قومی و بین الاقوامی ایشوز

بیرونی قرضے۔۔۔ ہم یہاں کیسے پہنچے

انیس سو اسی کی دہائی میں آفتاب احمد خان سیکرٹری خزانہ کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ گونج دار آواز کے مالک اور مرزا غالبؔ کے شیدائی تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان پر مغربی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے نوازشات کی بارش ہو رہی تھی۔ 1979میں پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے امداد کی درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی ۔ 1976اور 1979 میں پاکستان پر اقتصادی امداد کی فراہمی کے لئے پابندی عائد کی گئی۔ افغان مجاہدین کی امداد کے بعد یہ پابندیاں ہٹا لی گئیں۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے از خود ڈیڑھ ارب ڈالر امداد کی منظوری دی گئی۔ امریکہ نے ساڑھے تین ارب ڈالر کی اقتصادی امداد اور قرضوں کی منظوری دی۔ ڈاکٹر حسین ملک قائداعظم یونیورسٹی میں شعبہ معاشیات کے انچارج تھے‘ وہ بیرونی امداد کے کٹر مخالف تھے۔ آفتاب احمد خان سے ملاقاتوں میں ڈاکٹر ملک عموماً ایک ہی سوال کرتے تھے۔ کیا قرضوں کے معاہدوں پر دستخط کرتے ہوئے آپ سوچتے ہیں کہ یہ قرضے واپس کیسے کئے جائیں گے؟ آفتاب احمد اپنی قہقہوں سے بھرپور آواز میں جواب دے کر آگے بڑھ جاتے۔ افغانستان سے روسی فوجیوں کا انخلاء شروع ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکہ اور اس کے حواریوں نے نظریں پھیر لیں ۔ اگست 1990میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بہانہ بنا کر ایک مرتبہ پھر اقتصادی امداد بند کر دی گئی۔ بارہ سال کے عرصے میں یہ تیسری پابندی تھی۔ گزشتہ 25سالوں میں ہر حکومت کا اولین فرض بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے امداد کی درخواست رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ گزشتہ پچیس سالوں میں ہر حکومت مسلسل اور مستقل بین الاقوامی اداروں کی جانب سے عائد شرائط اور مسلط کی گئی پالیسیوں کی تابع رہی ہے۔ پہلی بے نظیر بھٹو حکومت دسمبر 1988میں اقتدار میں آئی اور صرف تین دن کے بعد آئی ایم ایف سے امدا دکی درخواست کرنی پڑی کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر تھے۔1994 بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت نے آئی ایم ایف سے ایک اور پیکیج کے لئے معاہدہ کیا۔ نواز شریف نے ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ مہم چلائی۔ اس مہم کے تحت جو رقم جمع ہوئی اس کے استعمال کا آج تک پتا نہیں چل سکا۔ پرویزمشرف نے عالمی بنک کے ایک پاکستانی نائب صدر ڈاکٹر پرویزامجد کے تحت قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لئے سفارشات تیار کرنے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ کمیٹی کی رپورٹ پر سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ یہ قرض لے کر قرض اتارنے کی اسکیم ہے۔ اس وقت عالمی بنک کے اسلام آباد میں متعین نمائندے کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک گڑھے کو کھودنے میں مصروف ہے۔ اس سے قبل نواز شریف کی دوسری حکومت نے سیکرٹری خزانہ معین افضل اور گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر محمد یعقوب کی سربراہی میں دو وفود واشنگٹن بھیجے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایک اور اقتصادی امدادی پیکیج حاصل کیا جائے۔ معین افضل ناکام رہے لیکن ڈاکٹر یعقوب جو آئی ایم ایف میں خدمات سرانجام دے چکے تھے‘ ایک اور پیکیج لینے میں کامیاب ہو گئے۔ پرویزمشرف نے شوکت عزیز کو بطور وزیرخزانہ امریکہ سے درآمد کیا تو اسلام آباد آمد سے پہلے ہی انہوں نے آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدے داروں سے اقتصادی امداد کے لئے گفتگو کی جس میں پرائیویٹ سیکٹر میں بجلی گھروں پر عائد پابندیاں ختم کرنا شامل تھا۔ تیسری پیپلز پارٹی حکومت اور تیسری نواز شریف حکومت نے بھی حسب عادت آئی ایم ایف سے پیکیجز کے لئے معاہدے کئے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز شریف کے منشور میں ’’خیرات کا پیالہ‘‘ توڑنا شامل تھا لیکن مئی 2013میں تیسری نواز حکومت برسراقتدار آئی تو آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ دراز کرنے کی عجیب و غریب تاویلیں گھڑیں۔ یہ کہا گیا کہ قرضوں کے حجم میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ صرف پرانے قرضے اتارنے کے لئے نئے قرضے لئے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے 7ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا تو کہا گیا کہ یہ قرضہ پیپلز پارٹی نے آئی ایم ایف سے جو قرضہ لیا تھا اس کی واپسی کے لئے لیا جا رہا ہے۔ اپریل 2014میں وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسروں اور وزیرخزانہ اسحق ڈار 500ملین ڈالر کے یورو بانڈ بیچنے کے لئے کئی مغربی ممالک کے دورے پر گئے جس کے نتیجے میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور حکومت نے بجائے 500ملین ڈالر کے دو ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے جو یورو بانڈ کی شکل میں تھے۔ یورو بانڈ وہ قرضے ہیں جو حکومتوں اور مالیاتی اداروں سے نہیں بلکہ غیرملکی بنکوں اور Institutional Investors سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ ان کی واپسی کی مدت محدود اور شرح سود ماکیٹ ریٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اپریل 2014میں حکومت نے جو یورو بانڈ بیچے ان پر شرح سود 8فیصد سالانہ ہے۔ یورو بانڈ کے بارے میں بھی اسحق ڈار کا کہنا ہے کہ اس سے دو ارب ڈالر کے ملکی قرضے ادا کئے جائیں گے جن پر 8فیصد سے زائد سود ادا کیا جا رہا ہے۔ یعنی قرضوں کے کل حجم میں اضافہ نہیں ہو گا۔ موجودہ حکومت غیرملکی بینکوں سے مارکیٹ سے بلند ریٹ پر 10-15ارب ڈالر کے قرضے حاصل کرنے کے لئے کوششیں کر رہی ہے جو داسو ڈیم اور بھاشا ڈیم کی تعمیر پر خرچ کئے جائیں گے۔ پرائیویٹ سیکٹر سے حاصل کئے گئے قرضوں کی بنیاد پر دو میگا ڈیمزکی تعمیر کے منصوبوں کے لئے حاصل کئے گئے قرضوں پر شرح سود کم از کم دس فیصد کا اندازہ لگایا گیا ہے کیونکہ یوروبانڈ جو صرف دو بلین ڈالر مالیت کے تھے‘ آٹھ فیصد شرح سود پرحاصل کئے ہیں۔ گویا اگر دس ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کیا گیا تو اگلے دس سالوں میں دس ارب ڈالر صرف سود کی مد میں ادا کرنے ہوں گے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ ڈیم مقررہ مدت میں مکمل ہو جائیں۔ موجودہ حکومت کی ایک اور کامیابی سعودی عرب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی گرانٹ حاصل کرنا ہے۔ یعنی یہ وہ پیسے ہیں جو سعودی عرب نے فی سبیل اﷲ حکومت پاکستان کو فراہم کرنے ہیں اور واپس نہ کرنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا گیا کہ کچھ اور عرب ممالک مثلاً یو اے ای اور کویت بھی اس طرح کی امداد فراہم کریں گے۔ مغربی ممالک میں کہا جاتا ہے کہ There is no free cheque یعنی اگر کوئی شخص کسی کو کوئی رقم فراہم کرتا ہے تو اس کے عوض کوئی کام بھی لیتا ہے۔ قرض دیا جائے یا کسی پر احسان کیاجائے تو اس کی واپسی بھی ضروری ہے۔ محسن کا احسان مند بھی ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ سعودی عرب کی طرف سے دی جانے والی گرانٹ کے بارے میں چہ میگوئیاں ہوئیں‘ پارلیمنٹ میں سوال اٹھائے گئے‘ اداریے لکھے گئے کہ حکومت بتائے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے عوض حکومت نے کیا خدمات فراہم کرنے کی ہامی بھری ہے۔ چین سے 30ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو بھی درحقیقت 30ارب ڈالر قرضے کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے جو حکومت چین نے پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں خصوصاً بجلی گھروں کی تعمیر اور چین پا کستانی تجارتی رہداری کے لئے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس امداد کے تحت پاکستان میں چین کی مدد سے بہاولپور میں ایک ہزار میگاواٹ کا جناح سولر پارک‘ گڈانی کے ساحل پر 6ہزار میگاواٹ کی کوئلے کی بنیاد پر گڈانی کمپلیکس اور پورٹ بن قاسم پر 1200میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر تعمیر کئے جائیں گے۔ ان سارے بجلی گھروں کے لئے چین قرضے اور مشینری فراہم کرے گا۔ یہ بجلی گھر آئی پی پی کی بنیاد پر لگائے جائیں گے یعنی ان سے بجلی حکومت پاکستان خریدے گی اور عوام الناس کو فراہم کی جائے گی۔ آئی پی پی سسٹم میں ایک Base Rate یاFront Tariff مقرر کیا جاتا ہے۔ جس کی بنیاد پر اگلے تیس سالوں کا Tariff مقرر کیا جانا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر روپے اور ڈالر کی شرح میں تبدیلی ہو جائے‘ بجلی گھروں میں استعمال کئے جانے والے ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہو جائے‘ پاکستان اور بیرون ملک Inflationمیں اضافہ ہو تو اس Front Tariff میں اس شرح سے ہی اضافہ کیا جانا ہے۔ چنانچہ 1994میں بے نظیر بھٹو نے جب IPPsکی منظور دی تو فرنٹ ٹیرف 6.5امریکی سینٹ مقرر کیا لیکن اس فارمولے کے تحت آج وہ ہی بجلی گھر 15سے 20سینٹ فی یونٹ بجلی تیار کر رہے ہیں۔ اگرچہ بعد میں آنے والی حکومت نے اس فارمولے کی مخالفت کی تھی لیکن اس فارمولے کے تحت ہی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے لئے دس سینٹ فی یونٹ فرنٹ ٹیرف مقرر کیا ہے۔ سوالوں کا سوال یہ ہے کہ اگر 6سینٹ فی یونٹ فرنٹ ٹیرف مقرر کرنے میں گزشتہ حکومت نے بے قاعدگیاں کی تھیں اور پاکستان کے عوام ان بے قاعدگیوں کی سزا مہنگی بجلی کی شکل میں بھگت رہے ہیں تو دس سینٹ کے فرنٹ ٹیرف میں کتنی بے قاعدگی ہوتی ہو گی؟ ہمارے ماضی کے ایک حکمران کے بیرونِ ملک دورے اور شاہانہ اخراجات پر ایک مبصر نے تبصرہ کیا تھا کہ’’ آج تک تیسری دنیا کا کوئی حکمران اتنے شاہانہ انداز میں مانگنے نہیں آیا۔‘‘ اس طرح کے ہی ایک دورے کے دوران ایک لوکل اخبار میں ایک کارٹون شائع ہوا جس میں ایک فقیر کو آئی ایم ایف کے باہر بیٹھے دکھایا گیا جس کی کمر جھکی تھی اور بال گر رہے تھے۔ ’’یہ شخص نوجوان تھا جب مانگنے کے لئے پہلی مرتبہ آیا تھا‘‘ ایک اعلیٰ افسر اپنے ساتھی کو بتا رہا تھا۔اس بات پر غور وفکر کی ضرورت ہے کہ پاکستان اس مقام پر کیسے پہنچا۔ ایک ایسا ملک جسے مملکت خداداد کہا جاتا ہے‘ جسے قدرت نے ہر طرح کی نعمت سے مالا مال کیا ہے۔ پانچ دریا دنیا کے آٹھ اونچے ترین پہاڑ‘ زرخیز زمین ۔پاکستان نے عالمی بنک (ورلڈ بنک) کی رکنیت 11جولائی1950کو حاصل کی اور فروری 1952میں پہلا قرضہ حاصل کیا۔ جو 27ملین ڈالر کی مالیت کا تھا۔ یہ قرضہ پاکستان ریلوے کے لئے لیا گیا۔ اگست 2014تک پاکستان عالمی بینک سے 279قرضے حاصل کر چکا ہے۔ 48مزید قرضے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ 5مزید قرضوں کے لئے گفت و شنید جاری ہے۔ ان قرضوں کی مالیت کم و بیش 20ارب ڈالر بنتی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے کم از کم 170قرضے حاصل کئے گئے ہیں۔ اسلامی ترقیاتی بنک‘ پاک سعودی انوسٹمنٹ کمپنی‘ پاک کویت انوسٹمنٹ کمپنی‘ پاک یو اے ای انوسٹمنٹ کمپنی اور اس طرح کے بے شمار اداروں سے ان گنت قرضے حاصل کئے گئے۔ امریکہ اور مغربی ممالک سے قرضوں کا حصول پچاس کی دہائی میں شروع ہوا۔ سیٹو اور سینٹو سے ملنے والی گرانٹس ان قرضوں کے علاوہ تھیں۔ جہاں ہم پہنچ گئے ہیں یہ ہماری منزل نہیں تھی۔ جہاں ہم نے جاناہے ‘ یہ وہ راستہ نہیں ہے۔ ہماری فلاح اسی میں ہے کہ ہم محنت‘ خود انحصاری اور لمبی منصوبہ بندی کو شعار بنائیں۔ ہمارا آج ہمارے کل سے جُڑا ہونا چاہئے تاکہ ہماری کل کی نسل ہمارے آج کے مسائل سے آزاد نئے جہانوں کی تسخیر اور تعمیر میں سرگرداں ہو۔

’’آپ‘ ہم اور ہلال ‘‘

(ممتاز ادیب‘ مصنف اور ڈرامہ نگار جناب یونس جاوید کا مدیرِ ہلال کے نام خط)

اس مرتبہ ’’ہلال‘‘ کچھ الگ سا دکھائی دیا۔ صرف دکھائی ہی نہیں دیا‘ تھا بھی خوبصورت‘ خوب سیرت۔ اجمل نیازی کا ’’ستمبر زندہ ہے‘‘ میں دشمن کو یاد رکھنے کا درس‘ محمود شام کا ’’پرچم کے رکھوالے‘‘ میں پرچم کی تقریب کا جوش اور ہوشمندانہ باتیں اور نذیرناجی کا ’’ستمبر یاد آتا ہے‘‘ یوں لگا یہ سب پہلے سے میری رگوں میں موجزن ہیں۔ اعتزاز حسن شہید‘ کرنل (ر) محمد شمیم کی نظم اور بشریٰ رحمن کا ’’یاد ہیں وہ دن‘‘ کوئی ایک سچ ہے 1947پھر 1948پھر سترہ اپریل 1946کا دن‘ اور 21اپریل 1948خصوصاً 1939میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس سے قائداعظم کا خطاب۔ قائداعظم نے کب کیا کہا۔ بشری جی نے ایک کوزے میں کئی دریا بند کر کے قائد کے فرامین سے ہمیں جھنجوڑ دیا۔ ص(12) پر آپ نے سورہ انعام کی آیات (50-51) کا ترجمہ دے کر کتنی سچائیاں جگمگا دی ہیں۔ رب العزت ہم سے مخاطب ہیں۔ اس کے بعد کیپٹن ڈاکٹر شرجیل شاہد شہید نوجوانی میں رب قدیر کی طرف سے اس انتخابِ شہادت کے لئے۔۔۔ ہرچند کہ سعادت ہے۔۔۔ مگر اُم شرجیل کی باتیں سن کر دل بھر کیوں آتا ہے؟ اس کے الفاظ گڈمڈ‘ اس کی لفاظی ختم‘ اس کے زخم تازہ۔۔۔ شہادت کا فخر بھی جدائی کا زخم بھی۔ ان کا دکھ ‘ رب قدیر کی رحمتیں اور برکتوں کے باوجود منفرد اور بے مثال مگر خوشی ‘ خوشی نہیں لگتی‘ غم‘ غم نہیں لگتا‘ یہ پتھر ہو جانے کی کیفیت بھی تو اسی رب کی طرف سے ہے ناں یوسف عالمگیرین؟ کہُ ام شرجیل ہر دن کے گزرنے پر مطمئن ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے قریب ہو رہی ہیں۔۔۔ اور ڈاکٹر شمیلہ شاہد کے تاثرات کہ’’ بھائی کی یاد ہر چیز میں سمائی ہوئی ہے۔‘‘ وہ اس کی یونیفارم سنبھالے بیٹھی ہے جو اس نے ابھی پہنی ہی نہ تھی۔ اسی خطاطی کے ساتھ جو شرجیل نے بنائی تھی اور سب سے زیادہ دل لہو کرنے والا صفحہ میجر قرۃ العین کا ہے۔ بالکل میری ایک کہانی سے ملتا ہے۔ انیس بیس کا فرق ہے۔ مگر قرۃ کے ایک ایک لفظ میں مشاہدہ‘ تجربہ اور زندہ حقائق اور جس طرح اس کا تخاطب جانے والے سے ہے‘ وہ وعدہ جو اس نے سہاگ رات کو لیا تھا کہ ’’میں تمہاری جدائی میں روؤں گی نہیں اور تمہیں دنیاوی طور پر کھو کر ابد تک کے لئے ’’پا‘‘ لوں گی‘‘۔ کے آسرے پر زندگی بخش ہے کہ شیر علی‘ گڑیا اور حیدر علی کے چہروں پر تم جھلک رہے ہو تمہارا عکس جھلملا رہا ہے۔ تم دور ہو کر بھی ان تینوں کی ذات ہو۔ بٹ کر پھر میرے پاس آ گئے ہو ہجر کا درد بن کر۔۔۔‘‘ الحمد ﷲ کہ اس دکھ نے پھیل کر’’ درد کی حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا‘‘ کہ مصداق شمع امید ہی نہیں بلکہ یقینِ محکم کی لَو تیز کر دی ہے۔ ربِ قدیر ان سب امانت داروں کو اپنے سائے میں رکھے کہ میرا ہی ایک مصرعہ ہے۔ ’’کہ ردائے زینب مصطفی میرے ہر شہید کے سر پہ ہے‘‘ اﷲکریم آپ کو اس محنت اور توجہ کا صلہ مرحمت فرمائے اور حوصلہ بڑھائے۔ آمین

یونس جاوید

لاہور

(29 ستمبر2014)

یہ تحریر 50مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP