انٹرویو

تحریکِ پاکستان کے کارکن عبدالعزیز چشتی سے گفتگو

پاکستان لاکھوں قربانیوں کا ثمر ہے

اگر علیٰحدہ مملکت حاصل نہ کی جاتی توبرصغیر کے مسلمان صدیوں تک ہندوئوں کی غلامی میں رہنے پرمجبور ہو جاتے یا اپنی علیٰحدہ شناخت کھو بیٹھتے

بانی ٔ پاکستان محمدعلی جناح کے ہاتھوں کا لمس آج92 سال کی عمر میں بھی اپنے بوڑھے ہاتھوں پر محسوس کرتا ہوں

تحریکِ پاکستان کے ایک کارکن عبدالعزیز چشتی سے محمدشعیب مرزا کی ہلال کے لئے گفتگو

 

 سوال : کچھ اپنے بارے میں بتایئے۔

جواب:     میںشہر جگراؤں ضلع لدھیانہ (بھارت)میں پیدا ہوا ،بچپن بھی اسی شہر میں گزرا۔ہمارے گائوں کے کچھ لوگ فوج میں ملازم تھے اور کچھ دیگر سرکاری  محکموں میں تھے۔سب کے سب آزادی ،آزاد وطن کے خواہش مند اور تحریک پاکستان کے محب وطن کارکن تھے۔ان دنوں میں بھی ایک طالبعلم رہنما اور یوتھ ونگ کا ممبر تھا۔میری والدہ  بیگم چوہدری تحریک پاکستان کی معروف خاتون تھیں۔ہمارا خاندان 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان آگیا۔

سوال : ان دنوں لدھیانہ کے حالات کیسے تھے؟

جواب:     تحریک آزادی زوروں پر تھی۔سیاسی ماحول بڑا گرم تھا۔ہندو لیڈر ہندوستان کو صرف آزاد کرانا چاہتے تھے لیکن اسے تقسیم کرنے کے حامی نہ تھے۔لیکن قائد اعظم محمد علی جناح ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ تقسیم کے بھی حامی تھے۔اگر ہندوستان صرف آزاد ہو جاتا تو مسلمان انگریز حکمرانوں کی غلامی سے نکل کر صدیوں کے لئے ہندوستان کے ہندوؤں کی غلامی میں چلے جاتے۔نظریہ پاکستان ہماری آزادی اورپاکستان کی بنیاد بنا۔یہ نظریہ حضرت علامہ اقبال کا ایک حسین خواب تھا۔جسے قائد اعظم نے خوبصورت تعبیر سے ہمکنار کردیا۔ہجرت کے وقت مشرقی پنجاب  کے پورے علاقے میں سخت کشیدگی تھی۔مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا۔



 سوال : کیا لدھیانہ میں مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن قائم تھی؟

جواب:     ہاں!فیڈریشن قائم تھی ،یوتھ ونگ بھی تھا۔انہی کی دعوت پر قائد اعظم اور دوسرے مسلمان لیڈرلدھیانہ کا دورہ کیا کرتے تھے۔میں یوتھ ونگ کا سٹوڈنٹ ممبر تھا اور لدھیانہ جاتا رہتا تھا۔میری قائد اعظم کے ساتھ ملاقات بھی لدھیانہ کے ریلوے اسٹیشن پر ہوئی تھی۔ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر میری ڈیوٹی تھی۔

 سوال : آپ نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، کچھ اس وقت کے عمومی حالات کے بارے میں بتایئے؟

جواب:تحریک پاکستان چل رہی تھی ۔جلسے ،جلوسوں کا زور تھا۔کانگریس اور مسلم لیگ کی جماعتیں کامیابی کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں۔گاندھی اور نہرو نے ہندوستان کی ایک مسلم جماعت مجلس احرار کو بھی اپنی جماعت کانگریس کے ساتھ ملا لیا۔اس جماعت نے نہرو اور گاندھی کا ساتھ دیا۔پھر بھی وہ ہندوستان کی تقسیم کو نہ روک سکے۔پاکستان معرض وجودمیں آگیا۔میں اس جدوجہد کا چشم دید گواہ اور تحریک پاکستان کا ادنیٰ کارکن ہوں۔23 مارچ 1940 کے تاریخ ساز جلسے منٹو پارک  میں اپنے والد کے ساتھ شامل ہوا۔اس جلسے میں مسلمانان ہند نے قائد اعظم کی قیادت میں متفقہ طور پر بادشاہی مسجد کے فلک بوس میناروں اور راوی کے سر سبز و شاداب کناروں کو گواہ بنا کر قرار داد لاہور(پاکستان)منظور کی تھی۔اس قرار داد کی منظوری نے ہندوؤں کے گھروں میں صف ماتم بچھا دی تھی اور انگریز حکمرانوں کے ایوانوں پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔فضائیں نعروں سے گونج رہی تھیں۔سبز پرچم ہوا میں لہرا رہے تھے وہ سارے مناظر آج بھی میری آنکھوں میں محفوظ ہیں۔وہ فلک شگاف نعرے آج بھی میری سماعتوں میں رس گھول رہے ہیں۔اس جلسہ عام کے بعد پاکستان کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا۔ انگریز حکمرانوں کا بوریا بستر گول ہونا شروع ہو چکا تھا۔ورنہ!وہ کب ہندوستان(سونے کی چڑیا )کو چھوڑ کر جانا چاہتے تھے۔

دوسری طرف جنگ عظیم دوم شروع ہوئی۔ جس میں جرمنی اور جاپان نے انگریز اتحادیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے تھے۔ جس سے انگریز کمزور پڑ گئے۔ بہرکیف میں مسلم لیگ کے جلسوں،جلوسوں اور ریلیوں میں، پورے علاقے میں جاتا۔مسلم لیگ کا پیغام دور تک پہنچاتا۔جلسہ گاہوں میں رضا کارانہ طور پر کام کرتا۔لاٹھی چارجوں کے دوران جسم پر لگے زخموں کے نشان آج بھی میرے بوڑھے جسم پر موجود ہیں جو تحریک پاکستان کی یاد دلاتے ہیں۔اللہ نے ہمیں کامیابیوں سے ہمکنار کر دیا۔پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

سوال : آپ کی والدہ بیگم چوہدری بھی تحریک پاکستان کی رُکن تھیں کچھ ان کے بارے میں بتایئے؟

جواب:     والدہ تحریک پاکستان کی معروف خاتون کارکن تھیں۔مسلم لیگ کے لئے ان کی خدمات تاریخ کا حصہ رہیں گی۔باقاعدہ جلسے ،جلوسوں ،ریلیوں اور احتجاجی ریلیوں میں شریک ہوئیں۔محمد علی اور شوکت علی (علی برادران)جب قید میں ڈال دیئے گئے تو ان کی والدہ بی اماں میدان میں آ گئیں۔جلوس نکالے۔شہر شہر دورے کئے۔میری والدہ ان کے ساتھ ہوتیں اور خواتین سے رابطے کرتیں۔تحریک کے حوالے سے جلسوں میں شریک خواتین کے حوصلے بڑھاتیں۔جلسوں میں غیر ملکی کپڑے کا بائیکاٹ کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ ململ اور دوسرے کپڑوں اور پگڑیوں کا بڑا ڈھیر لگ گیا اور موقعے پر ہی وہ ڈھیر نذر آتش کر دیا گیا۔خواتین نے اپنے ململ کے کپڑے بھی جلا دئیے۔

 علی برادران کی گرفتاری کے بعد والدہ یہ شعر اکثر جلسوں میں پڑھا کرتی تھیں۔

 محمد علی ،شوکت علی قید کیتے جج جی

جیل خانہ بن گیا ائے مکے والا حج جی!

اک جوش تھا۔اک ولولہ تھا جو آزادی کی نعمت عطا کر گیا۔ محمد علی جوہر ایک شاعر،عالم اور سیاستدان بھی تھے۔موت کے بعد بیرون ملک دفن ہوئے۔ یہی صورتحال خالق لفظ پاکستان چوہدری رحمت علی کے ساتھ پیش آئی۔انہیں بھی وفات کے بعد انگلستان کے یہودی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔انہوں نے 1933 میں پاکستان کا نام تجویز کیا تھا اور کہا تھا:۔

 ابھی نہیں تو کبھی نہیں  

"Now Or never"

۔ تحریک بھی چلائی اگر اس وقت یہ تحریک کمزور پڑ جاتی تومسلمانوں کو پاکستان کے حصول میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور شاید آج پاکستان بھی نہ ہوتا۔

 سوال : آپ کا خاندان پاکستان میں کب اور کن حالات میں پہنچا؟

جواب:14 اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ماہ رمضان کی مقدس اور نورانی 27 ویں رات تھی۔شہر میں واحد ریڈیو سیٹ بلدیہ جگراؤں میں ہی تھا۔بلدیہ گراؤنڈ میں اسی ریڈیو سے قیام پاکستان کا اعلان سنا۔ضلع لدھیانہ بھی دوسرے پانچ اضلاع کے ساتھ نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سازش کے بعد بھارت کا حصہ بنا دیا گیا۔یہ کارروائی تقسیم کے آخری اوقات میں ہوئی۔ہماری ہندوستان میں یہ آخری عیدالفطر تھی۔حالات کشیدہ ہو گئے۔نماز عید ہم نے سخت پہرے میں ادا کی۔ساتھ ہی پورے پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا۔ہم نے بھی ہجرت کا پروگرام بنایا۔بیل گاڑیاں تیار تھیں۔عین روانگی کے وقت 2 دیہات کے سکھوں اور ہندوؤں نے ہمارے شہر پر اچانک حملہ کر دیا۔ہمارے پاس صرف روایتی ہتھیار تھے۔حملہ آوروں کے پاس اسلحہ ،بارود تھا۔ہماری 24 گھنٹے زبردست جنگ ہوئی۔ہمارے 16 آدمی شہید ہوئے۔ 24 گھنٹے کی شدید جنگ کے بعد فوج کی ڈوگرہ رجمنٹ ہماری مدد کو پہنچی۔ہمیں بے سروسامانی کی حالت میں10 میل دور پیدل سلیم پورہ کے مسلم مہاجر کیمپ میں پہنچا دیا۔نہ راشن ،نہ بجلی،نہ طبی امداد اور نہ صفائی۔ان دنوں گندم کی عام قیمت10 روپے من تھی۔ہم کیمپ میں120 روپے من گندم لے کر بمشکل گزارہ کرتے رہے۔ کیمپ کے قیام کے دوران ہمیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیڈی ماؤنٹ بیٹن  کیمپ کے دورے پر آئی۔ راشن، طبی امداد اور ٹرانسپورٹ کا وعدہ کر گئی،لیکن ہمیں کچھ نہ ملا۔آخر کیمپ کو پیدل روانگی کا حکم دے دیا گیا۔کسی وقفے کے بغیر ہم بھوکے پیاسے 105 میل کا سفر کرکے قصور کے راستے پاکستان پہنچے۔سر زمین پاک کو بوسہ دیا اور زندہ پہنچنے پر شکرانے کے نفل بھی ادا کئے۔جس دن ہم قصور مہاجر کیمپ پہنچے عید قربان کا دن تھا۔ہم سلیم پورہ کیمپ سے مہنہ ،ڈگرو،ملوالا،گنڈا سنگھ والا ہوتے ہوئے قصور پہنچے تھے۔ہجرت کا مرحلہ آگ اور خون کے دریا عبور کرکے طے کیا۔

 سوال : آپ قائد اعظم محمدعلی جناح کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا احوال بتایئے۔

جواب:     حضرت قائد اعظم سے پہلی ملاقات تقسیم سے پہلے لدھیانہ کے ریلوے اسٹیشن پر ہوئی تھی۔دوسری ملاقات والٹن لاہور کے مہاجر کیمپ میں۔قصور کیمپ میں ہیضہ کی وبا پھیل گئی تھی ہم فوری طور پر والٹن کیمپ میں آگئے تھے۔میں کیمپ کی راشن شاپ پر رضا کارانہ طور پر کام کرنے لگا تھا۔میرے ساتھ اسی شاپ پر غلام حیدر وائیں بھی رضاکارانہ طور پر کام کرتے تھے۔وہاں میں نے ایک امدادی ادارے، بازیابی ٔ مسلم خواتین ،میں بھی کام کیا۔اس وقت کسے معلوم تھا کہ والٹن کے مقام پر ہجرت سن 47 کی قومی یادگار تعمیر ہوگی اس یادگار کا خوبصورت نام باب پاکستان تجویز کرنے کی سعادت میرے حصے میں آئے گی اور میں قومی ایوارڈ کا حقدار قرار دیا جاؤں گا اور وزیر اعلیٰ بھی غلام حیدر وائیں ہوںگے؟ میں اپنے ٹینٹ کے سامنے کھڑا تھا۔ اچانک سڑک پر سے ایک مجمع آتا ہوا دکھائی دیا۔قائد اعظم اس مجمعے میں موجود تھے، وہ کیمپ کا دورہ کرنے آئے تھے۔میں آگے بڑھا ،انہیں سلام کیا۔انہوں نے ہاتھ مصافحے کے لئے آگے بڑھایا ،مجھ سے راشن کی صورتحال معلوم کی اور مسکراتے ہوئے کیمپ کے اگلے حصے کی جانب بڑھ گئے۔ان کے ہاتھوں کا لمس آج 92 سال کی عمر میں بھی اپنے بوڑھے ہاتھوں میں محسوس کرتا ہوں۔میری تیسری ملاقات بابائے قوم سے 1948 میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں کراچی میں ہوئی۔ان دنوں میں ٹنڈو آدم شہر میں اپنے چچا محمد جعفر پوسٹ ماسٹر کے ساتھ مقیم تھا۔ہم دونوں اس تقریب میں شریک ہوئے۔قائد اعظم وقت مقررہ پر تشریف لائے۔میں ہال کے مین گیٹ کے اندر کی جانب کھڑا تھا۔قائد اعظم آئے میں نے انہیں سلام کیا اور مختصر ملاقات کے بعد آگے بڑھ گئے۔عجیب واقعہ پیش آیا کہ مقررہ وقت سے دس منٹ بعد انہوں نے تمام خالی کرسیاں ہال سے باہر بھجوادیں اور وقت کے بعد سزا کے طور پر امرائ،وزراء اور دوسرے عہدے داروں کو کرسیوں کے بغیر یہ تقریب کھڑے ہو کرسننا پڑی۔ وہ سب لوگ دل میں شرمندہ تھے۔قائد اعظم نے پابندیٔ وقت کا عملی مظاہرہ کرکے سب کو حیران کردیا۔یہ تینوں ملاقاتیں مجھے عمر بھر یاد رہیں گی جو میرے لئے ایک بڑا اعزاز ہے۔

 قا ئد اعظم ہمارے عظیم رہنما تھے۔ہمیں غلامی سے نجات دلانے والے لیڈر،قوم کے مسیحا،مرد آہن اور بارعب شخصیت تھے۔ان کی ہمت جوان، حوصلہ بلند اور عزم راسخ تھا۔انہیں کوئی بھارتی لیڈر اور انگریز حکمران کسی صورت مرعوب نہ کر سکے۔بانی ٔ پاکستان نہ بکے نہ جھکے۔

قائد اعظم نے اپنی حکمت عملی،عقل و شعور،فہم و فراست اور جرأت سے گاندھی، نہرو اور پٹیل کی سیاست کا پہیہ جام کر دیا۔ایسی ہستیاں روز روز جنم نہیں لیتیں۔ان کا یہ کارنامہ ہماری تاریخ کا سنہری باب بن گیا۔

 سوال :جدو جہد پاکستان کے دوران آپ کیسا پاکستان دیکھ رہے تھے؟

جواب:     خوشحال پاکستان ،خود کفیل پاکستان ،مستحکم پاکستان،پڑھا لکھا پاکستان، پُرامن پاکستان،ترقی یافتہ پاکستان،غربت،بیروزگاری،ناخواندگی ،رشوت، سفارش، اقربا پروری،ناانصافی سے پاک پاکستان۔مضبوط فوجی دفاع کا پاکستان، سائنس اور ٹیکنالوجی کا پاکستان۔ میرے مستقبل کا خواب تھا۔جبکہ اب آدھا پاکستان ہی ہمارے پاس بچا ہے۔حقوق انسانی کا تحفظ،خواتین کے حقوق کا تحفظ،اقلیتوں کا تحفظ،پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات بھی میرا خواب تھا۔اب سب حالات سب کی نظروں کے سامنے ہیں۔

 سوال : آپ کو اب تک کون کون سے ایوارڈز ملے ؟

جواب :    باب پاکستان ایوارڈ،تحریک پاکستان ایوارڈ،مجید نظامی ایوارڈ،ڈاکٹر قدیر خاں ایوارڈ،کمال فن صدارتی ایوارڈ۔اب بچوں کے لئے بچپن کا لبادہ اوڑھ کر ادب تخلیق کر رہا ہوں۔27 کتب کا خالق ہوں۔

  سوال : پاکستان کومستقبل کے تناظر میں کیسا دیکھ رہے ہیں؟

جواب:     پاکستان ایک آزاد،خود مختار،اسلامی نظریاتی ملک ہے۔پاکستان پہلا اسلامی ایٹمی ملک ہے۔پاکستان لاکھوں قربانیوں کا ثمر ہے۔اس کی بنیاد میں لاکھوں شہیدوں کا خون شامل ہے۔اس کی بنیاد نظریہ پاکستان پر رکھی گئی۔نظریہ پاکستان مصور پاکستان،حکیم الامت،شاعر مشرق  علامہ اقبال کا ایک خوبصورت خواب تھاجسے بابائے قوم،بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے خوبصورت تعبیروں سے ہمکنار کر دیا۔ہماری پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین فوجوں میں ہوتا ہے۔جو ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔اس ملک کی فصلیں سونا اگلتی ہیں۔قوم کے حوصلے بلند اور ہمتیں جواں ہیں۔سب لوگ محب وطن اور محنت کش ہیں۔اور یہ خدمت وطن کے جذبے سے سرشار ہیں۔اتنی وجوہات کی بنا پر پاکستان کا مستقبل نہایت روشن ہے۔پاکستان اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ ہے۔جمہوریت خوب چل رہی ہے۔

اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں

زندگی جوش میں ہے،ہوش ہے ایمانوں میں

 

یہ تحریر 91مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP