قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت اور بھارتی زیِر تسلط  جمو ں و کشمیرمیںصحافتی قدغنیں۔۔

صحافی کسی بھی معاشرے کاایک اہم ستون ہوتے ہیں۔ یہ لوگ معاشرے میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان پر تنقید بھی کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں موجود ادارے اپنی نہج درست رکھیں۔ ان لوگوں کی رائے معاشرے میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق بات بولنے والے کی حفاظت کی جائے اور اسے آزادیٔ رائے کا پورا پورا حق دیا جائے ۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں صحافیوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کو کوئی سرزنش نہیں کی جاتی جو کہ کسی بھی معاشرے کے لیے ایک انتہائی افسوس ناک مقام ہے۔



ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے دن اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکام صحافیوں اور آن لائن ناقدین کو حکومتی پالیسیوں اور طرزِ عمل پر تنقید کے لیے تیزی سے نشانہ بنا رہے ہیں، خاص طور پر دہشت گردی اور بغاوت کے قوانین کے تحت ان پر مقدمے چلائے جاتے ہیں۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نہ صرف اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ہے بلکہ صحافیوں کے لیے بھی خطرناک ملک ہے۔ فری سپیچ کے تجزیے کے مطابق تقریباً 154 صحافی بھارتی سرکار کی تحویل میں ہیں۔ ان صحافیوں کی زیادہ تعداد مودی کے دورِ حکومت میں گرفتار ہوئی اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں ہورہی۔


اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق2006 سے2020 تک دنیا بھر میں تقریباً 1200 سے زائد صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ہر سال 2 نومبر کو صحافیوںکا دن مناتی ہے۔


گلوبل میڈیا واچ ڈاگز اور سول سوسائٹی آرگنائزیشنز نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت جموںو کشمیر میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں صحافی صحیح معنوں میں تلوار کی دھار پر چل رہے ہیں۔ دنیا بھارت کا جموں و کشمیر میںاصل چہرہ اس وجہ سے بھی نہیں دیکھ پا رہی کہ وہ صحافیوں کوجموں کشمیر میں داخل ہی نہیں ہونے دیتے اور اس کی وجہ ان کا خوف ہی ہے کہ ان کی اصلیت اگر دنیا پر ظاہر ہوگئی تو انہیں انتہائی ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سائوتھ ایشین پریس فریڈم رپورٹ2021 کے مطابق 11 کشمیری میڈیا آرگنائزیشنز کو کہا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیرمیں جا کر رپورٹنگ نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے انہیں باقاعدہ دھمکیاں بھی دی گئی ہیں لیکن کشمیری صحافی اپنی جان کی پروا کیے بغیر وہاں کے حالات بتانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔بھارتی حکومت ہمیشہ کشمیر میں میڈیا کو سختی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ان واقعات میں زیادہ تیزی بھارتی حکومت کے5 اگست2019 کے غیر قانونی فیصلے کے بعد آئی۔ اس وقت بھارتی حکومت نے ایک نئی اور مزید سخت میڈیا پالیسی اپنائی اور وادی کی خبروں کو وادی سے باہر جانے پر سختی سے روکا گیا۔ جموں وکشمیرمیں معلومات کے ذرائع کو ہندوتوا حکومت نے سختی سے بند کیا ہوا ہے۔ سٹینڈود کشمیر کی ایک رپورٹ کے مطابق جمو ں و کشمیر میں2017 سے فیس بک ، ٹویٹر ، انسٹا گرام اور دوسرے سوشل میڈیا نیٹ ورکس بند ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارت انٹر نیٹ بند کرنے والے ملکوں میں پہلے نمبر پر ہے۔
سواتی چاترویدی (Swati Chaturvedi)نے اپنی کتاب 
  "I am a Troll:  Inside the Secret World of  BJP's Digital Army" میں بتایاہے کہ کس طرح بی جے پی حکومت نے اپنے ناقدین کو کسی بھی قسم کی تنقید کرنے پر دھمکایا ہوا ہے۔ یہ لوگ اس ڈر کی وجہ سے اپنی بات عام لوگوں تک نہیں پہنچا سکتے۔


کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(CPJ) کے اعداد وشمار کے مطابق 2021 میں دنیا بھر میں 34 صحافی قتل ہوئے۔ ان میں سے تین صحافی بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارت میں تقریباً 20 صحافیوںکے قتل کے غیر حل شدہ کیس ہیں۔CPJ کے مطابق بھارت میں صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور 2022 بھارتی صحافیوں کے لییبہت برُا سال تھا جس میں6 صحافیوں کا قتل کیاگیا۔'' رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز ''کے مطابق پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت180 ممالک میں150ویں نمبر پر ہے۔ انسانی حقوق کی دس تنظیموں نے اس سال نیویارک میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے دن اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکام صحافیوں اور آن لائن ناقدین کو حکومتی پالیسیوں اور طرزِ عمل پر تنقید کے لیے تیزی سے نشانہ بنا رہے ہیں، خاص طور پر دہشت گردی اور بغاوت کے قوانین کے تحت ان پر مقدمے چلائے جاتے ہیں۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نہ صرف اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ہے بلکہ صحافیوں کے لیے بھی خطرناک ملک ہے۔ فری سپیچ کے تجزیے کے مطابق تقریباً 154 صحافی بھارتی سرکار کی تحویل میں ہیں۔ ان صحافیوں کی زیادہ تعداد مودی کے دورِ حکومت میں گرفتار ہوئی اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں ہورہی۔ گلوبل میڈیا واچ ڈاگز اور سول سوسائٹی آرگنائزیشنز نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت جموںو کشمیر میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں صحافی صحیح معنوں میں تلوار کی دھار پر چل رہے ہیں۔ دنیا بھارت کا جموں و کشمیر میںاصل چہرہ اس وجہ سے بھی نہیں دیکھ پا رہی کہ وہ صحافیوں کوجموں کشمیر میں داخل ہی نہیں ہونے دیتے اور اس کی وجہ ان کا خوف ہی ہے کہ ان کی اصلیت اگر دنیا پر ظاہر ہوگئی تو انہیں انتہائی ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سائوتھ ایشین پریس فریڈم رپورٹ2021 کے مطابق 11 کشمیری میڈیا آرگنائزیشنز کو کہا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیرمیں جا کر رپورٹنگ نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے انہیں باقاعدہ دھمکیاں بھی دی گئی ہیں لیکن کشمیری صحافی اپنی جان کی پروا کیے بغیر وہاں کے حالات بتانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔بھارتی حکومت ہمیشہ کشمیر میں میڈیا کو سختی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ان واقعات میں زیادہ تیزی بھارتی حکومت کے5 اگست2019 کے غیر قانونی فیصلے کے بعد آئی۔ اس وقت بھارتی حکومت نے ایک نئی اور مزید سخت میڈیا پالیسی اپنائی اور وادی کی خبروں کو وادی سے باہر جانے پر سختی سے روکا گیا۔ جموں وکشمیرمیں معلومات کے ذرائع کو ہندوتوا حکومت نے سختی سے بند کیا ہوا ہے۔ سٹینڈود کشمیر کی ایک رپورٹ کے مطابق جمو ں و کشمیر میں2017 سے فیس بک ، ٹویٹر ، انسٹا گرام اور دوسرے سوشل میڈیا نیٹ ورکس بند ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارت انٹر نیٹ بند کرنے والے ملکوں میں پہلے نمبر پر ہے۔
سواتی چاترویدی (Swati Chaturvedi)نے اپنی کتاب 
  "I am a Troll:  Inside the Secret World of  BJP's Digital Army" میں بتایاہے کہ کس طرح بی جے پی حکومت نے اپنے ناقدین کو کسی بھی قسم کی تنقید کرنے پر دھمکایا ہوا ہے۔ یہ لوگ اس ڈر کی وجہ سے اپنی بات عام لوگوں تک نہیں پہنچا سکتے۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے اپنے ایک خط میں بتایا ہے کہ جموں و کشمیر میں43 لوگ ایسے ہیں جو وہاں سے باہر نہیں جاسکتے۔ ان میں 22 صحافی ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ بی جے پی حکومت کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ بھارت اور جموںو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور جنگی جرائم پر پردہ ڈال سکے۔ دوسری طرف وہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ بھی کررہا ہے کہ اس سب کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اس کا مقصد جموں و کشمیر کے لوگوں پر ظلم اور پاکستان کو بدنام کرکے بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا ہے جس میں اسے کامیابی ملنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ لوگ بھارتی وطیروں کے بارے میں اچھی طرح جان چکے ہیں اور اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ وہ کس طرح سازشوں کے جال بُنتے ہوئے بھارت اور زیرِ تسلط مقبوضہ کشمیر میں مروجہ انسانی حقوق کو تہہ و بالا کرکے ظلم و استبداد کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔ ||



 

یہ تحریر 89مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP