قومی و بین الاقوامی ایشوز

بہترین معیشت کے لئے بہترین دفاع ناگزیر ہے

امریکہ کے ساتھ کئی اہم دفاعی معاہدوں میں شراکت دار ہونے کے باوجود ،جاپان میں تعینات چالیس ہزار امریکی افواج کے لئے ملک بھر میں سو سے زائد فوجی اڈوں کی فراہمی کے باوجود ، جاپان میں موجود چالیس ہزار امریکی افواج کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں سالانہ دو أرب ڈالر کی فراہمی کے باوجود ، امریکہ کی جانب سے جاپان کی سلامتی کے لئے ایٹم بم سمیت خطرناک میزائلوں کے حملوں سے بچاؤ کے لئے جاپان میں مکمل دفاعی نظام کی تنصیب کی ضمانت کے باوجود ، امریکہ کی جانب سے جاپان کو مکمل سرحدی تحفظ کی ضمانت کی فراہمی کے باوجود، گزشتہ سال امریکی وزیر دفاع کی جانب سے دیئے جانے والے بیان نے نہ صرف جاپانی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ جاپانی عوام کو بھی سخت عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کردیا۔ یہ معاملہ تھا جاپان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے کی وجہ بننے والے جزیرے سنکاکو آئی لینڈ کا(Senkaku Island)جس پر چین اور جاپان دونوں ہی ممالک ملکیت کے دعویدار ہیں۔ جاپان کی سمندری حدود میں واقع تین چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل یہ جزیرے صرف ساڑھے چا ر مربع کلومیٹر پر مشتمل ہیں تاہم بہترین ماہی گیری کے مواقع، اور ایشیائی تجارت کی اہم ترین گزرگاہ اور سب سے بڑھ کر اس جزیرے کے اطراف زیر سمندر دریافت ہونے والی قدرتی گیس اور تیل کے انتہائی وافر ذخائر نے اس جزیرے کو جاپان سمیت خطے کے دیگر ممالک خاص طور پر چین اور تائیوان کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل بنادیا ہے‘ گزشتہ سال یہ جزائر چین اور جاپان کے درمیان اس وقت جنگی فلیش پوائنٹ بنتے بنتے رہ گئے‘ جب جاپان نے سرکاری طور پر ان جزائر کو ان کی ملکیت رکھنے والے چند جاپانی شہریوں سے خرید کر یہاں نہ صرف جاپانی پرچم لہرادیا تھا بلکہ ان جزائر کے اطراف میں اپنی دفاعی بحری افواج کو بھی تعینات کردیا۔ اس علاقے میں ماہی گیری کرنے والے چینی ٹرالرز کو فوری طور پر جزائر کی سمندری حدود سے نکلنے کی وارننگ بھی دے ڈالی تھی، ان واقعات کو چین نے انتہائی سنجیدگی سے لیا اور عالمی و سفارتی سطح پر جاپان کے اس اقدام پر نہ صرف شدید احتجاج کیا بلکہ ان جزائر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دے ڈالی جس سے چین اور جاپان کے درمیان کشیدگی میں سخت اضافہ دیکھا گیا۔ اس موقع پر جاپان کی حکومت یہ توقع کرر ہی تھی کہ امریکہ جو ایک معاہدے کے تحت جاپان کی جغرافیائی سلامتی کا ذمہ دار ہے‘ چین کی ان دھمکیوں کے جواب میں نہ صرف جاپان کے ساتھ کھڑا ہوگا بلکہ اپنی بحری قوت کو بھی ان متنازعہ جزائر کے اطراف میں تعینات کرکے چین کو یہ پیغام دے گا کہ چین نے اگر فوجی طاقت کے ذریعے جاپان کے زیر ملکیت ان جزائر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو یہ نہ صرف جاپان بلکہ امریکہ کے ساتھ بھی جنگ کے مترادف ہوگا۔ جاپانی میڈیا اس حوالے سے جاپانی عوام کو اس بات کا اطمینان دلاتا رہا تھا کہ کیونکہ امریکہ جاپان کا سب سے اہم اتحادی ہے لہٰذا چین کی بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیت جاپان کے لئے بالکل خطرہ نہیں ہے کیونکہ امریکہ جاپان کے مکمل دفاع کا ذمہ دار ہے۔ تاہم یہ تمام امیدیں اور بھروسہ اس وقت چکنا چورہوگئے جب گزشتہ سال جاپان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیردفاع نے جاپانی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد یہ بیان دے دیا کہ سنکاکو آئی لینڈ (Senkaku Island)‘ کا مسئلہ چین اور جاپان کے درمیان دوطرفہ تنازعہ ہے لہٰذا امریکہ اس مسئلے میں فریق نہیں بنے گا اور اس مسئلے کو جاپان اور چین کو خود ہی حل کرنا ہوگا، کیونکہ یہ جزیرہ تاریخی طور پر ہمیشہ جاپان کا ہی حصہ رہا ہے جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی اس جزیرے پر ء1971تک امریکہ کا کنٹرول رہا ہے تاہم 1972ء میں امریکہ نے اس جزیرے کا کنٹرول جاپان کے حوالے کردیا تھا، تاہم 80ء کی دہائی میں اس جزیرے کے اطراف اور زیر سمندر تیل وگیس کے بھاری ذخائر کے دریافت ہونے کے بعد چین نے اس جزیرے کی ملکیت کے حصول کے لئے عالمی سطح پر کوششیں شروع کیں۔ تاہم اس وقت کمزور معیشت اور دفاع ہونے کے سبب چین کے مطالبات کو عالمی سطح پر وہ اہمیت نہیں دی گئی جو اب اسے حاصل ہورہی ہے ، چین کی عالمی سطح کی معیشت ہونے اور اہم دفاعی طاقت ہونے کے باعث ہی امریکہ نے بھی گزشتہ سال چین کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی پالیسی سے گریز کرتے ہوئے سنکاکو آئی لینڈ(Senkaku Island) ‘کو چین اور جاپان کا دوطرفہ مسئلہ قرار دے دیا تھا۔ تاہم امریکہ کے اس بیان کے بعد جاپان اور امریکہ تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوگیا تھا،کیونکہ جاپانی عوام کے ٹیکس سے چالیس ہزار امریکی افواج کا بوجھ اٹھانے کے بعد بھی جاپان کے دفاع کے لئے امریکی سرد مہری نے جاپانی حکومت کی عوام میں مقبولیت کو شدید نقصان پہنچایا تھا، لہٰذا جاپانی وزیر اعظم نے اس مسئلے کو نہ صرف امریکی وزیرِ خارجہ بلکہ امریکی صدر سے بھی اٹھایا تھا جس کے بعد امریکہ نے چین پر اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جس سے اس مسئلے پر چین اور جاپان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملی ۔

جاپان جو امریکہ اور چین کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے ، جس کی معیشت کا حجمGDP 5.96 ٹریلین ڈالر ہے۔ جبکہ قوت خرید کے حساب سے جاپان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے اور دنیا کی دوسری سب سے زیادہ ترقی یافتہ معیشت مانا جاتا ہے۔ جاپان کی فی کس آمدنی 46ہزار ڈالر سے زائد ہے، اس حساب سے جاپان دنیا کا ایک کامیاب ترین ملک ہے تاہم ان تمام بہترین اعداد وشمار کے باوجود اس وقت جاپانی حکومت اور عوام میں یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ طاقت ور معیشت کو ایک طاقت ور دفاع اور فوج کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت جاپان کا دفاع مکمل طور پر امریکی افواج کے حوالے ہے اور جاپان اپنے آئین کی رو سے صرف کم سے کم دفاعی افواج رکھنے کا پابند ہے‘ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں جاپان دنیا کاامن پسند ملک ہونے کے باوجود دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے زیر قبضہ رہنے والے پڑوسی ممالک کے عتاب کا نشانہ بنا رہتا ہے۔ اس وقت جاپان کو جن ممالک سے شدید مخالفت کا سامنا ہے یا پھر سرحدی تنازعات کا سامنا ہے ان میں روس، شمالی کوریا،جنوبی کوریا، تائیوان اور چین جیسے ممالک شامل ہیں، ان ممالک سے تنازعات میں روس کے ساتھ جاپان کا حصہ رہنے والے جزیرے کیورل کا تنازعہ ہے جس پر روس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قبضہ کرلیا تھا اور آج بھی وہاں نوے فیصد جاپانی شہری آباد ہیں تاہم وہ روس کا پاسپورٹ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جاپان صرف کمزور دفاع اور امریکہ پر دفاعی دارومدار کے باعث روس سے آج تک اپنا جزیرہ واپس نہیں لے سکا ہے جبکہ شمالی کوریا کو دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی افواج کی جانب سے کیا جانے والا ظلم و ستم آج بھی یاد ہے۔ جب جاپانی افواج نے نہ صرف جنوبی کوریا پر قبضہ کرکے اسے اپنا نوآبادیاتی حصہ بنالیا تھا بلکہ جنوبی کوریا کی خواتین کو اپنے فوجیوں کی جنسی تسکین کے لئے استعمال کیا تھا۔ ان واقعات کی تلخیاں آج بھی جنوبی کوریا کی حکومت اور عوام میں تازہ ہیں جو نہ صرف آج بھی جاپانی حکومت سے سرکاری سطح پر دوسری جنگ عظیم کے دوران کئے جانے والے جاپانی افواج کے ظلم وستم کی معافی طلب کرتے ہیں بلکہ ان مظالم کے بدلے جاپان سے ہرجانے کے طور پر بہت بڑ ا معاوضہ بھی طلب کیا جاتا ہے۔ ان تلخ واقعات کے باوجود دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کا حجم اربوں ڈالر میں ہے۔ جبکہ شمالی کوریا بھی دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے قبضے میں رہ چکا ہے وہاں کی حکومت بھی ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا نہیں سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت جاپان اور شمالی کوریا کے درمیان سفارتی تعلقات ہی موجود نہیں ہیں اور کئی دفعہ شمالی کوریا جاپان کو اپنے میزائلوں کا نشانہ بنانے کی دھمکیا ں دے چکا ہے اور اپنے جدید ترین میزائلوں کے تجربوں کے لئے جاپان کی فضائی حدود بھی استعمال کرچکا ہے جسے روکنے میں امریکی دفاعی نظام بھی ناکام رہا ہے۔ اسی طرح کے تلخ تجربات ماضی میں چین کو بھی رہے ہیں جب دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان نے چین پر نہ صرف قبضہ کیا بلکہ وہاں کی بہت بڑی آبادی کو بے گار کیمپوں میں استعمال کیا۔ وہاں کی خواتین کی آبرو ریزی کی گئی ان واقعات کی تلخ یادیں آج بھی چین کی حکومت اور نئی نسل کے دلوں میں موجود ہیں۔ چین کی درسی کتابوں میں جاپان کے حوالے سے انتہائی منفی لٹریچر موجود ہے جس کی وجہ سے چین میں بڑا ہونے والا بچہ شروع سے ہی جاپان کے حوالے سے دل میں نفرت لے کر بڑا ہوتا ہے، اگر دیکھا جائے تو جاپان کی موجود ہ نسل ماضی کے حوالے سے بالکل مختلف ہے، یہاں لوگ تعلیم یافتہ،امن پسند اور ترقی پسند ہیں۔ یہاں امن سے محبت اورجنگ سے نفرت کی جاتی ہے، جاپان دنیا کی واحد قوم ہے جو ایٹم بم کا نشانہ بنی‘ یہی وجہ ہے کہ جاپانی حکومت اور عوام ایٹمی بم کے نقصانات سے آگاہ ہیں اور اب دنیا کو ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، تاہم ان سب باتوں کے باوجود جاپانی قوم میں اپنے دفاع کے حوالے سے شعور بیدار ہورہا ہے ، جاپانی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی ادارے خلاء میں بھیجنے کے لئے جدید ترین راکٹ تیار کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا اگر جاپانی حکومت چاہے تو چند ہفتوں کے اندر جاپان دنیا کے بہترین اورجدید ترین میزائل تیار کرنے کی اہلیت کو ثابت کر سکتا ہے۔جبکہ جاپان کے پاس پچا س سے زائد ایٹمی پاور پلانٹ موجود ہیں، یہاں دنیا کی بہترین یورینیم تیار ہوتی ہے لہٰذا اگر جاپان کی حکومت چاہے تو جاپان چند ماہ کے اندر خطر ناک اور جدید ترین ایٹمی ہتھیار بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر جاپانی حکومت اپنی امن کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے ، تاہم اب جاپان میں بھی کچھ تھنک ٹینک اپنی حکومت کو آئین میں تبدیلی لانے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپان کو اپنے دفاع کے لئے حملہ آور فوج رکھنے کا آئینی حق ملنا چاہئے۔ جاپان میں اب یہ سوچ بھی عام ہوتی جارہی ہے کہ بہترین معیشت کے لئے بہترین دفاع اور طاقت ور فوج بھی بہت ضروری ہے ۔

(عرفان صدیقی پاکستان کے ممتاز صحافی ہیں اور کئی اہم جریدوں سے منسلک رہے ہیں۔ اس وقت وہ ٹوکیو‘ جاپان میں مقیم ہیں)

یہ تحریر 93مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP