قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت کا جنگی جنون اور بالادستی کا خواب

پاکستان اور بھارت کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام بلکہ اقوام عالم کے لئے بھی باعث تشویش ہے۔ دونوں ممالک غیر معمولی عسکری طاقت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایسی جوہری طاقتیں ہیں جنہوں نے سی ٹی بی ٹی پر دستخط بھی نہیں کئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پائی جانے والی حالیہ کشیدگی کا براہ راست تعلق دونوں ممالک کے حکمرانوں کی ترجیحات سے ہے۔ پاک حکمرانوں کی ترجیح خطے کا امن اور بھارتی حکمران بالادستی کے خواب سے باہر نکلنے کو ہی تیار نہیں۔ پاکستان کی جانب سے خطے میں پائیدار قیام امن کی مسلسل خواہش کو کمزوری سمجھ کر بھارت کی مودی سرکار سیاسی، سفارتی اور عسکری دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ مودی سرکار کی ترجیحات و خواہشات کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جنگ ستمبر1965ء کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ہندوستان میں جشن کا اہتمام کیا گیا۔ پاکستان نصف صدی سے 6ستمبر کے دن کو یوم دفاع کے طور پر منارہا ہے۔ بھارتی سرکار نے ان پچاس سالوں میں پہلی مرتبہ اسی دن کو’’ یوم فتح‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور اس حوالے سے ملک بھر میں اعلیٰ پیمانے پر سرکاری تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ پچاس سالوں میں پہلی مرتبہ فتح کا خیال ایک جانب بذات خود شکست خوردہ ذہنیت کا عکاس ہے تو دوسری جانب’’یوم فتح‘‘کا اعلان خطے میں بالادستی کی خواہش کی بھی عملی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے عملی طور پر یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ پچاس سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی ترجیح اپنا دفاع جبکہ موجودہ بھارتی سرکار فتح کے مجنونانہ خواب دیکھ رہی ہے۔ میں ستمبر 1965ء کی جنگ کے حالات و واقعات کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا، تاہم یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اپنی تمام تر فوجی طاقت جھونکنے کے باوجود بھی بھارت اپنے مذموم عزائم کے حصول میں ناکام و نامراد رہا۔

 

حسن اتفاق ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد میاں محمد نواز شریف بھاری اکثریت حاصل کرکے برسر اقتدار آئے۔ انہوں نے اپنے ویژن کے مطابق ہمسایہ اور خطے کے ممالک سے بہتر تعلقات کے لئے کوششیں شروع کیں۔ ان کا مطمع نظر پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خطے میں پائیدار قیام امن تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کو شرکت کی دعوت دی۔ اس سے قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اپنے دورہ بھارت کے دوران بھارتی وزیراعظم کوپاکستان کے دورے کی دعوت دی تھی، تاہم یہ دعوت قبول کرنے کے باوجود بھی بھارتی وزیراعظم پاکستان نہیں آئے تھے اور میاں نواز شریف کی دعوت کا بھی وہی انجام ہوا۔ اس کے محض ایک سال بعد یعنی 2014ء میں بھارت میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران پاکستان و مسلمان دشمنی کا سہارا لے کر بی جے پی کے نریندرمودی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ یہ وہی نریندر مودی تھے جو ماضی میں راشٹریہ سیوائم سیوک سنگ یعنی آر ایس ایس کے اہم رکن رہ چکے تھے اور جن کے دور اقتدار میں گجرات کے اندر مسلمانوں کا انتہائی بیدردی سے قتل عام ہوا تھا۔ نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں بھارت کے گردونواع میں موجود تمام ممالک کے سربراہوں کو دلی دربار میں طلب کیا۔ ان کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کی حیثیت سے وہ خطے کے سربراہ ہیں۔ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف قومی اکثریتی رائے کو نظر انداز کرکے دلی چلے گئے ۔ ان کی خیر سگالی کے جواب میں ممبئی کا گھسا پٹا ریکارڈ چلایا گیا اور دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ بھارت میں جو سلوک پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ہوا، اس سے قوم کو ندامت ہوئی۔ یہ مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کے لئے واضح پیغام تھا کہ بھارتی سرکار خطے میں مائنس پاکستان فارمولے پر عملدرآمد جاری رکھے گی ۔

 

ایک ایسے وقت میں جب افواج پاکستان ضرب عضب کی صورت میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں مصروف ہیں، بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کا مقصد ضرب عضب کو متاثر کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔

 

یہ اسی بھارتی پالیسی کا ہی شاخسانہ ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول سے لے کر کراچی اور گلگت سے بلوچستان و فاٹا تک سرزمین پاک اپنے بے گناہ شہریوں کے لہو سے رنگین ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم اور ناکام کرنے کے لئے بھارت نے اسی پالیسی کے تحت غیر علانیہ طور پر پاک فوج اور عوام پر سہ طرفہ جنگ مسلط کررکھی ہے۔

 

عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی پر بھی بھارت بڑی تیزی سے گامزن ہے۔ چین ، ایران، عرب ممالک پاکستان کے دیرینہ دوست سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے ان دیرینہ اور آزمودہ دوستوں سے محروم کرنے کے لئے بھارتی سفارتکاری بھی عروج پر ہے۔

 

مقام حیرت ہے کہ بھارتی وزیراعظم پاکستان کو دولخت کرنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اس کا مشیر بلوچستان سے ہاتھ دھونے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ بھارتی وزیر پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کا اقرار کرتے ہیں، اس کے باوجود بھی ہم اچھے تعلقات کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ میرے نزدیک بھارت کی بڑھتی ہوئی چیرہ دستیوں کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا نرم لب ولہجہ اورحد سے بڑھ کر خطے میں پائیدار قیام امن کی خواہش ہے۔

 

اب دونوں ملکو ں کے درمیان جو بنیادی تنازعہ ہے ، اگر بھارت اس پر بات کرنے کو ہی رضامند نہیں تو کیسے ممکن ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشمکش موقوف ہو جائے یا تعلقات بہتر ہو جائیں۔

 

اللہ رب العزت کے فضل و کرم اور پاک عسکری و دفاعی ماہرین کی شبانہ روز محنت سے پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت میں ایسا سمارٹ اضافہ کیا ہے کہ کولڈ سٹارٹ کا خواب دیکھنے والے جانتے ہیں، اگر گئے تو بچ کر واپسی ناممکن ہوگی۔

 

حیرت کی بات ہے کہ بھارتی ماہرین اور پالیسی سازوں کی ترجیحات میں پاکستان دشمنی، ایٹمی تجارت، سلامتی کونسل کی نشست تو شامل ہے مگر اس میں کروڑوں بھارتی عوام کی حالت زار میں تبدیلی دور دور تک نظر نہیں آتی۔

 

دلی دربار میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا آغاز کرنیکا فیصلہ ہوا تھا، مگر جب پاکستان کے ہائی کمشنر نے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کی تو بھارت نے سیکرٹری سطح پر مذاکرات سے منع کردیااور ساتھ ہی کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی شدید خلاف ورزیاں شروع کردیں۔ ایک ایسے وقت میں جب افواج پاکستان ضرب عضب کی صورت میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں مصروف ہیں، بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کا مقصد ضرب عضب کو متاثر کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کے ان کیمپوں کے تانے بانے بھارت سے جاکر ملتے ہیں۔ نریندر مودی نے چن چن کر ایسے افراد کو اہم عہدے تفویض کئے، جن کا ماضی پاکستان دشمنی سے عبارت تھا۔ اجیت دوال جو عرصہ دراز تک پاکستان کے اندر دہشت گرد وں کے سلیپرسیلز کا انچارج تھا ، اسے قومی سلامتی کا مشیر نامزد کیا۔ سابق بھارتی آرمی چیف وجے کمار سنگھ کو سشما سوراج کے ساتھ وزارت خارجہ کا سٹیٹ منسٹر تعینات کیا۔ وجے کمار سنگھ آن دی ریکارڈ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں تخریب کاری کے لئے ایک ادارہ بنایا تھا۔ مودی سرکار کی چھتری تلے دونوں آفنسو ڈیفنس یعنی’’ دشمن کی حرکت سے پہلے ہی اس کی حرکت کی صلاحیت کو ختم کرکے اپنا تحفظ کرنا‘‘ لائن پر کام کر رہے ہیں۔ یہ اسی بھارتی پالیسی کا ہی شاخسانہ ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول سے لے کر کراچی اور گلگت سے بلوچستان و فاٹا تک سرزمین پاک اپنے بے گناہ شہریوں کے لہو سے رنگین ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم اور ناکام کرنے کے لئے بھارت نے اسی پالیسی کے تحت غیر علانیہ طور پر پاک فوج اور عوام پر سہ طرفہ جنگ مسلط کررکھی ہے۔ اس پالیسی کے خدوخال یہ ہیں:۔

اول: پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی پشت پناہی، حوصلہ افزائی اور انہیں مسلسل کمک فراہم کرکے وطن عزیز کو اندرونی انتشار میں مسلسل مبتلا رکھنا، جس سے نہ صرف ملکی ترقی کا پہیہ روکنا مقصود ہے بلکہ معاشی ، معاشرتی و دیگر مسائل کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو ملک کے اندر ہی زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنا مقصود ہے۔

دوئم: پاک فوج اور دیگر اداروں کی دہشت گردی کے خلاف جاری کامیاب کارروائیوں کو متاثر کرنے کے لئے مشرقی سرحد پر مسائل اور کشیدگی میں اضافہ کرنا، صرف آخری چند ماہ میں بھارت کی جانب سے 221مرتبہ سرحدی خلاف ورزی کی گئی اور اس جارحیت میں 26سے زائد پاکستانی شہید جبکہ 78 سے زائد زخمی ہوئے۔ سوئم: پاکستان کی مغربی سرحد یعنی پاک افغان سرحد کو بھی غیر محفوظ بناکر سکیورٹی مسائل میں اضافہ کرنا ، اس پالیسی کے تحت افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں اور اداروں سے منسلک دہشت گردوں نے ان گنت مرتبہ پاک افغان سرحد کی خلاف ورزی کرکے نہ صرف پاک سکیورٹی فورسز پر حملے کئے بلکہ اس کھلی سرحد کو استعمال کرتے ہوئے افغان سکیورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنایا، جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی ویسے ہی حالات پیدا کرنا تھا، جیسے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہیں۔ سہ طرفہ محاذ وں پر پاک افواج اور عوام پر غیرعلانیہ جنگ مسلط کرکے بھارت اپنی حاکمیت و اجارہ داری کے تصور کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔بھارت کی طرف سے ان سہ طرفہ محاذوں کی ایک وجہ پاکستان کے پاس جوہری طاقت کی موجودگی بھی ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور پاکستان کو اس میدان میں بھارت پر سبقت بھی حاصل ہے۔ چنانچہ وہ براہ راست بڑے یا جوہری تصادم سے بچ کر کئی مقامات پر بیک وقت محدود جنگ کرکے پاکستان کو زیر کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

 

ؑ ٓؒ ؑ ؑ ٓعالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی پر بھی بھارت بڑی تیزی سے گامزن ہے۔ چین ، ایران، عرب ممالک پاکستان کے دیرینہ دوست سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے ان دیرینہ اور آزمودہ دوستوں سے محروم کرنے کے لئے بھارتی سفارتکاری بھی عروج پر ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جب چین کے دورے پر گئے تو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے بھارت نے دیگر ہتھکنڈے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دوست ممالک سے بھی تعلقات کو ایک نیا موڑ دینے کی کوشش کی۔ سعودی عرب کی سرزمین پر تاریخ میں پہلی مرتبہ بھارتی فوجی طیاروں اور سیکڑوں افراد پر مشتمل عملے نے قیام کیا۔ بھارتی فوجی طیاروں نے سعودی عرب میں طائف کے کنگ فہد ائیربیس پرلینڈ کیا۔اس بھارتی فضائی دستے میں عملے کے 110 ارکان، سخوئی 30 فائٹر طیارے، سی17 گلوب ماسٹرز،سی130 سپر ہرکولیس اور آئی ایل78 طیارے بھی شامل تھے۔ ایس یو 30 ایم کے آئی طیاروں کا تعلق بھارتی ائیرفورس کے نمبر2 سکواڈرن سے ہے اور یہ کلوز ائیر سپورٹ یونٹ کا حصہ تھے۔ بھارتی سفارتخانے کے ناظم الامور ہیمانت کو تلوار نے اسے ایک بڑی کامیابی اور سعودی عرب ،بھارت تعلقات میں انتہائی اہم پیشرفت قرار دیا۔ اسی طرح نریندر مودی نے عرب امارات کا بھی دورہ کیا گزشتہ 34سال میں وہ پہلے بھارتی سربراہ تھے جو عرب امارات گئے۔ اس دورے میں جہاں 75ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری حاصل کی، دفاعی پیداوار کا ایک بہت بڑا معاہدہ طے کیا وہاں بڑے مندر کی تعمیر کے لئے خصوصی طور پر زمین بھی حاصل کی۔ دورے کے دوران مندر کی تعمیر کو خصوصی اہمیت دینا، خطے خصوصاً پاکستان کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اثرورسوخ بڑھانے یا پاکستان کو دوستوں اور ہمنواؤں سے محروم کرنے کے لئے بھارت کو کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ۔ اسی طرح بھارت نے ایران کے ساتھ بھی دفاعی معاہدہ ترتیب دیا ہے اور چاہ بہار کی بندرگاہ میں بھی تیزی سے سرمایہ کاری کررہا ہے، تاکہ ایران کے ساتھ مل کر وسطی ایشیا کے توانائی کے ذخائر اور بڑی منڈی تک پہنچ سکے، حالانکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کا سہل اور درست راستہ پاکستان سے ہوکر افغانستان سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ نریندری مودی جب بنگلہ دیش گئے تو 1971ء کی راکھ میں دبی حالات و واقعات کی چنگاری کو ایک مرتبہ پھر سے ہوا دے کر شعلے بھڑکانے کی کوشش کی۔مودی نے وہاں سینہ تان کر پاکستان کے خلاف بھارت کا تاریخی جرم نہایت ڈھٹائی سے قبول کیا کہ مکتی باہنی انہوں نے تیار کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ بنگالی حکومت کو دباؤ میں لاکر جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کی پھانسیوں کے علاوہ پاکستان مخالف بیانات کا سلسلہ بھی شروع کرایا۔ مقام حیرت ہے کہ بھارتی وزیراعظم پاکستان کو دولخت کرنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اس کا مشیر بلوچستان سے ہاتھ دھونے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ بھارتی وزیر پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کا اقرار کرتے ہیں، اس کے باوجود بھی ہم اچھے تعلقات کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ میرے نزدیک بھارت کی بڑھتی ہوئی چیرہ دستیوں کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا نرم لب ولہجہ اورحد سے بڑھ کر خطے میں پائیدار قیام امن کی خواہش ہے۔

 

بھارت نے پاکستان کے خلاف جو تیسری تکنیک اپنائی ہے، وہ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن ہے۔ جس کے تحت پاک بھارت طویل سرحد پر بیک وقت کئی مقامات سے انتہائی تیزی کے ساتھ حملہ کرکے اہم سٹریٹیجک پوائنٹس پر قبضہ کرنا اور پھر اسی قبضے کے بل بوتے پر مذاکرات کی میز پہ پاکستان سے اپنی شرائط منوانا ہے۔ اس مقصد کے لئے آٹھ یا نو، ایسی کوئیک بریگیڈز بنائی گئی ہیں، جو انتہائی تیزی سے حملہ کرسکیں۔ اللہ رب العزت کے فضل و کرم اور پاک عسکری و دفاعی ماہرین کی شبانہ روز محنت سے پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت میں ایسا سمارٹ اضافہ کیا ہے کہ کولڈ سٹارٹ کا خواب دیکھنے والے جانتے ہیں، اگر گئے تو بچ کر واپسی ناممکن ہوگی۔

 

پاک بھارت تنازعے میں کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے ۔ اب اسے بھارتی ہٹ دھرمی ہی کہا جاسکتا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات میں جب بھی کشمیر کا ذکر آتا ہے، بھارت مذاکرات سے فرار اختیار کرلیتا ہے اور دوسری جانب سرحدی، آبی، عسکری مسائل کو بڑھاوا دے کر مذاکرات کی ضرورت میں بھی اضافہ کردیتا ہے۔ ماضی قریب میں جب سیکرٹریز خارجہ کی سطح پر مذاکرات طے پائے تو بھارت نے بہانہ بنایا کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور مذاکرات سے فرار اختیار کرکے سرحدی خلاف ورزیوں میں اضافہ کردیا، حالانکہ کشمیری قیادت سے رابطہ رکھنا پاکستان کی دیرینہ روایت ہے، کیونکہ کشمیری اس مسئلے میں بنیادی فریق ہیں۔

 

روس میں اوفا کے مقام پر شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہوا ، جس میں پاکستان اور بھارت کو آبزور کے طور پر تنظیم کا مستقل رکن بنایا گیا، اس موقع پر میاں نوازشریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات ہوئی ، جس میں بات چیت کے آغاز کا فیصلہ ہوا اور سلامتی امور کے مشیروں کے درمیان بات چیت کے آغاز کے لئے ایک دستاویز تیار کی گئی۔اس دستاویز پر دستخط کرنے والے پاکستانی نمائندے اتنے بھولے تھے کہ انہوں نے بھارت کے کہنے پر کشمیر کا لفظ اس میں شامل نہیں کرایا اورخوش فہمی میں ازخود یہ باور کرلیا کہ جب بات ہوگی تو کشمیر پر بھی بات کرلیں گے۔ ملاقات کا موقع قریب آنے پر بھارت نے دستاویز پر جبکہ پاکستان نے کشمیر پر زور دیا تو یہ مذاکرات بھی نہیں ہوپائے۔ اب دونوں ملکو ں کے درمیان جو بنیادی تنازعہ ہے ، اگر بھارت اس پر بات کرنے کو ہی رضامند نہیں تو کیسے ممکن ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشمکش موقوف ہوجائے یا تعلقات بہتر ہوجائیں۔ پاکستان کو بھی بھارتی ہٹ دھرمی کے جواب میں واضح کرنا چاہئے کہ کشمیری قیادت کو باہر رکھ کر مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یہاں سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ اگر بھارت مذاکرات سے فرار ہی چاہتا ہے تو پھر گاہے بگاہے مذاکرات پر آمادگی کیوں اختیار کرتا ہے؟ بھارت صرف خطے پر بالادستی یا حاکمیت کا خواہشمند ہی نہیں بلکہ عالمی تناظر میں وسیع تر کردار ادا کرنے کا بھی خواہشمند ہے۔ جس کے لئے سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے حصول کے لئے عرصہ دراز سے سرگرداں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ بھارتی ماہرین اور پالیسی سازوں کی ترجیحات میں پاکستان دشمنی، ایٹمی تجارت، سلامتی کونسل کی نشست تو شامل ہے مگر اس میں کروڑوں بھارتی عوام کی حالت زار میں تبدیلی دور دور تک نظر نہیں آتی۔ ایک ایسا ملک جہاں کی پچاس فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے، ساٹھ فیصد ان پڑھ ہے، دو کروڑ سے زائد ایسے افراد موجود ہیں جو پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے حشرات کھانے پر مجبور ہیں، جہاں کے 22صوبے مرکزی حکومت سے آزادی کا مطالبہ کرچکے ہیں،50سے زائد علیحدگی و آزادی پسند تحریکیں وجود رکھتی ہیں، جس میں سے ایک تحریک ملک کے چالیس فیصد حصے میں اپنا واضح اثر رکھتی ہے۔ 65فیصد شہریوں کو باتھ روم کی سہولت میسر نہیں۔ جہاں خوراک اور بنیادی ضروریات کے حصول کے لئے دنیا بھر میں سب سے زیادہ خواتین جسم فروشی جیسا مکروہ دھندہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں‘ ایک ایسا ملک جہاں دنیا بھر سے اترن دان کی جاتی ہے، اسی ملک کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے نزدیک پاکستان کا عدم استحکام، ہتھیاروں کی دوڑ، سلامتی کونسل کی نشست، جنگ، دہشت گردی زیادہ اہم ہے۔ افواج پاکستان اور پاک عوام میں اپنی مٹی کی حفاظت، دفاع وطن کا جذبہ جسم میں لہو کی مانند رواں دواں ہے۔ بھارتی ایما و مدد سے وطن کے گلی کوچوں میں جتنا بے گناہ لہو دہشت گردی میں بہا ہے، دفاع وطن ، حب الوطنی اور مادر وطن کی حفاظت کا یہ جنوں و جذبہ اتنا ہی پھیلا ہے۔ جس کاایک ہلکا ساعکس سوشل میڈیا پر موجود اس پاکستانی بچے کی پریڈ اور سلامی کی وڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے، بیماری سے لڑتے ہوئے، موت کی کش مکش میں مبتلا اس بچے نے اپنی آخری خواہش کا اظہار یوں کیا کہ میں بارڈر پرایک دن دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وطن کی حفاظت کا ذمہ سرانجام دینا چاہتا ہوں۔ جان لیوا بیماری سے نبرد آزما اس بچے نے کہنہ مشق سپاہی کی طرح واہگہ بارڈر پر پریڈ و سلامی میں حصہ لیا اور دشمن کے سامنے سینہ تان کر یہ واضح پیغام دیا کہ زندگی کی آخری سانس تک، جسم میں دوڑتے لہو کی آخری بوند تک مادر وطن کی حفاظت کریں گے۔ میرے نزدیک اس بچے نے صرف اپنی خواہش کی تکمیل نہیں کی بلکہ پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان کے ہرجوان کی حقیقی نمائندگی کی ہے۔

 

پوری قوم حکومت وقت سے اس امر کی متقاضی ہے کہ بھارت کے ساتھ ضرورت سے زیادہ نرم لہجے میں گفتگو سے گریز کرکے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جوہری و عسکری قوت کے ذمہ دار نمائندوں کا کردار ادا کرتے ہوئے برابری کی سطح پر بات کرنی چاہئے، اور سفارتی، سرحدی،عسکری اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کے ساتھ وہی رویہ روا رکھنا چاہئے، جو اس نے روا رکھا ہوا ہے۔پاکستان، پاکستانی عوام، افواج پاکستان بھارت سے عددی، افرادی،زمینی قوت میں کم ہوں تو ہوں، مگر جذبوں اور قوت ایمانی میں ان پر سبقت رکھتے ہیں اور یہ بات بہرطور سب کو ملحوظ خاطر رکھنی چاہئے۔

[email protected]

 

یہ بیٹے میرے وطن کے ہیں

کچھ اِس ادا سے ، کچھ اِس تمکنت سے چلتے ہیں

ہَوا صفوں سے گزرتے ہوئے لرزتی ہے

روایتوں کے تقدس کا یہ تسلسل ہیں

زمین اِن کے مقدر پہ ناز کرتی ہے

یہ دیوتا کسی اُسطورۂ کہن کے ہیں

سلام اِن پہ ، یہ بیٹے مرے وطن کے ہیں

چراغ سینے میں روشن رہے گا ہمت کا

عَلَم جو ہاتھ میں ہے سرنگوں نہیں ہو گا

بڑھے چلیں گے یونہی صف بہ صف یہ پیکرِ عزم

سروں پہ سایہ فگن فتح کا یقیں ہو گا

یہ آسماں کے ستارے ہیں ، پھول بن کے ہیں

سلام اِن پہ ، یہ بیٹے مرے وطن کے ہیں

ہَوائیں سہم کے آ جائیں اِن کے زیرِ نگیں

بڑھیں تو اپنی جگہ سے پہاڑ ہٹ جائیں

بس ایک پل میں مسخر کریں سمندر کو

جدھر سے آئے عدو اُس طرف پلٹ جائے

چمن ہے اِن کا ، محافظ یہ اِس چمن کے ہیں

سلام اِن پہ ، یہ بیٹے مرے وطن کے ہیں

احمد حسین مجاہد

یہ تحریر 35مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP