یوم یکجہتی کشمیر

بھارت کا پاکستان اور آزاد کشمیر میں صوتی پرو پیگنڈا

دنیا ریڈیو ٹیکنالوجی کے ذریعے انتہائی منظم انداز میں اپنے اپنے مفادات کا دفاع کر رہی ہے، اس کا اندازہ بی بی سی ، وائس آف امریکہ، ڈی ڈبلیو سمیت دنیا بھر کے سرکاری ریڈیوز کی متعدد زبانوں میں چلنے والی سروس سے تو ہوتا ہی ہے لیکن ہمارا ہمسایہ ملک بھارت جس منظم انداز میں آل انڈیا ریڈیو کا دائرہ کار بڑھا رہا ہے وہ دلچسپ بھی ہے اورحیرت انگیز بھی۔ بھارت ریڈیو کے ذریعے پاکستان کے خلاف جو نظریاتی دہشت گردی کر رہا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا خوف بھارت کے اعصاب پر کس قدر سوار ہے۔ آل انڈیا ریڈیو اس وقت پاکستان کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں سروس چلا رہا ہے۔ آزاد کشمیر ، بلوچستان، گلگت بلتستان، جنوبی پنجاب اور سندھ کے لئے خصوصی سروس چلائی جاتی ہے ۔

بھارت نے سال 2020میں پاکستانی سرحد سے ملحق دفاعی اہمیت کی حامل لوکیشنز پر80 نئے ٹرانسمٹرز نصب کرنے کا ہدف رکھا تھا جن میں سے 60نئے ٹرانسمٹرز کی تنصیب کا کام مکمل ہو گیا ہے۔ 
 صوتی محاذ پر بھارت کشمیر میں جاری بھارت مخالف عوامی رجحانات اور جدوجہد آزادی کو دبانے اور آزاد کشمیر میں پاکستان مخالف رجحانات کو پروان چڑھانے کے لئے ریڈیو کو ایک مؤثر ہتھیارکے طور تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ یہ نیٹ ورک بہت بڑی تعدادمیں نئے اسٹیشنز اور انتہائی طاقتور ٹرانسمٹرز کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔ 2017-18 میں آل انڈیا ریڈیو نے 52 نئے ٹرانسمٹرز لگائے اور 2016-17 سے2017-18 کے دوران 49 نئے سٹیشنز قائم کئے۔2018-19میں مزید 11سٹیشنز کا اضافہ ہوا۔  آل انڈیا ریڈیو کے سقوط ڈھاکہ میں صوتی کردار پر27 مارچ 2012 کوڈھاکہ کے بنگلہ بندھو انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں دنیا بھر سے ان شخصیات، ممالک اور اداروں کے نمائندوں کو اکٹھا کیا گیاتھا جنہوں نے پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تقریب میں آل انڈیا ریڈیو کو پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں کے اعتراف میں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے سرکاری ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس وقت پاکستان سے ملحقہ بھارت کی ریاستوں پنجاب، راجستھان، گجرات اور مقبوضہ جموں اورکشمیر میں آل انڈیا ریڈیو کے 83 سٹیشنز اور 105 ٹرانسمٹرز کام کر رہے ہیں۔بھارت کی جانب سے جموں وکشمیر کی دفاعی اہمیت کے باعث  یہ تعداد آل انڈیا ریڈیو کے تمام سٹیشنز کا 17.3  اور تمام ٹرانسمٹرز کا 15.4 فیصد ہے۔
اس وقت مقبوضہ علاقے میں آل انڈیا ریڈیو کے 27 سٹیشنز اور 57 ٹرانسمٹرز کام کر رہے ہیں۔ بھارت نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے جموں میں جدید (Digital Radio Mondiale)DRMٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانسمٹرنصب کیا ہے جبکہ سری نگر میں بھی 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو کاٹرانسمٹرموجود ہے ۔ اسی طرح کارگل میں 200 کلوواٹ پاور کا میڈیم ویو ٹرانسمٹرکام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ 10 کلو واٹ کے6 ٹرانسمٹرز بھی سرگرم عمل ہیں۔جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مختلف مقامات پر نئے ایف ایم ٹرانسمٹرز کی تنصیب کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ۔ پتنی ٹاپ کے مقام پر 10 کلوواٹ کا ایف ایم ٹرانسمٹرنصب کیا گیا۔ اس کے علاوہ نوشہرہ کے مقام پر 10 کلوواٹ کے نئے ایف ایم ٹرانسمٹرکی بھی تنصیب کی گئی ۔ اودھم پورکے مقام پر بھی10 کلوواٹ کا نیاایف ایم ٹرانسمٹرلگایا گیا ہے ۔
اس وقت بھارتی پنجاب میں آل انڈیا ریڈیو کے 18 سٹیشنز اور11 ٹرانسمٹرزموجود ہیں۔ جن میں میڈیم ویو کے 2اورایف ایم کے9 ٹرانسمٹرز ہیں۔ پنجاب میں میڈیم ویوز کے سب سے طاقت ور ٹرانسمٹرز جالندھر میں نصب ہیں۔ جہاں جدید DRM ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا اور میڈیم ویو200 کلوواٹ کا ٹرانسمٹرلگایا گیا ہے۔ راجھستان میں 25 سٹیشنز اور میڈیم ویو زکے8 ،شارٹ ویو کا ایک اور ایف ایم کے 23 ٹرانسمٹرز ہیں۔
اجمیر میں 200 کلوواٹ کا DRM ٹیکنالوجی کا حامل میڈیم ویو ٹرانسمٹراور سورت گڑھ میں بھی اس ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا ٹرانسمٹرنصب کیاگیاہے۔ جبکہ جودھ پور میں 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانسمٹرکام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست گجرات میں سرکاری ریڈیو کے 16 سٹیشنز اور 21 ٹرانسمٹرز کام کر رہے ہیں جن میں 6 میڈیم ویوز اور 15 ایف ایم کے ٹرانسمٹرز ہیں۔گجرات میں راج کوٹ کے مقام پر انڈیا نے سب سے طاقتور1000 کلوواٹ کا DRM ٹیکنالوجی کا حامل میڈیم ویو ٹرانسمٹرلگانے کے ساتھ ساتھ اسی ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا ایک اور ٹرانسمٹر بھی نصب کر رکھا ہے۔اوپر ذکر کئے گئے تقریباً سبھی بھارتی ریڈیو سٹیشنز کو پاکستانی علاقوں میں واضح طورپر سنا جاسکتاہے۔بھارتی پنجاب میں پاکستانی سرحدی پٹی کے ساتھ ساتھ آل انڈیا ریڈیو کے نئے ٹرانسمٹرز لگانے کا کام جاری ہے۔
اس تناظرمیں امرتسر میں گرنڈہ کے مقام پر 20 کلوواٹ کا نیاایف ایم ٹرانسمٹر ایک ہزار فٹ کی بلندی کے حامل انٹینا کے ساتھ نصب کیا ہے۔جو پاکستان کے علاقوں سیالکوٹ، گجرانوالہ اور لاہور میں سنا جا سکتا ہے۔ اس ٹرانسمٹرنے 24ستمبر 2018سے کام شروع کیا۔ اس کے علاوہ پاکستانی سرحدی گاؤں فاضلکا کے مقام پر بھارت نے20 کلو واٹ کا ایف ایم ٹرانسمٹربھی نصب کیا ہے۔جو پاکستان کے علاقوں پاکپتن، حویلی لکھا، بصیر پور، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، کنگن پور، منچن آباد، اللہ آباد، پیال کلاں، چونیاں، پتوکی ، رینالہ خورد اور اوکاڑہ تک پہنچ رکھتا ہے۔ اسی طرح بھارت نے راجستھان میں چوتن ہل کے مقام پر بھی 20 کلو واٹ کا ایف ایم ٹرانسمٹرلگادیاہے ۔
آزاد کشمیر میں پاکستان کے دو سرکاری ریڈیوسٹیشنز اور 4 ٹرانسمٹرز کے مقابلے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 83ریڈیو سٹیشن اور105 ٹرانسمٹر کام کر رہے ہیں۔جبکہ انڈین  افواج کامیڈیا وِنگ کا تفریحی ایف ایم ریڈیو چلایا جا رہا ہے ۔
بھارت سرحد کے قریب کے علاقوں میں پاکستانی ایف ایم کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس کا زیادہ ہدف نوجوان پاکستانی ہیں کیونکہ ان کے پاس موبائل سیٹ ہیں اور وہ آ سانی سے پروپیگنڈہ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں پہلے کمیونٹی ریڈیوسٹیشن کا آغاز کیا ہے ''ریڈیو رابطہ دل سے دل تک ''اسلام آباد مقبوضہ کشمیر میں قائم کیاگیا جبکہ سٹوڈیو ایک فوجی چھائونی میں قائم کیاگیا ہے ۔ بھارتی فوج ضلع شوپیاں میں ایسا ہی ایک اور ریڈیوسٹیشن شروع کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے ۔جبکہ کشمیر کے دیگر مقامات پر بھارتی فوج کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز قائم کر رہی ہے  جولائی 2016 میں معروف کشمیری نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد سے جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع، کولگام، اسلام آباد ، شوپیاں اور پلوامہ کے بہت سے نوجوانوں نے عسکری تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے اور فوج کے خلاف اپنی مزاحمت تیز کر دی ہے ۔ فوج کے لئے سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جنوبی کشمیر میں مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بھارتی فوج اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ ریڈیو رابطہ کے ذریعے وہ کشمیری نوجوانوں تک پہنچ کر اُردو ، پنجابی اور کشمیری زبانوں میں گیتوں اور پروپیگنڈا پروگرامز کے ذریعے ان کی توجہ بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے اپنی حق پر مبنی جدوجہد سے ہٹانے میں کامیاب ہو جائے گا۔کشمیری اور پاکستانی عوام بھارتی جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں لہٰذابھاررت جیسے غریب ملک کی ریڈیو نیٹ ورک پر اتنی بھاری سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے ۔ ||


 مضمون نگار ممتاز کشمیری صحافی اور جموں وکشمیر یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 58مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP