متفرقات

تخیلِ فکر۔ جذبہ ۔ معاملات اور افکارِ حاضرہ

سیکولرازم جسے عام اصطلاح میں لادینیت سے تعبیر کیا جاتا ہے ایک مکتبۂ فکر کے مطابق جدید روحانی ضابطے کے انفرادی اختیار کا نام ہے جس میں ریاست کو روحانی نظم سے جدا کرکے شخصی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے سیکولرازم کے لئے اصطلاح لادینیت استعمال کرنا نہ صرف لغوی اعتبار سے ناموافق ہے بلکہ اصطلاحی معنوں میں بھی تطبیق سے کوسوں دورہے، سیکولرازم کے لئے موافق اردو اصطلاح "خیارِ فکر" ہے جس کے معنی دراصل انسان کو اپنے فکری نظم کی ترتیب کا مکمل فطرتی اور شخصی حق دینا ہے جبکہ لادینیت کے لئے انگریزی زبان میں الگ سے اصطلاح اِتھی اِزم موجود ہے جس کے معنی مطلق لادینیت ہیں۔ دین یا مذہب دراصل دو بنیادی عناصر پر مشتمل ہوتا ہے ایک کا تعلق انسانی جذبات اور دوسرے کا انسانی شعور سے ہے،جذباتی عناصر کو عقائد سے تعبیر کیا جاتا ہے اور شعوری افعال کو فقہ یا شریعت سے۔ تقابل ادیان پر گہری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر مذہب یا دین نے انسانی جذبات اور شعور کو مخاطب کیا ہے چنانچہ جذبات کی تزئین کے لئے شعور کو فقہ، شریعت، احکام یا قوانین کی شکل میں تدوین کردیا گیا اور جذبات یا عقائد کو فقہ یا قوانین کی بنیاد قرار دے دیا گیا چنانچہ عمومی زمانے میں اس سے بہترین اور جامع ضوابط کوئی نہیں تھے لیکن چونکہ پچھلے تین سو سالوں میں عقل و شعور نے تجرباتی حقائق کی بنیاد پر شعوری بہتری کی کئی منازل طے کر لی ہیں‘ تو اب مذاہب کے لئے عقلی مسائل بھی گھمبیر ہو گئے ہیں۔ انسانی شعور اپنے مسلسل تجربات کے بعد جب ایک قانون پر مطمئن ہو چکا تو اسے نافذ کرنے کے لئے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ قوانین کی بنیاد چونکہ جذبات یا عقائد پر تھی‘ اِس لئے نئے قانون کو یا تو عقائد کے موافق کرنا پڑتا یا پھر سرے سے مسترد کردیا جاتا یہ دراصل فکر اور جذبے کے درمیان ایک سرد جنگ تھی جس کی بنیاد جستجو نے رکھ دی تھی فکر اور جذبات کے درمیان یہ سرد جنگ کئی ایک خونریز معرکوں پر منتج ہوئی۔ فکر و جذبہ کی اِس پے در پے بھیانک کشمکش کے بعد آخر کار انسان اس فیصلے پر پہنچا کہ فکر کو متعین شدہ جذباتی سانچوں سے آزاد کرکے قوانین کو انسانی بصیرت کے تابع کر دیا جائے تاکہ ریاست ہر قسم کی غیر فطرتی بندشوں سے آزاد ہو جائے۔

یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ مذہب یا دین دراصل انسانی جذبات کو بنیاد بنا کر شعور سے متعلق ہوتا ہے۔ انسانی جذبات کی کوئی متعین منطق نہیں ہوتی جس کی منطق ہو وہ جذبہ نہیں کیونکہ جذبہ ایک غیر مشروط والہانہ سپردگی کا نام ہے جس میں عقل کا براہِ راست کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ جذبہ کی بنیاد شعور کی طرح تجربات پر نہیں ہوتی نہ ہی یہ حسن و کمال کا غلام ہوتا ہے۔ چونکہ انسان کے اندر دیگر حسیات کے علاوہ جمالیاتی حس بھی موجود ہے جس کا تعلق براہِ راست انسانی جذبات سے ہوتا ہے تو انسانی جذبات کے پیچھے یہی حس کارفرما ہوتی ہے۔ انسانی جذبات میں یہ بنیادی سقم پایا جاتا ہے کہ یہ کسی دوسرے انسان کے لئے مستند اور قابلِ عمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہر انسان کے نزدیک حسن و کمال کے معیارات مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے مقابل شعور ایک مستند تجربہ ہوتا ہے جس کو جتنی بار عمل میں لایا جائے نتائج وہی نکلتے ہیں۔ دنیا میں مختلف مذاہب کا وجود دراصل انسانی جذبات کی اس واضح انفرادیت کو ظاہر کر دیتا ہے۔ جذبات متعلق ہو جائیں تو وہ ہر قسم کی منطق و مصلحت سے فرار ہو جاتے ہیں چنانچہ دو انسانوں کے درمیان نزع کا بھی یہی بنیادی سبب ہے۔ اگر مذہب کی بات کی جائے تو دنیا کے تمام مذاہب دراصل براہِ راست انسانی ذات سے مخاطب ہیں۔ مذہب کی بنیاد چونکہ جذبات سے شروع ہوتی ہے اس لئے اس میں انفرادیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ مذہب ہمیشہ سے انسانی نفس کو مخاطب کرتا آیا ہے۔ نفس سے مراد دراصل جذبات کا منفی پہلو ہے جس کی تزئین کے لئے مذہب اپنے ضوابط پیش کرتا ہے۔ پس مذہب کا اصل مدعا انسانی ذات کی تہذیب ہے انسانی ذات کی تہذیب ان مقرر کردہ جذبات یا عقائد کی بنیاد پر‘ جو ہر مذہب کی مبادیات ہوتی ہیں مذہب جذبات عقائد متعین کرکے اِس کو ایک قانون کی شکل دے دیتا ہے‘ پھر انسان کو اس بات کا پابند بنا دیتا ہے کہ وہ انفرادی زندگی میں اِن قائم کردہ قوانین کی تابعداری کرے۔ اہلِ امر یعنی حکمران جب مذہب سے متعلق ہوتے ہیں تو وہ اِن قوانین کو اجتماعیت کی شکل دے دیتے ہیں۔ ویسے فی نفسہ مذہب براہِ راست انسانی ذات سے مخاطب ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے ’’قد افلح من تزکٰی‘‘ (کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو برائی سے پاک کر لیا) مذہب کا اصل مدعا تہذیبِ نفس ہے۔ مذہب کو سیاست میں صرف اہلِ امر ہی لے آتے ہیں۔ اپنے مخصوص سیاسی مفادات کی تکمیل یا پھر کسی مخصوص مقصد کی بارآوری کی خاطر انسانی نفس دراصل انسانی جذبات کے غیر مثبت رویہ کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔ اس غیرمثبت رویہ کی تزئین کے لئے مذہب اپنا کردار ادا کرتا ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی نفس کی تہذیب یعنی خوبصورتی ہمیشہ مذہب ہی سرانجام دیتا ہے۔

ایک مکتبۂ فکر کے مطابق مذہب کا براہِ راست نظمِ اجتماعی سے کوئی تعلق نہیں۔ نظمِ اجتماعی کے لئے قدرت نے انسان کو بصیرتِ جاریہ سے بہرہ مند فرمایا تاکہ انسان شعور کے بدلتے تغیر کے ساتھ اپنے اجتماع افعال کو شعورِ جاریہ سے موافق کرتا جائے۔ وقت ایک اضافی اکائی ہے جو ہمیشہ سے انسانی شعور کے تابع رہی ہے چنانچہ یہ کہنا کہ’’ وقت بدلتا ہے‘‘ موزوں نہیں‘ وقت نہیں شعور بدلتا ہے۔ جستجو انسان کو خوب سے خوب تر کی تلاش میں آگے لے کر جا رہی ہوتی ہے جبکہ جذبہ ایک مطلق ٹھوس اور غیرمتبدل قوت ہے جس میں تغیر کا امکان موجود نہیں۔ چنانچہ یہی جذبہ مذاہب کو ایسی مضبوط بنیاد فراہم کئے ہوئے ہے جس کے انہدام کا امکان شعور کے تخمینے سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید شعور نے جذبات کا معاملہ خالص انفرادیت تک محدود کر دیا تاکہ انسانیت کے مابین ہر قسم کا خطرناک اختلاف رفع ہو جائے جذبات کی انفرادیت کو جدید دنیا آج سیکولرازم یا خیارِ فکر سے جانتی ہے۔

مذہب دراصل انسان کو جذبات یا عقائد کی بنیاد پر دو طرح کے قوانین فراہم کرتا ہے۔ ایک روحانی اور دوسرے معاملاتی۔ جنہیں عام اصطلاح میں حقوق اللہ اور حقوق العباد بھی کہا جاتا ہے‘ روحانی قوانین تو بہرحال غیرمتبدل ہوتے ہیں۔ کسی بھی مذہب کے متعین کردہ جذبات یعنی عقائد اور روحانی قوانین متغیر نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ دراصل مذہب کے مبادیات میں شمار ہوتے ہیں جن کو تبدیل کرنے سے مذہب کے مروجہ خدوخال متاثر ہو جاتے ہیں اس لئے ان کو چھیڑنے سے قوی امکان ہے کہ جذباتی جدل واقع ہو جائے جو کسی بھی خونریز معرکہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے تاریخِ انسانی ایسے متعدد واقعات سے بھری پڑی ہے سو ہم متعین جذبات یعنی عقائد یا روحانی مشقات پر بحث کرنے سے گریز کرکے قوانینِ معاملات پر تھوڑی سی روشنی ڈالتے ہیں کیونکہ عقائد اور روحانی مشقات دراصل ہر انسان کا خالص انفرادی معاملہ ہے جیسا کہ ہم عرض کر چکے کہ انسانی شعور جستجو کی بنیاد پر خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔ وقت شعور کی ہی بدولت تبدیل ہوتا ہے چنانچہ جب ہم کہتے ہیں کہ پرانا زمانہ تو اس سے ہرگز ہماری یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ زمانہ جس میں سورج مغرب سے طلوع ہوتا تھا بلکہ ہماری مراد ہوتی ہے کہ وہ وقت جس میں انسانی شعور اپنے ابتدائی منازل طے کررہا تھا۔ وقت کا بدلنا دراصل شعور کی تبدیلی کو ظاہر کرنے کے لئے ایک منطقی محاورہ ہے۔ انسانی شعور خوب سے خوب تر ہوتا جا رہا ہے اور نہ معلوم یہ سلسلہ کہاں جا کے رکے گا کہ شعور کو ثبات نہیں۔ یہ تغیر دراصل شعور کا تغیر ہے انسانی فکر کی بہتری کی روداد ہے جو ہمیشہ جاری و ساری رہے گی۔ قوانینِ معاملات دراصل تبدیلی کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں۔ حیوان کی سرشت سے اٹھنے والا انسان آج اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حامل ہے اور یہ سلسلہ یہیں پر بھی نہیں رُکتا آگے جائے گا اور جاتا ہی رہے گا کہ یہی قدرت کا اٹل فیصلہ ہے اور جس کا انسان کماحقہ‘ ادراک بھی کر چکا ہے۔ عقائد اور روحانی مشقات کا تعلق انسان کی انفرادی زندگی سے ہے اور قوانینِ معاملات کا تعلق انسان کی معاشرتی زندگی سے ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ اعلیٰ انفرادی اخلاقیات کا اجتماعی معاشرت پر کما حقہ‘ مثبت اثر پڑتا ہے‘ لہٰذا معاشرے کو انسان کی اعلیٰ اقدار کے لئے ہر ممکن بہتر ماحول فراہم کرنا چاہئے۔

انسانوں کے چھوٹے سے گروہ کو معاشرہ اور اسی کو مزید وسیع کر لیں تو ریاست کہلاتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوانینِ معاملات کا تعلق براہِ راست ریاست سے ہوتا ہے۔ ایک مکتبۂ فکر کے مطابق ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ مذہب کے حامل ریاست کے شہری ہوتے ہیں۔ ریاست کو مذہب کا پابند نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ریاست میں مختلف عقائد کے حامل افراد بطورِ شہری زندگی گزارنے کے اہل ہوتے ہیں۔ دنیا میں ابھی ایسی ریاست کا وجود واقع نہ ہو سکا جس میں سو فیصد ایک ہی جذبات یا عقائد کے حامل شہری ہوں۔ ایک فیصد کیوں نہ سہی‘ بہرحال مخالف عقائد کے حامل افراد موجود ہوتے ہی ہیں۔ قرآن میں واضح فرمایا گیا ہے’’لکم دینکم ولی الدین‘‘ (آپ کے لئے آپ کا دین اور ہمارے لئے ہمارا) اسلام کے ابتدائی ادوار میں عقائد کی تبدیلی پر ریاست نے کوئی قوانین یا حدود جاری نہیں کئے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ ترجمہ: ’’وہ لوگ جو ایمان لے آئے‘ پھر کفر کیا‘ پھر ایمان لے آئے اور پھر کفر پر ڈٹ کر آگے بڑھ گئے تو ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ نہ تو مغفرت کرے گا نہ ہی راہِ راست دکھائے گا‘‘ مذکورہ بالا آیت میں دو بنیادی نکات قابلِ غور ہیں پہلی بات یہ کہ وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کر لیتے ہیں ان کے لئے اللہ نے کوئی مخصوص سزا مقرر نہیں کی جبکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو کفر پر ڈٹ گئے ایسے لوگوں کا معاملہ براہِ راست اللہ کے ساتھ مخصوص ہو گیا اور اﷲ تعالیٰ کی ذات ہی ان کے لئے جزا یا سزا کا اختیار رکھتی ہے۔ اپنی طرف سے کسی قانون کی شکل دے کر نہ تو فردِ واحد کو اس بات کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی طرف سے کوئی قانون وضع کرکے انسان کو اس کا پابند کر دے نہ کسی گروہ کو اس امر کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ قرآن کی یہ آیت انسانیت کے درمیان ایک فیصلہ کن حکم کی حیثیت رکھتی ہے جس میں کسی قسم کی خانہ ساز تاویل و تعبیر کی ضرورت نہیں نہ ہی سیاق و سباق کی بنیاد پر من پسند حواشی کی محتاج۔ انسانی بصیرت جن عقائد و نظریات کی حامل ہوگی‘ اسی کا عکس قوانینِ معاملات میں ظاہر ہو جائے گا اسی نظم کو جدید اصطلاح میں جمہوریت کہا جاتا ہے جس میں انسان کو اپنی ذاتی بصیرت کی بنیاد پر قوانینِ معاملات وضع کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہر انسان کو اس بات کا مکمل اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی شخصی بصیرت کی بنیاد پر رائے پیش کرے‘ جو بصیرت اکثریت پر مشتمل ہوگی وہی قوانینِ معاملات وضع کرنے کی مجاز ہے، جبکہ اقلیت کو اس بات کا مکمل اختیار ہوگا کہ وہ اپنی نادر بصیرت پیش کرتی رہے اس وقت تک کہ یہ اقلیت اکثریت میں بدل جائے اس سے بہترین متوازن اور جامع نظم اجتماعی کوئی نہیں۔

مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP