ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ

بھارت کی پاکستان مخالف مہم -----قومی بیانیہ کی تشکیل

بھارت پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے ۔ سیاسی ، جمہوری او رمعاشی اعتبار سے بھی اس خطے میں اس کی بڑی حیثیت ہے ۔عمومی طور پر اس خطے میں ایک بڑا ملک ہونے کے ناتے خطے کے امن ، خوشحالی اور دوستانہ تعلقات کو یقینی بنانے کے لئے اس پر باقی ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔لیکن اس وقت بھارت کی سیاست میں پاکستان کے تناظر میں بہت زیادہ جارحانہ اور مخالفت کی سیاست کو غلبہ حاصل ہے ۔ نریندر مودی کی حکومت اس وقت نہ صرف سیکولر سیاست کے مقابلے میں ہندوتوا پر مبنی سیاست کو فروغ دے رہی ہے بلکہ اس کی انتہا پسندانہ سیاست سے پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو خطرات لاحق ہیں ۔



بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہے کہ کیا بھارت پاکستان کو ایک مستحکم پاکستان کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے یا اس کا ایجنڈا ایک غیر مستحکم پاکستان ہے جو اس کی اس وقت بڑی ترجیح کا حصہ ہے ۔کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی طرف سے تواتر بھارت کو دوستانہ تعلقات کو قائم کرنے کی پیش کش اور مذاکرات کی بحالی کی جو بھی دعوت دی گئی اسے یکسر مسترد کردیا گیا ۔وزیر اعظم عمران خان جو بنیادی طور پر خطے کی سیاست میں جنگی جنون اور نفرت یا انتہا پسندی سمیت تنازعات کا خاتمہ چاہتے ہیں ان کی بھی ہر پیش کش کو بھارت یا مودی حکومت نے مسترد کردیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مودی حکومت کو پیغام دیا تھا کہ اگر وہ دوستی کی جانب ایک قدم آگے بڑھائیں گے تو ہم اس میں دو قدم آگے بڑھیں گے۔وزیر اعظم عمران خان کے بقول دونوں ملکوں کو تنازعات کے خاتمے اور ترقی وخوشحالی کو یقینی بنانے کے لئے ایک بڑا سماجی ، سیاسی ، معاشی چارٹردرکار ہے ،جو ہماری ترجیح ہونی چاہئے۔
لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کی طرف سے مذاکرات اور بہتر تعلقات کے قیام کو اس کی داخلی کمز وری سمجھا ہوا ہے اور بھارت کو لگتا ہے کہ تعلقات کی بہتری بھارت سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے ۔اس میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ مودی حکومت یا اس انتہا پسندی پر مبنی ریاست پاکستان کو اپنا ددست کم اور دشمن زیادہ سمجھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کی داخلی او رخارجی پالیسی میں بنیادی نکتہ پاکستان کو کمزور رکھنا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں بھارت کی پالیسی ، فیصلہ سازی ، حکمت عملی سمیت سفارت کاری اور ڈپلومیسی میں کھل کر پاکستان دشمنی کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے ۔ بھارت اپنے داخلی اور خارجی تھنک ٹینک ، سابق سفارت کاروں ، ڈپلومیٹ ، میڈیا اور بالخصوص سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کے محاذ پر پاکستان مخالفت کی سیاست میں بہت زیادہ سرگرم اور فعال نظر آتا ہے ۔
اگرچہ پاکستان نے سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر ہمیشہ کی طرح پاکستان مخالف سرگرمیوں کو دنیا میں نہ صرف اجاگر کیا بلکہ بہت سے اہم شواہد بھی دنیا اور اداروں کے سامنے رکھے ،لیکن ہمیں بھارت کے مقابلے میں کوئی بڑی شنوائی نہیں ہوسکی ۔اس کی دیگر وجوہات میں ایک بڑی وجہ خود پاکستان میں سول ملٹری بیانیہ میں فرق تھا جو ہماری کمزوری کا پہلو بنتا تھا اور اسے بھارت ایک بڑے ہتھیار کے طو رپر اپنے حق میں استعمال کرتا تھا ۔لیکن اس بار لگتا ہے کہ بھارت مخالف بیانیہ پر ہماری سیاسی و عسکری قیادت میں کافی ہم آہنگی ، اتفاق رائے اور قومی معاملات کو سمجھنے میں کافی فہم ، تدبر اور فراست نظر آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پچھلے دو برسوں میں پاکستان کی سیاسی ،سفارتی یا ڈپلومیسی پر مبنی حکمت عملی کی وجہ سے بھارت پر عالمی دبا ؤ بڑھا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے جس انداز سے بھارت کی داخلی سیاست اور پاکستان سمیت مقبوضہ کشمیر پردو ٹوک اورذمہ دارانہ پالیسی اختیار کی ہے اسے دنیا میں پذیرائی اوربھارت کو پسپائی کا سامنا ہے۔اس کا اعتراف ہم کو بھارت کے مجموعی میڈیا اور سیاسی محاذ پر نظر آتا ہے جو خود اعتراف کررہے ہیں کہ مودی کی پالیسی کے مقابلے میں پاکستان کی پالیسی کو کسی نہ کسی شکل میں عالمی دنیا یا اداروں میں اہمیت دی جارہی ہے ۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے نومبر میں جو بھارت کے جارحانہ او رانتہا پسندی پر مبنی عزائم کا پردہ چاک کیا وہ واقعی بڑا خوفناک ہے ۔یہ انکشافات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے نشانے پر ہے ۔ بھارت کی شارٹ ٹرم ،مڈٹرم اور لانگ ٹرم پالیسی کا بنیادی نکتہ پاکستان مخالفت کی بنیاد پر قائم ہے ۔بھارت اس مخالفت کو بنیاد بنا کر پاکستان میں ایسے گروہ کو  سیاسی ، مالی اور انتظامی مدد یا تربیت فراہم کرتا ہے جو داخلی محاذ پر پاکستان میں انتشار ، نفرت ، تعصب کی سیاست کو پھیلاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے جن تنظیموں پر دہشت گردی کی بنیاد پر پابندی عائد کی ہے بھارت ان کی مددمیں سرگرم نظر آتا ہے ۔پاکستان نے ان تمام کارروائیوں کی تمام تر تفصیلات بمعہ شواہد Dossierکی شکل میں اقوام متحدہ سمیت عالمی دنیا کو پیش کئے ہیں کہ کس طرح سے بھارت ان کالعدم تنظیموں کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔خاص طور پر ایک انکشاف اہمیت رکھتا ہے کہ بھارت پاکستان میں '' داعش پاکستان '' کے نام سے ایک دہشت گرد تنظیم بھی قائم کررہا ہے ۔ 
پاکستان نے عالمی طاقتوں کو باور کرایا ہے کہ بھارت آنے والے دنوں میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں زیادہ تیزی یا شدت پیدا کرنا چاہتا ہے۔ بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا اس کا اہم ٹارگٹ ہیں ۔ پاکستان حالیہ چند برسوں میں جس جرأت کے ساتھ دہشت گردی یا انتہا پسندی سے نہ صر ف نمٹا ہے بلکہ بڑی کامیابی بھی حاصل کی ہے اس کا اعتراف دنیا میں بھی کیا جارہا ہے۔ یہی بات بھارت کو کسی بھی شکل میں قبول نہیں ۔ اول وہ پاکستان کو دنیا میں ایک دہشت گرد اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والا ملک ثابت کرنا چاہتا ہے ۔ دوم اس کے بقول پاکستان کی ریاست خود دہشت گردی میں ملوث ہے اور بھار ت میں تشدد یا دہشت گردی اس کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے ۔سوم وہ پاکستان کے داخلی سیاسی انتشار کو بنیاد بنا کر اسے اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور بدقسمتی سے کچھ عناصر اس کھیل میں بھارت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ چہارم وہ افغان امن پراسیس کو ناکام بنانا چاہتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے موجود ہ افغان امن کا بڑا فائدہ پاکستان کو ہوگا ۔ پنجم وہ ہمیں ایف اے ٹی ایف کی بنیاد پر بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے اور دنیا کو یہ باور کرواتا ہے کہ پاکستان دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ ششم  سی پیک کو ناکام بنانا او رپاکستان کے لئے اس تناظر میں مشکلات پیدا کرنا بھی اس کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔بھارت نے یہ بھی کوشش کی کہ کسی طریقے سے پاکستان او رچین تعلقات میں خرابیاں پیدا ہوں تاکہ سی پیک کا منصوبہ خراب ہو۔
حالیہ دنوں میں بھارت کی پاکستان دشمنی کی ایک او رجھلک یورپی ادارے ''ای یو ڈس انفولیب '' (EU DisinfoLab)کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے ۔ اس تنظیم کے عہدے دار گیری مچاڈونے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ یہ آپریشن بھارتی سٹیک ہولڈرزچلارہے ہیں۔ ادارے نے پاکستا ن مخالف جعلی نیوز نیٹ ورک کے حوالے سے '' بھارتی خفیہ ایجنسی را'' کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے ۔ اس ادارے کے مطابق ایک مردہ پروفیسر، کئی غیر فعال تنظیموں او ر750جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس (Media Outlets) کو پندرہ برس سے جاری وسیع عالمی ڈس انفارمیشن منصوبے ، بھارتی مفادات کو فائدہ پہنچانے اور پاکستان مخالف بیانیہ کو فعال کرنے کا کام کررہاہے ۔گیری مچاڈو کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھارت کے حوالے سے بھی اپنا سخت ردعمل دے اور بھارت کی مخالفانہ مہم پرجو بنیادی نوعیت کے سوالات ہیں۔ ان پر اس سے باز پُرس ہونی چاہئے۔ای یو ڈس انفولیب کے ایگزیکٹو سربراہ Alexandre Alaphilippe کے بقول انہوں نے ڈس انفارمیشن پھیلانے کی غرض سے مختلف سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کسی نیٹ ورک میں اتنی ہم آہنگی نہیں دیکھی ۔ ان کے بقول بھارتی سرکاری نیوز ایجنسی پاکستان مخالف خبروں کو معتبر ظاہر کرکے آگے پھیلاتی ہے تاکہ دنیا میں ہماری حیثیت اور ساکھ پر سوالات اٹھائے جاسکیں ۔ اس کام میں " "EU- Chronicle ویب سائٹ پر بہت سے کالم ، یورپی قانون سازوں ، صحافیوں کے ناموں سے غلط طور پر منسوب کئے جاتے ہیں ۔اسی طرح چین کے خلاف بھی منفی مہم یا مواد کی تشہیرکے پیچھے بھارتی ادارہ '' سری واستو'' ہے ۔ اس مواد کوپھر  4 News Channel, Big News Network, ANI   اور دیگر تشہیری ادارے دوبارہ شائع کرتے ہیں۔اس کا مقصد یورپی یونین میں پاکستان مخالف مہم کو آگے بڑھانا ہے ۔
جبکہ بھارت کی اپنی انسانی حقوق کی داخلی صورتحال او ربالخصوص مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا سلوک خود عالمی دنیا میں شدید تنقید کی زد میں ہے ۔حال ہی میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل ، مسلم انڈین امریکن کونسل، او رانسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کی جانب سے '' کیا ہندوستان فاشسٹ ملک بن رہا ہے؟ '' کے موضوع پر بین الاقوامی ورچوئیل سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ اس سیمینار میں ان چودہ نکات پر غور ہوا جو فاشسٹ ملک کی عکاسی کرتے ہیں ۔ اس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بقول صرف ایک برس میں مقبوضہ کشمیر میں 270بے گناہ قتل، دو ہزار سے زائد بارایل او سی کی خلاف ورزی کرکے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بی جے پی کے عسکری ونگ RSSکو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے وہ مقبوضہ کشمیر میں مقامی اور مسلم آبادی کو نشانہ بنائیں ۔اس سیمینار میں سب کا مؤقف تھا کہ بھارت بڑی تیزی سے انتہا پسندی ، دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی کامرتکب ہورہا ہے جو خود بھارت میں مقیم مسلم آبادی کو غیر محفوظ رکھتا ہے ۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ ہم ففتھ جنریشن وار کے عمل سے گزرہے ہیں جہاں ہمارا دشمن ڈیجیٹل میڈیا یا میڈیا کے مجموعی محاذ کو بنیاد بنا کر ہمیں داخلی او رخارجی دونوں محاذوں پر کمزور بھی کرنا چاہتا ہے اور تقسیم بھی ۔ وہ معاشرے میں ایک ایسی سیاسی ، سماجی ، مذہبی، فرقہ وارانہ او رلسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کررہا ہے جو ہمیں کمزور کرے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں اس ففتھ جنریشن وار کے تناظرمیں جس مضبوط حکمت عملی کے ساتھ نمٹنا چاہئے اس میں بہت سی کمزوریاں ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کی اس میڈیا اور جھوٹ پر مبنی وار کا مقابلہ کیسے کیا جائے ۔ 
اس سے نمٹنے کے لئے ہمیں پانچ بنیادی نوعیت کے محاذوںپر کام کرنا ہوگا۔ اول ہمیں اپنے داخلی سیاسی مسائل کو کم کرکے قومی معاملات پر ایک بڑے سیاسی اتفاق رائے کو پیدا کرنا ہوگا ۔ کیونکہ عدم سیاسی استحکام کی بنیا دپر ہم اس جنگ کا مقابلہ نہیں کرسکے جو ہم پر بھارت نے مسلط کر رکھی ہے ۔ دوم ہمیں بھارت کی پاکستان مخالف مہم کے حوالے سے پہلے اپنا قومی بیانیہ ترتیب دینا ہوگاجس پر بڑا اتفاق رائے ہو او راس کو بنیاد بنا کر ہمیں سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ایک سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا۔ لیکن اس کے لئے ہمیں پہلے اپنے سفارت خانوں اور سفارت کار کی سطح پر بھی کچھ کرکے ان کو فعال کرنا ہوگا۔ سوم ہمیں اپنے پرانے سفارت کاروں ، پارلیمنٹرین ،فوج کے ریٹائرڈ  سربراہان، عالمی سطح کی صلاحیت رکھنے والے دانشوروں یا رائے عامہ تشکیل دینے والوں کواس محاذ پر بھرپور طریقے سے استعما ل کرنا ہوگا۔چہارم میڈیاپر، جس میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے، علمی و فکری محاذ پر اپنے بیانیہ کو بنیاد بنا کر بھارت کی پاکستان مخالف مہم کا بھرپور جواب دینا ہوگا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہم جنگ نہیں تعلقات کی بہتری چاہتے ہیں ،مگر بھارت کے عزائم جنگ کے ہیں۔ اس میں نوجوان نسل کو قومی سفیر کے طور پر لینا ہوگا۔اسی طرح اہل دانش کی سطح پر جذباتیت کے بجائے علمی وفکری بنیاد پر ایسی تحقیق اور مواد سامنے لایا جائے جو انڈیا کی پاکستان مخالف مہم کا بھرپور جواب دے سکے ۔پنجم ہمیں بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے جہاں دنیا کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا وہیں ہمیں علاقائی سطح پر تمام ممالک کو اپنے قریب کرنا ہوگاتاکہ ہم بھارت پر بڑا دباؤ ڈال سکیں ۔
بہرحال یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان بھارت کے نشانے پرہے۔ اس لئے ہمیں اپنی داخلی ، خارجی او ربالخصوص علاقائی سیاست کے تناظر میں زیادہ چوکنا ہونا پڑے گا۔ کیونکہ بھارت کی جنونی اور ہندوتوا پر مبنی پالیسی بدقسمتی سے صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر پورے خطے کی سیاست کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چُکی ہے او راس کے لئے خطے کے تمام ممالک کو مل بیٹھ کر بھارت کے جنگی جنون کا بہتر سیاسی حکمت عملی سے مقابلہ کرنا ہوگا،تاکہ خطے کی سیاست میں استحکام پیدا ہوسکے ۔


مضمون نگارمعروف تجزیہ کار ہیں او رکئی کتابو ں کے مصنف ہیں ۔ جمہوریت، مقامی حکومتیں ، دہشت گردی اور گورننس کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اورکئی اہم تھنک ٹینکس کے رکن ہیں ۔[email protected]

یہ تحریر 3مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP