قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت میں پاکستانی ہندو خاندان کے قاتل کون

مقتولین کی وارث خاتون کا بھارتی خفیہ ایجنسی ''را''پر الزام سنجیدہ اور صاف شفاف تفتیش کا متقاضی
بدقسمت خاندان پر پاکستان مخالف بیان دینے کے لئے ''را''کا دبائو تھا ، جینا حرام کردیا تھا. 


بھارت مسلمانوں،سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے تو ہمیشہ سے ایک انتہائی غیر محفوظ ملک رہا ہی ہے مگر اب خود ہندوئوں کے لئے بھی وہاں زندگی کی کوئی ضمانت نہیں رہ گئی۔اب وہاں پر ہندوئوں کے لئے بھی سکون سے جینا تبھی ممکن ہے جب وہ انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارتی خفیہ ایجنسی ''را''کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں۔ورنہ آپ مسلمان ہیں یا ہندو۔کوئی فرق نہیں پڑتا اور آپ کی جان کسی بھی وقت جاسکتی ہے۔9اگست2020ء کو راجستھان کے ضلع جودھ پورکے گائوں میں ایک خوفناک واردات ہوئی جس میںبدھورام نامی75سالہ ہندو،اس کے بیٹے،بہو،پوتے ،پوتیوں سمیت11افراد کی لاشیں ان کے گھر سے برآمد ہوئیں۔یہ اس روز اور بعدمیں کئی روز بھارتی اور انٹرنیشنل میڈیا میں نمایاں خبر رہی جس نے سب کو چونکا کر رکھ دیا۔
یہ خاندان رات کو معمول کے مطابق کھانا کھا کر سویا مگر اگلی صبح اس کے نصیب میں نہ تھی۔لاشوں کی موجودگی کا انکشاف اس وقت ہوا جب اس خاندان کا اکیلا بچ جانے والا فرد37سالہ کیول رام کام کاج سے گھر واپس لوٹا تو اپنی دنیا اجڑی ہوئی پائی۔اس واردات میں اس کی بیوی،دو بیٹے اور ایک بیٹی قتل ہوئی جبکہ باقی افراد باپ،ماں،دادا اور بہنیں تھیں۔یہ طے تھا کہ ان کو پوری منصوبہ بندی کرکے ہلاک کیا گیا۔جسمو ں پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں تھے جس کا مطلب تھا کہ ان کو کھانے میں زہر دیا گیا ہے مگر یہ کام کس نے کیااور کیوں؟یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا۔
 بھارت جیسے ملک میں جہاں آدھی سے زیادہ آبادی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، وہاں کوئی ایسی وارداتوں کی تفتیش اور مجرموں کی گرفتاری کی طرف زیادہ دھیان بھی نہیں دیتا۔کروڑوں میں سے کچھ کم ہوئے۔چلو اچھا ہوا۔بھارتی حکومتی کی یہ غیر تحریرشدہ پالیسی ہے۔مگر یہ واردات دبی نہ رہ سکی اور بھارتی حکام کی تمام تر کوششوں کے باجود اس نے اس وقت زیادہ توجہ حاصل کرلی جب پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہداد پور کے تھانے میں ایک ہندو خاتون شریمتی مکھی پیش ہوئی اور اس نے جودھ پور بھارت میں قتل ہونے والے اس خاندان کی ایف آئی آر درج کروانے کی خواہش ظاہر کی اور ایف آئی آر بھی کس کے خلاف؟بھارتی خفیہ ایجنسی''را''کے خلاف۔
بدھو رام اور اس کا یہ بدقسمت خاندان چند سال قبل یہیں سے بھارت منتقل ہوا اور وہیں سکونت اختیار کرلی۔اس خاندان نے جو دھ پور کے گائوں لودتا میں کچھ زمین مزدوری کے عوض حاصل کی اور وہیں اپنا کچا پکا گھر بنا کر کھیتی باڑی کرکے گزربسر شروع کردی۔دن، مہینے ، سال گزرتے رہے اور یہ خاندان وہاں ر چ بس چکا تھا۔بدھورام کی ایک پوتی نے نرسنگ کی تعلیم بھی حاصل کرلی اور بظاہر ان کی زندگی میں کوئی مسئلہ نہ تھا مگر پھر اچانک8اور9اگست کی رات قیامت کی رات بن کر آئی اور ان سب کی زندگیوں کا چراغ ایک ساتھ گل ہوگیا۔پاکستان میں رہتے ہوئے تو ان ہندوئوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا مگر ہندوئوں کے ہندوستان میں ان سب کی جان لے لی گئی۔پاکستان میں رہتے ہوئے بعض اوقات ہندوئوں سمیت اقلیتی باشندوں کے حوالے سے بڑا  پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ ان کے حقوق متاثر ہورہے ہیں مگر آج تک ایسی بھیانک واردات ان کے ساتھ نہیں ہوئی جیسی پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے پیچھے سرگرم بھارت میں ہوگئی۔
شریمتی مکھی کے متعلق معلو م ہوا کہ وہ اسی خاندان کی بیٹی ہے جو پاکستان میں اس خاندان کے معاملات کی دیکھ بھال کے لئے یہیں رہ گئی تھی۔تھانہ شہداد پور میں اس نے جو ایف آئی آر درج کرائی اس میں شریمتی نے قتل کی جو وجہ بیان کی اور جن لوگوں پر الزام لگایا، اس نے اجتماعی قتل کی واردات سے زیادہ چونکا دیا اور اس واردات کو ایک نیا رخ بھی دے دیا۔
شریمتی کا کہنا تھا کہ اس کے خاندان کو بھارتی خفیہ ایجنسی''را''نے قتل کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خاندان پاکستان سے بھارت منتقل ہوا تھا اس لئے بھارتی حکومت کی شدید خواہش تھی کہ اس خاندان کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا جائے۔دیکھتی آنکھوں سنتے کانو ں اور سمجھتے دماغوں نے دیکھ ،سن ،سمجھ لیا کہ بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا پاکستان کی مخالفت اور پروپیگنڈہ کے لئے کتنا بے چین وبے تاب ہے۔ ابھی حال ہی میںہمارے بعض سیاستدانوں نے کچھ بیانات دیئے تو بھارتی حکومت اور میڈیا نے اس میں سے اپنے مطلب کی باتیں نکال کر اپنا اُلو سیدھا کرنا شروع کردیا۔ظاہر ہے ایسے مضطرب لوگوں کے ہاتھ پورا ایک خاندان لگ گیا تو اس کو وہ کیسے جانے دیتے۔انہوں نے موقع غنیمت جانا اور اس خاندان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگئے۔
یہ رابطوں کی دنیا ہے۔لہٰذا بھارت منتقل ہونے والے خاندان اور پاکستان میں رہ جانے والی بیٹی کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔یقینا خاندان والوں نے اپنی بیٹی کو آگاہ کیا اور بھارت منتقلی کے بعد کے برسوں میں ان کے درمیان اس معاملے پر بات ہوتی رہی جبھی تو شریمتی مکھی نے پورے خاندان کے قتل کے بعد انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا کہ اب جب میرا اس دنیا میں کوئی نہیں رہ گیا تو میں قاتلوں کو کیفر کردار تک ضرور پہنچائوں گی۔پس شریمتی نے تھانہ شہداد پور جاکر وہ سب کچھ ایف آئی آر میں درج کرادیاجو اس کو اپنے خاندان والوں نے بتایا اور وہ یہی تھا کہ ہمیں''را''والے مسلسل تنگ کررہے ہیں کہ بھارت میں رہنا ہے تو پاکستان کے خلاف بیان دینا پڑے گا کہ وہاں ہمارے ساتھ بہت برا سلوک ہوا جس کی وجہ سے ہم پاکستان چھوڑ کر بھارت منتقل ہوئے مگر اس خاندان نے اس طرح کے مکروہ کھیل کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔
متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد مسلمانوں کی پاکستان اور ہندوئوں کی بھارت منتقلی ایک معمول کی بات رہی ہے۔یہ فطری بات ہے کہ مسلمان کو پاکستان اور ہندو کو بھارت میں تحفظ اور پناہ کا احساس ہوگا۔مذکورہ بدقسمت خاندان بھی اس فطری جذبے یا خواہش سے بھارت منتقل ہوا۔اس کو وہاں بہتر مستقبل کی امید لے کرگئی۔انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ جن کو اپنا سمجھ کر اپنا اصل گھر بار چھوڑ کر جارہے ہیں وہی ان کی جان لے لیں گے۔
یہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ اس خاندان کو سندھ میں کسی قسم کی زیادتی یا ظلم کا کوئی سامنا نہیں تھا۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو یہاں چھوڑگئے۔بھلا یہ ممکن ہے کہ ایک جگہ پر آپ کے ساتھ زیادتی ہوتی ہو یا آپ کے حقوق متاثر ہوئے ہوں اور آ پ اپنی بیٹی کو وہاں چھوڑ جائیں۔بیٹی کو اس جگہ چھوڑا جاتا ہے جہاں کے متعلق اطمینان ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ''را''نے تو جو ظلم ڈھانا تھا وہ ڈھایا۔ا س کے بعد تفتیشی حکام نے بے ایمانی کی داستان رقم کی۔انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اس اجتماعی قتل کو خودکشی بنا کر پیش کردیا اور اس واردات کا الزام اسی خاندان کی بیٹی38سالہ لکشمی پر لگادیا جو خود بھی مقتولین میں شامل ہے۔اس اجتماعی قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش میں یہ لوگ تضاد بیانی کے بھی مرتکب ہوئے جس نے اس شک کو مزید تقویت دے دی کہ اس خاندان کو قتل کیا گیا ہے۔جودھ پور پولیس کے سربراہ راحل بھرت کا کہنا تھا کہ یہ خاندانی تنازعے کا شاخسانہ ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاشوں کے پاس سے کیڑے ماردوا  ملی ہے۔اس انسانیت سوز اقدام سے بھارتی خفیہ ایجنسی اور حکومت کو بری کروانے کے لئے وہاں کے صحافی بھی پیش پیش ہیں۔'دی ہندو' کے رپورٹر نے25ستمبر کو خبردی کہ لاشوں کے پاس لکشمی کی تحریر بھی ملی جس میں اس نے لکھا کہ میں نے سب گھروالوں کو زہر دے دیا ہے اور خود بھی کھالیا ہے۔
پولیس سربراہ کو موقع واردات سے فوری طور پرکوئی رقعہ یا تحریر نہیں ملی جبکہ یہ لوگ جائے واردات پر سب محفوظ کرلیتے ہیں اور بھارتی صحافی کو دو مہینے بعد رقعہ مل جاتا ہے۔عجیب مذاق ہے۔پھر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب لکشمی کی تحریر کی گواہی کون دے؟وہ خود تو مرگئی اور اس کے بھائی کیول رام کے متعلق کوئی دعویٰ یا اطلاع نہیں آئی کہ اس نے تحریر پہچانی یا نہیں۔یقینا اس لئے کہ ایسی تحریر تھی ہی نہیں۔
ایک اور تضاد بیانی یہ سامنے آئی کہ پولیس نے کہا کہ کیڑے مار دوا ملی ہے جبکہ ''انڈیا ٹوڈے''نے10اگست2020یعنی واردات کے اگلے روز لکھا کہ نیند کی گولیاں ملیں جو لکشمی نے سب کو رات کے کھانے میں ملا کر کھلائیں اور بعد میں خود کو زہر کا انجیکشن لگالیا۔ان ساری توتا کہانیوں میں لکشمی کی نرسنگ کی تعلیم کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔
سوال یہ ہے کہ یہ خاندان غربت سے تنگ نہ تھا کیونکہ ان کے پاس رہائش کے لئے چھت بھی تھی اور روزگار کے لئے کھیت بھی۔خاندانی تناز عے والی بھی کوئی بات اس لئے نہیںکہ نہ تو کیول رام اور نہ ہی شریمتی نے ایسی کوئی بات بتائی۔اس طرح نہ صرف یہ کہ75سالہ بزرگ سے لے کر10-5سالہ بچوں تک کی جان لے لی گئی مگر بھارت میں کوئی ضمیر جاگا نہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی۔یہ ہے وہ بھارت جو چیخ چیخ کر پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں پروپیگنڈہ کرتاہے اور اس میں ہر قسم کا بھونڈا ہتھکنڈہ استعمال کرتا ہے اور اپنے آپ کو انسانی حقوق کا محافظ قرار دیتا ہے جبکہ اس کا اصل چہرہ اس قدرخوفناک ہے کہ جس کی ایک جھلک اس ہندو خاندان کے اجتماعی قتل میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ لاشوں پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کو گولی ماری گئی نہ پھانسی دی گئی۔اس لئے ممکن ہے انہوں نے اجتماعی خودکشی ہی کی ہو مگر سوال یہ ہے کہ ان کو ایسا انتہائی اقدام کرنے پر کس نے مجبور کیا۔ان کے اس اقدام کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنہوں نے ان کا جینا حرام کررکھا تھا۔''را''کے وہ حکام جو انہیں پاکستان کے خلاف بیان بازی پر مجبور کرتے رہے اور انکار کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے۔یہ بے چارے پاکستان چھوڑگئے تھے۔یہاں واپس آنے کے قابل نہیں تھے۔وہاں رہنا نا ممکن بنادیا گیا۔لہٰذا انہوں نے وہی کیا جس پر انہیں مجبور کردیا گیا۔اس خاندان کی بیٹی کا اپنا بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس کے مطابق بھارتی حکومت پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ جودھ پور راجستھان میں اس وقت موجود''را''کے افسروں کو شامل تفتیش کریں۔بھارتی حکومت کا یہ بھی قانونی، اخلاقی اورسفارتی فریضہ ہے کہ وہ تفتیش سے پاکستان کو آگاہ رکھے کیونکہ یہ مقتولین پاکستان سے گئے تھے بلکہ پاکستان کے تفتیش کاروں کو جائے واردات،متعلقہ لوگوں،کیول رام اور ''را''کے حکام کے ساتھ تفتیش کرنے کی بھی اجازت اور سہولت دے جیسا کہ ہمارا دفتر خارجہ متعدد بار بھارت کی توجہ مبذول کراچکا ہے مگر بھارت سرکار ٹس سے مس نہیں ہورہی۔
اس واردات کے خلاف پاکستان کی ہندو برادری تاریخ میں پہلی بار اکٹھی ہوکر اسلام آباد پہنچی جہاں25ستمبر2020کو ان کی بڑی تعداد نے ڈپلومیٹک انکلیو اور دفتر خارجہ کے سامنے بھارت کے خلاف احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو گرفتار کرکے کڑی سزا دی جائے۔25ستمبر کو بھی اب کئی ہفتے گزرچکے ہیں۔بھارت کی طرف سے کوئی جواب آیا نہ کوئی پیشرفت ہوئی جو پاکستان کے ہندوئوں ہی کی نہیں بھارت اور پوری دنیا کے ہندوئوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔خاص طور پر ان پاکستانی این جی اوز کے لئے بھی جو معمولی بات کا   بتنگڑ بنا کر سڑکوں پر آجاتی ہیں مگر یہاں پورے خاندان کے قتل کے باوجود وہ بھی خاموش ہیں۔ ||


مضمون نگار ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر ہیں ،اس کے علاوہ پاکستان کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات پر انگریزی میگزین بھی شائع کرتے ہیں۔
  [email protected]

یہ تحریر 10مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP