یوم پاکستان

تحریکِ پاکستان خطبہ الٰہ آباد سے قراردادِ پاکستان تک

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان میں ایک علیحدہ وطن کے حصول کی جدوجہد کا آغاز 1906ء میں مسلم لیگ کے قیام کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے کانگریس کے قیام نے باقاعدہ طور پر مسلمانوں کے تشخص کو مسخ کرنے کے لئے مہم کا آغاز کیا ہوا تھا۔ کانگریس کے پلیٹ فارم سے یہ بات علانیہ کہی جا رہی تھی کہ ہندوستان میںصرف ایک، یعنی ہندوستانی، قوم مقیم ہے اور ہندوستان کے سیاسی، معاشی، سماجی اور دیگر تمام حقوق پر بات کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے۔ مسلم لیگ کے قیام سے کانگریس کا یہ نقطہء نظر بے معنی ہو کر رہ گیا۔ مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال اس سے پہلے ہی مسلمانوں کے الگ تشخص کی بات بالواسطہ اور بعض اوقات بلا واسطہ طور پر کہہ رہے تھے۔ ان کی تحریروں اور تقریروں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو قومیں آباد ہیں جو اپنے الگ الگ تہذیبی اور ثقافتی وجود رکھتی ہیں۔ 1906ء سے 1930ء تک کا عرصہ ملتِ اسلامیہ کا شناختی سفر تھا۔ تاہم اس ساری مدت میں مسلمانوں کو اپنی منزل کی طرف کوئی اشارہ نہیں مل سکا تھا۔ وہ مسلسل دبائو کا شکار تھے۔ ان کے گرد مسلسل اندھیرا تھا۔ فی الحال روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ کسی منزل کا یقین یا کسی راستے کا سجھائی دینا ناممکن نظر آ رہا تھا۔
 مسلمان واضح طور پر اپنے آپ کو ایک قوم کی شکل میں ڈھال نہیں سکے تھے۔ ہندو اور انگریز ایک دوسرے کے حمایتی اور مفادات کے نگہبان تھے جب کہ مسلمانوں کے حقوق کو ان دونوں قوموں نے پامال کر دیا تھا۔ چکی کے دو پاٹ تھے جن کے درمیان مسلمان پس رہے تھے۔ انہی لمحوں میں علامہ اقبال نے محسوس کیا کہ قوم جب تک اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتی اسے منزل کا شعور بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے اپنے کلام میں خودی کا تصور پیش کیا جو در اصل اپنے تشخص کے تحفظ کا پیغام تھا۔ انھوں نے ملتِ اسلامیہ کو بتایا کہ ہم اپنی پہچان کے ذریعے اپنے خالق کی پہچان کر سکتے ہیں اسی کو خودی کا تحفظ بھی کہتے ہیں اور آزادی کا حصول بھی خودی کے تحفظ سے مشروط ہے۔
سناہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش اور لذتِ نمود میں ہے
اپنے اسی پیغام کی تشریح انھوں نے 30دسمبر 1930ء کو الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں خطبہء صدارت دیتے ہوئے بہت اچھے اور واشگاف الفاظ میں کر دی۔ خطبہ الٰہ آباد اپنی تشریحات کی رُو سے حقیقت میں نظریہ پاکستان ہے۔ خطبہ الٰہ آباد اور نظریہ پاکستان عصری اور سیاسی تقاضوں کے اعتبار سے باہمی طور پر ہم آہنگ ہیں۔ نظریہ پاکستان بنیادی طور پر یہ مفہوم رکھتا ہے کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیںجن کے اپنے اپنے جداگانہ مذہب، ثقافت اور رسوم و رواج ہیں۔ 1930ء میں خطبہ الٰہ آباد اس وقت سماعتوں کی زینت بنا  جب ہندوستان میں دونوں قومیں برطانوی سامراج کی غلام تھیں اور دور دور تک ان کی آزادی کے آثار ظاہر نہیں تھے۔ تاہم اس خطبے میں مفکرِ اسلام علامہ اقبال نے پہلی مرتبہ ایک مضبوط پلیٹ فارم سے برصغیر کے شمال مغربی مسلم علاقوں پر مشتمل ایک آزاد اور خود مختار مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔ علامہ اقبال نے اس تاریخی خطاب میں اسلام کی آفاقیت، دو قومی نظریہ، الگ مسلم ریاست، اسلامی ریاست کے کرداروں اور ہندوستان کے دفاعی حصار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اقبال نے فرمایا اسلام ایک آفاقی تہذیب ہے، یہ ہر قوم اور ہر زمانے کے لئے ہے۔ انھوں نے اپنے خطبے میں یہ بھی فرمایا کہ چونکہ ہندوستان کئی قومیتوں پر مشتمل ہے اور یہ قومیتیں ایک دوسرے سے تعاون کے لئے تیار نہیں ہیں اس لئے یہاں مغربی طرزِ حکومت یا مغربی جمہوری نظام رائج نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کے مسلمان اپنی روایات کے مطابق زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں اس کے بعد انھوں نے ہندوستان کے شمال مغربی مسلم اکثریت کے علاقوں پر مشتمل آزاد اسلامی ریاست کی تجویز پیش کرتے ہوئے فرمایا:


اس خطبے میں علامہ اقبال نے مسلم قومیت کے جداگانہ تصور پر تمام ممکنہ اعتراضات کا بھی تسلی بخش جواب دیا اور بھرپور دلائل سے یہ ثابت کیا کہ مسلمانانِ ہند اپنی جداگانہ تہذیبی شناخت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ اقلیت نہیں بلکہ جدید معنوں میں ایک جداگانہ قوم ہیں۔


''میں چاہتا ہوں پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبے، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ریاست کی شکل دی جائے۔ ان علاقوں پر مشتمل ایک خود مختار حکومت مجھے شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کا مقدر دکھائی دیتی ہے۔''
'' ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام سے ہندوئوں کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ اسلام کوئی کلیسا نہیں ہے اس کی بنیاد اخلاقیات پر ہے۔ یہ آدمی کو صرف زمین کی مخلوق تصور نہیں کرتا بلکہ اس کو ایک روحانی پیکر خیال کرتا ہے۔''
اس خطبے میں علامہ اقبال نے مسلم قومیت کے جداگانہ تصور پر تمام ممکنہ اعتراضات کا بھی تسلی بخش جواب دیا اور بھرپور دلائل سے یہ ثابت کیا کہ مسلمانانِ ہند اپنی جداگانہ تہذیبی شناخت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ اقلیت نہیں بلکہ جدید معنوں میں ایک جداگانہ قوم ہیں۔ اقبال کا تصورِ پاکستان واضح ہو کر سامنے آچکا تھا۔علامہ اقبال نے لندن میں ہونے والی دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر مسلمانوں کے جذبات کی بھرپور عکاسی کی۔ لندن میں بے شمار مسلمان وفود نے ان سے ملاقاتیں کیں اور ان کے خیالات سے متاثر ہوئے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ہندوستانی مسلم طالب علم چودھری رحمت علی نے بھی علامہ اقبال سے ملاقات کر کے ہدایات حاصل کیں۔ بعد ازاں چودھری رحمت علی نے اپنا مشہورِ زمانہ پمفلٹ تیار کر کے تقسیم کیا۔ اس پمفلٹ کا نام "Now or Never"یعنی ''ابھی یا کبھی نہیں''تھا۔تحریکِ پاکستان کے دوران طالب علموں اور نوجوانوںکے کردار کے حوالے سے یہ پمفلٹ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں اقبال کے الگ وطن کے تصور کو پاکستان کا نام مل گیا۔ چودھری رحمت علی نے ان الفاظ میں اس لفظ کی وضاحت کی۔
''پاکستان کا لفظ میںنے خود تخلیق کیا ہے۔ یہ فارسی اور اردو دونوں زبانوں کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے پاک لوگوں کا وطن۔ ایسے لوگ جو روحانی طور پر پاک صاف ہوں۔''
گویا اقبال نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اور اس میں یہ شعور بیدار ہو گیا تھا کہ مسلمان اپنی تہذیب ، تمدن، معاشرت، ثقافت اور اخلاقی اقدار کے اعتبار سے کسی بھی دوسری قوم سے قطعاً مختلف ہے۔ملت ایک قافلے کی شکل اختیار کر رہی تھی۔ اقبال محسوس کر رہے تھے کہ قافلے کی قیادت کے لئے ایک صاحبِ بصیرت اولوالعزم رہنما کی ضرورت ہے۔ جو ملت کے جسدِ خفتہ و خوابیدہ میں آزادی کی تڑپ اور ولولہ پیدا کرسکے۔دراصل ان کی نگاہِ بلند محمد علی جناح کو ڈھونڈ رہی تھی جو ہندوستان میں کانگریس کی چال بازیوں سے بے زار ہو کر برطانیہ میں مقیم تھے۔ اقبال نے انھیں خط لکھ کر ہندوستان آنے کی دعوت دی۔ محمد علی جناح اس درخواست کو نظر انداز نہیں کر سکے اور قوم کی کشتی کوپار لگانے کی نیت سے ہندوستان واپس آ گئے۔ انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کا بیڑا اٹھایا۔ حالات انتہائی ناموافق تھے مگر عزم و ہمت کے اس کوہِ گراں نے چند برس میںکاروانِ ملت کی شیرازہ بندی کی اور پھر یہ کارواں منزلِ حریت کی جانب گامزن ہو گیا۔ آزادی کے اس سفر میں علامہ اقبال اپنی بیماری کے باوجود قائد اعظم کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور انھیں اپنے انمول مشوروں سے نوازتے رہے۔ اقبال اور قائد اعظم کی خط کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ اقبال کے نظریہ پاکستان سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ انھوں نے واضح طور پر اعلان کر دیا۔
''لیگ کے نظریے کی بنیاد اس بنیادی اصول پر ہے کہ ہندوستانی مسلمان ایک خود مختار قوم ہیں۔ہم پُر عزم ہیں اور برصغیر میں ایک خود مختار قوم کی حیثیت سے اور آزاد ریاست کے قیام سے متعلق اب کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے۔''


حقیقت یہ ہے کہ 23مارچ کے دن شاعرِ مشرق کے خوابِ آزادی کے خاکے میں رنگ بھر دیا گیا اور اسے تعبیر آشنا کرنے کے لئے ایک نئے عزم اور ولولے سے جدوجہد کو آگے بڑھایا گیا۔ یہی وہ دن ہے جس نے منزل کا سراغ دیا۔ جس نے جذبوں کو مہمیز لگائی اور ولولوں کو نئی زندگی بخشی۔ جس نے فکرکو راہِ عمل سے آشنا کیا اور جس نے راہِ عمل کو مقصدِ حیات تک پہنچایا۔


قائدکے اس اعلان پر تمام مسلم دشمن قوتیں تلملا اٹھیں۔ ان کو مسلمانوں کا ایک الگ وطن کسی صورت منظور نہیں تھا لہٰذا سازشوں اور شر انگیز چالوں میں شدت آ گئی۔ مسلم لیگ سے دور رکھنے کے لئے مسلمانوں کو طرح طرح کے لالچ دیئے گئے۔ دھمکیاں دی گئیں اور بے شمار سبز باغ بھی دکھائے گئے مگر باہمی اتحاد بڑھتا چلا گیا۔ اقبال اور قائد اعظم کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے بھی بہت زیادہ کوششیں کی گئیں مگر دونوں رہنما تدبر اور فراست میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اس لئے وہ دور جانے کے بجائے مزید قریب ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال اور جناح کی باہمی ہم آہنگی اور اتفاق و اتحاد ہی قومی اتحاد و اتفاق کا سبب تھا جس سے قوم کی منزل قریب سے قریب تر ہو رہی تھی۔ دونوں تصورِ پاکستان سے تشکیلِ پاکستان تک ایک دوسرے کی رہنمائی اور افکار سے استفادہ کرتے رہے۔ 1938ء میں مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال اس عارضی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ دشمنانِ ملت کے لئے یہ امر باعثِ اطمینان تھا۔ ان کے خیال میں اقبال کی عدم موجودگی میں تحریک پاکستان غیر مؤثر ہو جائے مگر قائد اعظم نے اقبال کے حوالے سے تعزیتی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم انہی خطوط پر جدوجہد کر یں گے جو اقبال بتا گئے ہیں اور واقعی قائد اعظم افکارِ اقبال کی روشنی میں قوم کو لے کر آگے بڑھتے گئے اور وہ دن آ گیا جب مسلمانوں کی قسمت کے فیصلے کا اعلان ہونا تھا۔ بہار کا موسم اور مارچ کا مہینہ ، اگرچہ 19مارچ کو لاہور سوگوار ہو چکا تھا ۔ مساجد خاکساروں کے خون سے رنگین ہو چکی تھیں۔ فضا میں آہیں اور سسکیاں بسی ہوئی تھیں۔ مسلمانوں میں انتقام کے جذبات بھڑک رہے تھے۔ ایسے حالات میں ہندوستان کے مسلمان اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اقبال پارک (اس وقت منٹو پارک) لاہور میں جمع ہو رہے تھے۔ ایک عظیم الشان جلسہ وجود میں آ گیا۔ جس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے۔ اس جلسے میں مولوی اے۔کے فضل الحق نے مشہورِ زمانہ قرار دادِ پاکستان پیش کر دی۔ وہ مسلمان جو خاکساروں کے حادثے کے باعث رنج و غم کی تصویر بنے ہوئے تھے، اس قرار داد سے انھیں ایک نئی زندگی مل گئی۔ جب مولوی فضل الحق قرار داد پڑھتے ہوئے قیامِ پاکستان کے مطالبے پر آئے تو سب نے محسوس کیا کہ وہ جس منزل کی تلاش میں سرگرداں تھے وہ  ان کے روبرو کھڑی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یقیں محکم، عمل پیہم کے ہتھیار لے کر اٹھو اور متحد ہو کر مجھے حاصل کر لو۔ اس زندگی بخش قرارداد کی حمایت میں سب سے پہلے مولانا ظفر علی خاں نے پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے اردو زبان میں تقریر کی ۔ اس جوشیلی تقریر نے جلسے میں شریک لاکھوں افراد کے دلوں میں آزادی کی شمع فروزاں کردی۔ ان کے بعد مختلف علاقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف زعماء نے خطاب کیا جن میں عبداللہ ہارون، سردار اورنگ زیب، قاضی محمد عیسیٰ، بیگم مولانا محمد علی جوہر، چودھری خلیق الزماں، نواب اسماعیل خاں، عبدالحمید خاں، آئی آئی چندریگر اور سید عبدالرئوف شامل تھے۔ ہر تقریر جوش ، جذبے اور خلوصِ دل کی آئینہ دار تھی اور کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکنوں کی ترجمان تھی۔ قائد اعظم نے اپنے صدارتی خطبے میں بالکل ویسے خیالات کا اظہار کیا جن کا 1930ء میں علامہ محمد اقبال نے الٰہ آباد جلسے کی صدارت کرتے ہوئے اظہار کیا تھا۔ اس عظیم الشان جلسے میں الگ وطن کی عظیم الشان قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ اس وقت بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے جذبات صرف وہ خود ہی محسوس کر سکتے تھے۔ اپنے سیکرٹری سے مخاطب ہو کر نمدیدہ اور بھرائی ہوئی آواز میں بولے:
''اقبال وفات پا چکے ہیں اگر آج وہ موجود ہوتے تو بہت خوش ہوتے کیوں کہ ہم نے ان کی خواہش پوری کر دی ہے۔''
حقیقت یہ ہے کہ 23مارچ کے دن شاعرِ مشرق کے خوابِ آزادی کے خاکے میں رنگ بھر دیا گیا اور اسے تعبیر آشنا کرنے کے لئے ایک نئے عزم اور ولولے سے جدوجہد کو آگے بڑھایا گیا۔ یہی وہ دن ہے جس نے منزل کا سراغ دیا۔ جس نے جذبوں کو مہمیز لگائی اور ولولوں کو نئی زندگی بخشی۔ جس نے فکرکو راہِ عمل سے آشنا کیا اور جس نے راہِ عمل کو مقصدِ حیات تک پہنچایا۔
مری تاریخ کا اک بابِ منور ہے یہ دن
جس نے اس قوم کو خود اس کا پتا بتلایا ||


پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی ان دنوںڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز، ناردرن یونیورسٹی کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 454مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP