ہمارے غازی وشہداء

تحفۂ نقد ِجاں

وطن سے محبت کا دعویٰ تو سب ہی کرتے ہیں اور شاید بہت سے لوگ اپنے دعوے میں سچے بھی ہوں۔ لیکن گلگت کے حوالدار شاہ میر نے تو کبھی ایسا دعویٰ کیا ہی نہیں تھا کیونکہ وہ حب الوطنی جیسی پیچیدہ تراکیب سے نا آشنا تھا۔ البتہ ایک سپاہی کی حیثیت سے اُس کی کارکردگی بے مثال تھی۔ کیپٹن جاوید کی پوسٹنگ توپ خانے کی نئی یونٹ میں ہوئی تو حوالدار شاہ میروالی توپ بھی ان چھ توپوں میں شامل تھی جو کیپٹن جاوید کے زیرِ کمان تھیں۔ شاہ میر کو قدرت نے بہت متاثر کن شخصیت عطا کی تھی ۔ سرخ و سفید رنگت، کتابی چہرے اور بلند قامتی کے علاوہ اُس کی بول چال اور نشست و برخاست میں ایک خاص طرح کا رکھ  رکھائو تھا۔ ان خصوصیات کے باعث وہ دیگر جوانوں کے مقابلے میں کافی مختلف دکھائی دیتا تھا۔ وہ اپنے لباس کا خاص خیال رکھتا تھااور اپنی سپورٹس کِٹ بھی بہت شوق سے کسی اچھے درزی سے سلواتا تھا۔ شاہ میر ہاکی اور فٹ بال کا بہترین کھلاڑی تھا اور وہ ٹریک سوٹ اور قیمتی جا گزر پہننے کا بھی شوقین تھا ۔ اس کی شخصیت کا مجموعی تاثر اتنا اچھا تھا کہ کئی مواقع پر کسی دوسری یونٹ سے ہاکی کا میچ رکھا گیا تو اُس کے افسر شاہ میر کو ''میجر صاحب '' سمجھتے ہوئے اُس کے سامنے اٹین شن ہو کر فوجی آداب بجا لائے۔ 
شاہ میر نے فوج کا تعلیمی سر ٹیفیکیٹ درجہ دوم حاصل کر رکھا تھا جو کہ سول کے میٹرک کے سر ٹیفیکیٹ کے برابرہے۔ البتہ وہ درجہ اول کا تعلیمی سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اسی لئے وہ تاحال جونیئر کمیشنڈ افسر کے عہدے تک ترقی نہ پاسکا تھا۔ تاہم وہ ایک ذہین اور محنتی توپچی تھا۔ وہ اپنی توپ کے عملے کی کارکردگی پر گہری نظر رکھتا تھا اور اپنے زیر کمان چھ جوانوں کے نظم و ضبط پر اس کی مکمل گرفت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بیشتر پیشہ ورانہ مقابلوں میں اُس کی توپ کا عملہ اول نمبر پر آتا۔ کیپٹن جاوید کی یونٹ میں آمد کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی جسمانی کارکردگی دکھانے کے جو مواقع آئے ان میں شاہ میر کی توپ کے عملے نے نمایاں کارکردگی کا مظاہر ہ کیا۔ اس کے علاوہ  یونٹ کی ہاکی ، فٹ بال اور اتھلیٹکس کی ٹیم میں بھی اُس کے عملے کے لوگ شامل تھے ۔
کیپٹن جاوید کو یونٹ میں آئے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین نے بھارتی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے تحریک آزادی شروع کر دی۔اس تحریک کو کچلنے کے لئے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ ہر روز کسی نہ کسی بہانے درجنوں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر لیا جاتا جن کی تشدد زدہ لاشیں جنگلا ت میں پھینک دی جاتیں یا دریائے جہلم میں بہا دی جاتیں۔ اس کے علاوہ کشمیری مسلمانوں کے گائوں کے گائوں جلا دیئے جاتے اور نوجوان کشمیری لڑکیوں کی آبرو ریزی کو روز کا معمول بنا لیا گیا۔ ایسے انسانیت سوز واقعات نے کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو مزید مہمیز کیا اور بارڈر کے ساتھ ساتھ بسنے والے دیہات کے رہائشی کشمیری مسلمان بھی اس جنگ میں شریک ہوگئے۔ اِن میں سے بیشتر افراد آزمودہ کار سپاہی تھے جو 1948 ء کی جنگِ کشمیر میں بھی حصہ لے چکے تھے ۔ اس جنگ آزادی میں کشمیری مجاہدین کی شرکت نے بھارت کو بوکھلا دیا اور اُس نے بھاری ہتھیاروں سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اقوام متحدہ کے مبصر بھی بھارتی فائرنگ رکوانے میں کامیاب نہ ہوسکے جس سے بھارت کا حوصلہ مزید بڑھتا گیا۔ اگست 1965 کے اواخر میں بھارت نے پاکستان کے سرحدی گائوں اعوان شریف پر بلا اشتعال اور بلاجواز توپخانے سے دن دیہاڑے وحشیانہ گولہ باری کی ۔ اس کے نتیجے میں پورا گائوں ملبے کاڈھیر بن گیا۔ کئی لوگ شہید ہوگئے اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ 
اس مرحلے پرپاکستان نے آزاد کشمیر رجمنٹ کی یونٹوں کو انڈیا کے جارحانہ عزائم کو روکنے کا حکم دیا۔ پاکستان نے  چھمب جوڑیاں کی جانب سے تیز رفتار حملے کی ابتدا کی تو بھارت کو کشمیر ہاتھ سے جاتا دکھائی دیا۔پاک فوج کے آپریشن پر اثر انداز ہونے کے لئے بھارت نے بین الاقوامی سرحد کو روندتے ہوئے 6 ستمبر کولاہور پر اور سات آٹھ ستمبر کی درمیانی رات کو اپنی پوری فوجی طاقت کے ساتھ سیالکوٹ پر حملہ کر دیا۔ دشمن کے عزائم بہت بھیانک تھے۔  وہ تین چار روز کے اندر اندر جی ٹی روڈ کو شاہدرہ اور وزیر آباد کے مقامات پر کاٹ کر پاکستان کو بے دست و پا کردینا چاہتا تھا۔ لیکن تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خندہ۔بھارت کی جارحیت روکنے کے لئے پیش بندی کے طور پر پاک فوج بھی حساس مقامات پر مورچہ بند ہوچکی تھی۔ پاکستان سے پانچ گنا بڑی فوج رکھنے کے باوجود بھارت کو کسی محاذ پر بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اللہ کی مدد سے پاکستان کی مختصر سی فوج نے اپنے محدود وسائل کے ساتھ دشمن کو ناکوں چنے چبوادیئے۔ عین جنگ کے دوران ایک عوامی مقولہ زبان زد عام تھا ۔ ہرخُردو کلاں یہی کہتا سنائی دیتا تھا کہ ''پاکستان کو تین A نے بچایا ہے یعنی اللہ، ایئر فورس اور آرٹلری''۔ اللہ کا ذکر تو ہر حال میں مقدم ہے لیکن ایئر فورس اور آرٹلری نے بھی دشمن کے عزائم کو شکست دینے میں بہترین مہارت کا مظاہرہ کیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پیادہ فوج، رسالے، سگنلز اور انجینئرز و دیگر سروسز کی کارکردگی میں کچھ کمی تھی۔ اس عوامی مقولے کا مطلب صرف پاکستان کی ایئر فورس اور پاکستان کے توپ خانے کی حربی مہارت کو تسلیم کرنا اور انہیں کسب کمال پر سلام پیش کرنا ہے۔ 1965 ء کی جنگ کے بعد بھارت کی لوک سبھا میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ بھارت اتنی بڑی فوج رکھنے کے باوجود پاکستان کی مختصرسی فوج پر غالب آنے میں ناکام کیوں رہا؟بھارتی افواج کی جانب سے سرکاری طور پر یہ بیان دیا گیا تھا کہ ''ہمیں پاکستان کی ایئر فورس اور توپ خانے نے مکمل طور پر حیران (Surprise) کر دیا۔ ہم ان کی مہارت اور کارکردگی کادرست اندازہ لگانے میں ناکام رہے ''۔
اس جنگ میں شاہ میر کی یونٹ سیالکوٹ جموں روڈ کے سچیت گڑھ سیکٹر میں مورچہ بند انفینٹری بریگیڈ کو آرٹلری فائر کی امداد دینے پر مامور تھی۔ اسی بریگیڈ کی ایک کمپنی بارڈر کے نزدیک واقع ٹیلوں پر مورچہ بند تھی تاکہ دشمن پر دور مار ہتھیاروں سے فائر کرکے اسے جانی نقصان پہنچایا جائے اور اس کے نظام الاوقات میں خلل ڈالا جائے۔ 
دشمن کے نا پاک عزائم کو شکست دینے میں مادی وسائل اور اچھی ٹریننگ کی اہمیت بجا لیکن جن غیر مادی عناصر کی اصل اہمیت ہے  مادیت پرست دنیا کے نزدیک اُن کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ ان عناصر میں سر فہرست ہے اللہ کی ذات پر غیر متزلزل بھروسہ۔ دوسرے نمبر پر اہم عنصر ہے اپنے مقصد کی درستی پر یقین۔ تیسرا عنصر ان دونوں عناصر کا منطقی نتیجہ ہے یعنی اپنے مقصد کے حصول کی خاطر کٹ مرنے کا جذبہ اور شہادت کی تمنا۔ 
اس مختصرکہانی کا نقطۂ عروج وہ حقیقی واقعہ ہے جو مندرجہ بالا عناصر کی تصدیق کے لئے ناقابلِ تردید شہادت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان پر بھارت کے حملے کا پانچواں روز تھا۔ بھارتی افواج اپنی تمام تر کوشش کے باوجود مطلوبہ مقام پر پاکستان کے دفاع میں شگاف نہیں ڈال سکی تھیں اور ان کے تمام حملے نہایت کامیابی سے پسپا کر دیئے گئے تھے۔ بھارتی حملوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا توپ خانہ تھا جس نے دن او ررات کے ہر لمحے میں اپنی پیادہ افواج اور رسالے کے دستوں کو توپ خانے کا بہترین فائر بہم پہنچایا اور دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنانے میں اپنی افواج کی بھرپور مدد کی۔ دشمن جھنجھلا کر بار بار حملہ آور ہوتا تھا اور پاکستان کی جانب سے بھر پور مزاحمت اور توپخانے کی نہایت مؤثر گولہ باری کے نتیجے میں پسپا ہونے پر مجبور ہوجاتا تھا۔ بھارت کی ہائی کمان کی جانب سے بھارتی تو پ خانے اور انڈین ایئر فورس کو حکم ملا کہ شدید گولہ باری کرکے پاکستان کے توپ خانے کو تباہ کر دیا جائے تاکہ بھارتی افواج زیادہ جانی نقصان کے بغیر اپنے حملوں میں کامیاب ہوسکیں۔ انڈین ایئر فورس کو توپاکستان ایئر فورس نے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا تھا اور ان پر اتنی دہشت طاری تھی کہ وہ کسی جگہ بھی کامیابی کے ساتھ بمباری کرنے کے قابل نہ تھی۔ تاہم جنگ میں تیزی اور شدت کے باعث کیپٹن جاوید کی رجمنٹ کی توپوں کے مقامِ تنصیب کو بروقت تبدیل نہیں کیا جاسکا تھا ۔ اس بنا پر بھارتی توپخانے نے اپنے ریڈارز کی مدد سے کیپٹن جاوید کی رجمنٹ کا محل وقوع معلوم کر لیا ۔ اگلے روز صبح نو بجے کے قریب تقریباً پچاس بھارتی توپوں نے بیک وقت کیپٹن جاوید کی توپوں پر گولہ باری شروع کر دی۔ 
عملے کی حفاظت کے پیش نظر کیپٹن جاوید نے حکم دیا کہ تمام جوان فوراً تاحکمِ ثانی مورچوں میں چلے جائیں اور کوئی فرد زمین پر حرکت کرتا ہوا دکھائی نہ دے۔ بھارتی توپ خانہ اندھا دھند گولہ باری کر رہا تھا او رہر جانب گرد و غبار اور دھوئیں نے فضا کو آلودہ کر رکھا تھا۔ اتنی زیادہ تعداد میں پھٹنے والے گولوں سے سماعت اور بصارت بھی بری طرح متاثر ہورہی تھی۔ ایسے میں چند لمحوں کے لئے دھوئیں کے بادل چھٹے تو کیپٹن جاوید کو تین نمبر گن پر کچھ نقل و حرکت دکھائی دی۔یہ حوالدار شاہ میر کی گن تھی۔ کیپٹن جاوید نے Tannoy (مقامی سپیکر) پر سختی سے دریافت کیا'' تین نمبر گن پر کون بے وقوف شخص مورچے سے باہر کھڑا ہے ؟ فوراً مورچے میں چلے جائو''۔ اِس کے باوجود تین نمبر گن پر اب بھی کوئی شخص توپ کے ساتھ لگا ہوا کھڑا دکھائی دیا۔ کیپٹن جاوید نے دوربین لگا کر دیکھا تو یہ خود حوالدار شاہ میر تھا ۔ شاہ میر جیسے بہترین ڈسپلن والے فوجی کی جانب سے احکام کی خلاف ورزی ایک غیر معمولی بات تھی ۔ کیپٹن جاوید ایک بار پھر لائوڈ سپیکر پر چلایا ''شاہ میر تم نے میرا حکم نہیں سنا ، فوراً توپ سے پرے ہٹ جائو  اور مورچے میں چلے جائو''مگر وہ مردِ مجاہد وہاں ڈٹا رہا اور اس دوران دشمن پر کئی گولے بھی داغے جو نشانے پر لگے۔
 عین اُسی وقت بھارتی توپوں کے فائر کئے ہوئے چالیس پچاس گولے بیک وقت کیپٹن جاوید کی گن پوزیشن پر گرکر پھٹے۔ کیپٹن جاوید صرف اتنا دیکھ سکا کہ ایک گولا شاہ میر کے گن پِٹ (Gun Pit) کے اندر پھٹا جس کے دھماکے نے شاہ میر کے وجود کو ہوا میں اچھال دیا۔ اس کے بعد گر د اور دھوئیں نے منظر کو نظر سے اوجھل کر دیا۔کیپٹن جاوید بھاگ کر تین نمبر گن تک پہنچا۔ حوالدار شاہ میر کا خون میں لت پت وجود زمین پر پڑا ہوا تھا اور نصف پتلون چیتھڑوں میں تبدیل ہوچکی تھی۔ رجمنٹ کے میڈیکل افسر کے آنے تک نرسنگ حوالدار نے خون کا بہائو روکنے کے لئے ٹیکہ لگا یا اور ٹانگ کے دونوں جانب سپلنٹ (Splint) رکھ کر  پٹی لپیٹ دی۔ میڈیکل افسر نے بھی آتے ہی شاہ میر کو درد کش دوا کا ٹیکہ لگایا اور پھر ایمبولینس میں ڈال کر ایم ڈی ایس (Main Dressing Station) بھیج دیا۔ فوری اقدام کے طور پر توپ کے عملے کا چارج نائیک احمد علی نے سنبھال لیا۔ دوروز کے بعد ایک نئے حوالدار نے شاہ میر والی توپ کے عملے کی کمان سنبھال لی۔ سترہ روزہ جنگ تئیس ستمبر کو اختتام پذیر ہوئی اور حالات بتدریج معمول پر آنے لگے۔ کیپٹن جاوید نے ایم ڈی ایس سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ حوالدار شاہ میر کو سی ایم ایچ بھیج دیا گیا تھا کیونکہ اسے بڑے آپریشن کی ضرورت تھی۔کیپٹن جاوید یونٹ سے اجازت لے کر سی ایم ایچ کے سرجیکل وارڈ میں پہنچا تو یہ دیکھ کر اُسے شدید دھچکا لگاکہ شاہ میر کی ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کاٹی جا چکی تھی۔ تاہم شاہ میر بڑے حوصلے میں تھا اور مسکرا رہا تھا۔ کیپٹن جاوید کے استفسار پر سرجن نے بتایا کہ'' گولے کے ٹکڑوں نے شاہ میرکی ٹانگ کی ہڈی کو اس بری طرح سے چکنا چور کر دیا تھا کہ اُس کا ٹھیک ہونا ممکن ہی نہیں تھا لہٰذا ٹانگ کو کاٹے بغیر کوئی چارہ نہ تھا ورنہ شاہ میر کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی۔'' کیپٹن جاوید نے اپنے ساتھ لایا ہوا فروٹ اور  توپ کے عملے کی جانب سے بھیجے گئے دیگر چھوٹے موٹے تحائف شاہ میر کے حوالے کئے۔ پھر وہ شاہ میر سے ہم کلام ہوا
 ''شاہ میر اگر تم اس دن میرے حکم پر عمل کرکے مورچے میں چلے گئے ہوتے تو زندگی بھر کے لئے معذور ہونے سے بچ سکتے تھے ''۔
شاہ میر کے ہونٹوں پر ایک دل آویز مسکراہٹ پھیل گئی ''آپ ٹھیک کہتے ہیں سر۔ لیکن مجھے یہ بھی پتا تھا کہ ہمارے پاس توپ کا فالتو ٹائر نہیں ہے۔ میں دشمن کی گولہ باری کے درمیان توپ کے ٹائر سے لپٹ جاتا تھا تاکہ دشمن کے گولے کے ٹکڑے بے شک مجھے لگ جائیں لیکن گن کے ٹائر کو نقصان نہ پہنچے۔ پاکستان کے پاس بندوں کی تو کوئی کمی نہیں ۔ میری جگہ کوئی اور آجائے گا۔لیکن صاحب جی اگر توپ کا ٹائر پھٹ جاتا توپھر؟'' 
کیا وطن کی حفاظت کی خاطر کٹ مرنے کے جذبے کواس سے زیادہ آسان الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہے ؟ کیپٹن جاوید کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے ۔  


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 86مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP