قومی و بین الاقوامی ایشوز

تیئس مارچ

وہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز

نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود

ہوتی ہے بندۂ مؤمن کی اذاں سے پیدا

وہ لمحے جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنتے ہیں وہ ساعتیں جو روزوشب کی مسافتوں میں سنگ میل بنتی ہیں۔ وہ گھڑیاں جوصدیوں کی دیواریں پھاند کر تمام زمانوں کو اپنی گرفت میں لے کر مسکراتی ہیں، انسانی عزم و ہمت اور جہد مسلسل کی پذیرائی و کامرانی کا معیار بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی گھڑیوں، ایسے ہی لمحوں اور ایسی ہی ساعتوں میں قوموں کی تشکیل ہوتی ہے۔ برصغیر پاک وہند میں بھی ایک قوم تشکیلِ نو کے مراحل سے گزر رہی تھی۔ یہ وہ قوم تھی جو غلامی کے بوجھ تلے دبے ہوئے انسانوں پرمشتمل تھی۔ یہ وہ انسان تھے جو جہالت ، استحصال اور ظلم و جبر کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں راستہ دکھانے والا کوئی نہ تھا۔ یہ وہ ہجوم تھا جسے ترتیب و تشکیل کی ضرورت تھی۔ آنکھیں خلاؤں میں گھور رہی تھیں، ساعتیں گوش برآواز تھیں کہ ایک صدا ابھری

اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

اور پھر یہ ہجوم اس آواز کی سمت دیوانہ وار لپکا۔ یہ آواز مفکرِ اسلام ، شاعرِ مشرق، مصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اﷲ علیہ کی آواز تھی۔ اس آواز نے اس ہجوم کو ایک قوم بننے کا شعور بخشا۔ یہ آواز آگے چل کر 1930ء میں مسلم لیگ کے اجلاس الہ آباد میں صدارتی خطبے کی شکل میں حقیقی معنوں میں ایک الگ وطن کے تصور میں ڈھل گئی۔ انہوں نے فرمایا

’’مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ اسلامی مملکت کا قیام کم از کم شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کی قسمت میں لکھا جا چکا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے کلچر، روایات اور رسوم کے تحفظ اور فروغ کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کر سکیں۔ انہیں اگر یہ یقین دلایا جائے کہ پنجاب، سندھ، سرحدی صوبے اور بلوچستان کو ملا کر ایک الگ اسلامی ریاست قائم کردی جائے گی تو میں حصولِ آزادی کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے آمادہ ہوں‘‘۔

بعدازاں1932ء میں کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ہندوستانی مسلم طالب علم چوہدری رحمت علی نے اپنے مشہور زمانہ پمفلٹ NOW OR NEVER یعنی ’’ابھی یا کبھی نہیں‘‘ میں اقبال کے اسی تصور کو پاکستان کا نام دیا ۔ خود ان کے الفاظ میں : ’’پاکستان کا لفظ میں نے خود تخلیق کیاہے۔ یہ فارسی اور اردو دونوں زبانوں کا لفظ بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے پاک لوگوں کا وطن۔ ایسے لوگ جو روحانی طور پر پاک صاف ہوں‘‘۔

چوہدری رحمت علی حضرتِ اقبال سے بہت زیادہ متاثر تھے اور قبل ازیں لندن میں ان سے ملاقات کر چکے تھے۔ گویا اقبال نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اور اس میں یہ شعور بیدار ہوگیا تھا کہ مسلمان اپنی تہذیب، تمدن، معاشرت، ثقافت اور اخلاقی اقدار کے اعتبار سے کسی بھی دوسری قوم سے قطعاً مختلف ہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب اقبال کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے عزم و استقلال کا ایک پیکرِ عظیم اس ہجوم بے پناہ کو ربط و ضبط کی لڑی میں پرونے کے لئے آگے بڑھا اور پھر یہی ہجوم ایک عظیم قوم کی شکل اختیار کر گیا

ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی

وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگیں

قائداعظم کے اس قول میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان اسی دن قائم ہو گیا تھا جب برصغیر میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ یہی دو قومی نظریے کی عمارت کی پہلی اینٹ تھی اور میں یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں کہ تحریک پاکستان کا آغاز سندھ میں مجاہد اسلام محمدبن قاسم کی آمد کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ یہ تحریک اپنے جلو میں بے شمار عظیم ہستیوں کو لئے ہوئے آگے بڑھتی رہی اور آخر قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے منزل آشنا کیا۔ 1906ء میں مسلم لیگ کے قیام سے 1947ء تک کے مختصر عرصے پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ قائد اعظم اور ان کے جاں نثار ساتھیوں نے تحریک پاکستان کو قیام پاکستان تک لانے میں کس قدر جدوجہد اور کوشش پیہم کو شعار بنایا۔

23 مارچ 1940ء کا دن شاہد ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے تمام سرکردہ رہنما منٹو پارک میں موجود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت میں مسلمانانِ ہند کے کاروانِ آزادی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ یومِ پاکستان اسی کاروان آزادی کے جادۂ منزل کا ایک اہم ترین سنگِ میل ہے

میری تاریخ کا اک بابِ منور ہے یہ دن

جس نے اس قوم کو خود اس کا پتا بتلایا

مارچ کا مہینہ موسم بہار کہلاتا ہے۔ اس مہینے میں زندگی کروٹ لے کر بیدار ہوتی ہے حسن و جمال شباب آشنا ہوتا ہے۔1940ء کا ماہِ مارچ بھی بہار کا موسم تھا مگر اس بہار کو مسلمانوں نے اپنے خون سے سینچا تھا۔23 مارچ سے صرف چار دن پہلے لاہور کی مساجد خاکساروں کے خون سے رنگین ہوچکی تھیں۔ لاہور سوگوارتھا۔ فضا میں آہیں اور سسکیاں بسی ہوئی تھیں۔ مسلمانوں میں انتقام کے جذبات بھڑک اُٹھے تھے۔ ایسے حالات میں ہندوستان کے مسلمان اپنی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کے لئے لاہور میں جمع ہورہے تھے۔ اس تاریخی فیصلے کے لئے شاہی مسجد کے قریب آل انڈیا مسلم لیگ کے زیراہتمام ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہو رہا تھا۔ اس جلسے میں شیربنگال مولوی اے کے فضل الحق نے مشہور زمانہ قرارداد لاہور پیش کی۔ وہ مسلمان جو خاکساروں کے حادثے کی وجہ سے رنج و غم کی تصویر بنے ہوئے تھے اور ان کے دل مرجھائے ہوئے تھے‘ اس قرارداد سے انہیں ایک نئی زندگی مل گئی۔ جب مولوی فضل الحق قرارداد پڑھتے ہوئے قیامِ پاکستان کے مطالبے پر آئے تو انہوں نے محسوس کیا جیسے وہ جس منزل کی تلاش میں سرگرداں تھے‘ ان کے روبرو کھڑی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یقیں محکم اور عمل پیہم کے ہتھیار لے کر اُٹھو اور متحد ہو کر مجھے حاصل کر لو۔

اس زندگی بخش قرارداد کی حمایت میں سب سے پہلے مجاہدِ ملت‘ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے اردو زبان میں پرجوش تقریر کی۔ ان کی شعلہ بیانی نے جلسے میں شریک لاکھوں افراد کے دلوں میں جذبوں کی آگ بھڑکا دی۔ ان کے بعد مختلف صوبوں کی مختلف بولیاں بولنے والے مقررین نے تقریریں کیں لیکن ان سب نے ایک زبان یعنی اردو میں خطاب کیا۔ سندھ سے سرعبداﷲ ہارون ، سرحد سے سردار اورنگ زیب خان، بلوچستان سے قاضی محمد عیسیٰ ، یوپی سے بیگم مولانا محمد علی جوہر اور چودھری خلیق الزمان، بہار سے نواب اسماعیل خاں ، مدراس سے عبدالحمید خان، بمبئی سے مسٹر چندریگر اور سی پی سے سید عبدالرؤف شاہ نے تقریریں کیں۔ ہر تقریر جوش، جذبے اور خلوصِ دل کی آئینہ دار تھی اور ہر تقریر میں سارے ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکنوں کی ترجمانی کی گئی تھی۔ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا اور اس وقت بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے جذبات صرف وہ خود ہی محسوس کر سکتے تھے۔ انہوں نے اپنے سیکرٹری مطلوب الحسن سید سے مخاطب ہو کر کہا
’’اقبالؒ وفات پا چکے ہیں۔ اگر آج وہ موجود ہوتے تو بہت خوش ہوتے کیونکہ ہم نے ان کی خواہش پوری کر دی ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ 23 مارچ کے دن شاعرِ مشرق کے خوابِ آزادی کے خاکے میں رنگ بھردیا گیا تھا اور اسے تعبیر آشنا کرنے کے لئے ایک نئے عزم اور ولولے سے جدوجہد کو آگے بڑھایا گیا۔ یہی وہ دن ہے جس نے منزل کا سراغ دیا۔ جس نے جذبوں کو مہمیز دی۔ جس نے ولولوں کو زندگی بخشی‘ جس نے فکر کو راہِ عمل سے آشنا کیا اور جس نے راہِ عمل کو مقصدِ حیات تک پہنچا دیا۔ 1940ء سے 1947ء تک سات سال کا یہ عرصہ حقیقت میں صدیوں پر حاوی ہے۔ جہاں مسلمان اپنے قائدین کے ہمراہ جدوجہد آزادی میں مصروف تھے وہاں ہندو اور انگریز سازشوں کے جال بُن رہے تھے۔ ان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہونے پائے۔ وہ اسے مجذوب کی بڑ قرار دیتے تھے اور اس جدوجہد کو ناکام بنانے کے لئے ہر طرح کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ ان سازشوں میں صرف غیرہی نہیں اپنے بھی شریک تھے۔ سب نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر :

اولوالعزمانِ دانشمند جب کرنے پہ آتے ہیں

سمندر چیرتے ہیں کوہ سے دریا بہاتے ہیں

نپولین کہا کرتا تھا کہ’’ اگر ہرنوں کی فوج کا سپہ سالار شیر ہو تو ہرن بھی شیروں کی طرح لڑتے ہیں اور اگر شیروں کی فوج ہرن کی قیادت میں آجائے تو شیر بھی ہرنوں کی طرح بھاگنے لگتے ہیں‘‘۔ لیکن مسلمانوں کی تحریک آزادی نے یہ ثابت کیا کہ مسلمان قوم خود بھی شیروں پر مشتمل ہے اور اس کا قائد بھی شیر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان بن کے رہا اور شکستِ فاش مخالفین کا مقدر بن گئی۔

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو

تھرتھراتا ہے جہانِ چار سو و رنگ وبو

پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انسان کا ضمیر

کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو

قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا:

’’وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے، وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے، وہ رشتہ ، وہ چٹان اور وہ لنگر اﷲ کی کتاب قرآن حکیم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک اﷲ ، ایک کتاب، ایک رسولؐ اور ایک اُمت‘‘۔

آئیے یومِ پاکستان کے حوالے سے ہم یہ جائزہ لیں کہ قائداعظم کے اس فرمان کی روح ہماری صفوں میں کہاں تک موجود ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر احتساب کے عمل سے گزرنا چاہئے۔ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ قائداعظم ؒ کی اس امانت کے ساتھ ہم نے عملی وفا کا عہد کہاں تک پورا کیا ہے۔ آزادی کے 67 برسوں میں ہم نے کیا کھویا ہے اورکیا پایا ہے؟ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کی بنیاد میں ایک نظریہ شامل ہے۔ ہماری یہ خوش نصیبی ہے کہ نظریہ اسلام کو عملی صورت دینے کے لئے قدرت نے ہمیں منتخب کیا۔ پاکستان فکری لحاظ سے دورِ جدید کا سب سے بڑا مہم آفریں تجربہ ہے۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اسلامی نظام کی تجربہ گاہ کے طور پر اﷲ نے ہمیں دیا تھا اور ہمیں پوری دنیا کے لئے ایک نمونہ بننا تھا۔ہم جب تک اپنے فرائض کا احساس نہیں کریں گے ہمارے وجود کا کوئی جواز نہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری صفوں میں اتحاد اور اتفاق ہو۔ ہمارے اندر یہ جذبہ ہو کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ اگر آپ کے ہاں کوئی گروہ تحریک پاکستان کے زمانے میں آپ کے ساتھ نہیں تھا مگر استحکام پاکستان کے سفر میں آپ کے ساتھ چلنا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے۔ جن لوگوں نے قیام پاکستان کے لئے قربانیاں دی ہیں اور آج بھی پاکستان کے اندر اور باہر قربانیوں کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ان کا احترام کیا جائے۔ انہیں انفرادی اور اجتماعی ثمرات سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیا جائے۔ اﷲ کا شکر کہ ہمارے پاس قیادت کا فقدان نہیں ہے۔ آنے والے ادوار میں ہم قحط الرجال کا شکار نہیں ہیں۔ اﷲ نے ہمیں باصلاحیت افراد سے نوازا ہے جبکہ آپ دیکھیں گے کہ ہمارے پڑوس میں ہمارا دشمن ملک آئندہ زمانوں میں قیادت کے شدید بحران کا شکار ہونے والا ہے۔ یہ ہماری غیبی مدد ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے اندر یقین محکم اور عمل پیہم کا وہ جذبہ ازسرنو بیدار نہیں ہورہا جس کی ہمیں آج اشد ضرورت ہے۔ ہم اتحاد اور اتفاق کے تصور سے بھی بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ میں موجودہ حالات اور گزشتہ 67 سال کے واقعات کی تفصیل میں نہیں جاتاکیونکہ یہ داستان بہت دردناک ہے۔ آج افواج پاکستان پوری قوم کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جہاد میں مصروف ہیں۔ ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری تندہی سے برسرپیکار ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ فکرِ اقبال سے روشنی لیتے ہوئے اور قائد اعظمؒ کے اقوال پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے ملک کی نظریاتی اورجغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ آزادی اور مقاصد آزادی کی حفاظت کے لئے ہر لمحہ برسرِعمل رہیں گے اور اپنے وطن کو دنیا بھر کے لئے ایک مثالی مملکت میں تبدیل کر کے دم لیں گے۔

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا

کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں


پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشی۔ماہر تعلیم ہیں۔ آپ ان دنوں وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے منسلک ہیں۔

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP