متفرقات

بہادری کا استعارہ۔ٹیپوسلطان

ٹیپوسلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ ٹیپو سلطان کی پیدائش کے دن کے حوالے سے کئی تاریخیں بیان کی جاتی ہیں۔ لیکن زیادہ ترجیح 19ذوالحجہ گیارہ سو باسٹھ بمطابق بیس نومبر سترہ سو پچاس کو دی جاتی ہے۔ ان کے والد حیدرعلی نے میسور ‘ حیدرآباد (دکن) کے علاوہ دوردراز علاقوں کے استاد اور جید علماء سے انہیں تعلیم دلوائی۔ اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ عربی‘ فارسی‘ انگریزی‘ فرانسیسی تامل اور اردو پر عبور حاصل تھا۔ 19جون 1767 کو انگریزوں کے خلاف جو پہلی جنگ لڑی تو ٹیپو سلطان کی بہادری دیکھتے ہوئے نظام دکن نے فتح علی کو خان بہادر کا خطاب دیا۔ برصغیر کے حالات ایسے تھے کہ ٹیپو سلطان کی تمام عمر جنگوں ہی میں گزری۔ اپنے والد سے ورثے میں وہ تمام اوصاف پائے جو ایک جرنیل‘ سیاستدان اور بہترین ناظم کے لئے ضروری تھے۔

 

1775سے 1779 تک والد کے ہمراہ اینگلو‘ مرہٹہ جنگوں میں حصہ لیتے رہے۔ کئی مرتبہ انگریزوں کی چالیں ناکام بنا دیں۔ ٹیپوسلطان اپنے والد حیدرعلی کی وفات کے بعد میسور کے حکمران بنے۔انگریز اور مرہٹے ٹیپوسلطان کی مہارت‘ سیاست اور بہادری سے خوف کھاتے تھے۔ ٹیپو سلطان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کو دیکھتے ہوئے فرانس‘ ترکی اور افغانستان سے دفاعی معاہدے کئے۔ 1790 میں لڑی جانے والی جنگ میں برطانوی فوج نے ٹیپو سلطان کی فوجی دفاعی قوت سے خائف ہو کر والیء حیدرآباد دکن نظام دکن اور مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملا کر جنگ لڑی۔ اس جنگ میں جنرل میڈیکوز کو شکست ہوئی تو گورنر جنرل کارنوالس نے دوسرا محاذ سرنگاپٹم میں کھول دیا۔

 

مجبوراً سلطان کو دارالخلافہ بچانے کے لئے صلح کا معاہدہ کرنا پڑا۔ جس میں تین کروڑ بطور تاوان جنگ اور اپنی آدھی ریاست انگریزوں کے حوالے کرنی پڑی۔ صلح کے بعد تباہ شدہ فوجی سازوسامان کی دوبارہ مرمت کروائی اور فوج کو ازسرنو ترتیب دیا اور اپنے ایجاد کردہ ہتھیاروں سے فوج کو منظم کیا تو انگریزوں نے اسے صلح کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے میسور کی چوتھی جنگ کا آغاز کر دیا جو 1798میں لڑی گئی اور بعض روایات کے مطابق یہ جنگ 1799میں لارڈ ولزلی کے حکم پر لڑی گئی۔ اس جنگ میں بھی انگریزوں نے لالچ دے کر نظام دکن اور مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ اتحادی افواج نے قلعے کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ 4مئی 1799بمطابق 29ذوالحجہ 1213کو جب شیر میسور دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا تو اسے اطلاع ملی کہ اس کے اعلیٰ افسران میر صادق علی اور میر غلام علی نے غداری کی ہے۔ تاریخ میں عموماً غلام علی کا نام نہیں آتا۔ میر صادق کا نام زیادہ مشہور ہے۔

 

وجہ یہ کہ وہ ٹیپو سلطان کا قریبی رشتے دار تھا۔ سلطان نے کھانا چھوڑ دیا‘ تلوار ہاتھ میں اٹھائی اور کہا۔ ہم بھی آ رہے ہیں۔ کسی نے جنگ سے فرار اختیار کرنے اور شکست تسلیم کرنے کو کہا۔ حالات ایسے تھے کہ ٹیپو سلطان کو

علم ہو چکا تھا کہ قلعے میں اتحادی افواج آ چکی ہیں۔ اب فتح کا کوئی امکان نہیں رہا۔ تبھی انہوں نے وہ جملہ کہا جو تاریخ میں رقم ہو گیا اور اردو زبان کا ایک محاروہ بن گیا۔ جب بھی بہادری کی مثال دی جاتی ہے تو وہی جملہ دہرایا جاتا ہے۔ یعنی ’’گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔‘‘ٹیپوسلطان نے قیدی بننے کی بجائے آزادی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔ 4مئی 1799 کا وہ دن ہے کہ اس کے بعد تمام ہندوستان پر قبضہ کرنے میں انگریزوں کو کوئی دشواری نہ ہوئی کہ ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ٹیپوسلطان جام شہادت نوش کر چکا تھا۔ جب لارڈ ولزلی نے ٹیپو سلطان کی شہادت کی خبر سنی تو بے اختیار پکار اٹھا۔ ’’اب ہندوستان ہمارا ہے۔‘‘

یہ تحریر 28مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP