متفرقات

تو سلامت رہے

میرا ذہن تاریکیوں میں ڈوب رہاتھا۔شاید شوگرہا ئی ہو گئی تھی یا بلڈپریشر۔ دماغ میں خیال آیا تو میں نے زور لگا کر بند ہوتی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کی۔ لگتا تھا پپوٹے آپس میں جڑ گئے ہیں۔ روشنی آنکھوں تک پہنچی تو ذہن کو جھٹکا سا لگا۔
’’میرا خیال ہے اب میں بہترہوں ‘‘۔میں نے خود کو تسلی دی اور آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہوئے چھت کو دیکھا جو پہلے دھندلی پھر قدرے بہتر نظر آئی۔


میری نظر سائڈ ٹیبل پر گئی۔اس کا مسکراتا چہرہ اور روشن آنکھیں میرے اندر جھانکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔میں جواباََ مسکرائی۔
’’اب طبیعت کیسی ہے؟‘‘اس نے ٹیلی پیتھی کا سہارا لیا۔
’’مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘میں اٹھلائی۔
’’اپنا خیال کیوں نہیں رکھتیں؟‘‘اس کی آوا زمیرے دماغ میں گونجی۔
’’تم جو ہوساری دنیا کا خیال رکھنے کے لئے،میرا کیوں نہیں رکھتے‘‘ میں نے گلہ کیا۔
’’ماما‘‘وہ بسورا۔آپ کوئی بوڑھی ہیں جو اس طرح سوچتی ہیں۔
’’جوان بیٹوں کی مائیں کبھی بوڑھی ہوتی ہیں جو میں ہوں گی‘‘ میرے اندر فخر جاگا۔
میں نے اس کی تصویر کو اٹھایااور غور سے دیکھا۔وہ فکر مند لگا۔
’’اب کیا ہے‘‘ میں نے لاڈ سے پوچھا۔
اپنا خیال رکھیں بہت کمزور ہو گئی ہیں۔
میں اسے دیکھتی رہی۔
جواب کیوں نہیں دیتیں ؟اس کی نظروں نے گلا کیا۔
میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔
اس کا منہ چوما اور پھر سینے سے لگا لیا۔
’’میرا بچہ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔


بیوگی کی چادر اوڑھے ننھے قاسم کو گود میں لئے جب میں اپنے والدین کے گھر واپس آئی تو زندگی آسان نہ تھی۔ابا کے چہرے کی لکیریں مزید گہریں ہو گئی تھیں۔اور اماں کے آنسو۔۔۔۔۔ہر وقت ایک ہی فکر کہ ہائے پہاڑ سی جوانی اوربچے کا ساتھ۔زندگی کیسے گزرے گی۔اور آخر اماں نے مجھ سے دوسری شادی کی بات کی۔ کوئی بہت اچھا رشتہ تھا اگر میں مان جاتی تو اماں ابا کی بہت سی پریشانیاں اور اندیشے دور ہو جاتے اور میری زندگی آسان ہو جاتی۔ انہوں نے مجھے رضا مند کرنے کی کوشش کی۔ میرے ماں باپ کو میرا خیال تھا اور مجھے۔۔۔۔۔مجھے اپنے بیٹے کی ساری زندگی کی فکر تھی۔ اس کا بچپن، لڑکپن، جوانی۔میں نے قاسم کا ننھا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔۔بہت چھوٹا۔۔ بہت نرم۔۔ بہت گرم۔میں محبت سے نہال ہوئی میرا بچہ۔۔میری محبت۔۔میری طاقت۔
’’اماں آپ میری فکر چھوڑ دیں‘‘میں نے انکار کر دیا۔
’’کیوں چھوڑ دوں ‘‘کس کے سہارے چھوڑ دوں۔آج ہم ہیں ،کل نہیں ہوں گے تو اکیلی کیسے گزارو گی زندگی؟آج جوان ہو کل بڑھاپا بھی آئے گا۔‘‘اماں نے قائل کرنے کی کوشش کی۔
’’نہیں اماں،میرا لہجہ مضبوط تھا‘‘


’’جوان بیٹوں کی مائیں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں۔اور میں ایک جوان بیٹے کی ماں ہوں۔‘‘میں نے قاسم کو سینے سے لگاتے ہوئے اس کا ماتھا چوما۔
اور پھر یہ جملہ میری طاقت بن گیا۔زندگی میں بہت دفعہ بہت پریشانیاں آئیں۔ابا کے گزر جانے کے بعد قاسم کے سکول کا کام کرتے ہوئے۔اس کی پڑھائی کے مسائل حل کرتے اس کے آئی ڈی کارڈ کے لئے لائن میں لگتے۔اس کی باہر کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے۔میں کبھی نہ تھکی، کبھی نہ گھبرائی کیونکہ میں ایک جوان بیٹے کی ماں تھی اورماں کا ایک ہی عشق ہوتاہے‘ اس کی اولاد۔میں نے بھی اپنا عشق نبھانا تھا۔اس نے بھی میری دلداری کی۔میری محبت کو اپنی محنت سے سینچا۔وہ میرا فرمانبردار تھا۔بے انتہا لائق۔
وقت گزرنے کے لئے ہوتا ہے۔ وہ ننھا سا پودا جسے میں سردو گرم سے بچاتے بچاتے ہلکان ہوئی جاتی تھی‘ جب اس نے مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹا تو۔۔۔۔۔اور میں نے اس کی طرف دیکھاتو۔۔۔۔۔مجھے سر اونچا کرنا پڑا۔
اس نے سرکو جھکایا۔میں نے اس کی پیشانی چومی۔
’’اب خوش؟‘‘وہ ملٹری اکیڈمی میں آفیسر کے طور پر ٹریننگ کے لئے جارہا تھا۔
’’بہت خوش‘‘ میں کھلکھلائی۔
’’میرا بیٹا جوان جو ہو گیا ہے اور جوان بیٹوں کی مائیں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں۔‘‘آج میں خود کو واقعی جوان لگی۔
’’اچھا ماما دیر ہورہی ہے اب میں چلتا ہوں۔‘‘وہ جانے کو تیا ر تھا۔
’’اللہ میرے بچے کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور زندگی اور صحت دے‘‘میں سراپا دعا تھی۔
’’ہمیشہ کی زندگی‘‘وہ چہکا۔
’’ہمیشہ تندرستی سے زندہ سلامت رہو اور ملک و قوم کی خدمت کرو۔۔۔۔۔۔‘‘
میں نے اسے گُھورا۔


خاندان میں اور ملنے جلنے والوں میں جب بھی قاسم کا ذکر ہوتا میر ادل ایک انوکھاسا سکون محسوس کرتا اور سر فخر سے بلند ہو جاتا۔آخر میں ایک آرمی آفیسر کی ماں ہوں۔جب وہ گھر آتا تو جاننے والوں کے بچے اس سے آرمی جوائن کرنے کی ٹپس لینے آجاتے۔اس کے مفید مشورے ،اس کی دلچسپ شخصیت۔ہر کوئی اس کا دیوانہ تھا۔
میں ایک چاق چوبند ہرنی کی طرح مستعد ہو چکی تھی۔آخر مجھے اس کا گھر بھی تو بسانا تھا۔ساری بچیاں پیاری ہوتی ہیں۔میں تو کسی کو نا پسند کر ہی نہ سکتی تھی۔بڑی پریشان تھی۔
’’تو ماما جو جو پسند ہیں سب لے آئیں ‘گھر میں رونق رہے گی‘ آپ کا دل بھی لگا رہے گا‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔
’’چلوہٹو بے شرم‘‘ بیوی تو ایک بھی سنبھال لو تو بڑی بات ہے۔‘‘
’’میرا بڑا جگرا ہے ماما ،فکر نہ کریں ،آپ کا بیٹا آپ کو مایوس نہیں کرے گا‘‘ اس نے بڑے عزم سے کہا۔
میں اسی ادھیڑ بُن میں تھی کہ اس کی چھٹی ختم ہو گئی اور وہ چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


قاسم کا فون آیا تھا۔ میرا حال پو چھا ،ادھر ادھر کی باتیں کیں۔وہ دوستوں کی طرح مجھ سے لمبی گپ شپ کرتا تھا۔
’’ماما اب آپ اپنا ہئیر کلر چینج کریں ‘‘اس نے فرمائش کی۔
’’کیوں بھئی‘ یہ کیا بات ہوئی۔اچھا خاصا کالا رنگ لگاتی ہوں۔‘‘
’’اس بار لائٹ براؤن چیک کریں ‘آپ پر بہت جچے گا۔‘‘اس نے ہئیر کلر کا برانڈ اور نمبر بتاتے ہوئے کہا۔
''ماما مجھے سوات آپریشن کے لئے بھیجا جارہا ہے ،کل صبح نکلنا ہے۔‘‘
جب میں اس کے بتائے ہوئے کلر کا نمبر نوٹ کر رہی تھی تو اس نے میرے سر پر بم پھوڑا۔
’’کیا؟؟؟‘میں سن ہو گئی۔‘‘


’’کچھ نہیں معمولی سا آپریشن ہے،انشاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے آپ پریشان نہ ہوں۔میں نے ایسے ہی ذکر کردیا۔اگر یہ جانتا ہوتا کہ آپ اتنی پریشان ہو جائیں گی تو آپ کو بتاتا ہی نہیں۔معمول کی ڈیوٹی کر کے آجاتا اور آپ کو پتا بھی نہ چلتا۔‘‘
میری خاموشی کے جواب میں وہ بولتا رہا۔
اس نے مجھے خوب تسلیاں دیں۔مجھے یاد دلایا کہ میں کتنی بہادر اور جوان ہوں کیوں کہ میں ایک جوان بیٹے کی ماں ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


میں اس نئی کالونی میں شفٹ ہوئی تھی۔ اکثر مکان ابھی خالی تھے۔ایک دن میں کچھ سودا خریدنے کے لئے مارکیٹ جارہی تھی تو دیکھا کہ ہماری گلی میں تین چار گھر اکھٹے کرائے پر لگ چکے تھے۔واپسی پر اپنی ہمسائی سے ملاقات ہوئی تو بولی ’’سوات سے آئے ہیں ،سنا ہے ادھر دہشت گردوں سے علاقہ خالی کروانے کے لئے آپریشن ہو رہا ہے تو یہ لوگ اسلام آباد آگئے ہیں۔‘‘
’’خدا خیر کرے‘‘میرا دل انجانے خدشے سے دھڑکا۔
اگلی صبح میں ان کے گھر جا پہنچی۔وہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر آگئے تھے۔فوج وہاں آپریشن کر رہی تھی۔سب کی ایک ہی دعا تھی کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔امن ہو اور وہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔جب ان لوگوں کو پتا چلا کہ میں ایک آرمی آفیسر کی ماں ہوں اور میرا بیٹا ان کے علاقے میں دشمنوں کے خلاف نبردآزما ہے تو ان کی محبت اور عقیدت دیدنی تھی۔ہر شام ساری خواتین مجھ سے ملنے آتیں اور میری طرف اس طرح پُرامید نظروں سے دیکھتیں جیسے ان کے دُکھوں کا مداوا میرے پاس ہو اور میں جو قاسم کی طرف سے بے حد فکر مند رہتی تھی ان کو حوصلہ دیتی کہ دیکھیں ہمارے بیٹے‘ ہمارے بھائی ہمارے جوان آپ کے گھروں کو محفوظ بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔کچھ عرصہ صبر کریں اللہ بہتر کرے گا۔تب مجھے لگتا کہ میں نے کچھ کام کیا ہے میرا بیٹا میرے وطن کے لئے اپنے لوگوں کی زندگیوں کے لئے کچھ کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔


سوات آپریشن کامیاب رہا۔آج ہماری گلی کے سار ے گھر پھر خالی تھے۔سوات والے اپنے گھروں کو واپس جا چکے تھے۔۔میں اپنے ٹیرس پر کھڑی ہو کر ان کی واپسی کا سفر دیکھتی رہی۔سب لوگ مجھ سے مل کر گئے تھے۔نمناک آنکھوں کے ساتھ۔
میں نے اپنے لائٹ براؤن بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
میری کالونی میں سبزہ بہت تھا۔میں نے ٹیرس سے دور تک نظر آتے ہوئے درختوں کو دیکھ کر سوچا۔
پتا نہیں چکر آیا تھا یا زلزلہ۔۔۔۔میں زور سے لڑکھڑائی۔ 
’’شاید میں بوڑھی ہو گئی ہوں‘‘میں نے سوچا۔
نہیں۔۔۔۔میں بوڑھی کیسے ہو سکتی ہوں۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح میں نے سوچنے کی کوشش کی۔
جوان بیٹوں کی مائیں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں۔
میں نے دیوار کا سہارا لیا مگر قدموں میں جان نہ تھی۔
میں زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔’’میرا بچہ‘‘میں سسکی اور میرے آنسو بہہ نکلے۔


افسانہ نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لئے بھی لکھتی ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 38مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP