قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک

سماجی علوم کے طلباء وطالبات کے لئے یہ ایک یقینا دلچسپ اور باعث کشش مو ضوع ہے کہ کیوں کچھ ممالک یا معاشرے تیزی یا آہستگی سے انتہا پسندی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں ۔ اگرچہ پاکستان میں کوئی بھی مذہبی سیاسی جماعت کبھی بھی جمہوری مروجہ طریقوں سے اقتدار میں نہیں آ سکی لیکن اس کے با وجود  بد قسمتی سے پاکستان کو ہمیشہ تعصب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستانی معاشرے کو بتدریج ایک انتہا پسندی کی طرف راغب ہوتے ہوئے معاشرے کے طور پر جانچاجاتا ہے اس کی بڑی وجہ پا کستان کے معروضی حالات ، خطے میں پڑوسی ممالک میں مذہبی جماعتوں کا عروج اور اقتدار میں آنا ہے ۔ اس کی واضح مثال ایران کا اسلامی انقلاب ، روس کا 80 کی دہائی میں افغانستان میں داخلہ اور اس کے نتیجے میں مغربی قوتوں کا ایک منصوبے کے تحت پاکستان اور دوسرے ممالک میں مذہبی گروپوں کو سابقہ سوویت یونین کے خلاف برسر پیکار کرنا تھا ۔ اس مقصد کے لئے مسلمان ممالک میں مذہبی گروپوں اور سوویت یونین کے نظریے کو اسلامی تعلیمات اور نظریے سے متصادم دکھایا گیا تاکہ ان کو سوویت یونین کی سرخ آرمی سے بر سر پیکار کر کے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے اس کا نتیجہ بہر حال سوویت یونین کی شکست و ریخت، وسط ایشیائی ریاستوں کی آزادی ، اور افغانستان سے سرخ فوج کے انخلاء کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔ لیکن پاکستان کی عوام  ان مذہبی اثرات سے بے حد متاثر ہوئی ۔ جس کے بداثرات آج بھی ہماری معیشت اور معاشرت پر ایک انمٹ نقش کی طرح ثبت ہیں ۔ اگر چہ اسلامی ممالک میں مذہبی اور انتہا پسند تحریکوں کا فروغ مغرب اور امریکہ کا ایجنڈا تھا، لیکن انتہا کی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے و ہ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کو تنقید کانشانہ بنائے رکھتے ہیں ۔سر دست ہمارا موضوع بھارت میں اس دہشت گردی اور انتہا پسندی کا عروج ہے جس کا سورج پچھلی دو دہائیوں سے پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے بلکہ اس کی حدت اور تمازت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے لیکن مغربی دنیا اور امریکہ نہ صرف، اس کو صرف نظر کئے ہوئے ہیں بلکہ ان کی مسلسل خاموشی بھارتی انتہا  پسند حکومت کی بھر پور حمایت کرتی نظر آتی ہے  ۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی راتوں رات اقتدار میں نہیں آئے بلکہ یہ تقریباً پون صدی قبل اپنے انتہا پسند نظریات جن کی بنیاد''ہندواتوا''پر ہے یعنی بھارت کی مسلسل توسیع اور خطے کے دوسرے ممالک کے کچھ علاقوں پر قبضہ اور بھارت صرف ہندوئوں کے لئے ،جیسی خواہشات کو مکمل کرنا، کی بنیاد پر بھارتی معاشرے میں مقبولیت حاصل کر چکے تھے۔ مودی کے چیف منسٹری کے دور 2002 میں مسلمانوں کی بھارتی ریاست گجرات میں جس طرح سے قتل و غارت کی گئی اس پر جدید تاریخ کے مورخین بھی حیران ہیں۔ یہ بھارت کی جمہوری ریاست کے چہرے پر وہ بد نما داغ ہے جو یقینا کبھی بھی مٹایا  نہ جا سکے گا۔ اس پر طُرفہ تماشہ یہ ہوا کہ ان مظلوم مسلمانوں کو بھارتی عدالتیں بھی انصاف نہ دے سکیں اور وہ آج  بھی اپنے شہداء کی لاشوں کو کندھوں پر اٹھائے انصاف کی طلب میں خوار ہوتے پھر رہے ہیں۔بھارتی عدالتوں نے  عدم پیروی اور دوسرے بہانوں سے کبھی بھی انصاف کی نیّا کو پار نہیں لگنے دیا ۔در حقیقت گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام،1992 میں ایودھیا کے مقام پر بابری مسجد کا بھارتی جنتا پارٹی کے غنڈوں کے ہاتھوں انہدام کی ایک کڑی تھا بابری مسجدسولہویں صدی میں مغل حکمران ظہیرالدین بابر کے دور میں تعمیر ہوئی۔جو1992 تک بھارتی سر زمین پر دوسری ہزاروں عمارتوں کی طرح مسلمان کے شاندارماضی کی گواہ تھی، آناً فاناً یہ کہہ کر گرا دی گئی کہ یہ رام کی جنم بھومی ہے۔متشدد گروہ کی اس کارروائی میں دوہزار کے قریب لوگ مارے بھی گئے ۔تمام مسلم ممالک بشمول بنگلہ دیش اور مشرق وسطیٰ میں بھی اس عمل کا شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ۔ لیکن بھارتی حکومت قطعا ًٹس سے مس نہ ہوئی اور بالآخر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی بھارتی انتہا پسندی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور 9 نومبر 2019 کو ایک متنازع فیصلہ جو تقریباً واقعہ کے پیش آنے کے 25 سال بعد منظر عام پر آیا، نے بھی مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دے کر یہ ثابت کر دیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کو قطعاً کوئی تحفظ نہیں۔ موجودہ بھارتی حکومت کے دور میں اقلیتوں کے خلاف یہ چیرہ دستیاں مزید بڑھتی جارہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے متعلق بھارتی قانون  سے شق370  اور آرٹیکل 35A کاحذف کیا جانا بھی انتہا پسندی کے عزائم کی توسیع کی طرف ایک قدم ہے ۔5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جب یہ قدم اٹھایا تو وہ مکمل طور پر پُر اعتماد تھی کہ اسرائیل اور دوسرے مسلمان مخالف ممالک کی سرپر ستی میں مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پر بھارتی یونین میں مدغم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن تقریباً 19 ماہ گزرنے کے باوجود کشمیری عوام بھارتی افواج کی جارحانہ اور متشدّدانہ کارروائیوں کے سامنے سر نگوں نہ ہو ئے اورتواور، بھارتی کرفیو اور سرچ آپریشن کی آڑ میں آئے دن کشمیری مظلوم ،نہتے اور معصوم جوانوں کی شہادت بھی ان کے عزائم کو متزلزل نہیں کر سکی اور آج بھی مقبوضہ کشمیر پاکستانی پرچم اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج رہا ہے۔دوسری طرف بھارت کو اندرونی و بیرونی محاذوں پر اپنے ہی کئے گئے پروپیگنڈوں کے ہاتھوں ندامت اٹھانی پڑ رہی ہے۔14 فروری 2019 کو ایک کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار نے کشمیر میں ایک خود کش حملے کے ذریعے 40 کے قریب سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے جوانوں کو ہلاک کیا تو بھارت نے بلا تحقیق کے اس حملے کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ معاملہ یہیں پر نہیں ٹلا بلکہ اپنی عسکری برتری ثابت کرنے کے لئے 26 فروری2019 کو لائن آف کنٹرول کی طیاروں سے خلاف ورزی کی اور دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی کہ پلوامہ حملے کے شواہد پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں قائم شدہ دہشتگردی کے اڈوں سے ملتے ہیں اور اس لئے سرجیکل سٹرائیک  کے ذریعے بالا کوٹ کے علاقے میں حملہ کر کے تقریباً 300 کے قریب دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ آج کے جدید انفارمیشن دور میں یہ ایک بھونڈا مذاق تھا جس کامقصد محض  بی جے پی کی حکومت کا انتخابات میں عوامی ہمدردی اور ووٹ کاحصول تھا جس کو بنیاد بنا کر دوبارہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونا تھا جس میں وہ کامیاب رہی ۔ البتہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی کاوشوں اور قومی و بین الاقوامی میڈیا نے بھارتی دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ قصہ محض یہ تھا کہ بھارتی سورمائوں نے لائن آف کنٹرول تو ضرور کراس کی لیکن کچھ کئے بغیر جلد بازی میں اپنا پے لوڈ گر ا کر غائب ہوگئے ۔ البتہ27 فروری 2019 کو پاکستانی شاہینوں سکواڈرن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر  عدنان نے بھارتی ہوا باز ونگ کمانڈر ابھینندن کو اپنے طیارے سمیت پاکستان کی حدود میں آتے ہی نشانہ بناکر زمین بوس کر دیا۔اور ابھینندن زندہ گرفتار ہوا، امن اور خیر سگالی کے جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھینندن کو چار دن بعد بھارتی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ جبکہ بھارت نے ہزیمت مٹانے کے لئے نہ صرف اس کو  اعلیٰ عسکری ایوارڈ سے نوازا بلکہ اس کو قومی ہیرو قرار دے ڈالا کہ اس نے میراج 2000طیارے سے پاکستانی ایف 16 کو مار گرایا تھا ۔ تمام بین الاقوامی ادارے بھارت کے اس دعوے کو جھٹلا چکے ہیں کیونکہ ایف 16 کے طیارے مکمل تعداد میں پاکستانی ہینگرز میں موجود تھے۔ 
پاکستان کو دہشتگرد قرار دینے اور بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ  رابطے اور فنڈنگ کر نے کے بیہودہ الزامات بھی بھارتی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف ہیں۔ ایف اے ٹی ایف بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔بھارت نے اپنے  مذموم مقاصد کے حصول کے لئے  ہر طرح کا پروپیگنڈا اور لابنگ کی ہے لیکن وہ ابھی تک پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل نہیں کرا سکا۔کیونکہ بھارت سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان کوبلیک لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے تو پاکستان کی معاشی اور عسکری قوت کا گلا گھونٹ دیا جائے گااور بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کے راستے سے یہ چٹان ہٹ جائے گی۔اس سلسلے میں ایک بہت بڑا انکشاف اس وقت سامنے آیا جب برسلز کی ایک ریسرچ آرگنائزیشن ڈس انفولیب نے یہ حقیقت آشکار کی کہ بھارت 750 سے زائد جھوٹی ویب سائٹس کے ذریعے 119 ممالک میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ  جیسے  مذموم فعل میں مصروف عمل ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ موجودہ  ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار اور پاکستانی فارن آفس نے بین الاقوامی اداروں کو بھارتی دہشتگردی کے ثبوت پیش کئے کہ کس طرح بھارت نہ صرف بلوچستان اور دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کروا رہا ہے بلکہ افغانستان میں بھی دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہے جس کا مقصد افغانستان میں مسلسل عدم استحکام رکھ کر پاکستان کی مغربی سرحد وں کو غیر محفوظ رکھنا ہے ۔ پاکستان کی ان بر وقت کاوشوں نے نہ صرف بھارتی سازشوں کا پول کھول دیا بلکہ دندان شکن جواب بھی دیا۔ 
بھارت میں نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی ، سکھ اور دوسری اقلیتوں کے ساتھ بھی ظالمانہ سلوک نہ صرف حکومتی بلکہ عوامی سطح پر بھی عام ہے۔حتیٰ کہ شودر جو کہ ہیں تو ہندو لیکن نچلی ذات ہونے کے سبب آ ئے دن ظلم و ستم کاشکار ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت ان ظلم و ستم کی داستانوں کو اب دنیا کے ہر کونے اور گوشے میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ سکھ بھارت کی ایک نمایاں اقلیت ہیں ۔ حال ہی میں سکھ جو کہ مشرقی پنجاب کے ساتھ ساتھ دوسری ریاستوں کے اضلاع میں بھی آباد ہیں حکومت کی کسانوں کے خلاف ظالمانہ قوانین کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے یہ پالیسی محض اس لئے اپنائی ہے کہ وہ سکھوں پر اعتبار نہیں کرتی ۔ خالصتان کا مطالبہ بھی ڈھکا چھپا نہیں ۔ کرتار پور تک سکھوں کی رسائی نے بھارتی حکومت کو مزید بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ چنانچہ سکھوں کی معاشی کمر توڑ نے کے بھارتی قوانین کے خلاف پچھلے تین ماہ سے زائد عرصے سے کسانوں کی ایک بڑی تعداد دلی میں براجمان ہے۔  26 جنوری جو کہ بھارتی یوم جمہوریہ ہے، کو کسانوں نے عملی طور بھارتی انتظامیہ کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا اور بھارتی تشدد کو دنیا بھر میں بے نقاب کر دیا۔ حال ہی میں مشہور بھارتی کرکٹر یوراج  سنگھ کے والد نے سوشل میڈیا میں بھارتی سامراج کے متعصّبانہ رویّوں کو سخت ترین الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے عظیم قائد محمد علی جناح کی بصیرت کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس طویل دھرنے کے نتیجے میں شدید موسمی حالات اور بھارتی پولیس کی متشددانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 250 سے زائد کسان  ہلاک ہو چکے ہیں  جبکہ بھارتی حکومت مکمل ڈھٹائی سے اپنے فیصلے پر ڈٹی ہوئی ہے لیکن اس کے اثرات عوامی سطح پر نظر آ رہے ہیں جہاں سکھ نوجوان پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے اور پاکستانی پرچم بھی لہراتے نظر آئے ہیں بھارتی افواج کے مختلف شعبوں میں سکھ اپنی بہادری اور محنت کے سبب چھائے ہوئے ہیں چنانچہ موجودہ حالات  ان کے لئے بھی شدید پریشان کن ہیں جن کا اظہار ہمیں سوشل میڈیا میں اکثر ملتا ہے۔ یہ بھارت یونین کے بکھرتے ہوئے شیرازے کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے۔ ||


مضمون نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں۔

یہ تحریر 104مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP