انٹرویو

تحریکِ پاکستان گولڈ میڈلسٹ کارکن کرنل (ر) سلیم ملک کہتے ہیں

حضرت قائداعظم محمد علی جناح سے کئی بار ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا
کرنل (ر)سلیم ملک کاشمار تحریکِ پاکستان کے اولین کارکنوں میں ہوتا ہے۔ان کی اور ان کے خاندان کی تحریکِ پاکستان میں نمایاں خدمات ہیں۔ ان خدمات کے اعتراف میں تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ نے انہیں گولڈ میڈل سے بھی نوازا۔ پاک فوج میں بھی انہوںنے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ قائداعظم کے حفاظتی دستے میں شامل رہے اور کئی بار اُن سے ملاقاتوں کا شرف حاصل کیا۔ وہ قائداعظم کے سچے شیدائی ھیں۔ وہ اپنی گفتگو میں جتنی بار بھی اُن کا نام لیں ''حضرت قائدِاعظم محمدعلی جناح رحمة اﷲ علیہ ''کہتے ھیں۔ انٹر ویو میں ہم نے یہ نام اختصار سے لکھا ہے۔ 94 سال کی عمر میں بھی ماشاء اﷲ ان کی صحت اور حافظہ قابلِ رشک ہے اور وہ اب بھی پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے مصروفِ عمل رھتے ھیں۔ ہلال کے لئے ان سے لیاگیاخصوصی انٹرویو پیشِ خدمت ھے۔



 


س  :    آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ اپنے خدانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں۔
ج  :     میں27اپریل 1927 کو لاہور کے علاقے ساندہ کلاں میں پیدا ہوا۔
        میرے خاندان کے لوگ انجمن حمایت اسلام سے وابستہ تھے۔ انہوںنے بہت سے ایسے کام کئے جن پر ہمیں فخر ہے اور ہم انہیں اپنے لئے اعزازسمجھتے ہیں۔ میرے والدملک عطامحمد اور تایا ملک نصیر الدین نے بھاٹی گیٹ ہائی سکول کے لئے زمین عطیہ کی تھی۔سب سے زیادہ فخر کی بات یہ ہے کہ ہمارے خاندان نے تحریکِ پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور مجھے حضرت قائداعظم محمدعلی جناح سے ملاقاتوں کا شرف بھی حاصل رہا۔ 
س  :     مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن اور تحریکِ پاکستان کی طرف رجحان کیسے ہوا؟
ج  : میرے خاندان کے افراد انجمن حمایت اسلام سے وابستہ تھے۔ تحریکِ پاکستان میں بھی ان کی دلچسپی تھی خود میری والدہ جو کہ گھریلو خاتون تھیں انہوں نے بھی تحریکِ پاکستان میں عملی حصہ لیا۔ مسلم سٹوڈنٹس سے میری وابستگی1942 سے ہی ہو گئی تھی۔ جب جالندھر میں ایم ایس ایف کا اجلاس ہوا تھا۔ قائداعظم بھی تشریف لائے تھے۔پورے برصغیر کی نظریں اس اجلاس پر مرکوز ہوگئی تھیں کہ ایم ایس ایف لاہور سے باہر نکل کر اجلاس کر رہی ہے۔
ہندو کس طرح مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ اُس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ1937-38 میں برصغیر میں مردم شماری کروائی گئی۔مزنگ سکول میں ایک ہندو ماسٹر تھا جو سکول کا رجسٹرلے جاتا تھا۔ اس نے سکول کے طالب علموں کے ناموں کے ساتھ رام یاکر شنا لگانا شروع کردیا۔ راج گڑھ میں چند مکانات تھے جن میں ہندو، مسلم اور سکھ رہتے تھے لیکن رجسٹروں میں ہندوئوں کی آبادی زیادہ دکھائی گئی۔ ساندہ راج گڑھ میں راشن ڈپوبنا تو اس کا انچارج بھی ایک ہندو کو بنایاگیا کہ یہاں ہندو آبادی زیادہ ہے۔
مزنگ سکول میں چھوٹی جماعتوں کے انگریزی کے استاد علی حسن شاہ صاحب تھے۔ انہیں جب اپنی جماعت کا رجسٹرنہیں ملا تو انہیں پتہ چلا کہ رجسٹر ہندو استاد لے گیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے آواز بلند کی، مردم شماری والوں کو درخواست دی لیکن افسر ہندو تھے اس لئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان حالات کو دیکھ کر میں بعد میں ایم ایس ایف اور تحریکِ پاکستان کا کارکن بن گیا۔
س  :    ایم ایس ایف کے رکن کی حیثیت سے آپ کس طرح تحریکِ پاکستان میں حصہ لیتے تھے، کس قسم کی سرگرمیاں ہوتی تھیں؟
ج  :     1946 کے انتخابات سے قبل برصغیر میں زیادہ جلسے جلوس نہیں ہوتے تھے۔ مختلف جماعتیں اپنے اجلاس یا سالانہ جلسے کرتی تھیں۔ انگریزوں نے اعلان کیا تھا کہ دوسری عالمی جنگ ختم ہوگی تو ہندوستان میں انتخابات کروائے جائیں گے۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی سرگرمیاں تو اس کے قیام سے ہی جاری تھیں لیکن 1946 کے انتخابات سے قبل یہ بہت متحرک اور فعال ہوگئی تھی۔ جہاں مسلم لیگ کا جلسہ ہونا تھا وہاں ایک دن پنڈال ایم ایس ایف کو مل جاتا تھا۔
    نومبر1945 کو پشاور میں سرحد مسلم لیگ کا اجلاس تھا ہم لاہور سے ایم ایس ایف کے پانچ چھ ممبران گئے تھے۔ کھانے کے وقفے کے دوران میں کھانا کھانے جارہا تھاتو ایک لڑکا بھاگا ہوا آیا اورمجھ سے پوچھا کہ آپ پنجاب سے آئے ہیں؟ میں نے کہا کہ جی ہاں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے آیا ہوں۔ وہ کہنے لگا کہ آپ کو قائداعظم  بلا رہے ہیں۔ میں اس کے ساتھ گیا۔ اجلاس میں دو گھنٹے کا وقفہ ہوا تھا۔ قائداعظم، سردار عبدالرب نشتر، خان عبدالقیوم خان اور ارباب سکندر خان سٹیج سے اُتررہے تھے۔ اس لڑکے نے قائداعظم کو بتایا کہ یہ اسلامیہ کالج لاہور سے آیا ہے۔ قائداعظم نے مجھے دیکھا اور فرمایا''ہیلومائی بوائے، ہائو آر یو'' میںنے حال بتایا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے میری طرف انگلی کا اشارہ کرکے فرمایا کہ جائو اور انتخابات کی تیاری کرو۔میں آپ کو پاکستان لے کر دوں گا۔ باقی رہنمائوں نے بھی مجھ سے ہاتھ ملایا اور وہ کھانے کے لئے چلے گئے۔
میں اپنی خوش قسمتی پر نازاں تھاکہ قائداعظم  مجھ سے ہم کلام ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے احساسِ ذمہ داری بھی محسوس کی کہ قائداعظم کے حکم کی تعمیل کرنی ہے۔ شام کو اجلاس ختم ہوا تو میں ٹرین سے لاہور واپس آگیا۔ اگلے دن میں کالج گیا تو سارے ساتھی میرے گرد جمع ہو گئے کہ پشاور اجلاس میں کیا ہوا، کیا دیکھا۔ میںنے ان کو بتایا کہ اب لاہور میں انتخابات کی تیاری کرنی ہے۔ سب نے کہا کہ کون سا الیکشن ؟  اُن دنوں آفتاب قرشی نے طبیہ کالج سے یہاں آکر داخلہ لیا تھا اور وہ اسلامیہ کالج یونین کے صدر تھے۔ سارے مقرر لڑکے اس کے ساتھ الیکشن کے سلسلے میں فیصل آباد چلے گئے تھے۔ میںنے کالج کے لڑکوں سے کہا کہ مجھے قائداعظم نے حکم دیا ہے کہ لاہور کے الیکشن کے لئے کام کروں ۔
لاہور میں مسلم لیگ کی طرف سے مولانا ظفر علی خان اُمیدوار تھے۔ ان کے مقابلے میں خاکسار تحریک کی طرف سے خالد لطیف گابا اُمیدوار تھے۔ لیکن درپردہ کانگریس پیسہ لگا رہی تھی۔ خالدلطیف پہلے ہندو تھے اُن کا نام کندن گابا تھا۔ وہ خاکساروں اور ہندوئوں کی ملی بھگت اور سازش کے تحت انتخابات میں حصہ لینے آئے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد انہوںنے بھارت جاکر اعلان کیا کہ میں ہندو تھا اور ہندو ہوں۔ خاکساروں اور ہندوئوں کی مدد کے علاوہ لوگوں کی ہمدردیاں خالد لطیف گابا کے ساتھ تھیں۔ ایم ایس ایف اور مسلم لیگ اس نشست سے مایوس ہو کر دیگر شہروں میںمسلم لیگی اُمیدواروں کی حمایت کے لئے چلی گئی۔ کوئی اہم مسلم لیگی لیڈر مولانا ظفرعلی خان کے ساتھ نہیں نکلا۔ میں نے تہیہ کرلیا کہ قائداعظم نے مجھے حکم دیا ہے اس لئے میں مسلم لیگی اُمیدوار کے ساتھ ڈٹا رہوں گا۔ مجھے فخر ہے کہ میں اُن کے ساتھ کھڑا رہا۔ جب میں اندرونِ شہر لوہاری دروازہ ، بھاٹی دروازہ  وغیرہ میںمولانا ظفر علی خان کے لئے ووٹ مانگنے گیا تو ہر گھر سے مجھے گالیاں پڑیں۔ لوگ کہتے تھے گابا اپنا ہندو مذہب چھوڑ کر آیا ہے اور تم اس کے خلاف ووٹ مانگنے آگئے ہو؟ جائو، بھاگ جائویہاں سے۔ دو دن تک یہی ہوتا رہا۔ میں سخت پریشان تھا میں مغرب کے وقت کھانا کھا کر نماز کے لئے مسجد چلاجاتا تھا۔ میں ہر وقت اداس اور پریشان رہنے لگا ایک دن میری والدہ نے اداسی کا سبب پوچھا میںنے اُن کو بتایا کہ قائداعظم  نے مجھے یہ حکم دیا ہے جبکہ میرے سارے دوست فیصل آباد چلے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ تم اطمینان سے کھانا کھائو کل میں تمہارے ساتھ جائوں گی۔ میری سہیلیاں اور جتنی جاننے والی خواتین ہیں اُن کے پاس چلیں گے۔
    میری والدہ حلیمہ بیگم کی تعلیم پانچویں جماعت تک تھی لیکن وہ سمجھدار اور جذبے والی خاتون تھیں۔ خاندان کا اثر رسوخ بھی تھا۔ اگلے روز وہ مجھے لے کر وکٹوریہ ہائی سکول لے گئیں۔ بھاٹی گیٹ کے پاس پائیاں والا میدان تھا وہاں رنجیب سنگھ کے بیٹے کی پرانی حویلی تھی۔ اس کے علاوہ بھاٹی دروازے کے اندر کا ردار خاندان کا شیش محل تھا۔ ان گھروں میں میری والدہ مجھے اپنی سہیلیوں کے پاس لے کر گئیں۔ ہم نے اُنہیں مولانا ظفرعلی خان کی حمایت کے لئے قائل کیا۔ انہوں نے کہا بیٹا گھبرائومت ۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اس طرح ظفر علی خان کی انتخابی مہم کا یہاں سے آغاز ہوگیا۔ جو لڑکے دوسرے شہروں میں جاچکے تھے ان کو جب صورت حال کا علم ہوا تو ان میں سے بھی بہت سے لڑکے واپس آگئے۔ دو ہی دن میں سارے شہر کا پانسہ پلٹ گیا۔ مولانا ظفرعلی خان کو ریکارڈ ووٹ ملے۔گابا عبرت ناک شکست سے دوچار ہوا۔ اس فتح نے پورے ہندوستان پر اثرڈالا۔ مجھے خوشی ہے کہ میںنے قائداعظم کے حکم کی بجا آوری کی۔
س  :    آپ کے علاوہ ایم ایس ایف کے نوجوان اراکین میں کیسا جوش و جذبہ پایا جاتا تھا؟
ج  :     بس ایک لگن تھی۔ ایک جذبہ اور ولولہ تھا۔قائداعظم نوجوانوں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ قائداعظم کو نوجوان طالب علموں سے بہت توقعات تھیں اور ہم ان کی توقعات پر پورا اُترنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے مرکزی دروازے کے پاس ٹینس کا لان تھا۔ 1946 کے انتخابات کے موقع پر ہم نے وہاں شامیانے لگائے کالج کے لڑکوں کے گروپ بنائے کہ کون کس ضلع سے ہے۔ ہر ضلع کے لڑکوں کا گروپ بناتے تھے۔  وہ خود ہی اپنا لیڈر چُن لیتے تھے اور ہم اُسی کو نامزد کردیتے تھے۔ ہر گروپ کو اس کے ضلع کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی۔ فروری کا مہینہ تھا ، سردی تھی۔ تب ووٹنگ ایک دن نہیں بلکہ تین تین دن ہوتی تھی۔ ہر لڑکے کو ہدایت دی جاتی تھی کہ اس کے پاس کم از کم 12 آنے ہونے چاہئیں۔  ہر انتخابی اُمیدوار ان کو کھانا دیتا تھا۔ اگر وہ کھانا نہیں دیتا تھا تو ہدایت تھی کہ قریبی تندور سے دال روٹی کھائیں۔ شام کو مکئی کھائیں اور انتخابی مہم چلائیں۔ ہر لڑکے کے پاس موٹی چادر ہوتی تھی۔ اگر اُمیدوار سونے کے لئے جگہ فراہم کر دیتا تو ٹھیک ورنہ ہم قریبی مسجد میں اپنی چادر اوڑھ کر سوجاتے تھے۔ عوام بھی تعاون کرتے تھے کہ یہ لڑکے پاکستان کے لئے نکلے ہیں۔
س  :    مولانا ظفر علی خان کے حلقے کے علاوہ مزید حلقوں کی کیا صورت حال تھی اور وہاں ایم ایس ایف کا کیا کردار تھا۔؟ 
ج  :     میں یہاں ایک بات واضح کردوں کہ 1945 میں قائداعظم پنجاب تشریف نہیں لائے۔ میں اس کی وجہ یہ سمجھتا ہوں کہ پنجاب حکومت کا گورنر اور وائسرائے مسلم لیگ کے سخت خلاف تھے اور مسلمانوں کے خلاف ان کی کارروائیاں جاری رہتی تھیں۔ قائداعظم  جانتے تھے کہ میں پنجاب میں جس کے ہاں ٹھہرااور جو جو مجھے ملنے آئے گاان پرسختی کی جائے گی اور انہیں انتقام کا نشانہ بنایاجائے گا۔ لیکن پنجاب کے تمام حالات پر اُن کی گہری نظر تھی۔پنجاب میں خضرحیات ٹوانہ ، ظفرقزلباش، سردار محمدحسین کے حلقے بہت مشکل تھے۔ قزلباش کے حلقے میں پولیس ہمیں جانے نہیں دیتی تھی۔ ہماری سائیکلوں سے نہ صرف ہوا نکال لیتے بلکہ والو بھی نکال لیتی تھی۔ پہلے ہم اضافی والو جیب میں رکھتے تھے مگر پولیس نے ہماری تلاشی لے کر وہ بھی نکال کر اپنے قبضے میں لینے شروع کردیئے تو ہم شلوار کے نیفے میں چھپا لیتے یا قریبی دکانداروں کے پاس رکھوا دیتے تھے۔ قزلباش کے مقابلے میں مسلم لیگ کے اُمیدوار سردار عبدالرشید کے والد الیکشن سے دوروز قبل وفات پاگئے جس کی وجہ سے وہ انتخابی مہم صحیح طور پر نہ چلاسکے۔اور قزلباش جیت گیا۔
قصور کی سیٹ پر یونینسٹ کا اُمیدوار  سردار حبیب اﷲ تھا پنجاب میں یہ تیسری نشست تھی جس پر انگریز بہت متحرک تھے۔ اس کو گورنر اور وائسرائے لندن سے لے کر آئے تھے کہ تمہیں وزیرِ تعلیم  بنانا ہے۔ تمام سرکاری مشینری اس کے حق میں استعمال ہو رہی تھی۔ ہمارے بہت سے رشتہ داروں کی ہمدردیاں بھی اُس کے ساتھ تھیں۔ میرے تایا ملک عزیزالدین یونینسٹ پارٹی کی طرف سے اُن کے الیکشن انچارج تھے۔ ہم ایم ایس ایف کے لڑکے وہاں پہنچے اور مسلم لیگی اُمیدوار کے حق میں مہم چلانی شروع کی۔ میرے تایا نے ہمیں دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا کہ تم کہاں؟ میںنے انہیں بتایا کہ ہم الیکشن کے سلسلے میں یہاں آئے ہیں۔ اس وقت ہم وہاں اینٹوں کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک میں تھا، دوسرا سلیم نمبردار اور تیسرا قلعہ گجر سنگھ کے ملک سلطان ۔ کچھ لڑکے علی گڑھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تھے۔
 میرے تایا نے ہمارے لئے چارپائیوںاور بستروں کا انتظام کروایا۔ ہمیں متحرک دیکھ کر انہوںنے شاید یونینسٹ اُمیدوار کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ ہم نے بھرپور تحریک چلائی جس کے نتیجے میں سردار حبیب اﷲ کی ضمانت ضبط ہوتے ہوتے رہ گئی۔
س  :    خاکسار تحریک کے مسلم لیگ سے اختلافات کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ جب مسلم لیگ مسلمانوں کے مشترکہ مفاد کے لئے کام کررہی تھی تو پھر ان اختلافات کی وجوہات کیا تھیں؟ 
ج  :     بدقسمتی سے قائداعظم اور مسلم لیگ کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔ انگریزوں اور ہندوئوں کے علاوہ مفاد پرست گروپوں سے بھی نبردآزما ہونا پڑا۔یونینسٹ پارٹی ہو یا خاکسار تحریک ان جماعتوں نے مسلم لیگ اور مسلمانوں کے مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
    جنوری 1946کو ہم نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے گرائونڈ میں اجلاس کا اہتمام کیا تھا۔ قائداعظم لاہور تشریف لائے ہمیں اطلاع ملی کہ اُسی دن خاکساروں نے موچی دروازہ گرائونڈ میں اپنا جلسہ  رکھا ہے۔ ہم محتاط اور چوکنا ہوگئے۔ جب اجلاس شروع ہوا تو ہمارا خیال تھا کہ قائداعظم کم از کم دو گھنٹے خطاب کریں گے ان کی تقریر کے دوران کالج کی ملحقہ مبارک مسجد سے اذان کی آواز آنے لگی۔ قائداعظم اپنی تقریرروک کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ ہم سٹیج پر ان کے قریب موجود تھے قائدِاعظم نے ہمیں کہا کہ ابھی اذان کا وقت تو نہیں ہوا۔ اسی دوران ہم نے دیکھا کہ علامہ مشرقی مسجد سے نکل کر خواتین انکلوژر کی طرف سے سٹیج کی طرف آرہے ہیں۔ جب قائداعظم دوبارہ تقریر کرنے کے لئے اُٹھے تو انہوںنے دیکھ لیا کہ علامہ مشرقی آرہے ہیں تو انہوں نے ہمیں کہا کہ ان کو کرسی دو۔ ہم نے علامہ مشرقی کوسٹیج سے دُور کرسی پر بٹھادیا۔ اتنے میں ساٹھ ستر خاکسار آکر سٹیج کی بائیں طرف انجمن حمایت اسلام کے دفتر کے باہر کھڑے ہوگئے۔ ہمیں پتہ تھا کہ خاکسار حملہ کرسکتے ہیں۔ میاں امیر الدین قائداعظم کو لے کر باہر نکلے۔ ہم تین لڑکے جن کی گارڈ کی ڈیوٹی تھی۔ ان کے ساتھ تھے۔ جب ہم گاڑی میں قائداعظم کے ساتھ بیٹھنے لگے تو قائداعظم نے فرمایا کہ مجھے خدا کی حفاظت میں چھوڑ دو تم واپس جائو اور علامہ مشرقی کو اس پلیٹ فارم پر تقریر نہ کرنے دینا۔
ہم فوراً واپس سٹیج کی طرف پلٹے تب تک خاکساروں نے سٹیج پر قبضہ کرلیا ہوا تھا۔ علامہ مشرقی ان کے درمیان موجود تھے۔ کچھ خاکسارروسٹرم پر علامہ مشرقی کے لئے مائیک فٹ کررہے تھے۔جو بھی اسٹیج پر چڑھنے کی کوشش کرتاخاکسار اُسے بیلچے مارتے تھے۔ عبدالستار نیازی خواتین انکلوژر کے محافظ تھے وہ اس وقت میرے پاس ہی تھے۔ انہوں نے جیب سے چھوٹا سا چاقونکال کر مجھے دیا اور کہا کہ تمبو کی رسیاں کاٹ دو۔ ہم نے ابھی دو ہی رسیاں کاٹی تھیں جب بانس نکالے تو شامیانہ سٹیج پر گرگیا۔ خاکساراس کے نیچے آگئے۔ ہم نے وہی بانس ان پر برسانے شروع کردیئے اُن کی چیخوں کی آوازیں آنے لگیں لیکن شامیانے کے نیچے ہونے کی وجہ سے وہ بے بس تھے۔ ہم نے پانچ دس منٹ تک ان کی خوب دھلائی کی بیلچہ لگنے سے شامیانہ ایک جگہ پھٹا تو انہوں نے سرنکالے وہ ایسے نڈھال تھے جیسے ابھی بے ہوش ہوجائیں گے۔ ان میں مقابلے کی سکت نہ تھی۔ ہم نے ان سے کہا کہ بھاگ جائو۔
 کالج کی بالکونی میں پرنسپل ملک عمرحیات ایک انگریز افسر کے ساتھ کھڑے تھے۔میں باہر نکلا تو پرنسپل صاحب نے اشارہ کیا۔ میں اُدھر گیا تو انہوں نے آئی جی کے سامنے کہا کہ علامہ مشرقی کو باہر نکالو۔ علامہ مشرقی کی ضد تھی کہ وہ تقریر کریں گے۔وہاں کرسیاں چل گئیں۔ چارپانچ منٹ میں ان کو باہر نکال دیا۔ خاکساروں کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ مار پڑے گی۔ وہ چلے گئے۔ اس اجلاس کے لئے میں نے زندگی میں پہلی بار بہترین پینٹ کوٹ سلوایا تھا۔ اس مار دھاڑ میں میرا کوٹ پھٹ گیا اس کا افسو س تو بہت ہوا  لیکن خوشی اس بات کی تھی کہ ایک بار پھر قائداعظم کے حکم کی تعمیل کی اور علامہ مشرقی کو تقریر نہیں کرنے دی۔
    10مارچ 1946 کو ایم ایس ایف نے مسلم لیگ کی فتح کا جلوس نکلا۔ جب یہ جلوس سناتھم دھرم کالج (موجودہ ایم اے او کالج) کے سامنے سے گزر ا تو کالج کی چھت پر کھڑے کچھ لڑکوں نے جلوس پر اینٹیں برسانا شروع کردیں۔ ایک اینٹ ہمارے کالج کے طالب علم محمدمالک کے سَرپر لگی جس سے وہ شہید ہوگئے۔ اُن کی قبر غازی علم دین شہید کے مزار کے پاس ہے۔ محمدمالک کو تحریکِ پاکستان کا پہلاشہیدبھی کہا جاتا ہے۔ 
س  :      تحریکِ پاکستان میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالیں؟
ج  :     پاکستان کی جنگ سب نے لڑی تھی۔ بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین نے مل کر آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جیسا میںنے پہلے بتایا کہ لاہور میں مولانا ظفر علی خان کی انتخابی مہم میں میری والدہ اور پھر دیگر خواتین نے عملی حصہ لیا تو کامیابی ممکن ہوئی۔جب مسلم لیگ کی تحریک جاری تھی تو آخری دنوں میں طالب علموں کے ایک جلوس پر انگریز آئی جی خود پولیس کے ہمراہ لاٹھی چارج کرتے ہوئے ٹائون ہال نیلاگنبد تک لے گیا۔ساندہ کلاں سے تانگوں پر خواتین کا ایک جلوس آیا۔ اس سے پہلے مولوی محمدرمضان کی قیادت میں مردوں کا ایک جلوس آیا تھا۔ اس طرح بھاٹی، موچی ، دہلی دروازوں سے بھی جلوس آگیا۔ ساندہ کلاں سے آنے والی خواتین کے جلوس کی قیادت میری والدہ کررہی تھیں۔ یہ خواتین سفید برقع پہنے ہوئے تھیں۔ خواتین کے سارے جلوس سول سیکرٹریٹ پہنچ گئے۔ ساندہ کلاں کے جلوس میں شامل صغریٰ ، شمیم کاردار اور جمیلہ خانم نے سول سیکرٹریٹ  کے گیٹ پر چڑھنا شروع کردیا۔ گیٹ کیپر نے یہ سوچ کر کہ بچیاں گر کر زخمی نہ ہوجائیں گیٹ کھول دیا۔ تینوں خواتین اندر پہنچ گئیں اور اوپر جا کر یونین جیک کی جگہ صغریٰ  نے اپنا سبز رنگ کا دوپٹہ لہرادیا۔ مسلم لیگ کا جھنڈا بھی سبزرنگ کا تھا۔ انہوںنے یونین جیک کو اتار کر تہہ کیا اور نیچے جا کر چیف سیکرٹریٹ کے باہر جو انگریز افسر کھڑا تھا اُس کے حوالے کردیا۔ ہندوستان میں یونین جیک کو جلایاگیا تھا لیکن تحریکِ پاکستان میںیونین جیک کو تہہ کرکے انگریزوں کے حوالے کیاگیا۔ اس میں انگریزوں کے لئے پیغام تھا کہ وہ اپنے جھنڈے اُتاریں اور برصغیر سے چلے جائیں۔
اس وقت ہندوستان کے ہر صوبے اور دہلی میں قیادت کے زیادہ ایڈیٹر انگریز تھے۔ انہوں نے ایڈیٹوریل لکھے کہ مسلمان نے یونین جیک کوجلانے کے بجائے انگریز افسر کے حوالے کیا ہے۔ اب انگریزوں کو مسلمانوں کا خطہ ان کے حوالے کردینا چاہئے۔ اگلے دن اخبارات میں خضر حیات کا یہ بیان شائع ہوا تھا کہ پچھلے سال وزارت لینا میری غلطی تھی میں اپنی مائوں، بہنوںاور بیٹیوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہوں۔ تب خضر حیات نے استعفیٰ دے دیا۔ خواتین کی اس تحریک سے ہندوستان میں جیسے بھونچال آگیا اور تحریکِ پاکستان مزیدتیز ہوگئی۔
        1946 میں برصغیر میں ایک بڑا واقعہ پیش آیا تھا۔ پہلے برٹش نیوی میں بغاوت ہوئی۔ بغاوت اتنی زبردست ہوئی کہ اس میں بہت سارے نمایاں انڈین افسروں اور جوانوں نے حصہ لیا۔ آخر برٹش آرمی نے ان پر فائرنگ کرکے پوسٹیںخالی کروائیں۔ تب برٹش گورنمنٹ کو اندازہ ہوگیا کہ وہ زیادہ دیر برصغیر پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی فوج کے ذریعے آزادی کی تحریک کو دباسکتی ہے اس لئے اُس نے ہندوستان کی آزادی کاقانون منظور کیا۔
س:        آپ کو قائدِاعظم سے ملاقات کا شرف کتنی مرتبہ حاصل ہوا؟
ج:        قائداعظم  جب بھی لاہور یا اسلامیہ کالج آتے مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوتا۔ وہ جب تک لاہور میں رہتے ، ہمیں ان کے قریب رہنے کا موقع ملتا۔ ہم ان کے حفاظتی دستے میں بھی شامل ہوتے تھے۔ نوجوانوں سے وہ خاص محبت کرتے تھے اور ''مائی بوائے'' کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ یوںتو قائداعظم سراپا اصول پسند تھے۔ انہوں نے سنہرے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری۔ ان کی اصول پسندی پر تو پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔لیکن میں اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کرتا ہوں۔
    ''مولانا ابوالکلام آزاد پاکستان کے قیام کے مخالف تھے۔ پاکستان کے حامی مسلمانوں میں ان کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ہمیں پتہ چلا کہ وہ فلیٹیز ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور سازشوں میں مصروف ہیں۔ عبدالستار نیازی ، میںنے اور دیگر لڑکوں نے فیصلہ کیا کہ مولانا کو کھری کھری سنائی جائیں۔ ان کی حفاظت کے لئے ان کے گرد کانگریس کے لڑکے کھڑے ہوتے تھے۔ ہم نے پرچی نکالی تو پرچی میرے نام کی نکلی میں فلیٹیز ہوٹل میں ان کے کمرے میں چلاگیا۔ سلام کیا اور اس کے بعد ان کو خوب سنائیں۔ بلکہ میں کچھ زیادہ ہی کہہ گیا۔ مولانا چیخے کوئی ہے؟ کانگریس کے لڑکے فوراًآئے اور مجھے پکڑ لیا۔ اس سے پہلے وہ میری درگت بناتے ہمارے جغرافیہ کے استاد عبدالحئی بٹ کا بھائی عبداﷲ بٹ آگیا۔ وہ مجھے جانتا تھا۔ وہ مولانا کا حامی تھا لیکن شناسائی کی وجہ سے اُس نے مجھے دھکا دے کر باہر نکال دیا اور اس طرح مجھے پٹائی سے بچاتو لیا مگر یہ بات قائداعظم تک پہنچا دی۔ قائداعظم بہت ناراض ہوئے انہوںنے عام کاغذ پر اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجا کہ جائو ان سے معذرت کرو، وہ بڑی شخصیت ہیں۔ مولانا پاکستان اور مسلم لیگ کے مخالف تھے اگر کوئی اور لیڈر ہوتا تو ان کی بے عزتی پر خوش ہوتا لیکن قائداعظم نہ خود کوئی غیر اخلاقی بات کرتے تھے نہ اس چیز کو پسند کرتے تھے۔ ان کی اصول پسندی تھی کہ انہوںنے مجھے معذرت کرنے کو کہا۔ میں قائداعظم کے حکم کی تعمیل میں کئی بار معافی مانگنے گیا لیکن انہوںنے انکار کردیا۔ قائداعظم کا حکم تھا اور خود مجھے بھی بعد میں افسوس ہوا کہ مجھے اس طرح نہیں کرنا چاہئے تھا۔
        قائداعظم ایک بار تین چار دن لاہور میں مقیم رہے۔ اسلامیہ کالج کے کنویشن میں بھی شرکت فرمائی اور اساتذہ سے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ انہوں نے ابھی تک نئی مملکت میں طلباء کے لئے نیا نصاب کیوں نہیں تیار کیا۔
س:        اصول پسندی کے علاوہ قائداعظم کی کس خوبی نے آپ کو متاثر کیا؟
ج:        قائداعظم تو خوبیوں کا منبع تھے۔ مارچ 1946ء میں قائداعظم لاہور تشریف لائے تو ممدوٹ وِلا میں قیام فرما تھے۔ ہم ان کے محافظ دستے میں شامل تھے۔ قائداعظم ان دنوں بہت مصروف رہے۔ کبھی کسی سے ملاقات، کبھی کسی ادارے میں میٹنگ ہوتی تھی۔ میں عام طور پر قائداعظم کے ساتھ دن کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ جبکہ ملک سلطان قلعہ گوجرسنگھ والے رات کی ڈیوٹی کے لئے تیار رہتے تھے۔ ایک دن میں صبح ممدوٹ وِلا گیا تو ملک سلطان نے بتایا کہ قائداعظم سارا دن میٹنگز میں مصروف رہے تھے۔ میں نے ساری رات ان کو سجدے میں دیکھا ہے۔ جب قائداعظم ناشتہ کرچکے تو ہم ان کے پاس بیٹھے وہ ہمارے سوالوں کے جواب خوشی سے دیتے تھے۔ میں نے ہمت کرکے پوچھا کہ کل سارا دن آپ میٹنگز میں مصروف رہے لیکن رات کو آپ سجدے میں رہے۔ قائداعظم مسکرائے اور فرمایا۔ مائی بوائے۔ میری ایک ہی خواہش ہے کہ جب میری حضورۖ سے ملاقات ہو یا میں اﷲ کی بارگاہ میں پیش کیا جائوں تو دونوں کہیں ویل ڈن جناح۔
    اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قائداعظم ایمان کے کس درجے پر متمکن تھے۔ وہ ظاہر سے زیادہ باطنی طور پر خدا اور اس کے رسول ۖ سے محبت کرتے تھے ۔کیوںاپنے مقصد پر ڈٹے رہے۔ کوئی مشکل ان کے عزم کو کمزور نہ کرسکی کیونکہ ان کا مقصود رضائے الٰہی اور رضائے مصطفیٰ ۖ تھا۔
س:    قائداعظم کے علاوہ تحریکِ پاکستان کے کن رہنمائوں سے ملنے کا موقع ملا؟
ج:     باغبان پورہ کے میاں افتخار الدین ہمارے رشتہ دار تھے۔ ان کے علاوہ میاں ممتاز دولتانہ، لیاقت علی خان، نواب ممدوٹ، سردار شوکت حیات اور تقریباً تمام رہنمائوں سے ملاقاتوں کا موقع ملتا رہا کیونکہ ہم قائداعظم کے ساتھ ڈیوٹی کرتے تھے۔
س:     تحریک پاکستان میں شمولیت کی وجہ سے آپ کی پڑھائی تو متاثر نہیں ہوئی؟
ج:     قائداعظم نے فرمایا تھا کہ جن طلباء نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا ہے ان کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کیا جائے لیکن میں نے اس کے لئے اپلائی نہیں کیا تھا۔ بی اے کرنے کے بعد سول انجینئرنگ اور پھر ملٹری کالج آف انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ مجھے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ میں نے تین یونٹوں کی کمانڈ کی ہے۔ قراقرم ہائی وے بننے کے دوران کمانڈ کی۔ گلگت میں بڑے ٹرکوں کے لئے رسوں کا پل بنایا۔ سکردو سائیٹ پر لکھا ہوا ہے۔106- RCB روڈ کنسٹرکشن بٹالین۔ یہ میں نے 1967/68 میں بنایا۔
     چواین لائی کو کہا گیا کہ سڑک بن گئی ہے آپ افتتاح کریں انہوں نے نقشہ منگوایا اور پوچھا کہ دریا کو کیسے عبور کیا جائے گا۔ ان کو بتایا گیا کہ پل ابھی نہیں بنا تو انہوں نے کہا کہ جب پل بن جائے گا تو تب میں افتتاح کروں گا۔
    چین سے چواین لائی کے بعد جو سینئر وزیر تھا وہ آیا۔ ہماری طرف سے جنرل حمیدتھے۔ چلاس ہیڈکوارٹر میں ملاقات ہوئی۔ چینی وزیر نے مجھے کہا کہ آپ کو پل بنانے کا منصوبہ ملا ہے۔ مائوز تنگ اور چواین لائی کا پیغام ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس پل کو بنائیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اس سڑک کو کراچی  سے چائنہ تک لائیں۔ یورپ، امریکہ اور برطانیہ کو اس سڑک سے  بے چینی لگی ہوئی تھی۔ وہ ہر دوسرے تیسرے مہینے فیملی کے ساتھ سیر کرنے کے لئے یہاں آتے تھے تاکہ دیکھ سکیں کہ یہ لوگ سڑک بنا بھی سکتے ہیں کہ نہیں۔ پھر ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ 1965 میں رن آف کچھ اور پھر کھیم کرن محاذ پر پل بنانے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی جسے احسن طریقے سے پورا کیا۔
س:         قائدِاعظم کی فہم وفراست کے لئے حوالے سے کچھ بتایئے۔
ج :        یہاں میں قائداعظم کی فہم و فراست اور عزم و حوصلے کا ایک واقعہ بھی بیان کردوں قیام پاکستان کے بعد جب پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہورہا تھا تو قائداعظم نے برٹش آرمی سے کہا کہ کسی ماہر افسر سے پاکستان اور بھارت کی فوجی طاقت کے حوالے سے پیپر تیار کروا کے دیں۔ ایک انگریز افسر نے  بہت عرق ریزی کے بعد رپورٹ تیار کی۔ قائداعظم نے اسے ملاقات کے لئے بلایا اور 6 گھنٹے تک اس رپورٹ کے مختلف پہلوئوں پر گفتگو کرتے رہے۔ انگریز افسر کا تجزیہ تھا کہ پاکستان بھارت سے مقابلے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ پاکستان کی جو صورت حال ہے اس کے لئے اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہے۔ 6 گھنٹے کی بحث کے بعد قائداعظم نے دوٹوک انداز میں سے کہا کہ پاکستان ہر حال میں اپنا دفاع کرے گا۔ انگریز افسر نے  بعد میں اعتراف کیا کہ حالانکہ جنگی حکمت عملی قائداعظم کا شعبہ نہیں تھا لیکن جس طرح انہوں نے چھے گھنٹے تک مختلف پہلوئوں پر مجھ سے بحث کی وہ ان کی فراست کی آئینہ دار تھی۔ 1965ء کی جنگ میں پاکستان نے اپنے سے بڑی طاقت بھارت کو شکست دے کر قائداعظم کی بات کو سچ ثابت کردکھایا۔
س:     کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ پاکستان قائداعظم، علامہ اقبال اور آپ جیسے تحریکِ پاکستان کے کارکنوں کی آرزوئوں کے مطابق ہے؟
ج:    مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قیامِ پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ ہر شہری کو اس کے حقوق ملیں گے۔ جھوٹ، رشوت اور اقرباپروری نہیں ہوگی لیکن بدقسمتی سے یہاں جس میں برائیاں ہوتی ہیں وہ ترقی کرتا ہے۔ رشوت نے ہر چیز کو کھوکھلا کرکے تباہ کردیا ہے، کسی کو اپنی ذمہ داری اور کردار کا احساس ہی نہیں ہے۔ جس دن جھوٹ، رشوت اور اقربا پروری کا یہاں سے خاتمہ ہوجائے گا، اس دن یہ ملک دنیاکے اول درجے کے ملکوں میں شمار ہوگا۔
س:     آپ زمانۂ طالب علمی میں تحریک پاکستان کا حصہ رہے اور قیام پاکستان کے بعد تعمیر پاکستان میں مصروف رہے۔ آج کے نوجوانوں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج:     پیغام دینے سے پہلے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں بھی ''ہلال'' میں لکھتا رہا ہوں۔ تب میجر افضل اس کے ایڈیٹر تھے۔ ان کا تعلق جہلم سے تھا۔
         نوجوانوں کے لئے پیغام وہی ہے۔ جس طرح قائداعظم کی خواہش تھی کہ جب میں اﷲ تعالیٰ اور حضو رۖ کی بارگاہ میں پیش ہوں تو فرمائیں کہ شاباش۔
     جو کام بھی ملے دل جو ئی سے کریں۔ پاکستان کی خدمت کریں اور پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنا د یں۔
                    

یہ تحریر 27مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP