قومی و بین الاقوامی ایشوز

تہذیبوں کا تصادم

تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ہونا چاہئے۔ تصادم سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔ مکالمہ بقائے باہمی کے تصور کو عام کرتا ہے اور اس وقت عالمی امن کے لیے اسی کی ضرورت ہے۔ یہ کثیرالمدنیت کا تقاضا بھی ہے، مغرب جسے ایک قدر کے طور پر قبول کرتا ہے۔

فکرو نظر کی دنیا میں بالعموم جمود نہیں ہوتا۔ انسانی تجربات اور معاشرتی ارتقا کے باعث قائم شدہ نظریات کے عمل سے گزرتے ہیں اور یوں فکری ارتقا کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے تو پھر ماضی کا ایک واقعہ کسی عصری مسئلے کی تفہیم میں پوری طرح معاون نہیں ہوتا۔ جو بات ناقابلِ تعبیر ہے وہ انسانی فطرت سے وابستہ مطالبات ہیں۔ ان کے باب میں تو یہ ممکن ہے کہ ہم انسانی تاریخ کے مسلسل عمل کو گواہ بنا کر اپنا مقدمہ ثابت کریں۔ جہاں تک تہذیبی، سیاسی اور سماجی مسائل کا تعلق ہے تو ان کی نوعیت تبدیل ہوتی رہتی ہے اور یوں ان سے وابستہ افکار و نظریات بھی۔ تہذیبوں کے تصادم کاتصور بطور ایک نظریہ1993ء میں سامنے آیا جب سیموئل ہنٹنگٹن

(Samuel Huntington)

نے اسے اپنے ایک مضمون کا موضوع بنایا۔ بعد میں اسے ایک کتابی صورت میں توسیع دی گئی۔برنارڈ لیوس

(Bernard Lewis)

نے اگرچہ اس اصطلاح کو اس سے قبل استعمال کیا لیکن اس کو نظریے کی صورت ہنٹنگٹن نے دی۔ د نیا میں مختلف اقوام کے ما بین تصادم کی وجوہات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ کبھی یہ سیاسی ہیں، کبھی اقتصادی۔ اب ہنٹنگٹن کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تہذیبی ہوں گی۔ اسلام اس میں بطور فریق سب سے اہم ہے جو مغربی تہذیب کو چیلنج کرتا ہے۔

یہ تصور انسان کے فکری سفر کا ایک مرحلہ ہے۔اس کی حیثیت کسی قانونِ فطرت کی نہیں ہے۔ اس لئے بہت سے لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ایوڑ ورڈ سعید کا خیال ہے کہ آنے والا دور باہمی تہذیبی انحصار

(interdependence)

کا دور ہوگا، تصادم کا نہیں۔ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ یہ تصور دراصل مستقبل میں امریکا کے سامراجی اور توسیع پسندانہ اقدامات کے لئے بطور جواز گھڑا گیا ہے۔ ایران کے سابق صدر خاتمی نے بھی اسے مسترد کیا اور تہذیبوں کے مابین مکالمے کی بات کی۔ حال ہی میں جب فرانس میں چارلی ایبڈو

(Charlie Hebdo)

کا حادثہ ہوا تو ایک بار پھر یہ سوال اٹھا کہ کیا دنیا فی الواقع تہذیبوں کے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ میر ااحساس ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے چند بنیادی مقدمات کو پیشِ نظر رہنا چاہئے۔ 1۔اس ساری بحث میں مغرب سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ ایک جغرافیائی وحدت ہے؟ کیا یہ ایک نسلی وحدت ہے؟ کیا یہ فکری اور تہذیبی وحدت ہے؟ بہت سے اہلِ علم کا خیال ہے کہ ان میں سے کسی سوال کا جواب اثبات میں نہیں ہے۔ یہ تصور انیسویں صدی میں اس وقت سامنے آیا جب یورپ وغیرہ کا مشرق یا دوسری دنیا سے واسطہ پڑا۔ یوں اسے شناخت کی ضرورت پیش آئی اور پھرمغرب کو ایک وحدت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس رائے کی دلیل یہ ہے کہ مغرب اگر ایک تہذیب ہے تو اس کے ماننے والے مشرق سمیت ہر جگہ موجود ہو سکتے ہیں۔مزید یہ کہ سرمایہ داری، قومی ریاست کا تصور اور یورپی ملکوں کی نو آبادیاتی حکمتِ عملی کے پیشِ نظر، مغرب کی وحدت کا تصور وجود میں آیا۔

2۔اسلام سے ہماری مراد کیا ہے؟ اسلام اس وقت مغربی تہذیب کا حصہ ہے۔ کثیرالمدنیت

(Pluralism)

کے مغربی تصور نے اپنی شناخت کے سفر میں دیگر تہذیبی روایتوں کے لئے جگہ بنائی، جس کا بڑا سبب مسلم دنیا سے مغربی ممالک کی طرف مسلمانوں کی ہجرت اور نقلِ مکانی ہے۔ پھر مسلم دنیا میں بھی اختلافات ہیں۔ یہ سیاسی، تہذیبی اور سماجی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورت حال اس کی تائید میں پیش کی جا سکتی ہے۔ اس طرح مغرب کی طرح اسلام کو بھی اس ساری بحث میں دو اور دو چار کی طرح بیان کرنا آسان نہیں۔

3۔جاپانی مفکر اور فلسفی کیدا کے ساتھ مکالمے میں ٹوئین بی

(Toyn Bee)

نے ایک اہم بات کہی۔ ان کا کہنا ہے مذہب انسانی فطرت کے مطالبات میں سے ہے۔ جب کو ئی سماج اپنے آبائی مذہب کو پسِ پشت ڈالتا ہے تو ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ تادیر اس خلا کا باقی رہنا ممکن نہیں۔ یوں ایک فطری ضرورت کی تکمیل میں، ایک نیا مذہب اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ سترہویں صدی میں جب یورپ نے مسیحیت سے نجات چاہی تو اس سے پیدا ہونے والے خلا کو ترقی، وطنیت اور اشتراکیت نے پُر کیا۔ اب اس میں اسلام کو بھی شامل کیا جا نا چاہئے۔ اس اختلاط کے بعد ، اب دنیا کو دو حصوں میں بانٹنا مشکل ہو گیا۔

4۔جسے ہم مغربی تہذیب کہتے ہیں، اس کے مظاہر چین، روس اور مسلم دنیا سمیت اس خطہ زمین پر ہر جگہ موجود ہیں۔ اس کے واضح اثرات بھی ہیں۔ اس کے باوجود باہمی تصادم میں کمی نہیں آرہی۔ تہذیب سے زیادہ‘ معلوم ہوتا ہے کہ‘ اب بھی اقتصادی مفادات حالات کی صورت گری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کا ہدف روس،ایران اور وینز ویلاوغیرہ کی معیشتیں ہیں۔

5۔مغربی تہذیب جن اقدار سے عبارت ہے، ان میں سیکولرازم یا انسان کی مطلق آزادی کا تصور اہم ہیں۔ سیکولرازم کا تصور جامد ہے۔ اس کی نوعیت اور صورت زمان و مکان کے تابع ہے۔ یورپی سیکولرازم ، امریکی سیکولرزم سے مختلف ہے۔ اسی طرح انسان کی مطلق آزادی ابھی تک ایک کتابی بات ہے۔ لبرل ازم نے اسے مذہب کی پابندی سے تو آزاد کرا دیا لیکن ریاستی قانون سے آزاد نہیں کرا سکا۔

یہ سب عوامل، اگر پیشِ نظر رہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تہذیبوں کا تصادم ایک سادہ تصور نہیں ہے۔ اس کی پیچیدگی کے باعث یہ طے کرنا آسان نہیں کہ دنیا اس وقت تہذیبوں کے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔تاہم انسانی تاریخ سے معلوم ہو تا ہے کہ دوتہذیبیں ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں مو جود رہی ہیں اور ایک دوسرے سے متصادم بھی۔ ان میں ایک کی بنیاد الہامی ہے اور دوسری غیر الہامی۔ الہامی تہذیب میں، بعض اساسی امور کا تصور الہام اور وحی سے لیا گیا ہے۔غیر الہامی تہذیب میں یہ حیثیت انسانی عقل کو حاصل ہے۔ انسانی عقل اگر یہ طے کر دے کہ انسان کسی الہام کا پابند نہیں ہے یا حیات بعد از موت کا کوئی تصور نہیں ہے تو اس قبول کر لیا جائے گا۔اس فرق کے باعث دو مختلف انسانی رویے وجود میں آئے۔ تہذیب چونکہ انسانی رویوں کی ترتیب اور تدوین ہے، اس لئے اس فرق کے باعث دو مختلف تہذیبیں وجود میں آئیں۔ اگر یہ فرق سامنے رکھا جائے تو مسیحی و یہودی اور مسلم تہذیبیں اس کشمکش میں ایک فریق ہیں۔ جبکہ لبرل ازم یا دہریت دوسرا۔ چارلی ایبڈو کے قصے میں بنیادی طور پر یہی فرق نمایاں ہو رہا ہے۔ ایک طرف یہ خیال ہے کہ کسی کتاب یا فرد کا تقدس بے معنی تصورات ہیں۔ انسان کی آزادئ رائے بنیادی قدر ہے اور اس کو یہ حق ہے کہ وہ جس کتاب یا شخصیت کو چاہے استہزا کا ہدف بنا لے۔ دوسری طرف الہامی روایت ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ بعض تصورات تقدس رکھتے ہیں اور انسانوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کا تمسخر اڑائیں یا ان کی توہین کریں۔ آپ کا یہ حق تو ثابت ہے کہ آپ چاہیں تو ان پر ایمان لائیں اور چاہیں تو نہ لائیں۔لیکن اگر کچھ لوگ ان پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر آپ پر ان کا احترام واجب ہے۔ یہی سبب ہے کہ پوپ فرانسس جغرافیائی اعتبار سے مغرب کا حصہ ہوتے ہوئے بھی، چارلی ایبڈو کی کی مذمت کر رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا تعلق الہامی روایت سے ہے۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے تو اس کی یہ تعبیر غیر حقیقی ہے کہ یہ کوئی نئی صلیبی جنگ ہے۔

اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے، تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ہونا چاہئے۔ تصادم سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔ مکالمہ بقائے باہمی کے تصور کو عام کرتا ہے اور اس وقت عالمی امن کے لئے اسی کی ضرورت ہے۔ یہ کثیرالمدنیت کا تقاضا بھی ہے، مغرب جسے ایک قدر کے طور پر قبول کرتا ہے۔


[email protected]

یہ تحریر 106مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP