ہلال نیوز

بہاولپور کور کے زیر اہتمام جدید  اور طویل سنائپر رینج کا قیام

ہمارے مشرقی دشمن نے 1500 میٹر اور اس سے زیادہ رینج پر اسرائیلی ٹیکنالوجی کی مدد سے سنائپر فائر پر دسترس حاصل کر کے لائن آف کنٹرول پر پاک فوج کے جوانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جو پاک فوج کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس چیلنج کو پورا کرنے اور اپنے مشرقی دشمن کو زیر کرنے کے لئے اس طرح کی صلاحیت حاصل کرنا نہ صرف ہماری ضرورت ہے بلکہ مجبوری بھی ہے۔لہٰذا یہ ضروری تھا کہ ایک ایسی رینج بنائی جائے جو عصر ِحاضر کے تمام تقاضوں کے مطابق سنائپر ٹریننگ کے لئے استعمال کی جاسکے ۔
اس مقصد کے لئے وسیع پیمانے پر سنائپر مقا بلوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تاکہ ان مقابلوں میں موجودہ ہتھیاروں اور تکنیک کو پرکھا اور جانچا جاسکے ۔ جس کے لئے پہلی محمد علی جناح اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ 2016 میں بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں منعقد کی گئی اور پھر 2017 میں اس سے چھوٹے پیمانے پر لاہور گیریژن شوٹنگ گیلری کمپیٹیشن کے نام سے منعقد کی گئی۔ بعد ازاں دسمبر 2019 میں دوسری محمد علی جناح اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ (چولستان کپ) بہاولپور کے ملحقہ علاقے چک 23 بی سی میں منعقد کروائی گئی جو کہ ہیڈکوارٹرز بہاولپور کور کا کمبیٹ ٹریننگ کا علاقہ بھی ہے۔ اس کمبیٹ ٹریننگ ایریا میں چھوٹے ہتھیاروں کی بہت سی رینجز ہیں۔ جن میں سے رینج نمبر7، 2006 میں سنائپر رینج کی حیثیت میں تیار کی گئی تھی۔ تاہم اس کی زیادہ سے زیادہ ہدف بندی کی صلاحیت 600 میٹر تک تھی ۔ لہٰذا یہ رینج،لانگ رینج شوٹنگ کے لئے درکار ضروریات کو پورا نہیں کرتی تھی ۔
اس وقت کے کمانڈر بہاولپور کور لیفٹیننٹ جنرل سید محمد عدنان کی زیرِ سرپرستی فائرنگ رینج نمبر 7 کو 1500 میٹر تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا گیا جس کا بنیادی مقصد 1000 میٹرسے زیادہ کارگر رینج والے ہتھیاروں کی مشقوں اور مقابلوں کی ٹریننگ کرنا تھا۔ اِس کے ساتھ ساتھ سول ملٹری مشترکہ ''دوسری محمد علی جناح اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ'' کے مقابلوں کا انعقاد بھی کروایا گیا۔تاکہ دورِ جدید کے ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے سویلین نشانہ باز بالعموم اور پاکستان آرمی بالخصوص فائرر اور سنائپر کی ایسی کھیپ تیار کر سکے جو ضرورت کے وقت دشمن کا مؤثر مقابلہ کرکے اُسے پچھاڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔یہ عمل نہ صرف دفاعی صلاحیتوں میں معاون ثابت ہوگا بلکہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر شوٹنگ چیمپئن شپ کی تیاری میں بھی مدد دے سکے گا۔ لہٰذا دورِ حاضر کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، ملکی دفاع میں لانگ رینج شوٹنگ سے روشناس کرانے کے لئے1500 میٹر تک لمبی فائرنگ رینج بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔    
تمام تکنیکی ماہرین کی مدد سے یہ انتہائی اہم منصوبہ محدود وسائل کے ساتھ دسمبر 2019 میں تین ماہ کی قلیل مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ 
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ20عددفائرنگ پوائنٹس کے ساتھ (جس میں 100-600،800 ، 1000 ، 1200 اور 1500میٹر کے فاصلے سے مار کرنے کی) فائرنگ رینج کی تعمیر کی گئی جس کو مستقبل کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چند اضافی تعمیراتی کاموں کے ساتھ 1800 میٹر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
درست حد تک فائر کو یقینی بنانے کے لئے حدود اور ہدف کا جائزہ لیا گیا اور اس فائر نگ رینج پر مکمل جدید کیمروں کی مدد سے ایک ایسا نظام ترتیب دیا گیا جس میں معائنہ کرنے اور تکنیکی اعتبار سے اپنے فائر کو درست کرنے کا مکمل نظام موجود ہے۔



اس سنائپر رینج میں فائررز کی سہولت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیگر سہولیات کے ساتھ 3.8 کلو میٹر طویل اینٹوں کی بنی ہوئی سٹرک (Brick Soling Track) بنائی گئی ہے تاکہ رینج کو استعمال کرنے والے لوگ آسانی سے رینج تک پہنچ سکیں ۔ 
سنائپر رینج پر فائبر آپٹک کے ساتھ 30 x PTZ  کیمروں کا سسٹم لگایا گیا ہے۔جو 600 ، 800 ، 1000 ، 1200 اور 1500 میٹر رینج کی حدود میں30 فائررز کے ہدف کا معائنہ کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ فائررز فائر کرنے کے بعد اپنی غلطی یا درستگی کا مشاہدہ کم وقت میں آسانی کے ساتھ کر سکیں ۔
سنائپر رینج میں ایک ایسا منفرد نظام تعمیر کیا گیا ہے جو کہ حرکتی ہدف کو نشانہ بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتاہے۔اس نظام سے استفادہ حاصل کر کے فائرر اپنے نشانے کو بہتر بنا سکے گا۔
دوسری محمد علی جناح اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ (چولستان کپ) فی الوقت پاکستان کی سب سے بڑی چیمپئن شپ تھی جس میں انتہائی طویل فاصلے(1500) میٹرسے نشانے بازی کے مقابلوں کا انعقاد پہلی بار کیا گیا تھا۔اس چیمپئن شپ میں 8 مختلف اقسام کے 27 میچز منعقد کئے گئے ۔ جن میں 25 میٹر سے 1500 میٹر تک کی رینج سے فائر شامل تھا ۔ جس میں ملکی اور غیر ملکی نشانے بازوں نے حصہ لیا۔ جس میں روس سے آئے ہوئے شوٹر ز بھی شامل تھے ۔مزید برآں دنیا کی معروف سنائپر ویپن بنانے والی کمپنی Lobaev Arms  کے ایگزیکٹو آفیسر اور نمائندگان نے بھی اس میں شرکت کی اور پاکستان کے ساتھ ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے بارے میں خیالات اور دلچسپی کا اظہار کیا ۔
پاکستان میں پہلی دفعہ انتہائی طویل فاصلے پر (Extreme Long Range )  اور Hard Target Indication  کے میچز 1200 میٹر سے 1500 میٹر رینج پر منعقد کرائے گئے۔ ان میچز میں شوٹرز کی مہارت اور موجودہ ہتھیاروں کا کڑا امتحان لیا گیا ان میچز کا انعقاد ملٹری ، سویلین (قومی اور بین الاقوامی)، Amateurs اور Veterans کے لئے کیا گیا۔اس چیمپئن شپ کے ذریعے ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کیا گیا جس سے فوج کے شوٹنگ کے معیار میں بہتری آئی۔مقابلے میں بچوں اور خواتین کو بھی اپنے نشانے بازی کا ہنر دکھانے کا موقع فراہم کیا گیاخاص طور پر بلوچستان سے آئے ہوئے نشانہ بازوں نے انتہائی دلچسپی اور گرم جوشی سے مقابلے میں شرکت کی۔
 یہاں یہ امر بھی قابل ستائش ہے کہ اس چیمپئن شپ نے مقامی سطح پر ہتھیار بنانے والی مقامی انڈسٹری کے مالکان کو عمدہ موقع فراہم کیا کہ وہ ہتھیار سازی کے میدان میں دنیا کی امنگوں اور تقاضوں کے مطابق جدت لا سکیں۔علاوہ ازیں ملکی اور غیر ملکی شوٹرز کو بہاولپور کی نایاب تاریخ، ورثہ ، فن ،تہذیب وتمدن اور صحرائی زندگی کو جاننے کا موقع بھی میسر آیا۔
 اعداد و شمار کے مطابق یہ رینج پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی رینج ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی تعمیر اور عمل درآمد پر انتہائی کٹھن مراحل ، زمینی رکاوٹیں ، موسم کی سختی اور وقت کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مشکلات میں سرِ فہرست تعمیراتی جگہ تک سازوسامان کی مشکل رسائی ،فائرنگ رینج سے متصل آباد علاقے اور بجلی کی ہائی وولٹیج لائن شامل تھے ۔ان مسائل کو نہایت غورو خوض اور دانش مندی کے ساتھ حل کیا گیا ۔
سنائپر رینج کی تعمیر متفرق مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوئی مثلاً پاکستان میں انتہائی لمبی رینج پر شوٹنگ کا عام تعارف ممکن ہو سکا ۔ اس کے علاوہ پاکستانی شوٹر ز کو غیر ملکی شوٹرز کے ساتھ مقابلے کا موقع ملاجس میں پاک فوج ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ، سول آرمڈ فورسز اور سویلین نشانہ بازوں نے ایک دوسرے کے تجربے سے استفادہ کیا۔اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور جوانوں کے مابین شوٹنگ کے کھیل کو بھی فروغ ملا ۔ 
محمد علی جناح اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کی طرز کے ایونٹس کا متواتر انعقاد شکار کے شوقین لوگوں کو ایک مثبت موقع فراہم کرتا ہے جو اپنے شوق کو مثبت انداز میں شوٹنگ رینج پر پورا کرسکتے ہیں ۔ اس طرح سے جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوگی اورشکار صرف جنگلی حیات کی تعداد اور ماحول کے مطابق محدود ہوگا۔اس طرح پاکستان میں جنگلی حیات اور اس کے قدرتی مسکن کا تحفظ بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔ 
مزید برآں اس چیمپئن شپ کے ذریعے مشہور ہتھیاروں اور سازوسامان کے ڈیلر ز تک آسان رسائی بھی ممکن ہو سکے گی جو کہ شوٹنگ کے متعلقہ جدید ہتھیار ، ایمونیشن اور سازوسامان کی نمائش کرنے کے لئے آئے تھے۔ یہ چیمپئن شپ نہ صرف شوٹنگ کے معیار کو بڑھائے گی بلکہ علاقے میں موسم سرما میں سیاحت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گی۔
سر سبز و شاداب پاکستان کے وژن کی روشنی میں فائرنگ رینج پر Afforestation  کا حکم بھی دیا گیا۔ اس مقصد کے تحت مختلف قسم کے لوکل درخت لگانے کا عمل شروع کیا گیا تاکہ ماحول کو خوشگورا بنایا جاسکے اس کام کے لئے نہ صرف دو عدد ٹیوب ویل لگائے گئے بلکہ ایک RO پلانٹ بھی لگایا گیا تاکہ رینج پر میٹھا پانی بھی مہیا کیاجاسکے۔ علاوہ ازیں پودوں کو پانی پہنچانے کے لئے  Drip Irrigation کے نظام کا بندوبست کیا گیا تاکہ پانی کا ضیاع بھی نہ ہو۔ 
 

یہ تحریر 2مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP