قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت کی تاریخی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آر ایس ایس کے نشانے پر 

کسی بھی ملک میں رہنے والی اقلیتوں کی ذہنی حالت کیا ہوتی ہے، یہ وہی بہتر جانتی ہیں ۔آزاد ی میں رہ کر اپنے ملک پر تنقید کرنے والے محکوم اقوام کی ذہنی کیفیت کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ یہی حالت بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی ہے جنھیں کبھی لو جہاد، گئو رکھشا، بہو لائو بیٹی بچائو، مذہبی مقامات کی مسماری ، بدترین امتیازی سلوک سمیت ہر وقت لاتعداد مصائب کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ہندوستان 15 اگست 1947 کووجود میں آیا تو دنیا بھر کے انسان دوست حلقوں کو توقع تھی کہ یہ ملک شاید آگے چل کر محکوم قوموں کے علم بردار کے طور پر کام کرے گا کیونکہ ہندو قوم لگ بھگ 1200 سال تک بڑی حد تک محکوم رہی ہے اس وجہ سے اس کے بالا دست طبقات کو بخوبی احساس ہو گا کہ غلام قو میں کس حد تک ذہنی ابتری کا شکار ہوتی ہیں مگر بھارتی حکمرانوں نے آزادی کے بعد اپنی روش سے ثابت کر دیا کہ ان کی بابت ابتداء میں جن خوش گمانیوں کا اظہار کیا گیا وہ سراسر خوش فہمیاں ہیں ۔ تبھی تو دہلی کے حکمران سوچے سمجھے ڈھنگ سے اپنی اقلیتوں کے خلا ف ریاستی دہشتگردی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ محض سفارتی ،سیاسی یا مذہبی محاذ  پر ہی نہیں چل رہا بلکہ زندگی کا کوئی شعبہ اس منفی روش سے محفوظ نہیں۔ تبھی تو  بھارتی ریاست اترپردیش میں اگلے سال کے اوائل میں صوبائی انتخابات کے باعث بھارتی سیاسی درجہ حرارت میں حد درجہ اضافہ ہو چکا ہے۔ بابری مسجد کی مسماری اور رام مندر کی تعمیر کی صورت میں بی جے پی کے ہاتھ ایک اہم انتخابی مُہم موجود ہے۔ اب انتہا پسند ہندوئوں نے اپنی ساری توانائیاں علی گڑھ میں قائم سر سید احمد خان کی یاد دلائی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کوہدف بنانے میں صرف کر رکھی ہیں۔ 11 اگست کو راجستھان میں بھارتی فوج میں ملازمت کی غرض سے اپلائی کرنے کے لئے جانے والے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل بیس سالہ مرسلین کو یہ کہہ کر ریجیکٹ کر دیا گیا کہ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ڈگری ہے۔ بھارتی فوج اس کی ڈگریاں قبول نہیں کرتی کیونکہ یہ آرمی کے سلیکشن بورڈ کے پینل پر موجود نہیں۔ بھارت کی معتبر ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک کو محض اس وجہ سے ہدف بنانا کہ وہ ''مسلم تشخص''رکھتی ہے، یقینا انتہائی افسوسناک امر ہے۔ 
مودی سرکار اپنی مسلم دشمنی کے سلسلے کو آگے بڑھاتے مسلمانوں کے ناموں سے منسوب علاقوں، محکموں اور شہروں کے نام بدلنے کا کام بھی زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب اترپردیش حکومت نے آگرہ میں زیر تعمیر 'مغل میوزیم' کا نام بدل کر '' شیوا جی'' میوزیم کر دیا ہے۔ تبدیلی کا حکم نامہ جاری کرتے صوبے کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے کہا کہ '' مغل ہمارے ہیرو نہیں ہو سکتے اور ہم اترپردیش میں ہماری غلامی کی کسی یادگار کو نہیں رہنے دیں گے''۔ اس سے پہلے یوگی سرکار الٰہ آ باد کو پریاگ راج، فیض آباد کواجودھیا، مغل سرائے جنکشن کو پنڈت دین دیال اپادھیا جنکشن کر چکی ہے۔ یو پی کے مشہور علاقے ''میاں گنج''کا نام بدل کر ''مایا گنج '' اور ''علی گڑھ'' کو ''ہری گڑھ'' بنانے کی تیاری بھی آخری مراحل میں ہے۔ 
شہروں کے ناموں سے جی نہیں بھرا تو آر ایس ایس نے محلّوں تک کے نام بدلنے کا کام شروع کر دیا ۔ گورکھپور کے علی نگر کو آریہ نگر، اردو بازار کو ہندی بازار، ہمایوں نگر کو ہنومان نگر، مینا بازار کو مایا بازار بنا دیا گیا ۔ مسلمانوں کی حکمرانوں کو '' غلامی'' کے دور سے منسوب کرنے والا جنونی ہندو ٹولہ '' انگریزوں'' کی ہندوستان میں حکمرانی پر کوئی اعتراض نہیں اٹھاتا۔ انگریزوں کے ناموں سے منسوب تمام علاقوں کے نام جوں کے توں رہنے دیئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر دہلی کے حکمرانوں کی لکھنئو کے کنگ جارج میڈیکل کالج، کلکتہ کی رائٹرس بلڈنگ، راشٹرپتی بھون دہلی، فورٹ ولیم کلکتہ، وکٹوریہ میموریل کلکتہ، کونسل ہائوس لکھنئو، مے یو میموریل ہال  الٰہ آ باد، گیٹ وے آف انڈیا ممبئی، انڈیا گیٹ دہلی، سینٹ میری چرچ چنئی جیسے مقامات کا نام تبدیل کرنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود آر ایس ایس اور بی جے پی کے حکمران علی الاعلان کہتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کی کسی نشانی کو باقی نہیں رہنے دیا جائے گا کیونکہ یہ ہمیں ہماری غلامی کی یاد دلاتی ہیں۔ 
آر ایس ایس کی مسلم دشمنی کا تذکرہ کرتے اگر اترپردیش میں تاریخی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ہی بات کی جائے تو جامعہ کے قیام کے سو سال پورے ہونے پر جاری ہونیوالے خصوصی گزٹ میں سرسید احمد خان سے زیادہ نریندر مودی کی تصاویر شائع کی گئیں۔ اس کے علاوہ خصوصی گزٹ میں اردو زبان کے سیکشن کا تذکرہ ہی نہیں کیا گیا۔ اس پر یونیورسٹی کے طلبا و طالبات میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور طلبا رہنمائوں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کی اجازت ہی نہیں دی جانی چاہیے تھی کیونکہ وہ یہ سب ڈھونگ عالمی سطح پر تیزی سے گرتی اپنی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے کر رہے ہیں جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام بدلنا اور اس کے نصاب میں تبدیلی بی جے پی کے منشور میں اب بھی سر فہرست ایجنڈے ہیں۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں ہندی اخبارنو بھارت ٹائمز(Navbharat Times) نے اپنے اداریے میں لکھا کہ بھارتی طالب علموں میں محمد علی جناح، علامہ اقبال اور مرزا غالب کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ رام راجیے کا خواب دیکھنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے، ایک طرف مودی سرکار اردو زبان اور مسلم ہیروز کے ذکر کوبھارتی نصاب سے ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری جانب بھارتی طالب علم ان شخصیات کے اتنا ہی گرویدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ 


یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ کرونا کی تیسری لہر کے دوران محض مئی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 21 فیکلٹی ممبران وائرس کے باعث انتقال کر گئے ۔ اس مہینے میں یونیورسٹی کے 75 افراد کی اموات ہوئیں جن میں سابق اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے افراد شامل تھے ۔جامعہ اور اس کے کیمپس کے اطراف میں رہنے والوں کی اتنی بڑی تعداد میں اموات پر کئی طرح کے شبہات ظاہر کیے گئے ۔


یاد رہے کہ اس سے قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جنرل کونسل کے زیر اہتمام اقبال ڈے پر بھی خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں طالب علم رہنمائوں نے کہا کہ وقت ثابت کر رہا ہے کہ علامہ اقبال اور قائداعظم کا فیصلہ دور اندیشی پر مبنی تھا اور مسلمان اور ہندو ایک جگہ زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ یونین کے صدر محمد سلمان امتیاز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت (مودی سرکار)کی جانب سے لگاتار کوششیں کی جا رہی ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر قبضہ جمایا جائے اور اسے اپنے دائرہ کار کے اندر لایا جائے، علی گڑھ یونیورسٹی مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی چاہے وہ ہاتھرس سانحہ ہو یا بلب گڑھ کی خونریزی۔ بھارتی حکمرانوں کی اقلیت اور دلت دشمنی کا تذکرہ کرتے یہاں ہاتھرس سانحہ کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا۔ ستمبر 2020 میں علی گڑھ کے نواحی قصبے ہاتھرس میں دلت لڑکی کیساتھ درندگی اور اسے ہندو مذہبی روایات کے برخلاف راتوں رات پٹرول چھڑک کر جلانے کے خلاف پورے بھارت میں شدید احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے ۔ نامعلوم افراد نے ایک دلت لڑکی کی آبرو ریزی کے بعد اس کی زبان کاٹ دی تھی، سخت اذیت میں چند روز زیر علاج رہنے کے بعد وہ بدنصیب 30 ستمبر کو زندگی کی بازی ہار گئی تھی۔ یہی نہیں دہلی پولیس نے ہندو رسوم و روایات کے برخلاف رات 2 بجے اس لڑکی کی لاش کو پٹرول چھڑک کر جلا دیا تھا، حتی کے اس کے والدین کو بھی اس کا چہرہ نہیں دیکھنے دیا گیا۔ اس پر عالمی اور بھارت کے طول و عرض میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے طوفان کھڑا کر دیا اور کئی علاقوں میں متشدد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، ہندو حلقے بھی یہ وضاحت مانگ رہے تھے کہ ہندو دھرم میں لاش کو مغرب اور طلوعِ آفتاب کے درمیانی وقفے میں جلانے کی اجازت نہیں تو اسے رات 2 بجے کیوں نذر آتش کیا گیا، اس کے علاوہ لاش کو جلانے کیلئے بھی لکڑیوں کی چتا استعمال ہوتی ہے اور پیٹرول یا مٹی کا تیل چھڑکنے کو سخت گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
بہر حال بات ہو رہی تھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف بھارتی حکمرانوں کی ریشہ دوانیوں کی۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ کرونا کی تیسری لہر کے دوران محض مئی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 21 فیکلٹی ممبران وائرس کے باعث انتقال کر گئے ۔ اس مہینے میں یونیورسٹی کے 75 افراد کی اموات ہوئیں جن میں سابق اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے افراد شامل تھے ۔جامعہ اور اس کے کیمپس کے اطراف میں رہنے والوں کی اتنی بڑی تعداد میں اموات پر کئی طرح کے شبہات ظاہر کیے گئے ۔
علاوہ ازیں مئی 2000 سے مارچ 2002 تک یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہنے والے بھارت کے سابق نائب صدرحامد انصاری بھی وقتاً فوقتاً آر ایس ایس اور بی جے پی کی مسلم دشمنی کا بھانڈا پھوڑتے رہتے ہیں۔ ان کی تازہ ترین کتاب بائی مینی اے ہیپی ایکسیڈنٹ(By Many a Happy Accident) میں بھی ایسے متعدد واقعات کا تذکرہ کیا گیا جو ابھی تک انڈین میڈیا میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے کچھ ماہ قبل آر ایس ایس کے فنڈڈ ٹی وی چینل زی نیوز کو انٹرویو دیا تھا جس میں انھوں نے انتہا پسند اینکر امن چوپڑا کی خوب خبر لی۔ انھوں نے دورانِ انٹرویو کہا کہ بھارت میں سیکولر ازم کا لفظ بھی تمام سرکاری معاملات سے محو ہو چکا ہے، یہ سیکولرازم کہیں نظر نہیں آتا۔ جسٹس راجندر ناتھ سچر کی رپورٹ نے بھارت میں سیکولرز ازم کی حقیقت آشکار کر دی تھی اور بھارتی مسلمانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے اور جلد یہ بھارت کے لئے مشکلات پیدا کر دے گا۔ انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ صوبہ اترپردیش میں لو جہاد، تین طلاق اور کبھی کچھ اور بہانہ بنا کر مسلمانوں کو جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے۔ حامد انصاری نے کہا کہ آئے دن کی سر عام موب  لنچنگ (Mob lynching)سے مسلمان خوفزدہ ہیں، انھیں سمجھ نہیں آتی وہ کہاں جائیں۔ حامد انصاری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے گجرات فسادات کے بارے میں جب مودی سے پوچھا تو انہیں یہ بات پسند نہیں آئی اور انھوں نے کہا کہ میں نے ایک اچھے کام کی ابتدا کی جو کسی کو نظر نہیں آتاکہ لوک سبھا میں اکثریت نے مودی کو جواز فراہم کیا کہ وہ قانون سازی کی راہ میں رکاوٹوں پر کسی بھی طرح قابو پائیں۔ ||


مضمون نگار ایک اخبار کے ساتھ بطورِ کالم نویس منسلک ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 70مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP