متفرقات

تم ہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے

سر یاد رہے !پہلے ہیڈ لیو ر(Head Lever) اور پھر سیٹ لیور (Seat Lever) اُس نے ایک بار پھر میرا دھیان بریفنگ میں بتائی گئی چیک لسٹ اور ہنگامی اقدامات کی جانب مبذول کرادِیا۔میں کینو چھیلتے چھیلتے رُک گیا۔یار یہ مجھے بالکل یاد ہے اور میں نے Ejectionکا طریقہ کار دُہرانا شروع کر دیا۔وہ بھی میرے پیچھے پیچھے دُہرا رہا تھاتا کہ اگر میں کہیں غلطی کروں یا بھول جاؤں تووہ مجھے یاد کروادے۔ میں نے چٹکیاں لیتے ہوئے کہا ’’یار موت جب آنی ہے تو آنی ہے۔‘‘ وہ بولا آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر جیسا کہ ایم ایم عالم نے کہا کہ یہ دعا ہے کہ موت جب آئے تو شیروں کی طرح جوانمردوں کی طرح آئے۔اس نے چاکلیٹ سے بھری طشتری میری طرف بڑھا دی۔ میں نے ایک اُٹھالی اور کھانا شروع کی۔ ’’سر ایک اور لیں‘ آپ کو شوگر لیول کی ضرورت پڑے گی۔‘‘ سنہری پّنی میں لپٹی ہوئی یہ چاکلیٹ نہایت لذیذ تھی ۔ہم دونوں چاکلیٹ کا مزہ لیتے عمارت سے باہر آئے اور جہاز کی طرف روانہ ہوئے۔ میں نے بے دھیانی میں چاکلیٹ کا کاغذ اپنی جیب میں ڈال لیا۔ میں اس سے پہلے بھی چند مرتبہ سرگودھا میں ونگ کمانڈر جمال آفریدی سے سرسری سی ملاقات کر چکا تھا او ر اس طرح ہم دونوں کے درمیان ایک واقفیت سی پیدا ہوگئی تھی، مگر اس بار تو بات ہی کچھ اور تھی۔ہم دونوں نے ایک ہی میراج طیارے میں پرواز کرنا تھی اور مجھے GIBS (Guy in Back Seat)کے طور پر JF-17تھنڈر کی ایوی ایشن فوٹو گرافی کرنا تھی۔ ونگ کمانڈر جمال آفریدی سر گودھا میں تعینات میراج طیارے کے سکواڈرن میں بطور فلائٹ کمانڈر آپریشنز کے فرائض انجام دے رہا تھا ۔ وہ ایک وجیہہ،پُروقار اور قد آور شخصیت کا مالک تھااور اس کے ہونٹوں پر ہمیشہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ کھیلتی ہوئی نظر آتی یعنی بالکل جیسے کہ ہیرو ہوا کرتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اس کی شخصیت اور انداز گفتگو سے کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔مجھے قوم کے ان سپوتوں پر فخر ہے جو اپنی صلاحیتوں کو اِس قدر اُجاگر کر لیتے ہیں کہ یک لخت دشمن کے دانت کھٹے کر سکیں۔

آج کی اس اچانک خبر نے مجھے چونکا دیا اور جو واقعہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہا ہے۔ 16جنوری کی صبح سرگودھا سے 3 میراج طیارے اپنی معمول کی تربیتی پرواز کے لئے روانہ ہوئے۔ ان میں سے 2 ا پنا مشن مکمل کر کے واپسی کے لئے روانہ ہوئے اور ایک طیارہ جس کا کام ابھی تکمیل کے مراحل میں تھا اس کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا۔ اچانک خبر آئی کہ پاک فضائیہ کا ایک میراج طیارہ منڈی بہاؤالدین کے قریب گِر کر تباہ ہوگیا۔ میں نے بدحواسی کے عالم میں مختلف دفاتر سے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔غیر ارادی طور پر میں نے جیکٹ کی جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اسی چاکلیٹ کاسنہری کاغذنکل آیا۔ نہ جانے کیوں میری کیفیت میں بے چینی کہیں سے عود کر آئی تھی۔ پاک فضائیہ نے حادثے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں Rescue Team کا ہیلی کاپٹر جائے حادثہ پر پہنچ گیا۔ہیلی کاپٹر سے اُتر کر لوگ باہر آئے اور طیارے کا ملبہ زیر معائنہ تھا ۔ معلوم ہو ا کہ جاں بحق ہونے والے پائلٹ ونگ کمانڈر جمال آفریدی اور زیرِتربیت پائلٹ فلائنگ آفیسرسعد سلمان ہیں۔ طیارے کے ملبے سے کہیں کہیں دھواں اٹھ رہا تھا۔ قریب کی بستی کے بہت سے لوگ ملبے کے اردگرد جمع تھے۔ میں اسی اثناء اس سوچ میں غلطاں تھا کہ اُسے اپنا Ejectionکا سبق کیسے بھول گیا؟

عینی شاہدین میں سے ایک ادھیڑ عمر باریش دیہاتی شخص آگے لپکا اور مخاطب ہوا۔’’صاحب جی ! صاحب جی!‘‘ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اور آنکھوں سے خوف عیاں تھا۔ ’’میں مسجد کی چھت پر کھڑا تھا کہ میں نے اس جہاز کو بہت تیزی سے نیچے کی طرف آتا ہوا دیکھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ بس سیدھا بستی پر گرے گا۔ مگر بستی میں داخل ہونے سے پہلے ہی پائلٹ نے اس کا رخ موڑ دیا اوریہ بستی سے دوریہاں زمین سے ٹکرا گیا۔‘‘ اس حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی ومالی نقصان نہ ہوا تھا۔

لو جی ! اس کو اپنا سبق یاد تھا۔ بالکل یاد تھا۔’’ جس نے ایک شخص کی جان بچائی اس نے ساری انسانیت کو بچایا‘‘ وہ میرا ہیرو اپنا سبق کیسے بھول سکتا تھا۔ ونگ کمانڈر جمال آفریدی چاہتا تو جہاز سے نکل کر اپنی جان بچا لیتا مگر اس نے بستی کو بچانے کے عظیم مقصد میں اپنی کوشش جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس مشن میں فلائنگ آفیسر سعد سلمان کمبیٹ آپریشنل ٹریننگ کے لئے اگلی سیٹ پر براجمان تھے اور ونگ کمانڈر جمال آفریدی بطور انسٹرکٹر پچھلی سیٹ پر تھے ۔ مجھے یقین ہے کہ اس جدو جہد میں کہ کس طرح آبادی کو بچایا جائے‘ وہ کنٹرول ٹاور سے بات بھی نہ کر پائے۔ اپنی جان پر کھیل کر ان کی یہ کوشش کامیابی سے ہمکنا ر ہوئی ۔ دونوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید ہوگئے۔یہ فضائیہ کے ہوابازوں کی تربیت کا خاصہ ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر جان کی پروا کئے بغیر مقصدِ عظیم کو مدِ نظر رکھتے ہیں۔ میں نے اس ادھیڑ عمر دیہاتی کی طرف دیکھا جس نے اب اپنے بیٹے کو بازوؤں میں لیا ہوا تھا۔اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر ایک فخرآمیز چمک بھی تھی۔اپنے پاکستانی ہونے کا فخراور اپنے مخافظوں کی جوانمردی کا فخر۔یک لخت میں نے بھی ایسا ہی محسوس کیا اور میرا دایاں ہاتھ یک بارگی قوم کے ان جوانمردوں کوسلام کے لئے اٹھ گیا۔یہ سمجھ آگیا کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

یہ تحریر 98مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP