یوم آزادی

تصورِ پاکستان:خواب سے حقیقت تک

علامہ اقبال کے خطبۂ الہ آباد سے دس برس بعد آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنے 23مارچ 1940ء کے اجلاس منعقدہ لاہور میں قائداعظم کی قیادت میں اقبال کے تصورِ پاکستان کو تحریکِ پاکستان کا سرچشمۂ فیضان قرار دیااور قیامِ پاکستان کو اپنی منزلِ مقصود ٹھہرایا ۔ اس منزلِ مرادتک رسائی کی خاطر برصغیر کے مسلمان عوام نے ''بٹ کے رہے گا ہندوستان،بن کے رہے گا پاکستان''کو اپنا عوامی جمہوری نصب العین قراردیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ انتخابات میں مسلمان عوام نے قیامِ پاکستان کے حق میں زبردست اکثریت کے ساتھ ووٹ دیئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ برطانوی استعماراس عوامی جمہوری رائے کے احترام میں فی الفور پاکستان کے قیام کا اعلان کر دیتے مگر ایسا نہ ہوا ۔اس کے برعکس پاکستان کے طلوع کو روکنے کی خاطر کیبنٹ مشن جیسے پلان پیش کیے جانے لگے۔ جب ایک کے بعد دوسرے مشن کی آمد کا اعلان کیا گیا تھا تب قائداعظم نے مذاکرات کے اس جال میں گرفتار ہونے سے انکار کرتے ہوئے راست اقدام کا اعلان کر دیا تھا۔ مسلمان عوام کی اس تحریکِ پاکستان کے آگے بالآخر برطانوی استعمار کو ہتھیار ڈالناپڑا۔برطانوی سامراج نے پسپائی تو اختیار کی مگر مسلمان دشمنی کی راہ ترک نہ کی۔ نتیجتاً برصغیر کی غیرمنصفانہ تقسیم اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو فسادات کی آگ میں جھونک دیا تھا۔اس آگ کو بھی قائداعظم کی فراستِ یگانہ نے بالآخر گل و گلزار بنا کر رکھ دیا تھا۔ نتیجہ یہ کہ آج پاکستان دنیائے اسلام کی پہلی اور واحد ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان کے ماضی اور مستقبل نے آج بھی پاکستان سے خائف دانشوروں کو بے چین کر رکھا ہے۔ 
مہاتما گاندھی کے پوتے اور ایک انسان دوست اور روشن خیال مؤرخ اور سیاستدان راج موہن کو آج تک دو سوالات نے پریشان کر رکھا ہے۔ اوّل یہ کہ اگست سن سنتالیس میں برصغیر کی تقسیم کیوں عمل میں آئی تھی؟ دوم: یہ کہ برصغیر کی اس تقسیم پر اتنے ہولناک فسادات کیوں برپا ہوئے تھے؟ ان سوالات کو تاریخی، تمدنی اور سیاسی سیاق و سباق میں سمجھنے اور پیش کرنے کی خاطر انہوں نے مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے عروج سے لے کر لارڈماؤنٹ بیٹن کی پسپائی تک پنجاب کی تاریخ پر ایک خیال انگیز کتاب لکھی ہے۔
 خوش قسمتی سے برطانوی ہند کا وہ ریکارڈ بھی منظرِ عام پر آ چکا ہے جو ایک طویل عرصے تک صیغۂ راز میں چلا آ رہا تھا۔ راج موہن گاندھی کی کتاب کی اشاعت سے چھ سات برس پیشتر امریکی مؤرخ اور سوانح نگار سٹینلے والپرٹ (Stanley Wolpert) اس دستیاب مواد کو کام میں لا کر ہر دو سوالات کا تشفی بخش جواب دے چکے ہیں۔ خود برطانوی مدبر سرونسٹن چرچل نے برطانوی حکومت کی جانب سے انتقالِ اقتدار کو شرمناک فرار (Shameful Flight) قرار دیا تھا۔ جناب والپرٹ نے اسے برطانوی ہند کے آخری چند برس پر اپنی کتاب کا معنی خیز عنوان دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ان فسادات کا مقصد پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کو آگ اور خون کے طوفان میں غرق کر دینا تھا۔ یہ اُس وقت کی حکومت کی مجرمانہ غفلت سے زیادہ سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی تھی۔ راج موہن گاندھی نے اپنی کتاب کے نویں باب میں اس حقیقت کا اثبات کیا ہے کہ قائداعظم آخر تک پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی ڈٹ کر مخالفت کرتے آئے تھے:


Until June, Jinnah resisted the application of partition's logic to the provinces. Continuing to ask for all of Punjab and Bengal, and Assam he called the congress's partititions resolution 'sinister' and 'stunt' and accused the Hindu minorities of Punjab and Bengal of a wish, to cut up these provinces and cut their own people into these provinces. Cutting no ice with anyone and rejected unreservedly by Mount Batten his stand against divided Punjab and Bengal was quietly dropped.1


جناب والپرٹ نے اپنی کتاب بعنوان ''شرمناک فرار'' میں اس موضوع پر مزید تفصیلات پیش کی ہیں۔ انھوں نے ہمیں'' انتقالِ اقتدار ''کی دسویں جلد کے صفحہ852 پر دی گئی قائداعظم کی ایک تحریر کی جانب متوجہ کیا ہے۔ قائداعظم نے 17مئی 1947ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور برطانوی کابینہ کو پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے تصور کو رد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ مسلم اکثریت کے ان دونوں صوبوں کی تقسیم کا کوئی تاریخی ، معاشی ، جغرافیائی، سیاسی اور اخلاقی جواز نہیں ہے:


The Muslim League cannot agree to the partition of Bengal and the Punjab.....It cannot be justified historically, economically, geographically, politically or morally. These provinces have build up their respective lives for nearly a century....In the name of justice and fair play do not submit to this clamour. For it will be sowing the seeds of future serious trouble and the results will be disaster for the life of these two provinces.2


اس باب میں برطانوی حکومت سے مایوس ہو کر قائداعظم نے پنجاب کی سکھ قیادت سے بھی رابطے قائم کیے تھے۔ انھوں نے سکھ لیڈرشپ کو یقین دلایا تھا کہ انہیں پاکستان کے اندر رہتے ہوئے فکر و عمل کی آزادی حاصل ہوگی۔ قائداعظم کا یہ استدلال اُس زمانے کی سکھ قیادت پر کوئی مثبت اثر قائم نہ کر سکا تھا۔ شاید اس لیے کہ یہ لوگ بھی اسی خام خیالی میں مبتلا تھے کہ پنجاب کی تقسیم ایک عارضی سانحہ ہے اور یوں پاکستان کا تصور فسادات کے خون میں ڈوب کر رہ جائے گا۔


Radcliffe tried his best to be fair in tackling what became an impossible job. He could not understand why Nehru's and Mountbatten's greatest concern over the new Punjab border lines was to make sure that neither of the Muslim majority sub districts of Ferozepur and Zira nor the Muslim majority districts of Gurdaspur should go to Pakistan, since that would have deprived India of direct road access to Kashmir. The Punjab boundary commission Radcliffe chaired, after all was simply asked to divide the province along lines of Muslim verses non Muslim majority districts since the number clearly favour Muslims, Radcliffe awarded the Ferozpur sub-district and Gurdaspur to Pakistan in his initial maps.3


 اب آئیے پنجاب کی تقسیم میں عدل و انصاف کے اصولوں کی پامالی کی جانب ۔ جناب سٹینلے والپرٹ نے ریڈ کلف ایوارڈ کے نقشے پر زبردست کاٹ پیٹ پر سر پیٹتے ہوئے لکھا ہے کہ پنڈت نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی غیر اصولی ملی بھگت نے مسلم اکثریت کے علاقوں کو زبردستی بھارت کے نقشے میں ڈال دیا تھا:


Mountbatten asked Jinnah what he thought of Suharwardhi's proposal to create as separate soverign Bengal, expecting him to be shocked at the Muslim League's Lieutenant's "Treachery". Much to Mountbatten's surprise Jinnah calmly replied, I should be delighted. What is the use of Bengal without Calcutta?', they had much better remain united and independent. I am sure they would be on friendly terms with us.4  



یہ تو رہی پنجاب کی جبری تقسیم کی بات۔ اب آئیے بنگال کی تقسیم کی جانب۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن یہ سمجھتے تھے کہ جب وہ قائداعظم کو بتائیں گے کہ حسین شہید سہروردی متحدہ بنگال چاہتے ہیں تو قائداعظم سہروردی کی اس ''سازش''پر بھڑک اُٹھیں گے مگر وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ قائداعظم بھی متحدہ بنگال کے حامی نکلے:
یہ ایک تاریخی صداقت ہے کہ صوبوں کی تقسیم کی کوئی بھی سکیم آل انڈیا مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان میں شامل نہیں تھی۔ علامہ اقبال اور قائداعظم، ہر دو بانیانِ پاکستان برصغیر کے مسلمان اکثریت کے صوبوں پر مشتمل آزاد اور خودمختار پاکستان کاقیام چاہتے تھے۔ جب برطانوی حکومت اور انڈین نیشنل کانگریس طلوعِ پاکستان کو روکنے میں ناکام ہو گئی تب مسلم اکثریت کے ہر دو صوبوں ، بنگال اور پنجاب کی انتہائی نامنصفانہ تقسیم سامنے لائی گئی اور فسادات کرائے گئے۔ 
پرامن انتقالِ اقتدار برطانوی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں دو افراد کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور وزیرداخلہ سردار پٹیل ۔ چند برس پیشتر ریڈ کلف نے اپنے ایک سوانحی مضمون میں اُس دباؤ کا ذکر کیا تھاجو پنڈت نہرو کے زیرِ اثر لارڈ ماؤنٹ بیٹن اُن پر ڈالتے چلے آئے تھے اور جس کے باعث وہ باؤنڈری کمیشن کے حتمی نقشے میں متعدد تبدیلیوں پر مجبور کر دیئے گئے تھے۔ 
خود جواہر لال نہرو نے برٹش راج کے آخری ایام کے عنوان سے ایک کتاب کے انگریز مصنف Leonard Moseley کو اپنے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ ''ہم پاکستان کو ایک بالکل عارضی اور رفتنی و گزشتنی واردات سمجھتے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ پاکستان جلد از جلد ہندوستان سے آ ملے گا۔''


But perhaps Pandit Nehru came nearer the truth in a conversation with the author in 1960 when he said: We accepted. We expected that partition would be temporary, that Pakistan was bound to come back to us. 5


بنگال اور پنجاب کی تقسیم پر کانگرس اور ہندو انتہا پسند جماعتوں کا اصرار بھی اسی باعث تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ تقسیم پر اشتعال کو ہوا دے کر آگ اور خون کا طوفان برپا کر دیا جائے اور یوں قیامِ پاکستان کا تجربہ ناکام ہو کر رہ جائے۔ راج موہن گاندھی کی زیرِنظر کتاب میں ایک پورا باب ''پاگل پن کے دوران انسانیات'' کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے جس میں ایسی بہت سی سچی کہانیاں درج کی گئی ہیں جن میں ہندو اور سکھ اپنی جان پر کھیل کر مسلمان خاندانوں کو حفظ و امان فراہم کرتے ہیں اور دوسری جانب مسلمان اپنی جان پر کھیل کر ہندو اور سکھ خاندانوں کو بحفاظت بھارت روانہ کرتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب کی تقسیم اور تبادلۂ آبادی کے دوران ایک  منصوبہ بندی کے تحت تشدد پسندی اور دہشت گردی کے ذریعے قتل و غارت کی فضا پیدا کی گئی تاکہ پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کو جان کے لالے پڑ جائیں۔ یہ سازش ناکام رہی۔ سردار پٹیل جیسے متعصب اور تنگ نظر ہندو اور پنڈت نہرو جیسے لبرل سوشلسٹ کا مشترکہ خواب کہ پاکستان کا قیام بالکل عارضی ثابت ہو، اُس وقت تو مٹی میں مل کر رہا مگر بعد ازاں نہرو اور پٹیل کے جانشیں اُن کی روایات پر قائم رہے۔ جب ہماری اپنی غلطیوں کے باعث مشرقی پاکستان کے سیاسی بحران نے شدت اختیار کی تو پنڈت نہرو کی بیٹی نے بھارتی فوجی یلغار سے پاکستان کو دو لخت کر دیا تھا۔ یہ مہم جوئی بھی اس اعتبار سے سراسر ناکام ہے کہ آج کا بنگلہ دیش دو قومی نظریے پر قائم رہتے ہوئے ہندوبنگال سے اپنے الگ قومی وجود پر نازاں ہے۔ میری تمنا ہے کہ پاکستانیات پردادِ تحقیق دینے میں مصروف احباب اِن کتابوں میں بیان کیے گئے حقائق کو پیشِ نظر رکھیں۔یوں یہ حقیقت الحقائق کے دو قومی نظریہ جو فی الحقیقت برصغیر میں جداگانہ مسلم قومیت کا نظریہ ہے کل بھی زندہ تھا ، آج بھی زندہ ہے اور آنے والے کل بھی زندہ رہے گا!
٭٭٭
حواشی

1.    Punjab, A Hsitory from Aurangzeb to Mountbatten, Rajmohan Gandhi, ALEPH, India, p.345

 2   Shameful Flight, Stanley Wolpert, Oxford, 2006, , p.147

3.     Ibid., p.167. 

4.     Ibid., p.142

5.  The Last Day of the British Raj, Leonard Mosley, London, 1964, p.148:


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی  کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔
  [email protected]

یہ تحریر 96مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP