قومی و بین الاقوامی ایشوز

تعبیر اسرارِ خودی

حیاتیاتی سائنس کا ماننا ہے کہ انسان ایک ارتقا شدہ حیوان ہے۔ گوریلا نما جاندار سے ارتقائی منازل طے کرکے آج کا انسان وقوع پذیر ہوا توبے شک کوئی اور یہ تحقیق مانے یا نہ مانے سائنس کے بیشتر طالبعلم نہ صرف اِس نظریہ کو یقین کی حد تک تسلیم کرتے ہیں بلکہ بیالوجسٹ کی کثیر تعداد اس نظریہ کی پرچارک بھی ہے۔ فلاسفہ بضد ہیں کہ انسان مادہ اور ذہن کا مرکب ہے اہلِ مذاہب بالخصوص ابراہیمی مذاہب کے حاملین کا ایمان ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تخلیق اور اِس کرہِ ارض پر خدا تعالیٰ کا اکلوتا نائب ہے۔ عالمگیر انسیت کے حامل صوفی دانشور کہتے ہیں کہ انسان زمین پر خدا کا مظہرِ اعلیٰ اور پیکرِ الفت ہے۔ حقیقتِ غیر متبدلہ یہ ہے کہ انسان کے پاس ابھی تک کسی نظریہ یا تھیوری کو حق یا باطل ثابت کرنے کے کوئی مستند پیرامیٹرز نہیں ہیں چنانچہ جس کا شعور جہاں ٹھہر جائے‘ اس کیلئے وہی مرجعِ حق۔انسان کی ابتدا کے متعلق انسان کے پاس جو کل موجودہ علم ہے وہ دراصل انسان کی صدیوں پر محیط فکری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ہزاروں سال پہلے مظاہرِ فطرت پر غور کرنے والا انسان آج کہیں جا کے منطقی نتائج تک پہنچ پایا اور یہاں پر بس نہیں بلکہ یہ سلسلہ اِس سیارہ پر انسان نما حیوان کی موجودگی تک جاری و ساری رہے گا، انسان اپنے مآخذ کی کھوج لگانے اور اِس کائنات سے اپنا ربط معلوم کرنے کی خاطر مسلسل علمی و تحقیقی جدوجہد کرتا رہا ہے۔ انسانی فطرت پر تحقیق کی باقاعدہ ابتدا یونان سے شروع ہوتی ہے جہاں سے انسان کی اولین لیاقت کے شواہد ملتے ہیں۔ بہرحال انسان ابتدا ہی سے اپنے اندر ایک مافوق الفطرت قوت کا کھوج لگاتا رہا ہے اور اِس معاملے میں انسان کو اگر حتمی نہیں تو بعض جزوی کامیابیاں ضرور ملی ہیں، گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان غور و فکر کی بنیاد پر ان حقائق کے قریب تر ہوتا گیا جو کبھی اِسکی دسترس میں نہیں تھے اور نہ ہی ان کا کسی بھی صورت میں فہم ممکن تھا۔ انسانی ذات کیا ہے اِس کا ہم مختصر تجزیہ کرتے ہیں.

 

تجزیہِ ذات

انسان دراصل دو طرح کے وجود کا حامل ہے ایک ظاہری وجود اور دوسرا باطنی وجود۔ ظاہر سے مراد مادہ اور باطن سے مراد ذہن یا روح ہے‘ انسان کے ظاہری وجود پر کوئی اختلاف واقع نہیں ہوا جبکہ باطنی وجود ہمیشہ اختلافات کی زد میں رہا، انسانی شعور کی پے در پے وسعت و تجدید کے سبب انسان اپنے باطنی وجود کی مختلف تعبیرات وضع کرتا رہا ہے منطقیا کی نظر میں اگر انسان کا باطنی وجود شعور ہے تو الہامی مذاہب اِسے روح سے تعبیر کرتے ہیں‘ دیوانہ اِسے دل کہتا ہے تو پجاری آتما،گویا جس کی سمجھ میں جتنا آ سکا اس نے پوری دیانتداری کے ساتھ اتنا ہی بیان کر دیا ۔علم و حقائق کے کسی بھی متلاشی کو متہم نہیں کیا جا سکتا چاہے اس کا تعلق مذہب سے ہو، فلسفہ یا سائنس سے،دنیا کا کوئی بھی انسان فطرتاً گمراہ نہیں ہونا چاہتا بلکہ راہ یاب ہونے کی ہر ممکن تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ مادہ اور ذہن یا جسم اور روح کا مرکب حیوان صفت انسان اپنے غیر مرئی شعور کے سبب ممتاز ہو گیا۔ انسان کا ظاہری وجود دراصل آکسیجن، کاربن اور ہائیڈروجن وغیرہ سے بنا ہے چنانچہ وجود کو قائم رکھنے کیلئے ہوا، پانی اور آکسیجن انسان کی بنیادی ضروریات ہیں، روح کے مرکبات میں فکر اور رویہ ہے جیسے کہ انسان کا حیاتیاتی وجود ہوا، پانی اور آکسیجن کی بنیاد پر قائم ہے بالکل اِسی طرح انسان کا روحانی وجود دراصل فکر اور رویہ کی بنیاد پر قائم ہے۔ فکر ایک غیر مرئی اندیشے کا نام ہے جبکہ رویہ اس اندیشہ کا وقوع ہے یہاں پر اندیشہ سے مراد خطرہ نہیں بلکہ ارادہ بلا فعل کو ہم نے اندیشہ سے تعبیر کیا چونکہ ہمارا مطمح انسان کا باطنی وجود ہے اس لئے آگے چل کے ہم انسان کے باطنی وجود پر بحث کریں گے۔ انسان کا باطنی وجود جس کی مختلف تعبیرات وضع کی گئی ہیں‘ دراصل فلسفہ کی بنیادی شاخ مابعدالطبیعات سے تعلق رکھتا ہے۔ مابعدالطبیعات کے متعلق معروف مسلم فلاسفر ابن سینا کا کہنا کہ مابعدالطبیعات یعنی میٹا فیزکس کا تعلق دراصل مادہ سے ہے۔ قریباً یہی رائے معروف مسلم فلسفی ابن الرشد کی ہے ابن سینا کے نزدیک مابعدالطبیعات دراصل انسان کے وجود پر مشتمل عناصر کی ترکیب کے مطالعہ کا نام ہے۔ چنانچہ ابن سینا ذہن اور مادہ دونوں کو مابعدالطبیعات میں شامل کرتے ہیں جبکہ معروف اشتراکی فلسفی کارل مارکس کے نزدیک مابعدالطبیعات کا کوئی وجود نہیں جو کچھ ہے وہ مادہ ہے اور ذہن مادہ سے افضل نہیں ہو سکتا اصل الاصول مادہ ہے تمام اختلافات کے وقوع کے باوجود بھی ایک بات مسلم ہے کہ مابعدالطبیعات دراصل انسان کے باطنی وجود کے ہمہ جہت مطالعہ اور تجزیہ کا نام ہے۔ گویا مابعدالطبیعات کے مطالعہ سے انسان اپنی ذات کے متعلق آگہی حاصل کر سکتا ہے.

 

تعبیرِ خودی

ابو حامد محمد المعروف امام غزالی کی تہافتہ الفلاسفہ کے گہرے ترین اثر نے اہلِ اسلام کی سوچ کے دھارے بدل دیئے۔ اسلام کے بطن سے پیدا ہونے والی تحریکِ اعتزال، معروف مسلم فلاسفر ابن سینا، ابن الرشد اور الفارابی نے جو امت میں سوچنے کی روش پیدا کر لی تھی‘ امام غزالی کی تہافتہ الفلاسفہ نے اسے شجرِ ممنوعہ کی شکل دے دی اور اہلِ اسلام کیلئے غور و فکر کی بجائے تقلیدِ مطلق کا راستہ متعین کر دیا۔ ابو حامد کی معرکتہ الآرا احیا العلوم نے آپ کو حجتہ الاسلام کے لقب سے تاریخِ اسلام میں مزین کر دیا اور اعتزال کے نظریہِ قدر اور اسماعیلیہ کے مرجعِ حق الامام کے نظریات کو طاق میں رکھ دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ابن الرشد اور ابن سینا جیسے فقید المثال فلاسفر کے نظریات کو امت کے اذہان سے بمثلِ کافور فرو کر دیا۔ پس یہ نشاۃِ ثانیہ اول تھا ابو حامد امام غزالی کے بعد امت میں فلسفہ اور معروضی غور و فکر قریباً ناپید ہو گیا جبکہ یہی وہ دور تھا جب یورپ نے ابن الرشد، ابن سینا، الفارابی اور الکندی کی تحقیقات کو اہمیت دینا شروع کر دی جس کا نتیجہ آج ہم بخوبی ملاحظہ کر سکتے ہیں بالخصوص مشرق اور مغرب کے علم و اخلاق کا موازنہ کرکے۔ سقوطِ خلافتِ عثمانیہ کے بعد اہلِ اسلام میں ایک بار پھر نشاۃِ ثانیہ کا جذبہ پوری شدت کے ساتھ بیدار ہوا۔ یہ وہ دور تھا جس میں ایک بار پھر مسلم دانشور بے چین ہو گئے اور اِس نتیجہ پر پہنچے کہ امتِ مسلمہ میں اب تقلید کے بجائے تحقیق کی روش کو فروغ دیا جائے چنانچہ اِس جذبہ سے سرشار پاک و ہند کے ممتاز فلاسفر اور عالمِ دین ڈاکٹر محمد اقبال نے باقاعدہ علمی جدوجہد شروع کر دی۔ آپ کی ذات مشرق و مغرب کے علم و اخلاق کا بہترین امتزاج تھی۔ آپ کی ہستی میں انا اور مستی میں شعور پایا جاتا تھا۔

 

آپ نے اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لئے جس نظری بنیاد کو منتخب کیا وہ ’’خودی‘‘ کی اصطلاح سے معروف ہے۔ خودی دراصل فارسی زبان میں تکبر اور غرور کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن آپ نے پہلی بار اِس لفظ کو ایک ایسی بے مثال اور روشن نظر‘ بنیاد فراہم کی جس کے نتیجہ میں اب اصطلاح خودی اپنے جوہری معانی سے نابلد ہو کر اقبال کے نظریہ میں ڈھل گئی۔ ہم عرض کر چکے ہیں کہ انسان کے باطنی وجود کے مرکبات میں صرف دو عناصر شامل ہیں ایک فکر اور دوسرا رویہ۔ گویا یہ دو عناصر مل کر انسان کا باطنی وجود قائم کرتے ہیں فکر دراصل اندیشہ ہے لیکن یہ عموماً حالتِ تنویم میں پڑا رہتا ہے یعنی خوابیدہ رہتا ہے۔ جب یہ بیدار ہوتا ہے تو انسان کو عام لوگوں سے ممیز کر دیتا ہے یہ تمیز انسانی ذات کا کلی ادراک فراہم کرتی ہے اور اِسی ادراک کا نام اقبال کے نزدیک خودی ہے۔ یعنی ہم اِسے عقلِ بیدار کی اصطلاح سے تعبیر کر سکتے ہیں گویا عقل تو سب کے پاس موجود ہے لیکن عقلِ بیدار صرف اس کے پاس جس کا شعور بیدار ہو چکا اور جس نے اپنی ذات کی معرفت حاصل کر لی چنانچہ یہ معرفت نہ صرف انسانی ذات بلکہ یہ انسان کو ذاتِ خداوندی کی معرفت تک پہنچا دیتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ترجمہ : ’’جس نے اپنی ذات کو پہچان لیا اس نے اپنے خدا کو پہچان لیا‘‘) یہاں تک خودی کی تعریف عالمگیریت کی حیثیت رکھتی ہے خودی کے اِس عالمگیر تصور کے تانے بانے دراصل اقبال کے نظری استاد جن سے آپ جرمنی میں قیام کے دوران خاصے متاثر رہے ہیں فریڈرک نطشے کے سپرمین سے ملتے ہیں۔ چنانچہ نطشے کے سپرمین اور اقبال کی خودی میں جوہری اختلاف نہیں پایا جاتا۔اِسی طرح ہم تصورِ خودی کو معروف ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے نظریہ سپرایگو سے بھی مماثل کر سکتے ہیں قریباً یہی تصور معروف صوفی دانشور سلطان باھو کے ہاں انکی اصطلاح ’’ھُو‘‘سے قدرے مماثل ہے آپ ایک بند میں فرماتے ہیں۔

 

جتھے ھو کرے رشنائی

چھوڑ اندھیرا ویندا ھو

 

اقبال چونکہ اپنے نظریات کی بنیاد اسلامی فلسفہ یعنی علم الکلام پر قائم کیا کرتے تھے اِس لئے آپ نے تصورِ خودی کو بھی علم الکلام کے دائرے میں رہ کر بیان کیا۔ آپ کے نزدیک بیداریِ شعور اصل ایمان ہے۔ آپ کے نزدیک انسان کی فکر جب بیداری ہوتی ہے تو وہ روحِ خداوندی سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے ‘فرماتے ہیں

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

 

آپ کے نزدیک مردِ مومن صرف وہی ہو سکتا ہے جسکی عقل بیدار ہو چکی‘ جس نے اپنے باطن میں خودی کو دریافت کر لیا بلکہ آپ تو ایمان کی اساس ہی اِس بیداری کو قرار دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں

 

خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ

 

ہم کہہ سکتے ہیں کہ خودی دراصل اقبال کے علم الکلام کی اساس ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب تک ایک انسان کی عقل بیدار نہیں ہو جاتی تب تک وہ مردِ مومن نہیں بن سکتا چنانچہ آپ نے خودی کو لا الہ الا اللہ کی اساس قرار دے دیا ‘گویا اسکے بنا ایمان واقع ہو ہی نہیں سکتا۔ خودی کی افادیت کو مزید وسعت دے کر آپ نے اِسے بیداریِ کائنات سے منسلک کر دیا فرماتے ہیں

 

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات

خودی کیا ہے بیداریِ کائنات

اقبال کی فکر معتزلانہ اور روش صوفیانہ تھی

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

 

آپ کا تصورِ خودی دراصل عقل و جذبہ کا بہترین امتزاج ہے جس میں شعور کی روشنی اور جذبے کی صداقت شامل ہے۔ آپ کے نزدیک عقل بیدار ہو کر ایک زبردست والہانہ سپردگی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ گویا اِس مقام پر عقل جذبہ بن جاتی ہے ایسا جذبہ جس میں کمال بصیرت نہاں ہوتی ہے۔.

 

ایں کارِ حکیمی نیست دامانِ کلیمی گیر

صد بندہِ ساحل مست یک بندہ دریا مست

 

آپ کے نزدیک دین کا لبِ لباب دراصل خودی ہے کلمہ طیبہ کے روحانی سفر کی انتہا بھی خودی ہے گویا خودی الا اللہ کی عملی تفسیر کا نام ہے۔

 

از دیرِ مغاں آیم بی گردشِ صہبا مست

در منزلِ لا بودم از بادہِ الا مست

 

آپ کے نزدیک انسان بتدریج روحانی ترقی کرکے’’مقامِ خودی‘‘ تک پہنچ سکتا ہے ۔پہلا مقام ادراکِ ذات ہے پھر اس کے بعد عقل بیدار ہوتی ہے جب عقل یا شعور مکمل طور پر بیدار ہو جاتا ہے تو پھر یہ ایک والہانہ سپردگی کی شکل اختیار کر لیتا ہے پس یہی والہانہ سپردگی دراصل خودی ہے اور یہی اقبال کا تصورِ عشق بھی جسے آپ نے عقلِ مطلق پر ترجیح دی ہے ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا تصورِ خودی اور تصورِ عشق ایک نظریہ کے دو مختلف نام ہیں

 

عشق از فریادِ ما ہنگامہ ہا تعمیر کرد!

ورنہ ایں بزمِ خموشاں ہیچ غوغائے نداشت

(مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔)

یہ تحریر 32مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP