قومی و بین الاقوامی ایشوز

تاریخِ پیدائش

جب 14 اگست کا دن آتا ہے تو پاکستان آپ کا منہ تکتا ہے اور آپ کو پھر یاد دلانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ کبھی اس دن سکون سے بیٹھ کر اس بات پر غور کیا کرو کہ پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔۔۔؟ کہ پاکستان کی تاریخِ پیدائش کے دن کیا کچھ ہوا تھا۔

میں جب انٹر نیشنل ڈیپارچر لاؤنج میں جا کر بیٹھی تو میں نے حسبِ عادت اندر کے ماحول کا جائزہ لینا شروع کردیا۔۔۔ ماشاء اﷲ ہال مسافروں بشمول خواتین سے بھرتا جا رہا تھا۔ ضعیف والدین‘ نو عمر جوڑے‘ چھوٹے بچے سب ہی کسی نہ کسی ملک میں جارہے تھے۔ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں بھی تو اپنے بیٹے کے پاس جارہی تھی جو امریکہ میں مقیم ہے۔ کچھ بچے اپنے بوڑھے والدین کو ملنے آجاتے ہیں‘ جن بچوں کو نوکریوں کی مجبوریاں پابند کردیتی ہیں‘ وہ اپنے بوڑھے والدین کو ٹکٹ بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ٹکٹ میں دو کام کرتے جائیں۔ ایک تو یہ کہ نئی دنیا دیکھ لیں‘ دوسرے بیٹے یا بیٹی کا ہنستا بستا گھر بھی دیکھتے جائیں۔۔۔۔۔۔تیسرا مقصد بھی ہوتا ہے۔اتفاق سے میری نشست کے ساتھ ایک ایسی خاتون آکر بیٹھ گئی جو عنقریب ماں بننے والی تھی ساتھ میں غالباً اس کی والدہ تھیں۔۔۔ میں نے دوران گفتگو اس کی والدہ سے پوچھا کہ اس حالت میں آپ انہیں اتنے لمبے سفر پر لے جارہی ہیں۔۔۔ تو لڑکی نے خود جواب دیا۔۔۔
کہ میں چاہتی ہوں میرا بچہ امریکہ میں پیدا ہو اور پیدا ہوتے ہی اسے وہاں کی شہریت مل جائے تاکہ جوان ہونے پر اسے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کی سہولتیں میسر آئیں۔
ہر سفر میں مجھے اس کیفیت میں اور اس قسم کے خیالات کی حامل عورتیں ملتی رہتی ہیں۔ آتی جاتی رہتی ہیں۔۔۔
میں اکثر سوچتی ہوں۔ شہریت کے استحقاق کو تو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایک بچہ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس یا آسٹریلیا میں ہو کر خواہ تیس چالیس سال پاکستان میں ہی رہے‘ وہ اس ملک کے حقِ شہریت سے استفادہ کرسکتا ہے‘ کرتا رہتا ہے۔
لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے اندر14 اگست 1947 کے بعد ایک نسل پیدا ہوئی۔ بے شک اس کے محترم بزرگ نقل مکانی کرکے آئے تھے مگر بچے تو پاکستان کی سرزمین پر پیدا ہوئے تھے‘ ان کے بزرگوں نے اپنا گھر بار‘ عہدہ اور وقار پاکستان کے لئے چھوڑا تھا اور پاکستان میں داخل ہوتے ہی اس کی سرزمین پر ایک سجدۂ شکر ادا کیا تھا۔ اس خاک کو چوما تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے پیار‘ دلارے اور دل کے ٹکڑے قربان کئے تھے۔ یہ زمین انہیں اپنے پیاروں کی جانوں کے بدلے میں ملی تھی۔ یہ زمین انہیں اپنے پیاروں کے طرح پیاری ہونی چاہئے تھی۔ اس زمین پر اُن کے پیاروں کا بڑا حق ہے۔۔۔ اس لئے اس پاک سرزمیں کے اندر پیدا ہونے والے بچے اپنے آپ کو مہاجر نہ کہیں۔ مہاجربن کے آنا قابلِ صد احترام ہے۔۔۔ بڑا مرتبہ ہے تاریخِ اسلام میں مہاجروں کا۔۔۔ مگر پاکستان کے اندر جو پیدا ہوتا ہے۔۔۔ وہ پاکستانی ہوتا ہے۔۔۔ اور پاکستانی ہونے پر بھی اتنا ہی فخر ہونا چاہئے جتنا کسی دوسرے ملک کا شہری ہونے پر کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ جو روزگار کی خاطر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور پوری زندگی وہاں گزار دیتے ہیں‘ ان کو وہاں کا شہری سمجھ لیا جاتا ہے۔ ساٹھ ستر سال کسی ملک میں گزار کر وہ لوگ بھی اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہتے۔۔۔
جب 14 اگست کا دن آتا ہے تو پاکستان آپ کا منہ تکتا ہے اور آپ کو پھر یاد دلانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ کبھی اس دن سکون سے بیٹھ کر اس بات پر غور کیا کرو کہ پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔۔۔؟ کہ پاکستان کی تاریخِ پیدائش کے دن کیا کچھ ہوا تھا۔
سنو ! جس وقت برصغیر کے اس خطے میں آزادی کی تحریک شروع ہوئی‘ اس وقت غیرمنقسم ہندوستان میں دو بڑی اکائیاں تھیں۔ ہندو اور مسلمان۔۔۔ اگرچہ فرنگیوں سے آزادی حاصل کرنے میں دونوں قومیں برابر جدوجہد کر رہی تھیں لیکن درپردہ مسلم قوم اس اندیشے میں مبتلا تھی کہ اگر ملک سے انگریز چلے گئے تو مسلمان ہندوؤں کی غلامی کرنے پر مجبور کردیئے جائیں گے۔۔۔
اس بات کو قائدِاعظم محمدعلی جناح نے محسوس کرلیا تھا کہ برصغیر کے مسلمان دو

قائدِاعظم کے فرمودات کی روشنی میں ہم اپنی نئی نسل کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام کسی تقسیم کا نتیجہ نہیں ہے۔۔۔ یہ کیا تقسیم ۔۔۔ تقسیم ۔۔۔لگا رکھی ہے۔ بلکہ پاکستان کا قیام اس عمل کا نتیجہ ہے جو برصغیر کی تاریخ میں برابر موجود تھا۔۔۔ موجود ہے اور موجود رہے گا۔ اور ہمارے مہربان بھی سن لیں۔۔ کہ پاکستان محض واقعہ نہیں ہے۔ ایک اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی یہ حُسنِ اتفاق ہے۔۔۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو ایک نشاۃِ ثانیہ درکار تھی۔ سوئی ہوئی قوم نے بیدار ہونا تھا۔ انگڑائی لینا تھی۔ حقِ حکمرانی حاصل کرنا تھا۔

محاذوں کے درمیان کشمکش میں مبتلا ہیں۔ آزادی کی طلب کے لئے ان کی نظریں انگریزوں کی طرف اٹھتی تھیں اور مستقبل میں اپنے تحفظ کے لئے وہ کانگرس کے محتاج تھے مگر یہ دونوں محاذ ان کی مرضی کے تابع نہ تھے۔ ان حالات میں انڈین نیشنلزم کے مقابلے میں مسلمانوں کے تحفظ کے لئے مسلم نیشنلزم کی اصطلاح وجود میں آئی۔ اس اصطلاح کو‘ فکری طور پر علامہ اقبال اور سیاسی طور پر قائدِاعظم نے مفسر کیا۔ قوم کو مجتمع کیااور ایک نئی اسلامی فلاحی مملکت کا نقشہ ابھرنے لگا۔۔۔ چونکانے لگا۔۔ دلوں کو گرمانے لگا۔۔ یہ سب ایک دن‘ ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں ہوگیا۔1861 سے شروع ہوئی بات۔۔۔ 1907 تک پہنچی اور 1907 سے آگے کی ساری کٹھنائیاں عبور کرکے 1947 تک آپہنچی۔۔ برصغیر میں انگریز کے تسلط سے پہلے بھی مسلمانوں ہی کی حکومت رہی ہے۔۔۔۔۔۔
یہاں پر قائدِاعظم کی ایک تقریر کو بہت غور سے پڑھنا ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔
’’ہمارا شمار ان قوموں میں ہوتا ہے جو گر چکی ہیں اور ہم نے بہت بُرے دن دیکھے ہیں۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی زبردست تباہی میں مسلمان خاکستر بن چکے تھے۔ مغل سلطنت کے خاتمے سے لے کر اب تک مسلمانوں کو اتنی بڑی ذمہ داری سے کبھی سابقہ نہیں پڑا جو پاکستان کی ذمہ داری قبول کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ ہم نے اس برصغیر کی زمین پر آٹھ سوسال حکومت کی ہے۔۔۔ اور ہمارا مطالبہ ہندوؤں سے نہیں ہے کہ یہ برصغیر کبھی ہندوؤں کی عمل داری میں نہیں رہا۔۔۔ صرف مسلمانوں ہی نے اس پورے خطۂ زمین پر حکومت کی ہے۔ انگریزوں نے اس برصغیر کو مسلمانوں سے حاصل کیا تھا۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہندوؤں سے نہیں‘ انگریزوں سے ہے کیونکہ یہ ملک اب ان کے قبضے میں ہے۔۔۔‘‘
قائدِاعظم کے فرمودات کی روشنی میں ہم اپنی نئی نسل کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا قیام کسی تقسیم کا نتیجہ نہیں ہے۔۔۔ یہ کیا تقسیم ۔۔۔ تقسیم ۔۔۔لگا رکھی ہے۔ بلکہ پاکستان کا قیام اس عمل کا نتیجہ ہے جو برصغیر کی تاریخ میں برابر موجود تھا۔۔۔ موجود ہے اور موجود رہے گا۔
اور ہمارے مہربان بھی سن لیں۔۔ کہ پاکستان محض واقعہ نہیں ہے۔ ایک اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی یہ حُسنِ اتفاق ہے۔۔۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو ایک نشاۃِ ثانیہ درکار تھی۔ سوئی ہوئی قوم نے بیدار ہونا تھا۔ انگڑائی لینا تھی۔ حقِ حکمرانی حاصل کرنا تھا۔
آزادی صرف اس صورت میں آزادی بنتی ہے جب اسے کلیتاً حق حکمرانی مل جاتا ہے۔۔۔ حقِ حکمرانی برصغیر میں مسلمانوں کا گمشدہ حق تھا۔۔۔۔
آج کے حالات میں حقِ حکمرانی کئی تاویلیں پیش کی جاسکتی ہیں۔۔ مگر اصل تاویل وہی ہے جو علامہ اقبال نے فرمائی ہے۔ 
خودی نہ بیچ‘ غریبی میں نام پیدا کر
خودی قرضوں کے عوض بک جاتی ہے۔ سیم و زر افراد کی غیرت کو کھا جاتے ہیں۔ شاہانہ زندگی کی تب و تاب رزقِ حلال کی لذت کو زائل کردیتی ہے۔
فقیری اس فقر کا نام ہے جو گھر کی دال روٹی کھاکے‘ سرحدوں پر فلک شگاف نعرے لگانے پراُکساتی ہے۔
یہ حقِ حکمرانی ۔۔۔ یہ تاریخ کی وراثت‘ یہ جغرافیے کی حاکمیت۔۔۔
یہ قوم‘ ملک‘ سلطنت
کبھی رک کر سوچا۔۔۔ کبھی دیکھا۔۔۔
آج پاکستان پوچھتا ہے ہر اس فرد سے جو پاکستان کے اندر پیدا ہوا ہے کہ تم پاکستانی کیوں نہیں ہو۔ تم یہاں مہاجر بن کر کیوں رہتے ہو۔ تم اپنے بچوں کو جس دیس کا شہری بنانا چاہتے ہو۔ کیا اس کی اہمیت ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔۔۔؟
تم اپنی زمین پر دانۂ گندم کیوں نہیں اُگاتے۔ اگر ادھار کی گندم کھاؤ گے۔۔۔ تو لہو اُبلنا چھوڑ دے گا۔
تم اپنے دریاؤں کا رُخ موڑ کیوں نہیں لیتے۔۔۔ تمہارے کھیتوں کے لب خشک ہو رہے ہیں۔۔۔ تم اپنے پرچم کو اٹھ کر سلام کیوں نہیں کرتے۔ وہ فضاؤں میں ہاتھ پھیلا ئے ہر دم تمہارے لئے دعائیں بکھیر رہا ہے۔۔۔
تم اپنے اسلاف کی باتیں پڑھنے کا وقت کیوں نہیں نکال سکتے۔۔۔ تمہیں دنیاوی لہو و لعب سے فرصت کیوں نہیں ہے۔۔۔
عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP