یوم یکجہتی کشمیر

بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ اور کشمیر

 بھارت نے لائن آف کنٹرول کی سول آبادی پر بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ کاسلسلہ شروع کررکھا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران وادی نیلم،تتہ پانی،درہ شیرخان،سہڑہ،نکیال، عباس پور،کھوئی رٹہ،ہجیرہ، لیپا ودیگر علاقوں میں بھارتی فوج نے کم ازکم 7افراد کو شہید جبکہ 24کوزخمی کیا۔ اسی پر بس نہیں بھارت نے اب کنٹرول لائن کے حالات جاننے کے لئے جانے والے اقوام متحدہ کے مبصرین پر بھی گولہ باری شروع کردی ہے۔ عباس پور سیکٹر میں اقوام متحدہ کے مبصرین کی گاڑی کو بھارتی افواج نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ خوش قسمتی سے تمام سوار مبصرین کی جانیں بچ گئیں جنہیں پاک فوج نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ گاڑی پر لگنے والی بھارتی فوج کی گولیاں چیخ چیخ کر اقوام عالم کی بے حسی پر ماتم کناں ہیں کہ مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر اقوام عالم خاموش تماشائی تو بنی ہوئی ہے مگر کم ازکم اقوام متحدہ کے مبصرین پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت سے کوئی بازپرس تو کرے مگر بھارت کے ساتھ امریکا ،اسرائیل کے گٹھ جوڑ نے اقوام متحدہ کو بھی ایک بھیگی بلی بنا کر رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر کے ''یورپی یونین ڈس انفولیب''کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائے جس کے مطابق ہندوستان پاکستان کے خلاف ایک منظم ہائیبرڈ وار میں ملوث ہے جس کا مقصد پاکستان کے تشخص کو متاثر کرنا ہے اور اس کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر کشمیر میں ہونے والے مظالم پرپردہ ڈال کر ہندوستان اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارت کے اس نیٹ ورک نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے منسلک لگ بھگ10جعلی این جی اوز کو بھی اپنے ساتھ ملا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے وہ اثر انداز ہورہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق انڈین کرونیکلز کے نام سے جو چیزیں سامنے آئی ہیں اس پر رپورٹ شائع ہوچکی ہے کہ ہندوستان 15سالوں سے آن لائن اور آف لائن پاکستان کے تشخص کو متاثر اور اپنی برائیوں اور تمام جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے بین الاقوامی فورم استعمال کرہا ہے۔یہ جعلی حکمت عملی بھارت اپنے سٹریٹجک مفادات کو محفوظ بنانے کے لئے اختیار کئے ہوئے ہے اور اس کا نیٹ ورک دو یاچار ممالک تک نہیں 116ملکوں تک پھیلا ہوا ہے ۔جعلی نیوز ویب سائٹس ترتیب دے کر ان کااستعمال کیاگیا اور ایسی ساڑھے سات سو جعلی نیوز ویب سائٹس کی نشاندہی ہوچکی ہے جو ہندوستان استعمال کرتاآ رہا ہے۔ بھارت نے اس مکروہ مقصدکے لئے جعلی مظاہرے کئے اور اس کی بنیاد پر دنیا کو بتاتا رہا کہ دیکھیں برسلز ،برطانیہ،امریکا میں کیا ہورہا ہے اور یہ سب ڈرامہ بھارت کے پیسوں سے چلتا رہا۔ پاکستان نے کئی بار ان ڈراموں کو ہندوستانی ایجنسی ''را''کی کارستانی قرار دیا مگر دنیا نے اس وقت توجہ نہیں دی تھی ۔بھارت نے دنیا کے بڑے ممالک کے ریاستی اداروں کو بھی ملوث کیا ۔یورپی یونین میں غیر رسمی پارلیمانی گروپس ترتیب دیئے تھے جس میں ایشیا پیس فورم،فرینڈز آف گلگت بلتستان وغیرہ شامل تھے پھر گلگت بلتستان الیکشن کے دوران وہاں قومیت،مسلک اور فرقے کو ہوا دینے کی کوشش کی اور اللہ نے وہاں بھی بھارت کو ناکامی دی۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں بھارت کے فنڈز سے ہوتی رہیں۔ فرینڈز آف بلوچستان ایک جعلی آرگنائزیشن بنا کر بڑا گروپ تشکیل دیا جو پاکستان سے باہر بیٹھ کر سارا نظام چلاتارہا۔ اس میں ہمسایہ ممالک کو بھی شامل کیاگیاتھا۔ ان سب حالات کے باوجود ہندوستان اپنے آپ کو دنیا کے سامنے ایک مہذب اور ذمہ دار ملک قرار دینے کے لئے جتن کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان دنیا کا سب سے غیر ذمہ دار ،غیر مہذب اور بدکردار ملک ہے جس نے اپنے ملک میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف جو کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اس سے خود ہندوستان کے شہری بھی ناخوش ہیں۔ اونچی ذات کے محض چند کروڑ لوگوں کو پورے ہندوستان پر مسلط کردیا گیاہے اور بقیہ 50سے 60کروڑ ہندواورسکھ عوام کے ساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک کیاجارہا ہے۔ خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتیاں،اساتذہ ،تاجروں،وکلائ، علمائ، صحافیوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں پر بھارت نے زمین تنگ کررکھی ہے۔ اب 5لاکھ کسان بھی ظالمانہ قوانین اورٹیکسز کے نفاذ کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ نریندر مودی استعفیٰ دے اور عوام کی جان چھوڑے ۔ اتنا بڑا زرعی ملک آج بنجر ہونے جارہا ہے وجہ یہی ہے کہ مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور اقدامات سے اب ہندوستان کا کسان اور ہاری بھی تنگ آچکا ہے۔ دنیا میں بھارت یہ تاثر دے رہا ہے کہ اس کے خلاف پاکستان سے بڑی سازشیں ہورہی ہیں اب تو وہ ترکی اور افغان طالبا ن پر بھی الزامات لگا رہا ہے کہ ترکی کے مسلح جنگجو شام سے فارغ ہونے کے بعد کشمیر کارخ کریںگے اور کشمیریوں کی مدد کریںگے ۔یہ بھونڈا الزام لگانے کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ ترکی نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی کھل کرحمایت کی اور بھارت کو گھاس نہیں ڈالی۔ اس کے بعد ملائیشیانے کھل کرکشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد کی ہے بھارت نے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی تو ملائیشین حکومت نے فوراً ہاں کردی ۔اس کے بعدبھارت کو وہاں سے بھی شرمندگی اٹھانا پڑی  جبکہ کسانوں کے مسئلے پر کینیڈا کے وزیراعظم نے بھارت کو  آڑے ہاتھوں لیا تو بھارت نے اسے ہندوستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم کو مداخلت نہ کرنے کا بیان داغ دیا۔اب دنیا بھر سے بھارت کے لئے رسوائی ہی رسوائی ہے۔ سعودی عرب نے کچھ عرصہ قبل ایک ریال کا نیا نوٹ جاری کیا جس پر پوری دنیا کا نقشہ پیوست تھا اور اس میں جموں وکشمیر کو ایک متنازع اور الگ ریاست کے طور پر دکھایاگیا ہے ۔بھارت کے احتجاج کے باوجود سعودی عرب نے کشمیریوں کے ساتھ اپنے دیرینہ مؤقف اور پاکستان کے مؤقف کو اپنا مؤقف قرار دیا ہے۔ ہندوستان کے چیف آف آرمی سٹاف پہلی بار سعودی عرب پہنچے عرب مہمان نواز ہیں جنہوں نے ان کی اچھی مہمان نوازی کی مگر مشترکہ بیان میں صرف دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے فروغ کے علاوہ دوسری کوئی بات شامل نہ تھی۔ بھارت خطے میں ایک بڑی جنگ کے لئے پر تول رہا ہے ۔پاکستان پر مسلسل کشمیر میں دراندازی کے الزامات لگا کر دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم سے ہٹانا چاہتا ہے جہاں کرفیو اور لاک ڈائون اور محاصرے کو 530دن مکمل ہورہے ہیں۔ اب بھارت سے عالمی برادری اپنے طور پر سوال ضرور کرتی ہے کہ تقریباً 8لاکھ افواج کی موجودگی، ہر وقت ڈرائونز کو فعال رکھنے، اسرائیل اور امریکا کی مدد سے برقی رو والی باڑ لگانے کے باوجود چند درجن عسکریت پسند کشمیر میں کیسے داخل ہو رہے ہیں یہ الزام خود بھارت کے لئے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے جسے اب مٹانے کے لئے وہ ایک سرجیکل سٹرائیک کی تیاری کررہاہے ۔افواجِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر بھارت نے آزادکشمیر کے کسی بھی علاقے پر سرجیکل سٹرائیک کی تو اس کا انجام انتہائی بھیانک اور خوفناک ہوگا ۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرخان نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ آزادکشمیر پرحملے کی صورت میں ہرشہری پاک فوج کے شانہ بشانہ اس مقدس جہاد میں حصہ لے گا اور آزادکشمیر کو بھارتی فوج کا قبرستان بنادیاجائے گا۔ حکومت پاکستان نے رپورٹ شائع کی ہے کہ کنفرم اطلاعات ہیں کہ بھارت کچھ خرابی کرنے والا ہے اگر ہندوستان نے ایسا کیا تو وہ اس کاخود ذمہ دار ہوگا۔ اور اس کی وجہ سے جنگ اور اس کے ہونے والے نقصانات کاخمیازہ بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی بھگتیں گے۔امریکی صدر ٹرمپ کے جانے کے بعد بھارت میں چہ مے گوئیاں ہورہی ہیں کہ کیا جوبائیڈن ٹرمپ کی طرح بھارت کے ساتھ تعاون کریںگے کیونکہ ٹرمپ نے اپنے کاروباری مفاد کی خاطر مودی کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائے تھے مگر اب جوبائیڈن کی باری وہ صورتحال نہیں ہے ۔دنیا بھرمیں مودی کی انتہاء پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے اب بھارت کااعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔ اب حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ بھارتی پروپیگنڈہ نیٹ ورک کو دنیا بھر میں سفارتی سطح پر بے نقاب کرے تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے کہ ایک ہمسائے کے طور پر بھارت کا پاکستان کے ساتھ رویہ کیا ہے اور دنیا کے ممالک کو دھوکہ دے کر جعلی ویب سائٹس،جعلی گروپس اور جعلی تنظیموں کے سہارے بھارت منفی کردار ادا کررہا ہے جو کہ خطے سمیت پوری دنیا کے امن کے لئے خطرے کا باعث ہے۔ ||


مضمون  نگار ایک کشمیری صحافی اور تجزیہ کار ہیں اور مظفرآباد سے شائع ہونے والے ایک  روزنامہ  کے ایڈیٹر  ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 66مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP