قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت کا جنگی جنون اور عالمی برادری کی بے حسی

پاک بھارت مذاکرات اورلائن آف کنٹرول پر امن کی بحالی یقینی طور پر ایک اہم معاملہ ہے جسے پوری دنیا تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکی حکام بھی صورتحال کو مایوس کن قرار دے رہے ہیں۔اس سلسلے میں جو سب سے زیادہ پریشانی کی بات ہے وہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بسنے والے شہریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔بھارت کی طرف سے گزشتہ کئی مہینوں سے جس طرح شہری آبادیوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اس سے ایک طرف تو لوگ شہید اور زخمی ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف معصوم اور نہتے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔دن رات انھیں یہی خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کس وقت بھارتی افواج ان پر بارود کی آگ برسانا شروع کر دے گی۔مودی سرکار کے قیام کے بعدجتنی اموات کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر ہوئی ہیں‘اتنی گزشتہ دس سالوں میں نہیں ہوئیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی سرکار اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے ذریعے اس نے گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیاتھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری مذاکرات کی منسوخی پر ماتم کرنے کی بجائے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے اور کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے فعال کردار ادا کرے۔ بھارتی اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی منسوخی اور پاکستان کے ساتھ اشتعال انگیزی ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔بھارتی فوج آج تک کارگل کے زخم چاٹ رہی ہے۔ جس طرح بھارت نے 1965ء کی جنگ میں شکست کا بدلہ1971ء میں پاکستان کو دو لخت کر کے لیا تھا‘ اب بھارت کارگل میں ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے جنگی ماحول بنا رہا ہے ۔ بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیانات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

 

وادی جموں و کشمیر جس کے باشندے اپنی قومی آزادی کے لئے بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور بھارتی افواج کے جابرانہ ہتھکنڈوں سے گزشتہ ساٹھ برس سے نبردآزما ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے تو ان کی اس جدوجہد نے باقاعدہ مسلح مزاحمت کی شکل بھی اختیار کرلی ہے لیکن ان کی زبوں حالی اور کسمپرسی کسی کو دکھائی نہیں دے رہی حالانکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہونے کے باعث بھی لائق توجہ ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں بھی اس کا جلد از جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچنا ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر جنوبی ایشیا میں قیام امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔

 

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر ہے اور اگر اس کو حل کرنے کا کوئی راستہ نکال لیا جائے تو اس سے نہ صرف کشمیر کے کروڑوں باشندوں کی سیاسی و اقتصادی ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں بلکہ اس سے وہ سوتے بھی خشک ہوسکتے ہیں جو مجبور اور مقہور انسانوں کے انتہا پسندانہ جذبات کی آبیاری کا کام دیتے ہیں لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے بھارتی حکمران تیار ہیں نہ ہی امریکہ۔ حتیٰ کہ عالمی برادری بھی اپنے مفادات کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دیکھنے کے لئے آمادہ نہیں ہے جبکہ اقوام متحدہ جس کی تشکیل دوسری جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز کی جگہ اس لئے عمل میں لائی گئی تھی کہ وہ اپنے رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے باہمی تنازعات کو طے کرنے کے لئے ٹھوس اور مؤثر جدوجہد کرے گی‘ وہ بوجوہ اپنے آپ کو امریکی و یورپی مفادات کا اس قدر باجگزار بنا چکی ہے کہ اس کی جانب سے کسی آزادانہ کردار کی توقعات بری طرح مجروح ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ خاص طور پر مسئلہ فلسطین اور کشمیر کو حل کرنے میں نہایت برے طریقے سے ناکام ہوئی ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک نے تو ایک نئی اقوام متحدہ کی تشکیل کے لئے آوازیں بلند کرنا شروع کردی ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی آٹھ لاکھ سے زائد فوج اور سکیورٹی فورسز کے ذریعے قتل و غارت کا جو بازار گرم کررکھا ہے اس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کردیئے گئے ہیں اور خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ نیوی پلے نے ابھی پچھلے دنوں نیو یارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ’’مقبوضہ وادی میں آئے دن ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریوں کا سلسلہ انسانی حقوق کی اتنی واضح خلاف ورزی ہے کہ اس پر کسی طریقے سے پردہ ڈالنا ممکن نہیں لیکن اقوام متحدہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کرانے کے بارے میں اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے سے گریزاں ہے۔ اتنے معتبر ادارے کی پالیسی میں ایسا شرمناک تضاد کیوں ہے؟‘‘ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ اگر امریکہ اور عالمی برادری واقعی جنوبی ایشیا میں مستقل اور پائیدار امن کے خواہشمند ہیں تو انہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ان بنیادی تنازعات کے تصفیے کے لئے بھی ٹھوس اور بامعنی کوششیں کرنی چاہئیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ اور بداعتمادی میں مسلسل اضافہ کرتی جارہی ہیں۔ مسئلہ کشمیر ان سارے تنازعات میں سرفہرست ہے۔ اس لئے امریکہ اور اقوام متحدہ کو اس کے منصفانہ حل کے لئے بھی خصوصی جدوجہد کرنی چاہئے کیونکہ اگر یہ تنازعہ طے ہوگا تو پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی اصل جڑ ہی کٹ جائے گی اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کے سارے محرکات خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

 

ہرسال بھارت کے یوم جمہوریہ پرمقبوضہ کشمیر میں قابض سکیورٹی فورسز کی پیشگی کارروائیوں سے ماحول کشیدہ ہوجاتا ہے۔بھارت نے 1947ء میں جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور پھر کشمیر کو فوجی گریژن میں بدل دیا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو گیا‘ بھارت کی 8 لاکھ فوج کشمیریوں کی قتل و غارت گری میں ملوث ہے۔ بھارت نے یہاں اپنی افواج اتار کر اس خطے پر ناجائز قبضہ جمایا اور لاکھوں انسانوں کو ان کی مرضی کے خلاف غلام بنالیا۔ اس قبضے کا کوئی آئینی، اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں بلکہ یہ صرف بھارت کی ملٹری پاور ہے جس کی بنیاد پر آج بھی 13 ملین لوگ عذاب و عتاب اور درد و کرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارت ایک بڑی جمہوریہ کا دعویدار ہونے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لئے اپنی طاقت کا بے تحاشا استعمال کررہا ہے۔

 

حالانکہ جہاں تک تحریک آزادی کشمیر کا تعلق ہے تو بھارت آٹھ لاکھ کے بجائے پندرہ لاکھ فوج بھی کشمیر بھیج دے‘ جدوجہد آزادی ختم نہیں ہوسکتی۔ بھارت کشمیر کے مسلمانوں کو حق خود ارادیت نہیں دینا چاہتا اور انہیں ان کے اس بنیادی حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار اس جانب اپنی توجہ مبذول کریں اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ ختم کریں۔ کشمیری مسلمانوں کو بھی ان کا بنیادی حقِ خود ارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام پر مظالم بند کرکے وہاں پر استصواب رائے کرائے جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ مسلمانوں کے انسانی حقوق کو اکثر و بیشتر انسانوں کے انسانی حقوق نہیں سمجھتی یہی وجہ ہے کہ کروڑوں انسانوں کا بنیادی حق آزادی مسئلہ کشمیر کی صورت میں آج تک دانستہ حل نہیں کیا گیا جبکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی خون کی ندیاں عبور کرکے بھی جاری و ساری ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ مقبوضہ وادی کے ’’کشمیریوں‘‘ کو حق آزادی سے بھارتی فوج کے بل بوتے پر محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ پاکستانی فوج نے کشمیریوں کے لئے شہادتوں کی کئی تاریخیں رقم کی ہیں جبکہ بھارتی فوج نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کی قاتل ہے۔ اقوام متحدہ کا دوہرا معیار اور کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے چشم پوشی عالمی بے حسی کا بدترین نمونہ ہے۔ آج تک کشمیری قوم بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد آزادی کررہی ہے۔ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے بلکہ سوا کروڑ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جموں و کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طور پر ہی حل کیا جانا چاہئے۔ مسئلہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ ہے اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کئے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان، بھارت اور کشمیری قیادت پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

[email protected]

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP