متفرقات

تحریک پاکستان کا سفر مصور آفتاب ظفر کی نظر میں

آفتاب ظفر 1937ء میں گورداسپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آ گئے تھے۔ 1948ء میں انہوں نے پشاور میوزیم کی نمائش میں سرٹیفکیٹ حاصل کیا جو ان کی زندگی کا پہلا انعام تھا۔ اسی سال ان کی بنائی ہوئی چند تصاویر قائداعظمؒ کو رسالپور سے کراچی بھجوائی گئیں۔ جس پر قائداعظمؒ نے جوابی خط میں اس ننھے مصور کو خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا کہ یہ بچہ میری قوم کا ایک عظیم مصور بن کر ابھرے گا۔ آفتاب ظفر ایک موضوعاتی مصور ہیں اور انہوں نے عام روش سے ہٹ کر اپنی تہذیب و ثقافت اور اسلامی تاریخ کے پیغام کو اپنے فن کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان کی تصاویر میں اپنے اسلاف اور اسلامی تاریخ کا حسن و جمال، تحریک پاکستان کا اوجِ کمال اور ملی تہذیب و ثقافت کا عکس و جمال دمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ دیکھنے والا جب ان کی بنائی ہوئی تصاویر کو دیکھتا ہے تو وہ ماضی کے جھروکوں سے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے مناظر دیکھتا ہے۔ آفتاب ظفر چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ کے پہلے مسلمان مصور ہیں جنہوں نے قرآنی آیات اورکرامات اولیاء کرام کی پہلی بار تصویری ترجمانی کی ہے اور ایک سچے پاکستانی اور مسلمان مصور ہونے کی حیثیت سے خود کو اپنی تہذیب و تمدن اجاگر کرنے کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ مصوری کے علاوہ وہ فن خطاطی میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

(محمد شعیب مرزا)

 

یہ تحریر 40مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP