نے  ہر ایک کی قسمت میں کہاں لکھاہے ویسے بھی میںاپنے اِرد گرد کی دنیا سے تاریکی دور کرنا چاہتا ہوں لوگوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں، اِن شاء اللہ میں کامیاب ہوکر اپنی ماں کے پاس لوٹوںگا۔
انتہائی عاجزی اور فقیری کے ساتھ زندگی گزارنے والا ناصر(شہید) 2 اگست کو ماں کے ساتھ الاٹ ہوئے گھر میں سازوسامان لے کے سجاکے گیا۔ وہ ماںاور بھائیوں کے ساتھ بہت خوش تھا اس کے گھر کا چھوٹا سا خواب پورا ہوا تھا وہ بہنوں اوربھائیوں سے بھرپور شرارتیں کرتا رہاپھر 2اگست کو ماں کے گلے لگ کے کہنے لگا ماں مجھے یہ بتائیں کہ میری زندگی میں ساری کامیابیاں اتنی جلدی جلدی کیوں آرہی ہیں؟ ابھی میں22سال کا ہوں آسٹریلیا سے بھی ہو آیا ہوں ،ایوارڈز بھی مل گئے ہیں، گھر بھی الاٹ ہوگیاہے،جبکہ فوج میں اس طرح نہیں ہوتا ہر کام کاوقت ایک مدت کے بعد آتاہے۔ آج مجھے اپنا بچپن اپنے بابا کی کمر پہ بیٹھ کے گھڑسواری کرنا، دادا ابو کے ساتھ بازار جانا، آپ کی گود میں سوجانا، سب بہت یاد آرہاہے وہ جو میں نے بابا کے جوتے پہن کے چلنا سیکھا تھا وہ لمحہ بھی مجھے یاد ہے۔کتنی جلدی سب کچھ گزر گیا بابا بھی بچھڑ گئے، دادا ابو بھی، ماں کہیں میں بھی آپ سے نہ بچھڑ جائوں! ماں کا دل تڑپ رہا تھا آنکھوں سے آنسو رواں تھے وہ سسکیوں میں کہنے لگیں نہ میری جان میرے بیٹے ایسی باتیں نہ کرو میرے پاس گنوانے کے لئے اب کچھ نہیں۔ ناصر(شہید) نے آنسوئوں کو گلے سے اوپر نہیں آنے دیا اور مسکراتا ہوارخصت ہوگیا۔
2ستمبر کو ماں کو ناصر(شہید) کا میسج آیا کہ ماں میں نے آج رات آپ کو کال کرکے بہت باتیں کرنی ہیں کیونکہ پہلے ایک جگہ ڈیوٹی پہ تھا آج مجھے تھوڑی فرصت ملی ہے۔ ساتھ ہی اس نے اپنی ایک تصویر بھجوائی جس میں اس نے دو بکریاں اٹھائی ہوئی  تھیں۔ اس کے بعدناصر(شہید) کی والدہ کی رو رو کے ہچکیاں بندھ گئیں انہوں نے کہاکہ میں سوگئی نجانے کب میرے لخت جگر کی میرے چاند ناصر (شہید) کی کال آئی۔ میں کتنی بدنصیب ہوں کہ بیٹے کی آخری بات بھی نہ سن سکی۔اب یہ کسک ساری عمر میرے دل کو تڑپائے گی۔
پھر سویرا ہوا تو وزیرستان سے اس کے کمانڈنٹ کی کال تھی کہ ناصر احمد سلہریا وزیرستان میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرماچکے ہیں۔ موبائل ماں کے ہاتھ سے گرا اور ان کو ایسا محسوس ہوا کہ ان کی دنیا ہی الٹ گئی ہے۔
3ستمبر کی صبح جس آفیسر کی ڈیوٹی تھی وہ بیمار ہوگئے تو ناصر(شہید) نے رضاکارانہ طور پر IEDچیک کرنے کے لئے خود کو پیش کردیا۔ پیش تو اسے خدا کے آگے ہونا تھا ،بلاوا تو اوپر سے آیا تھا۔ناصر(شہید) اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھا کہ چند گز کے فاصلے پہ IED بلاسٹ ہوگئی جھاڑیوںکی جانب بڑھتا ہوا ایک سپاہی شدید زخمی ہوگیا،ناصر(شہید) نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پوزیشن سنبھالی اور فائرنگ شروع کردی فائرنگ کے بعد بھی جھاڑیوں میں کوئی ہلچل نہ ہوئی تو ناصر(شہید) نے کہاکہ ہمارا زخمی بھائی وہاں پڑا ہے میں اس کو لاتا ہوں یہ کہہ کر وہ آگے بڑھے ،جیسے ہی قریب پہنچے تو پھر بلاسٹ ہوگیا،ناصر(شہید) کی ریڑھ کی ہڈی میں سر کے جانب حرام مغز میں ٹکڑے (Splinter) لگے۔
ناصر(شہید) کی والدہ کی عادت تھی کہ وہ سوئے ہوئے بچوں کے بھی چہرے ہاتھ اور پائوں چوما کرتیں تھیں جب ناصر(شہید) تابوت میں اسی پاکستانی جھنڈے میں لپٹا جس کو صبح شام چومتا تھا ماں کے سامنے آیا تو ماں اس کے پائوں بھی نہ چوم سکی۔
وہ میرا بچہ نہیں تھا! وہ پوری قوم کا بچہ تھا! اب وردی میں ہر بچہ میرا ناصرحسین خالد سلہریا ہے۔ماں نے بڑا انتظار کیا تھا ناصر کے بڑے ہونے کا مگر اب ماں کا وقت ٹھہرگیاہے جیسے گلاب کی پتیوں پہ شبنم ٹھہرجاتی ہے۔
دیکھ اے وطن تیرے سپوت تجھ سے محبت نبھانے میں کتنا آگے نکل جاتے ہیں پھر بھلا تیری طرف میلی آنکھ سے کون دیکھ سکتاہے۔ ||


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 107مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP