یوم پاکستان

تاریخ پاک و ہند کے تین تاریخ ساز دن

قوموں کی تاریخ میں بہت سے ایسے ایام آتے ہیں جو آگے جا کر تاریخ کا تعین کرتے ہیں ایسا ہی ایک دن 24مارچ 1940ء تھا کہ جب لاہور کے منٹو پارک (اقبال پارک) میں آل انڈیا مسلم لیگ کاسالانہ اجلاس جاری تھا۔ اس وقت کسی کو علم بھی نہ تھا کہ اجلاس اس قدر تاریخ ساز ثابت ہو گا حتیٰ کہ بیگم محمد علی جوہر کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ گزشتہ روز پیش کی جانے والی قرارداد کے لئے جو اصطلاح استعمال کرنے جا رہی ہیں، وہ تاریخ کا دھارا ہی موڑ دے گی۔


یوں تو مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے 2تا3جولائی کے اپنے اجلاس میں 28تا 30دسمبر 1939ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی منظوری دی تھی مگر بروقت انتظامات مکمل نہ ہو سکنے کی بنا پر 22 اکتوبر 1939ء کو اجلاس غیرمعینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ بعد ازاں 2جنوری 1940ء کو یہ فیصلہ کیا گیا کہ اجلاس کا انعقاد 22 تا 24مارچ کیا جائے گا۔ مسلم لیگی رہنماؤں نے اجلاس کے لئے لاہور کے منٹو پارک کا انتخاب کیا مگر حکام اس حوالے سے اجازت دینے سے انکاری رہے۔ بالآخر جب دباؤ بڑھ گیا تو 5 ہزار زرِ ضمانت کے عوض مشروط اجازت مل گئی۔ اجلاس سے 3روز پہلے19مارچ کو لاہور کے بھاٹی دروازے میں خاکسار تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ اس دوران ایک ’’گورا افسر‘‘ ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد پولیس نے لاہور پر دھاوا بول دیا اور چن چن کر خاکسار تحریک کے کارکنوں کو نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں 50 کارکن شہید ہو گئے جبکہ پولیس کے وحشیانہ تشددسے سیکڑوں ہسپتال پہنچ گئے۔ اس وجہ سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ قائد اعظم اجلاس کی صدارت کے لئے 21 مارچ کو لاہور پہنچے تو پہلے سیدھے میو ہسپتال گئے جہاں انہوں نے خاکسار تحریک کے کارکنوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ اس اجلاس میں ایک تاریخ ساز فیصلہ کرے گی اور یہ بات آگے جا کر حقیقت ثابت ہوئی۔اسی دن قائداعظم نے پنڈال میں مسلم لیگ کا پرچم لہرایا اور لیگی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔

 

جمعہ 22 مارچ کو جمعے کی نماز کے بعد اجلاس کا آغاز ہوا۔ اسی روز ’’میاں بشیراحمد‘‘ کی نظم ’’ملت کا پاسبان ہے، محمد علی جناح‘‘ بھی پڑھی گئی۔ قائد اعظم نے اردو اور انگریزی زبان میں ایک تقریر کی۔ را ت نواب ممدوٹ کی رہائش گاہ پر مسلم لیگی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں نوابزادہ لیاقت علی خان، ملک برکت علی اور نواب محمداسماعیل خان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ قرارداد کا ڈرافٹ تیار کریں۔
اگلے دن 23 مارچ بروز ہفتہ اجلاس کی دوسری نشست میں قائد اعظم کی ہدایت پرشیر بنگال ’’اے کے فضل حق‘‘ نے قرارداد کا مسودہ پیش کیا۔ پہلے یہ مسودہ مولانا ظفر علی خان نے پیش کرنا تھا مگر قائد اعظم نے یہ فیصلہ کیا کہ فضل حق مسودہ پیش کریں گے۔ چودھری خلیق الزمان نے اس مسودے کی تائید کی۔ اس کے بعد مولانا ظفر علی خان، سردار اورنگزیب اور سر عبداللہ ہارون نے اس قرارداد کے حق میں تقاریرکیں۔


اگلے روز اتوار 24 مارچ کے دن اجلاس میں اس قرارداد پر بحث ہوئی۔ نواب اسماعیل، قاضی عیسیٰ، عبدالحمید خان، آئی آئی چندریگر، سید عبدالرؤف شاہ، ڈاکٹر محمد عالم، سید ذاکر علی، بیگم محمد علی جوہر اور مولانا عبدالحمید بدایونی نے خطاب کیا۔ بیگم محمد علی جوہر وہ واحد شخصیت تھیں کہ جنہوں نے اپنے خطاب میں اس قرارداد کو ’’قرارداد پاکستان‘‘ کا نام دیا جبکہ اس کے علاوہ ہر جگہ اس قرار داد کو قراردادِ لاہور کے نام سے ہی موسوم کیا گیا تھا۔ رات 9 بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوا اور قائد اعظم نے اس قراردار پر رائے شماری کروائی۔ تمام مندوبین نے اس کی حمایت کی جس پر اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔


بظاہر تو یہ تین روزہ اجلاس پرامن طریقے سے ختم ہو گیا مگر اس نے ہندوستانی ایوانوں میں ایک لرزہ برپا کر دیا کیونکہ بعض ہندو اخبارات جن میں ’’پرتاپ، ٹریبیون اور ملاپ‘‘ سرفہرست تھے، نے خوب شور مچایا۔ ’’ملاپ‘‘ نے تو اس قرارداد کو ’’قراردادِ پاکستان‘‘قرار دیتے ہوئے اپنی لیڈ سٹوری بنایا۔ جس پر بہت لے دے ہوئی۔ اس کے چند ہفتوں بعد 19اپریل کو قائد اعظم کو خود یہ کہنا پڑا کہ ’’آل انڈیا کے 24مارچ کے اجلاس میں جو قرار دادمنظور کی گئی ہے یہ مسلم انڈیا اور برصغیر کی تاریخ میں ایک ریڈ لیٹر ڈے کی حیثیت رکھتی ہے‘‘۔


قراردادکا متن

’’آئینی مسئلے پر آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اور مجلس عاملہ کے اس اقدام کی تائید و توصیف کرتے ہیں جو ان کی 27اگست، 17-18ستمبر1939 اور 3فروری 1940کی قراردادوں سے واضح ہوتا ہے۔آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس پرزور اعادہ کرتا ہے کہ وہ وفاقی منصوبہ جس کا اظہار گورنمنٹ ایکٹ آف انڈیا 1935میں کیا گیا ہے، قطعاً غیر موزوں ہے، اس ملک کے خاص حالات کے پیش نظر ناقابل عمل اور ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے یکسر ناقابل قبول ہے۔


اس اجلاس کی یہ حتمی رائے ہے کہ 18اکتوبر 1939ء کو جو اعلان وائسرائے حکومت نے شاہِ معظم کی جانب سے کیا تھا،وہ اس حد تک تو اطمینان بخش ہے کہ جس مسلک اور منصوبے پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء پر مبنی ہے، اس پر ہندوستان کی مختلف جماعتوں اور فرقوں سے مشورے کا دوبارہ یقین دلایا گیا ہے لیکن مسلمانانِ ہند اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے جب تک 1935ء کے آئینِ ہند کا مسئلہ از سر نو حل نہیں کیا جاتا۔وہ کوئی متبادل آئین اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک کہ وہ ان کی خواہش و منشا کے مطابق نہیں بنایا جاتا۔


آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی یہ مسلمہ رائے ہے کہ کوئی آئین ملک کے لئے قابل عمل اور مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہندوستان کے جغرافیائی اعتبار سے متصل و ملحق یونٹوں پر مشتمل علاقوں کی کوئی حد بندی نہ کر دی جائے اور یہ کہ ان میں ضروری علاقائی رد و بدل نہ کیا جائے۔ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، انہیں اس طرح آزاد ریاستوں میں بدل دیا جائے کہ ان کے ترکیبی اجزاء خود مختار ہوں۔نیز ان حصوں اور علاقوں میں اقلیتوں کو ان کی مرضی کے مطابق مناسب اور مؤثر آئینی تحفظ دیا جائے تاکہ ان کے مذہبی، تہذیبی، اقتصادی، سیاسی اور دیگر حقوق و مفادات محفوظ رہیں۔ہندوستان کے ان علاقوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ، وہاں ان مسلمانوں کے لئے اور دیگر اقلیتوں کے لئے ان کی مرضی کے مطابق آئین میں ایسے ہی مناسب اور مؤثر تحفظات رکھے جائیں تا کہ ان کے بھی مذہبی، تہذیبی، اقتصادی، سیاسی اور دیگر حقوق و مفادات محفوظ رہیں۔


مزید برآں یہ اجلاس مجلس عاملہ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایک ایسا آئین مرتب کرے جوان بنیادی اصولوں کے مطابق ہو اور اس میں یہ گنجائش ہو کہ متعلقہ علاقے دفاع، امورخارجہ، مواصلات، محصول اور دیگر امور سے متعلق خود مختار ہو سکیں۔


جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں،ان کے اور دیگر اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی،سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب، مؤثراور حکمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ شامل کیا جائے۔‘‘
آج ہم بڑے جوش و خروش کے ساتھ 23 مارچ کو یومِ پاکستان مناتے ہیں مگر ہم میں سے اکثریت کو اس دن کی تاریخ اور اہمیت کا علم نہیں ہے۔یہاں پر دو وضاحتیں بھی ضروری ہیں، اول تو یہ کہ یہ قرارداد جو پیش کی گئی تھی اس کو اجلاس میں سوائے بیگم محمد علی جوہر کے خطاب کے، ہر جگہ قراردادِ لاہور کا ہی نام دیا گیا تھا، البتہ بیگم محمد علی جوہر کے خطاب کو لے کر ہندو پریس نے وہ شور مچایا جو بعد میں مسلمانوں کے لئے ایک نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوا۔دوسری وضاحت یہ کہ یہ قرارداد 23مارچ کو پیش کی گئی تھی لیکن اس پر رائے شماری، اس کی منظوری 24مارچ کو دی گئی تھی۔


ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح
صد شکر سرگرمِ سفر کارواں اپنا 
اور میرِکارواں ہے محمد علی جناح
ملت ہوئی ہے زندہ پھر اس کی پکار پر
تقدیر کی اذاں ہے محمد علی جناح
لگتا ہے ٹھیک جا کے نشانے پہ اس کا تیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناح
اے قوم اپنے قائد اعظم کی قدر کر
اسلام کا نشاں ہے محمد علی جناح
تصویرِ عزم جانِ وفا، روحِ حریت
کون بے گماں ہے، محمد علی جناح
(میاں بشیر احمد)

یہ تحریر 139مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP