متفرقات

بیگم سے بھابھی تک

ہماری جب شادی ہوئی تو ہم پکے سویلین تھے۔ دور و نزدیک کبھی کسی فوجی سے واسطہ نہیں پڑا اور کوئی رشتے دار بھی فوجی نہیں تھا۔فوج اور فوجی کو اتنا ہی جانتے تھے کہ جتنا کبھی اخبار میں پڑھ لیا یا خبروں میں سن لیا۔ اس سے زیادہ نہیں۔ لہٰذا جب فوجی کپتان کا رشتہ آیا تو لفظ کیپٹن سے ذہن میں کوئی جہاز چلانے والا آتا تھا۔ لیکن پتہ چلا کہ کپتان صاحب آرمی آفیسر ہیں اور انہیں فوج چلا رہی ہے۔ غور و فکر کے بعد والدین نے کپتان صاحب کو قبول کر لیا اور یوں ہم بیاہ کر مسز کیپٹن عرفان ہو گئے۔ شادی کے بعد جب سیر سپاٹے کے لئے گئے توکپتان صاحب نے اپنی سویلین بیوی پر رعب جھاڑنے کے لئے آرمی کے گیسٹ روم بُک کروا لئے اور ہم پنڈی‘ مری اور ایبٹ آباد کے گیسٹ رومز میں کپتان صاحب کا رعب دیکھ کر شدید متاثر ہوئے۔ سیرسپاٹے کے بعد چھٹی ختم ہوئی‘ صاحب گوجرانوالہ چلے گئے اور ہم لاہور رہ گئے اور بیچ میں جدائی کے دن آ گئے۔ اب ہم جب فون کریں اور پوچھیں کہ آپ ویک اینڈ پر آ رہے ہیں تو ہمارے بیچ میں کسی ولن کی طرح COآ جائے کہ مان نہیں رہے اس لئے چھٹی نہیں ملی۔ COنے کہا ہے کہ پہلے فلاں کام ختم کرو پھر چھٹی ہو گی۔ اب ہم کیا جانیں کہ COکس بلا کا نام ہے۔ جانے یہ کون ہے۔ پہلے سے کوئی بیوی تو نہیں کی ہوئی اور اسے CO کہہ رہے ہیں۔ کبھی اس کے کام سے کہیں جاتے ہیں‘ کبھی کہتے ہیں ناراض ہے‘ کبھی خوش ہے یااﷲ کس سے پوچھیں اور اپنی پریشانی ختم کریں۔ گھر والوں سے پوچھیں تو وہ کہیں ہمارا مذاق نہ اڑائیں۔ لہٰذا ہم صاحب کی چھٹی کے لئے دعائیں اور اَن دیکھی بیوی CO کے لئے بددعائیں کرتے رہے۔ ہماری دعائیں رنگ لائیں اور صاحب گھر آ گئے اور ہمیں کہا کہ تیار ہو جاؤ یونٹ میں کھانا ہے اور CO نے کہا ہے کہ مسز کو لے کر آؤ۔ یوں ہم گوجرانوالہ چلے گئے۔ راستے میں ڈرتے ڈرتے ہم نے پوچھ ہی لیا کہ COکون ہے‘ جس کی آپ اتنی بات مانتے ہیں۔ اتنی تو آپ اپنے امی ابا کی نہیں سنتے‘ جتنی آپ CO کی سنتے ہیں تو صاحب نے ہنستے ہنستے بتایا کہ CO کمانڈنگ آفیسر کو کہتے ہیں اور یہ میرے باس ہیں۔ یہ سب سن کر ہم سخت شرمندہ بھی ہوئے اور صاحب نے خوب مذاق بھی اڑایا۔ جب ہم نے بے وقوفوں کی طرح انہیں یہ بھی بتا دیا کہ ہم تو CO کو آپ کی پہلی بیوی سمجھتے تھے۔ اس پہلے کھانے کے بعد ہم ہمیشہ کے لئے آرمی میں آ گئے اور بھابھی بن گئے۔ پھر کپتان صاحب نے ہمیں آرمی کے طور طریقے سمجھائے کہ ہر چھوٹا بڑا افسر بھائی ہے اور تمام افسروں کی بیگمات بھابھیاں ہیں۔ یہاں کبھی کسی کو آنٹی نہیں کہنا یا کوئی نام نہیں لینا۔ سب کو بھابھی کہنا ہے۔ لیکن ہم ٹھہرے نکمے اور سبق بھول گئے اور خاصے سینئر افسر کی بیگم کو آنٹی کہہ دیا اور پھر خوب شرمندہ ہوئے۔ گویا مختلف اوقات میں ہمیں مختلف بھابھیاں سمجھاتی رہیں کہ آرمی میںآنٹی نہیں ہوتی۔ سب بھابھیاں ہوتی ہیں لیکن ایک بھابھی نے صرف سمجھایا نہیں بلکہ صاحب کو بھی شکایت لگا دی۔ لو بھلا بتاؤ جب تم نے اچھی طرح مزے لے لے کر سب کچھ کہہ سن لیا تھا تو صاحب کو بتا کر تمھیں کونسا تمغہ مل جانا تھا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تھا۔ کپتان صاحب نے ہماری اسی طرح کلاس لی جس طرح COبھائی کپتان صاحب کی کلاس لیتے تھے۔ اس کلاس کے بعد ہم نے دوبارہ کبھی یہ غلطی نہیں کی۔ کپتان صاحب کو خاکی وردی میں دیکھنا بہت اچھا لگا۔ کڑ کڑ‘ کرتی کلف لگی استری شدہ وردی‘ کہیں پر کوئی نشان نہیں اور پھر کندھوں پر لگے تارے۔ بہت بعد میں سمجھ آیا کہ کندھوں پر لگے چاند تارے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس وقت تو لگتا تھا کہ میرے کیپٹن صاحب کا ہی سب سے بڑا رینک ہے۔ لیکن کیپٹن صاحب میجر بننے کی دعائیں کرتے اور کرواتے رہتے اور پھر ایک دن ہم مسز میجر عرفان بھی بن گئے۔ کندھوں پر لگے تاروں میں چاند کا اضافہ ہو گیا۔ آسمان کا چاند اور تارا میرے صاحب کے کندھوں پر آ گئے اب اور کیا چاہئے۔ لیکن صاحب اب دعائیں کروانے لگے CO کی۔ اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب ہم COکی بیگم بن گئے۔ شکر الحمدﷲ اس دوران ہم نے زندگی کے بہت سے رنگ دیکھے‘ بہت سے ذائقے چکھے اور یہ بھی جان لیا کہ کندھوں پر لگے رینک کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ آرمی کا حصہ بن کے ہم نے قدم قدم پر اپنے آپ پر فخر محسوس کیا۔ اپنے فوجی کپتان پر فخر کیا جس نے ہمیں اس آرمی کا حصہ بنایا۔ اپنے والدین پر فخر کیا جنہوں نے کیپٹن صاحب کا رشتہ قبول کیا اور ان والدین پر بھی فخر کیا جنہوں نے اپنے لاڈلوں‘ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو آرمی میں بھجوایا۔ مجھے بہت فخر ہے اپنے تمام فوجی بھابھیوں پر‘ اپنے تمام فوجی نوجوانوں پر‘ اپنے تمام افسروں پر اپنی تمام بھابھیوں پر‘ اور ان کے بچوں پر‘ جو اپنی بہت سی خواہشات کی قربانی دیتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیںَ ہ وہ اس فوج کا حصہ ہیں۔ میں اور میری قوم فخر محسوس کرتی ہے ان پاک وطن کے فوجی جوانوں پر‘ میرے وطن کے یہ سپاہی جب خاکی وردی پہنے وطن کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کیسے شیرجوان لگتے ہیں۔ ان کے جذبوں کی گرمی سے دشمنوں کے سینے جلتے ہیں۔ یہ سپاہی اپنے وطن کی حفاظت کے لئے کس شان‘ کس آن سے نکلتے ہیں۔ اپنے وطن کے لئے کبھی بھی کندھوں کے چاند تاروں کو رکاوٹ نہیں بننے دیتے۔ جنگ کے میدان میں دشمن کے سامنے ایک ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی افسر رہتا ہے نہ کوئی جوان‘ صرف سپاہی ہوتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اﷲ میرے وطن کے تمام فوجی جوانوں کو افسروں کو اور ان کے اہل خانہ کو اپنی امان میں رکھے اور انہیں بھلائیاں اور آسانیاں نصیب فرمائے۔

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP