متفرقات

تیئیس سال بعد ٹورنٹو میں

پہلا خط
12اور 13 مارچ 1993 کی درمیانی شب کا لمحہ لمحہ آج بھی یاد ہے کہ اس دن پاکستان کے کروڑوں عوام کے دلوں میں دھڑکنے والی آواز، برسوں اسپتالوں کے بیڈوں پر سسکتے اور کراہتے ہوئے یہ کہہ کر خاموش ہوگئی کہ
اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے
سو گئے، خواب سے، لوگوں کو جگانے والے
اگلے دن لاہور سے واپسی پر ڈاکو منٹری فلموں کے ممتاز ڈائریکٹر مشتاق گزدر کے ڈرائنگ روم میں شام کے پچھلے پہر سے پہلے ہی، ہم سب جالب صاحب کی جدائی کا غم غلط کررہے تھے کہ ٹورنٹو سے اشفاق حسین نے جوشاید ہم سے پہلے ہی شام شروع کر چکے تھے، خبر دی کہ اگلے مہینے مانٹر یال، ٹورنٹو ،نیویارک اور لندن میں بیادِ حبیب جالب تقار یب رکھ لی ہیں اور ان میں مجھے شرکت کرنی ہے۔ ایک تو جالب صاحب کے جانے کا غم پھر مادرِ مدہوشی کو بے دریغ گلے سے اتارنے کے بعد آدھا سویا اورآدھا جاگا ہوا تھا۔ بس اتنا ہی سمجھ میں آیا کہ باقاعدہ دعوت نامہ اور ٹکٹ جلد ہی بھیج دیا جائے گا۔
اس زمانے میں یورپ اور امریکہ جانے کی جو باتیں رات کو ہوا کرتی تھیں وہ بھلا صبح کو کہاں یادرہا کرتی تھیں کہ قلم پیٹ سے لگا ہے، جوتے کی گھسائی سے گھر کا چولھا جل رہا ہے، کراچی سے سکھر جانے کے پیسے نہیں اور یاد منانے چلے ہیں ’’پوور‘‘جالب صاحب کی۔ وہ بھی ان ملکوں میں جن کے خلاف ساری زندگی جالب صاحب علمِ بغاوت بلند کرتے رہے۔
مغرب کے چہرے پر یارو اپنے لہو کی لالی ہے 
لیکن اب اس کے سورج کی نا ؤ ڈوبنے والی ہے
مشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے چھائے ہیں
اپنی جنگ رہے گی


یہ تو خیر سے معلوم تھا کہ اشفاق جو 80 کی دہائی کے ابتدائی ایام میں صدر ضیاالحق مرحوم کے مارشل لا کی پابندیوں بلکہ بندشوں سے بیزار ہوکر نہ صرف ٹورنٹو میں اپنے قدم جماچکے ہیں بلکہ اردو انٹرنیشنل کے ذریعے شمالی امریکہ اور اس کے ارد گرد تو اتر سے ادبی ہنگامے برپا کررہے ہیں، سووہ تو رات گئی بات گئی والی دعوت نہیں دے سکتے۔ چنانچہ صبح شام زادِراہ کے منتظر رہتے۔ اب اس زمانے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی وبا تو چلی نہیں تھی اس لئے ہمہ وقت دفتر کے فون پر نظر رہتی۔ سو ایک دن سارے سفری لوازمات کے ساتھ اشفاق نے خبر دی کہ پہلا پڑاؤ مانٹریال اور پھر اس کے بعد ٹورنٹو، نیویارک اورلندن کا دو ہفتے کا پروگرام ہے۔
اس وقت تک ہم جالب صاحب پر کوئی باقاعدہ تحریر نہیں لکھ پائے تھے۔ دو تین صفحے کی ’’نعرہ بازی‘‘ سے ان کی زندگی میں کام چل جاتا تھا۔ یوں بھی جالب صاحب کی جو تقریب ہوتی، اس میں ان کو سننے اور دیکھنے کے علاوہ میں شاید کوئی دو چار منٹ ہی کسی اور کو برداشت کر پاتا تھا۔
دوستو! یہ تمہید اس لئے باندھی کہ وہ اشفاق حسین ہی کی دعوت تھی جس کے سبب ہم نے جالب صاحب پر اپنا پہلا تفصیلی مضمون باندھا جو جالب صاحب پر ہماری تصنیف کی بنیاد بنااور جس کے اب تک پانچ ایڈیشن آچکے ہیں۔


23 سال پہلے مانٹریال سے ٹورنٹو کی سرسبزوشاداب وادیوں سے گزرتے ہوئے پر پیچ راستے یاد ہیں، اور نہ ہی ان شہروں میں پہلی بار روشن سڑکوں کے کلبوں میں گزری شامیں۔مگر یہ ضرور یاد ہے کہ ان شہروں میں جالب صاحب کے حوالے سے ہمیں جو پذیرائی ملی تو اس کا نہ رکنے والا سلسلہ گزشتہ 23 سال سے مستقل جاری ہے۔ یہ جالب صاحب کی ذاتی اور فکری وابستگی کا ہی اعجاز ہے کہ جس نے ہم کو ’’قلم کے سودے‘‘ میں لگا دیا۔


تمہید طویل ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ 23 برس تک کینیڈا نہ آنے کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ رہے اشفاق تو ان کے تو سال میں دو تین پھیرے ہمارے شہر کے ہوتے ہی رہتے ہیں اور ہر پھیرے میں وہ آنے کی دعوت بھی دیتے رہتے ہیں مگر اس بار جو دعوت ملی تو جالب صاحب تو حوالہ تھے ہی مگر یہ بھی سوچا کہ بھر پور جوانی میں وطنِ عزیز کو سرخ سلام کہتے ہوئے جو یار عزیز یہاں آگئے ہیں تو ذرا دیکھا جائے کہ وہ ہماری طرح بوڑھے ہوتے ہوئے ابھی بھی عشاقِ انقلاب کے قافلے میں شامل ہیں یا ’’بیوی بچوں‘‘ کے مستقبل کے لئے جوتیاں گھسیٹتے، پیر لہولہان کئے، انگلیاں فگار کئے، اولڈ ایج ہوم جانے کے دن گن رہے ہیں۔ ادھر ادھر سے خبریں ملتی رہیں کہ اشفاق کے ساتھ ساتھ پریس کلب کے یارانِ عزیز لطافت صدیقی، نجم الحسن رضوی، افسر نقوی اور انتظار زیدی ابھی تک انقلابی قبیلے کے اسی طرح وفادار ہیں۔ پھر سندھ کی افسانہ نگار شہناز شورو اور سندھی ادبی سنگت کے بارے میں بھی اچھی ہی خبریں ملیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ شام جی کا بھی ان دنوں ٹورنٹو ہی میں قیام ہے بلکہ وہ امیگریشن لے کراب یہاں کے باقاعدہ شہری بھی بن چکے ہیں۔ یوں جب ٹورنٹو ایئرپورٹ پر ایک ہی سانس میں نام بہ نام اشفاق سے ان سب کی خیریت معلوم کی تو یہ عقدہ کھلا کہ وہ ان سب سے ملاقات کا پروگرام پہلے ہی بنائے بیٹھے ہیں۔


یہ لیجئے پہلی شام تو مسی ساگا کے اسکوائرون کے ایک شاندار کینیڈین تفریح گاہ جامِ شب میں گزر گئی جہاں ’’چہار درویشوں‘‘ یعنی لطافت، اشفاق، نجم اور انتظار کے ساتھ خوب باتیں ہوئیں۔ دوسرا دن اپنے بدایوں بریلی کے سسرالی مگر نظریاتی دوست سلمان قریشی کی ہمراہی میں شہر کی رونقوں سے آنکھوں کو تروتازہ کیا۔ ارے تیسرا دن آنے والا ہے۔ چوتھے دن روانگی ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کینیڈا آیا جائے اور نیاگرافال نہ دیکھی جائے؟
23 سال پہلے کی وہ شام یاد آرہی ہے جو نیاگرافال کے پہلو سے لگے بار میں گزری تھی۔ نیاگرافال کے شور میں ہم مشربوں کے ساتھ شاداں و فرحاں اشفاق کے مترنم شعر ذہنوں میں گونجنے لگے:
کئی موسم گئے پر ہجرتوں کا دکھ ابھی تک ہے
یہ سناٹا میرے اندر کا میری زندگی تک ہے
سکوں ملتا ہے بے آنگن گھروں میں میرے بچوں کو
کھلے دالان کی خواہش تو میری ہی نسل تک ہے


دوسرا خط
جن روزوں ہم درویش ہوئے
میر تقی میر یاد آ رہے ہیں:
جن روزوں درویش ہوئے ہم، پاس ہمارے دولت تھی

میر کے اس مصرعے کی مناسبت سے ٹورنٹو پہنچے تو یہ خیال آیا کہ روزوں یعنی رمضان میں ہمارے یارِ عزیز اشفاق حسین ہمارے لئے کیسے کوئی تقریب برپا کر سکیں گے کہ ادھر ان ملکوں میں جو دہائی اوپر سے آنے کا تجربہ ہوا تو معلوم ہوا کہ مغرب کے پاکستانیوں میں بھی یہ معیوب ہی سمجھا جاتا ہے۔ ادھر ہمیں یہ برسوں سے عادت بلکہ علت لگی ہے کہ شام آئی تو یہ سمجھے کہ پری آئی ہے۔یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ7 بج گئے 8 بج گئے بلکہ 9 بجنے والے ہیں مگر سورج ہے کہ ڈوبتا ہی نہیں کہ شاعرِ خرابات عبد الحمیدعدمؔ کی پیروی میں خرابات کا دروازہ کھلے اور زہرہ جبینوں کی مناجاتوں کے ساتھ محفل برپا کی جائے۔ ہئے ہئے کیسے اس شاعرِ بے مثال کو پی آر نہ ہونے کے سبب نقادانِ ادب کھا گئے اور عدم سے پہلے اور بعد کے دوسرے اور تیسرے درجے کے شعرا کو محض پی آر اور نظریاتی گروپ بندی کے کھاتے میں فیض اور فراق سے بھی بڑے ادبی منصب پر فائز کر دیا۔
یہ لیجئے جس سبب آنا ہوا وہ پھر پیچھے رہ گیا کہ آنا تو رمضان سے پہلے مرحوم جمیل الدین عالی کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب میں تھا مگر ہمیں کینیڈا کا ویزا اس تقریب کے دو دن بعد ملا۔ ادھر اشفاق نے طے کر لیا تھا کہ اگر عالی جی کی تقریب میں شرکت نہیں ہو رہی تو میں اپنی تازہ تصنیف ’’غالب جالب‘‘کے ساتھ آجاؤں۔۔۔۔۔
یہ بھی بتاتا چلوں کہ ادھر امریکہ اور یورپ کے مختلف شہروں سے جو بلاوے آتے ہیں، ان میں پہلا خوف وہاں کے ایئر پورٹوں پہ ہونے والے امیگریشن کے سخت چہروں اور کھردری انگلیوں کا ہوتا ہے کہ نہ جانے کتنی دیر میں مہر لگائیں۔ مگر ٹورنٹو کا ایئرپورٹ ایک تو نسبتاًچھوٹا ہے پھر ہماری فلائٹ کے وقت قطار بھی انتہائی مختصر تھی۔ امیگریشن پہ بیٹھی خاتون نے بھی مسکراتے ہوئے دو منٹ میں فارغ کر دیا۔ کسٹم والے سرے سے تھے ہی نہیں۔ اگلے دس منٹ میں اشفاق اپنی کشادہ بانہوں سے ٹورنٹو میں ہمیں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔
جالب صاحب کے حوالے سے دنیا میں جہاں بھی کوئی تقریب ہو وہاں ہمیشہ جتنوں کو دعوت دی جاتی ہے اس سے دُگنی حاضری ہوتی ہے۔ اشفاق کے پرشکوہ بنگلے کا کشادہ بیسمنٹ دوستوں سے چھلکا پڑ رہا تھا۔ صدارت اپنے شام جی کی تھی جن کے بارے میں اشفاق پہلے ہی خوشخبری دے چکے تھے کہ کچھ دنوں قبل ہی وہ کینیڈا میں امیگرنٹ ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ مجھے فکر یہ ہو رہی ہے کہ کیا شام جی اب یہیں کے ہو رہیں گے؟ ان کی ساری صحافتی معرکہ آرائیاں تو وطن عزیز ہی میں ہیں۔
تقریب کے بعد کینیڈا میں آن بسے بھولے بسرے یارانِ انقلاب دعوتیں دے رہے تھے کہ شام ان کے ساتھ گزاری جائے۔ اب ادھر معاملہ یہ ہے کہ:
راتاں چھوٹیاں تہ یار بہت
تو کِنوں کِنوں کا مان رکھے
پہلا حق تو یونیورسٹی کے زمانے اور پیغمبری دور کے دوستوں کا تھا ’سو افسر نقوی، لطافت علی صدیقی، انتظار زیدی اور نجم الحسن کے لئے پہلی شام رکھی۔ پھر ہمارے واجد شمس الحسن صاحب کے حوالے سے قریب آنے والے سابق سیکریٹری راشد لطیف اور ان کے بھائی ذاکر انصاری کے لئے ایک شام مخصوص کی۔ ہاں پہلے بھی لکھا تھا کہ ٹورنٹو میں شام 9بجے ہوتی ہے اس لئے کچھ ایسا اہتمام رکھا کہ ایک شام میں دو شامیں ہو جائیں۔ ذرا خشک شام ان بزرگ دوستوں کے ساتھ کہ جن کا احترام واجب ہوتا ہے اور پرکشش تادیر شام اپنے شہر کے یارانِ آوارگان کے ساتھ ہر شام میں اشفاق حسین اور انتظار زیدی کی شرکت لازمی ٹھہرتی تھی۔خشک شام سے مراد زاہدانِ خشک کے زمرے میں نہیں لیجئے گا۔ پر کشش شاموں کی تفصیل میں اس لئے نہیں جاؤں گاکہ آئندہ بھی ٹورنٹو جانا ہے۔ ان دوستوں کی بیویوں کی نظر سے یہ خط گزر گئے تو گھر کے بیسمنٹ تو کیا برآمدے میں بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔


تیسرا خط 
ذرا نیا گرافالز چلتے ہیں
روانگی اگلے دن ہے مگر نیا گرافالز کے لئے کوئی شام نہیں نکل پارہی ہے۔ ٹورنٹو میں میرے مستقل میزبان اشفاق حسین نے جب یہ جملہ لگایا کہ اگر نیاگرافالز دیکھے بغیر کینیڈا سے چلے گئے تو مجھ پر تہمت لگے گی پھر تمہاری ذہنی حالت پر بھی شبہ کیا جائے گا کہ ایک تو ہفتہ بھر کے لئے کینیڈا گئے ،وہ بھی ٹورنٹو میں رہے مگر ایک گھنٹے کے فاصلے پر دنیا کے سات بڑے عجوبوں میں سے ایک عجوبہ نیاگرافالز نہ دیکھ سکے کہ جس کو دیکھنے کے لئے ساری دنیا سے خاص طور پر لوگ آتے ہیں۔ سو اشفاق نے جانے سے ایک دن پہلے یہ اہتمام کیا کہ یہاں کی مقامی سندھی ادبی سنگت کے دوستوں کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ ہمیں بحفاظت نیا گرافالز لے جائیں اور شب کے آخری پہر سے پہلے واپس لے آئیں ۔ صحافی ممتاز شرنا راض تھے کہ کراچی میں ہمارے ٹی وی چینل کے بیوروچیف اور مشترک دوست رفیق بھٹو کی تواتر سے ڈانٹیں پڑ رہی ہیں کہ ابھی تک سندھی دوستوں سے سنگت کیوں نہیں کرائی؟ سو بدھ کی شام روہڑی سے تعلق رکھنے والے احمد ملک کی پجیرو میں ڈاکٹرشاہد،ڈاکٹر مرلی، ممتاز شر اور اپنے انتظار زیدی کے ساتھ نیاگرافالز کے لئے روانگی ہوئی۔
احمد ملک سے ہماری پہلی ملاقات تھی مگر گھنٹے بھر کے سفر میں جب کچہری ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کے والدِ محترم اور ہمارے ماموں اخلاق علی روہڑی سیمنٹ فیکٹری میں ساتھ کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر مرلی اور ملک صاحب سے چند گھنٹوں میں وہ محفل جمی کہ لگتا تھا کہ برسوں سے نہیں بلکہ دہائیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ پھر احمد ملک جو میڈیکل سرجیکل سپلائی کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ ٹورنٹو بلکہ اس کے اطراف کے شہروں اور ان سے ملنے اور بچھڑنے والی شاہراہوں کی تاریخ ایسے بیان کر رہے تھے کہ جیسے پشت ہا پشت سے یہاں کے باسی ہوں۔ 23 سال پہلے نیاگرافالز کو محض ایک رخ سے دیکھا تھا۔ سیکڑوں فٹ کی بلندی سے گرتے ہوئے پانی کی ہیبت نے ایک عجیب سماں پیدا کر دیا تھا۔ اس بار ملک صاحب نے ایک نہیں بلکہ ہر رخ سے نیاگرافالز کے اردگرد کی نہ صرف تفصیل سے سیر کروائی بلکہ تاکید کی کہ امریکہ میں داخل ہونے کے لئے آئندہ نیاگرافالز سے جانے والا راستہ پکڑیں جو کار یا ریل سے آٹھ نو گھنٹے کا ہے۔


نیاگرا سے واپسی پر ملک صاحب نے مکیش کے ایسے ایسے بھولے بسرے گیت سنوائے کہ جنہیں اب وطن عزیز میں سننے کا کہاں وقت ملتا ہے۔میں نے ملک صاحب سے کہا کوئی اپنے ہاں کا بھی گیت ہے؟ ملک صاحب کی انگلیوں نے حرکت کی اور سروربارہ بنکوی مرحوم کی غزل مشہور موسیقار روبن گھوش کی موسیقی میں رونا لیلیٰ کی آواز میں گونجی:
ہمیں اپنا نہیں جانِ تمنا غم تمہارا ہے
کہ تم کس پہ ستم فرماؤ گے جب ہم نہیں ہوں گے


ضبط کے باوجود آنکھوں نے ساتھ نہیں دیا، بہتے ہوئے آنسوؤں میں سرور صاحب کی یاد نے بہت تڑپایا۔ کیسے خوبصورت شاعر اور وضع دار انسان تھے۔ سقوطِ ڈھاکہ ایک بہت بڑا المیہ تھا۔ اسی المیے نے سرور صاحب کو دوسری ہجرت سے دوچار کیا۔ اس المیے نے کیسے کیسے ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور دانشوروں پر ایسے غم و اندوہ کے پہاڑ توڑے کہ 1947کی ہجرت بھی پیچھے رہ گئی۔ نیاگرافالز سے رخصت ہوتے وقت سرور صاحب کی یاد نے وطنِ عزیز کی یاد کو اور بھی تازہ کر دیا۔ یوں بھی اگلے دن وطنِ عزیز کو واپس لوٹنا ہے سو خدا حافظ ٹورنٹو۔


[email protected]


انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ
وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ
یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں
کسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤ
وہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوری
اُنہیں میں بھی کیوں سُناؤں انہیں تم بھی کیوں سُناؤ
یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا وہ پھر نہ آیا مری بات مان جاؤ
کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فرازؔ کب تک
جو تمہیں بھُلا چکا ہے اُسے تم بھی بھول جاؤ

احمد فراز

***

یہ تحریر 52مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP